جمعہ, اکتوبر 9, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    گاندھی جی اور جمعیت علمائے ہند

    گاندھی جی اور جمعیت علمائے ہند

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    آپ کس سمت سے نکلیں گے بچاکے دامن

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    گاندھی جی اور جمعیت علمائے ہند

    گاندھی جی اور جمعیت علمائے ہند

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    آپ کس سمت سے نکلیں گے بچاکے دامن

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home Uncategorized

ایک کروڑ کے لیے کیا کروگے؟ ٹک ٹاک کا سوال

by Admin
اگست 11, 2026
in Uncategorized
0
0
SHARES
3
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

مولانا محمد سعید صاحب کا خطاب

ٹک ٹاک پر ایک عام سا سوال اکثر پوچھا جاتا ہے: "آپ ایک کروڑ کے لیے کیا کرو گے؟ کوئی مرچ کا پورا کھا جائے گا، کوئی فلاں کو جا کر تھپڑ لگائے گا، ایک کروڑ، پانچ کروڑ یا دس کروڑ کے لیے آپ کیا کرو گے؟” یہ سب ایک مذاق اور کھیل ہوتا ہے۔ہمارا اصل سوال یہ ہے کہ آپ اپنے ایمان کے لیے کیا دو گے؟ کتنا دو گے؟ سو کروڑ یا ایک ارب؟ تو کوئی سمجھدار مسلمان یا سچا مسلمان کہے گا کہ "اگر پوری دنیا کی دولت دے دو، تب بھی اس کے مقابلے میں ایک ‘سبحان اللہ’ دینے کے لیے تیار نہیں،” اور پھر اس کے بعد کہے گا کہ "ایک ‘الحمدللہ’ دینے کے لیے بھی تیار نہیں۔”کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے پاس جو دولت ہے، ہم کسی صورت میں بھی اس کو دینے کے لیے تیار نہیں، کیونکہ اس کا کوئی فائدہ ہی نہیں۔ یہ دولت تو آخرت کے لیے ہے۔اب ایمان والے، جب حضرت جبرائیل امین علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سوال کیا: "ما الاسلام؟ ما الایمان؟ ما الاحسان؟” تو پتہ چلا کہ اللہ تعالی نے درجات مقرر کیے ہیں۔ انبیاء تو تھے ہی، صحابہ تو تھے ہی، اور ہمارے اکابر کے اندر اور تمام ہر انسان کے اندر یہ ہوتا ہے کہ جتنا ہو سکے ہر فیلڈ کے اندر سب سے اعلی مقام حاصل کرے، لیکن یہ ہر ایک کے لیے نہیں ہوتا۔ کروڑوں علماء گئے، الحمدللہ جنہوں نے جو کچھ کیا، لیکن تاریخ دیکھی جائے تو کتنے ملیں گے؟ چند ہزار، چلو لاکھوں بھی ہوں، لیکن تاریخ کے حساب سے ان میں بھی پھر اگر دیکھی جائے تو ہر صدی میں حضرت مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے تو لکھی ہے ‘تاریخ دعوت و عزیمت’، بڑے بڑے جید علماء جو اپنے اپنے زمانے کے مجدد تھے، ان کا حال لکھا۔تو یہ اللہ تعالی نے جو مقام مقرر کیے ہیں، ہمارے اکابر اور ہر ایک کا، جب کہ حضرت جبرائیل امین نے جب پوچھا کہ "ما الاحسان؟” تو اس کا مطلب یہی ہے کہ احسان کی کوشش کرو۔حضرت گنگوہی نور اللہ مرقدہ فرمانے لگے ایک مرتبہ کہ ایک زمانہ گیا میں گنگوہ میں ہمارے شیخ، مکہ مکرمہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نور اللہ مرقدہ، لیکن میں کوئی کام ان کی اجازت کے بغیر نہیں کرتا تھا۔ اچھا! پھر ایک زمانہ ایسا گیا کہ میں گنگوہ میں، اب صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہری بات ہے روضہ اقدس میں، کہ میں کوئی کام اب صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر نہیں کرتا تھا۔پھر کیا ہوا، معلوم ہے آپ کو؟ بتاؤں؟ کہا کہ "حضرت بتاؤ!” کہا کہ "بس کل۔” دوسرے دن سب، "حضرت کیا ہو اس کے بعد؟” فرمایا کہ "اللہ! الحمدللہ! احسان نصیب ہو گیا۔” خیر! وہ تو بڑے لوگ تھے، ان کے عزائم بھی بڑے، ہم جیسوں کے لیے سب سے اہم بات کیا ہے؟ حضرت فدائے ملت حضرت مولانا اسعد صاحب نور اللہ مرقدہ ایک مرتبہ اسی طرح بیان کرتے ہوئے پوچھنے لگے کہ "بھائی، فجر میں کتنی رکعتیں ہیں؟” اب اس وقت دیکھنے لگے کہ بھئی ہم بچے ہیں، بچوں کے امتحان میں پوچھا جاتا ہے کہ فجر میں کتنی رکعتیں ہیں، عصر میں کتنی رکعتیں ہیں، اس طرح عشاء کی کتنی رکعتیں ہیں؟ اور بچوں کو سکھایا جاتا ہے: 4، 12، 8، 7 اور 17۔ তো وہ بتا نہیں رہے تھے، جب پوچھا کہ "بتاؤ کتنی رکعتیں ہیں؟” کہا کہ "چار، ظہر میں 12، عصر میں 8، مغرب میں…” اس کے ساتھ عشاء میں 17، پڑھتے کتنے ہو؟”ابھی میں اپنے آپ کو کہہ رہا ہوں کہ "اللہ! میرے فیصلے میں ہو، اللہ معاف کرے۔” لیکن پڑھتے کتنے ہو؟اور حضرت یونس فرماتے تھے کہ "جب ہم بچے تھے، کبھی بھی کسی نفل تک ہم نہیں چھوڑتے تھے، اور جب عالم بن گئے، نفل تو ٹھیک ہے اگر ہمت ہو، شوق ہو، پڑھو۔ اس کے بعد پھر سنت مؤکدہ تو مؤکدہ ہے۔” ہمارے اور صحابہ میں ایک عجیب نمائش ہے، ایک ہی جملہ! صحابہ کہتے تھے کہ "ارے سنت ہے، کرو!” ہم کہتے تھے کہ "بھئی سنت ہے، کیا مسئلہ ہے؟” یعنی یہ لیکن حضرت فدائے ملت نور اللہ مرقدہ فرماتے تھے کہ "جو لکھا ہے، وہ بچوں کے لیے لکھا ہے؟ یہ جو تقسیم ہوئی ہے اور کتابوں میں آیا ہے، کتنی صدیوں کی محنت کے بعد ہم تک یہ پہنچا ہے کہ اس کو اتنی محنت سے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک سنت ہم پرکھ لیں، سیکھ لیں، اس لیے نہیں کہ پھر ہم فیصلہ کریں کہ بھئی کیا کرنا چاہیے اور کس کو چھوڑنا چاہیے۔”اور جب اخلاص سے جب کسی سنت پر عمل ہوتا ہے، اللہ! ہمارے اس سلسلے میں ایک سید ہیں، سید خیر الاسلام، حضرت فدائے ملت، انہوں نے ہی مجھے یہ بتایا تھا کہ حضرت اس طرح سنت کے متعلق اس طرح کہتے تھے۔ وہ فرما رہے تھے کہ وہ ایک عالم دین تھے، مدرسے میں اچھی طرح بڑی کرایہ پڑھاتے تھے۔ تو ان کی مسجد ہوگی یا پھر گئے ہوں گے مرکز، کہا کہ "ایک صاحب کو دیکھا، عالم نہیں تھے، تبلیغ میں آئے ہوئے تھے، وہ وضو خانے پر رو کر زار و قطار رو رہا ہے۔”انہوں نے ان سے پوچھا کہ "کیا ہوا؟” کہا کہ "میں اپنی مسواک بھول گیا، لیکن ابھی لینے جاؤں گا تو میری تکبیر اولی فوت ہوگی، ایک سنت کی طلب میں کہیں دوسری سنت نہ ہو جائے، اتنے سالوں کے بعد (15-20 سال بتائے ہوں گے) اس کا کہ پہلی مرتبہ یہ میرے مسواک کے بغیر یہ میری نماز تھی، یہ میری نماز ہوئی۔” حالانکہ حدیث میں آتا ہے، امام احمد بن حنبل نے اپنی اپنی کتاب میں بیان کیا ہے کہ "ایک نماز مسواک کے ساتھ اور ایک نماز مسواک کے بغیر 70 گناہ اس کا فرق ہے ثواب کے اندر۔” چھوٹی سنت ہے، لیکن اس کا کیا مقام ہے؟اور ہم تو اللہ معاف کرے، خیر ہم اس سے عادی ہو گئے ہیں۔دوسرے، ہمارے ایک دوست ہیں مدینہ منورہ میں، وہ بتاتے تھے کہ وہ جماعت میں گئے تو کویت کا شہزادہ یعنی بہت ہی بڑا آدمی، وہاں تو خیر وہ ہزاروں ہوتے ہیں اس لیے کوئی کہتے ہیں کہ تبلیغی ساتھی وہاں گئے، تو اس کا تو اپنا ہی بہت بڑا محل، اپنی مسجد، ہر مسجد میں گئے اور ان سے درخواست کی فجر کے بعد کہ "تھوڑی بات سن لیں۔” شریف آدمی تھے، ماشاءاللہ جماعت میں بھی فجر کے اندر بھی آتے تھے اسی طرح، تو ٹھیک ہے بیان میں پھر انہوں نے ہی دعوت دی کہ "چلو گھر چلو۔”پھر وہاں جا کر بڑے بڑے احترام کیا اور اس کے ساتھ نکل پڑے تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ "حضرت! اتنے بڑے آپ اتنے بھی آدمی؟” کہا کہ "جب انہوں نے چپل لیے، جس طرح ہم کہتے ہیں اوپر سے دھڑاک دھڑاک۔” کہا کہ "بڑے آہستہ سے انہوں نے چپل، اس بات نے میرے دل کو جیت لیا۔” یعنی اخلاق جو ہے، سنت جو ہے، پہلے تو ہم اپنے اندر کریں پھر ہم لوگوں سے کہنے کی ہمت کریں کہ "بھئی! آپ جو کر رہے ہو، وہ غلط ہے۔” خود نہیں ہوتا، پھر کس منہ سے ہم کسی کو کہیں گے؟ متقکورو مارا تو پھر ان کے مسخ ہو جائیں گے ہم۔تو اللہ تعالی ہمیں صحیح سمجھ دے اور اس عمل تمام علماء نے سب سے پہلے کیا کیا؟ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے کئی مہینے تنہائی میں اپنے اوپر محنت کرتے رہے۔ تمام اکابر کے متعلق ہمیں ملے گا کہ بزرگوں کے پاس جا کر کچھ نہیں کرنے کا، بس بیٹھے اللہ اللہ کریں گے، اپنے نفس کو محنت کر دیں گے۔حضرت شاہ عبد القادر رائے پوری, پورے 10 سال تک حضرت شاہ رحیم رائے پوری نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں رہے، 10 سال! اور حال یہ ہوتا تھا، وہ تو پٹھان تھے، بڑے ماشاءاللہ، کہتے ہیں کہ "ایک روٹی ملتی تھی اور وہ بھی اکثر جلی ہوئی۔” ہم نے جا کر شکایت کی کہ "کہنا ہو تو رہو ورنہ بھاگ جاؤ کہ ہم ڈر گئے کہ کہیں حضرت کو جا کر شکایت نہ کر دے، ہم تک چیز چیز بس کے ساتھ حضرت کو عمر بتانا۔” ایک روٹی ملتی تھی کہتے ہیں کہ اور ساتھی تو اس کو ادھا ادھا کر کے کھاتے تھے، ایک ادھا صبح، ادھا شام کو، ہم تو بس بڑے تھے کسی ایک کو بسم اللہ کر کے پانی کے ساتھ اور فلان کو رات کو بھوکے۔ یہ حال تھا اس محنت کے اندر، 10 سال!ایک رات پھر ایسا ہوا کہ بس بے چینی، ایک سیکنڈ نیند نہیں آئی۔ ایک رات، دوسری رات، تیسری رات، تیسری رات، آخر میں رہتے ہیں کہ اپنے دل پر ایک جھٹکا سا لگا۔ پھر جا کر حضرت سے بتایا، حضرت شاہ رحیم رائے پوری رحمتہ اللہ علیہ نے، حضرت نے فرمایا کہ "بس اب حق آپ کے ساتھ ہو گیا ہے۔””آج کے بعد خیال تک آپ کو ایک کوئی غلط خیال تک نہیں آئے گا۔”اور عجیب تھے حضرت شاہ صاحب، لیکن یہ 10 سال کی محنت کے بعد آتا ہے، یہ نہیں ہے کہ بھئی ہم سمجھے نہیں، اپنا کرتے رہو اور خیر ہم سب اس میں منہ پھیرتے، یاد دہانی کے طور پر، جتنا وقت اور یعنی ہمتیں اور صلاحیتیں جو صرف ہو رہی ہیں آج کل موبائل کی وجہ سے، وہ تو الامان والحفیظ! ہر ایک اپنے اپنے آپ کو سمجھتا ہے، اللہ تعالی ہماری حفاظت فرمائے اور خاص کر کے سنت فرمانے کی توفیق عطا فرمائے۔

Admin

Admin

Next Post

دنیا کی سب سے اثر ترین شخیت: اس کا معیار فورتھ کلاس ملازمین ہے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض

جمعیت علمائے بسنت رائے کا آٹھواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ لیتھا میں کامیابی کے ساتھ

4 مہینے ago
اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودیہ عربیہ) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط

بیسویں صدی سے متحدہ عرب ممالک اور جمعیت علمائے ہند

1 مہینہ ago

مقبول

  • درس گاہوں کا نفسیاتی ماحول

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • کال سنٹر کی ملازمت  !

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.