ملاحظات۔
عبدالحمید نعمانی،
گاندھی، نہرو، آزاد رح، مدنی رح کے بھارت اور ساورکر، گولولکر کے بھارت کے درمیان بہت واضح فرق ہے، ایک کے بھارت میں تمام مذاہب اور مذہبی اکائیوں کا یکساں احترام پایا جاتا ہے، اس میں تنوعات اور مختلف روایات کو پھولوں کے گلدستہ کی شکل میں دیکھا جاتا ہے، مذہبی اور فکر و عمل کی آزادی کو بھارت کی خصوصیات میں شمار کیا ہے، جب کہ ساورکر، گولولکر کے "ہندو استھان "میں دیگر کی الگ الگ شناخت اور مذہبی آزادی کے تنوعات کے وجود کا کوئی زیادہ معنی و مطلب نہیں ہے، اس میں ہندستانیوں کی متنوع روایات اور تہذیبی رنگا رنگی کے بجائے سب کچھ ہندو اور برہمن وادی تہذیب و روایات ہیں، مبینہ ہندو تہذیب ہی ہندستانی تہذیب ہے، حتی کہ قومیت بھی ہندو تہذیبی قومیت و وطنیت ہے، وطنی نسبت و وابستگی پر مبنی متحدہ قومیت کے بجائے ہندو کمیونٹی سے رشتہ و نسبت ہی اصل راشٹر واد ہے کیوں کہ ہندو سماج ہی برہمن، کشتری، ویش اور شودر کی شکل میں برہما، خدا ہے، لہذا "ہندو نسل "سے الگ کسی اور سماج کا کوئی مطلب نہیں ہے، اس کے ماتحت یا اس میں تحلیل و جذب ہو کر ہندو سماج اور ہندو نسل کے احترام کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے، گرو گولولکر اپنی کتاب We Or Our Nation hood defined میں بغیر کسی لاگ لپیٹ کے واضح الفاظ پیغام دیتے ہیں کہ ہندو راشٹر میں ہندو نسل کا غالب ہونا، اس کے تقدس کے تحفظ کے لیے ضروری ہے، اکثریتی ہندو سماج کی برہمن وادی کمیونٹی کے غلبہ و برتری کا بنے رہنا، ایک فطری تقاضا ہے، دیگر کمیونٹیز یا تو ملک کے اصل باشندے شمار نہیں کیے جائیں گے، وہ الگ اختیارات و حقوق کے مطالبے پر وہ یا تو راشٹر کے دائرے سے باہر ہو جائیں گے یا پھر ہندوتو کے تحت تشکیل شدہ سماج اور نظام حکومت کے مساوی شہری نہیں بلکہ ہندو کمیونٹی کے ماتحت زندگی گزاریں، انھیں کوئی ایسا حق و اختیار حاصل نہیں ہو گا جس کا وہ مطالبہ، ہندوتو کے دائرے سے باہر والے کر سکیں، اس سلسلے میں گرو گولولکر جرمنی کا نمونہ پر تحسین انداز میں پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں
"جرمنی ایک یقینی ملک کے طور پر اپنے آباؤ و اجداد کے مسلک پر فخر کرتے ہیں، جس کے لیے نسل، اصلی قوم کے تصورات کے ساتھ لازم و ملزوم والا روایتی تعلق رکھتی ہے، وہ اس پورے موروثی علاقے کے اوپر، ایک غیر متوازی، غیر متنازعہ جرمن شہنشاہیت قائم کرنے کی خاطر اٹھ کھڑے ہوئے اور نئی عالمی جنگ بھڑکانے کا خطرہ مول لیا، جرمنی کی یہ فطری اور منطقی خواہش قریب قریب پوری ہوئی اور وطنی عنصر کی زبردست اہمیت ایک بار پھر اجاگر ہو گئی ہے، قوم کے دوسرے جز۶ ترکیبی کی بات یعنی نسل، جس کے ساتھ، کلچر اور زبان اس طرح مربوط ہیں کہ ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا ہے، جب مذہب سب کو اپنے اندر جذب کرنے والی قوت نہیں ہے، جرمن نسل کا خود پر فخر کرنا، موجودہ عہد کا موضوع بحث بن چکا ہے، نسل اور کلچر کو خالص رکھنے کے لیے جرمنی شامی نسل کے وجود سے اپنے ملک کو پاک کر کے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔یہاں نسل پر فخر کی اعلی ترین مثال قائم کی گئی ہے، یہ بھارت کے لیے اچھا سبق ہے کہ ہم اس سے فائدہ اٹھائیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارت ہندوؤں کا ہے، اور یہ صرف ہندوتو کے پھلنے پھولنے کی ٹھوس جگہ ہے، "
گرو گولولکر کا یہ نظریہ قومیت، بھارت کو پوری طرح پٹری سے اتار دینے کی کوششوں کا حصہ ہے، یہی زبان، ہندوتو وادی عناصر کی نئی نسل، آج کی تاریخ میں استعمال کرتی نظر آتی ہے، جب کہ اقتدار کے راستے جبر و زبردستی اور طاقت سے مختلف طبقات خصوصا مسلم اقلیت کے وجود کو بے معنی بنانے کے لیے کئی سارے کام کیے جا رہے ہیں، اس کے معاشرتی احکام، مسلم پرسنل لاء کو ختم کرنے کے لیے یونیفارم سول کوڈ کا ہتھیار استعمال کرنے کا بندوبست کیا جا رہا ہے، اس کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے، 17/ستمبر 2026 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کے مجوزہ پروگرام کے لیے ملی اجازت کو منسوخ کر دیا گیا، اس کے ذریعے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی گئی ،ایک یہ کہ جمہوری نظام میں یک طرفہ طور سے اختلافی آواز کو دبا دیا جائے، دوسرے کمیونٹی کے ایک حصے کو مسلم پرسنل لاء بورڈ اور اس کی قیادت کے خلاف کھڑا کر دیا جائے، ایسا ہوا بھی، اگر اس سلسلے میں بورڈ کی قیادت سمجھ داری سے کام نہ لییتی تو معاملے کو بآسانی تصادم کی راہ پر ڈال کر مسئلے کو دوسرا رخ دے دیا جاتا، اس کی طرف سے منعقدہ پریس کانفرنس میں بھی ایک چینل کی رپورٹر کے ذریعے ماحول بگاڑنے کی کوشش ہوئی بھی تھی، متعلقہ بد نام زمانہ چینل شروع دن سے کوشش کرتا رہا ہے کہ مسلمانوں کے کردار کو بھارت میں بے معنی کردیا جائے، اسی نے ایک سرکاری مسلم خاتون ملازم کی شبیہ مکروہ شکل میں پیش کر کے ایک الگ طرح کا ماحول بنانے کی مذموم حرکت کی تھی، 2014 سے ایسے عناصر مسلسل کوشاں ہیں کہ ہندوتو کے رنگ میں ڈوبا ہوا ایسے بھارت کی تشکیل کی جائے جس میں صرف بھگوا رنگ نظر آئے، انھوں نے ملک ایک بڑے حصے خصوصا بی جے پی اقتدار والی ریاستوں کو بڑی حد تک پٹری سے اتارنے میں کوئی کور کسر نہیں چھوڑی ہے، اس کے خلاف کسی بھی تنقید و مزاحمت کو وہ برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کی طرف سے، پنڈت نہرو کے تبصرے کہ بھارت کو ہندو دائیں بازو کی فرقہ واریت سے خطرہ ہے سے پورا ہندوتو وادی سماج، بری طرح بوکھلاہٹ میں مبتلا ہو گیا ہے، ان کو خطرہ و خدشہ ہے کہ ہندستانی باشندوں کی واپسی، بھارت کے تنوعات اور مشترکہ متحدہ قومیت کی طرف نہ ہو جائے، ان کے خدشات میں اضافہ جمیعتہ علماء ہند کی طرف سے قومی و بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر حصول انصاف و مساوات کے لیے جدوجہد کے اعلان سے بھی ہوا ہے، وطنی نسبت پر مبنی متحدہ قومیت کی حمایت اور تہذیبی و ثقافتی قومیت کی مخالفت، جمعیۃ علماء ہند اور اس کے اکابر، مولانا آزاد رح، مولانا مدنی رح وغیرہم کا ماضی سے حال تک جاری موقف ہے، اسی کے پیش نظر ناگزیر حالت میں مسائل کو عالمی و بین الاقوامی عدالت تک لے جانے کے عندیہ نے ہندوتو وادی عناصر کو بے چینی میں ڈال دیا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ عالمی و انسانی سطح پر جدوجہد، ہندستانی راشٹر واد کے منافی ہے، لہذا متحدہ قومیت کی داعی جمیعتہ علماء ہند، بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر انصاف کی لڑائی کی بات کیسے کر سکتی ہے، اس سلسلے میں ہندوتو وادی سوچ والے افراد کے سامنے وجے ترویدی نے معقول سوال رکھا کہ آخر جمیعتہ علماء ہند نے بین الاقوامی سطح پر بھی مسئلے کو لے جانے کی بات کیوں کہی ہے، ہندوتو وادی عناصر کو یہ معلوم نہیں ہے کہ جمیعتہ علماء ہند کا قومی کردار کے علاوہ انسانی و عالمی کردار بھی ہے، اس کا ذکر اس کے دستور میں بھی ہے، آئین ہند کا تحفظ اور بھارت کے متنوع کردار کو ختم کرنے کی کوششوں کی مخالفت اس کی بنیاد میں ہے، گاندھی، نہرو کے بھارت میں مولانا آزاد،رح مولانا مدنی رح کی جدوجہد کوئی راز نہیں ہے، ان میں کئی سارے معاملے میں اختلاف اور الگ نظر آتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ رہنے اور اختلافات کے باوجود مشترکہ کردار کی ادائیگی میں گاندھی، نہرو، آزاد رح، مدنی رح ایک ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں، اس مشترکہ و متحدہ وراثت کی حفاظت، تمام محب وطن کے کردار کا حصہ و فریضہ ہے، وہ کسی قیمت پر بھی بھارت کو پٹری سے اترتا ہوا، انگیز نہیں کر سکتے ہیں،
















