جمعہ, ستمبر 25, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(8) راشٹرواد کا ہندو ورژن

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    جبری نظام اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا بھارت

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد (5) جمعیت علمائے ہند کے قیام کا پس منظر اور اس کا متحدہ راشٹرواد کا نظریہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (3) (3) ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے متحدہ قومیت کی راہ اختیار کرنا

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(02) ہندستانی مسلمانوں کا راشٹرواد

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    بھارت، انسانیت و روحانیت کی تلاش میں

    زبان سکھانے والی نصابی کتاب کیسے لکھیں

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    دھپرا کی مسجد میں فجر کے بعد اصلاحی نشست، آئندہ بدھ سے مستقل درس قرآن شروع کرنے کا عزم

    دارالمصنفین کی مطبوعات کے بارے میں ایک سوال

    آپ کی پوری زندگی عورتوں کے ساتھ رحمت ،شفقت، حسن سلوک اور نگہداشت کا روشن نمونہ ہے:مولانا سہیل ندوی

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(8) راشٹرواد کا ہندو ورژن

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    جبری نظام اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا بھارت

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد (5) جمعیت علمائے ہند کے قیام کا پس منظر اور اس کا متحدہ راشٹرواد کا نظریہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (3) (3) ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے متحدہ قومیت کی راہ اختیار کرنا

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(02) ہندستانی مسلمانوں کا راشٹرواد

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    بھارت، انسانیت و روحانیت کی تلاش میں

    زبان سکھانے والی نصابی کتاب کیسے لکھیں

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    دھپرا کی مسجد میں فجر کے بعد اصلاحی نشست، آئندہ بدھ سے مستقل درس قرآن شروع کرنے کا عزم

    دارالمصنفین کی مطبوعات کے بارے میں ایک سوال

    آپ کی پوری زندگی عورتوں کے ساتھ رحمت ،شفقت، حسن سلوک اور نگہداشت کا روشن نمونہ ہے:مولانا سہیل ندوی

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home متفرق مضامین

پریانک کھرگے کا آئینہ جمہوریت کی خود احتسابی کی دعوت

by Md Yasin Jahazi
اکتوبر 21, 2025
in متفرق مضامین
0
پریانک کھرگے کا آئینہ جمہوریت کی خود احتسابی کی دعوت
0
SHARES
27
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

از: عبدالحلیم منصورہندوستان کی جمہوریت اپنی متنوع ثقافت اور سیکولر شناخت پر فخر کرتی ہے، مگر حالیہ برسوں میں ریاستی اداروں میں نظریاتی دباؤ اور مخصوص تنظیموں کی سرگرمیاں اس شناخت کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر ملیکارجن کھرگے کے فرزند ،کرناٹک کے وزیر برائے دیہی ترقیات و پنچایت راج، پریانک کھرگے، نے اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہوئے واضح مطالبہ کیا کہ سرکاری اسکول، کالج، پارک اور دفاتر کسی بھی تنظیم کے نظریاتی یا مذہبی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہوں، بالخصوص آر ایس ایس اور اس جیسی تنظیموں کے لیے۔پریانک کھرگے کا موقف محض سیاسی بیان نہیں بلکہ ریاستی غیرجانبداری، جمہوری اقدار اور سماجی ہم آہنگی کا فکری دفاع ہے۔ ان کے مطابق، سرکاری ادارے عوام کے لیے ہیں، کسی مخصوص عقیدے یا نظریے کے لیے نہیں۔ جب ریاستی احاطے نظریاتی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوں، تو نہ صرف تعلیم و انتظامیہ متاثر ہوتے ہیں بلکہ شہری اعتماد اور جمہوری عمل بھی مجروح ہوتا ہے۔کھرگے نے واضح کیا کہ اسکول، کالج اور دیگر سرکاری ادارے علم و شعور کے مراکز ہیں، نہ کہ کسی تنظیم یا عقیدے کے اڈے۔ اگر کمسن ذہنوں کو فرقہ وارانہ یا نظریاتی سانچوں میں ڈھالا جائے، تو وہ سوال نہیں کرتے بلکہ تسلیم کرتے ہیں۔ یہی ذہنیت آگے چل کر عدلیہ، پولیس اور انتظامیہ میں تعصب، بے حسی اور امتیاز کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ جب کوئی جج انصاف سے زیادہ نظریاتی وابستگی کے مطابق فیصلہ کرے، یا کوئی سرکاری افسر اپنے دفتری فیصلوں میں نظریاتی ترجیح کو مقدم رکھے، تو پورے ریاستی نظام کی بنیادیں کمزور ہو جاتی ہیں۔کھرگے کے موقف کے بعد کرناٹک کابینہ نے ایک قانون منظور کیا جس کے مطابق کسی بھی تنظیم کو سرکاری مقامات پر سرگرمی کے لیے پیشگی اجازت لینا لازمی ہوگا۔ اگرچہ اس قانون کا مقصد نظم و ضبط اور رواداری کو یقینی بنانا تھا، عوام نے سوال اُٹھایا کہ کیا یہ واقعی ریاستی غیرجانبداری کی ضمانت ہے؟ پچھلی حکومت نے واضح طور پر کہا تھا کہ اسکولوں کے احاطے کسی غیر تعلیمی یا مذہبی سرگرمی کے لیے استعمال نہیں کیے جا سکتے، مگر موجودہ قانون نے اس اصول کو کمزور کر کے کہا کہ "اگر اجازت ہو تو ممکن ہے”۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں ریاستی غیرجانبداری پر سوال اٹھتے ہیں۔عوامی سطح پر ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ اگر حکومت واقعی غیرجانبداری پر یقین رکھتی ہے تو سرکاری دفاتر میں مذہبی تصاویر، پوجا آرتیاں اور مذہبی افتتاحی تقاریب کیوں برقرارد ہیں؟ جب اسمبلی، سکریٹریٹ اور دیگر اداروں میں دیوی دیوتاؤں کی تصاویر سجی رہیں یا فائلوں پر پھول چڑھائے جائیں، تو ریاست کا سیکولر ڈھانچہ علامتی طور پر متاثر ہوتا ہے۔ عوام کا مطالبہ بجا ہے کہ اگر نجی تنظیموں کی سرگرمی محدود کی جائے تو سرکاری اداروں میں بھی غیر مذہبی اور نظریاتی آزاد ماحول فراہم کیا جائے۔یہ مسئلہ صرف کرناٹک تک محدود نہیں۔ شمال سے لے کر جنوب اور مشرق سے مغرب تک ریاستی اداروں میں نظریاتی اثر بڑھ رہا ہے۔ اسکولوں میں نصاب کی تیاری اکثر نظریاتی بنیادوں پر ہوتی ہے اور سرکاری ملازمین کھل کر کسی مخصوص تنظیم سے وابستگی ظاہر کرتے ہیں۔ یہ صورتحال آئین کے بنیادی ستونوں — سیکولرزم، جمہوریت اور برابری — کے لیے حقیقی چیلنج ہے۔ ریاست کی غیرجانبداری وہ دیوار ہے جو اکثریتی دباؤ، مذہبی راج اور فکری غلامی سے شہریوں کو بچاتی ہے۔ اگر یہ دیوار ٹوٹ گئی تو آئین محض کاغذی الفاظ بن کر رہ جائے گا۔کرناٹک اور دیگر ریاستوں کے اقلیتی وزراء و اراکینِ اسمبلی نے اس حساس معاملے پر زبان بند رکھی۔ اگرچہ انہیں براہِ راست تائید سے گریز تھا، کم از کم اخلاقی سطح پر پریانک کھرگے کے قدم کی تعریف کرنی چاہئے تھی۔ یہ خاموشی سماجی ہم آہنگی کے خلاف ہے۔ اگر کل کوئی غیر مسلم رہنما فرقہ واریت کے خلاف آواز بلند کرے اور اقلیتی نمائندے اسے تنہا چھوڑ دیں، تو یہ سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ جن وزراء اور رہنماؤں نے مساوات اور سیکولرزم کی قسم کھائی ہے، ان میں سے بیشتر اس نازک موقع پر خاموش ہیں۔ فیض احمد فیض کے الفاظ یہاں صادق آتے ہیں:”ظلم کی تائید میں خاموش رہنا بھی ظلم کے مترادف ہے”۔پریانک کھرگے کے موقف کو بنیاد بنا کر اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ سرکاری اداروں میں کسی بھی نظریاتی یا مذہبی سرگرمی پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ نصاب کی تیاری آزاد نصابی کمیشن کے تحت کی جائے تاکہ سیاسی یا نظریاتی دباؤ نصاب پر اثر انداز نہ ہو۔ سرکاری ملازمین کے لیے واضح ضابطہ بنایا جائے کہ وہ اپنی مذہبی یا نظریاتی شناخت دفتری ماحول میں نہ لائیں۔ عوامی مقامات سے مذہبی علامتیں یا نظریاتی مواد ہٹانے کے لیے مہم چلائی جائے اور تعلیمی اداروں میں مختلف مذاہب کی تعلیم کے بجائے مشترکہ اخلاقی اور انسانی اقدار کو فروغ دیا جائے۔ یہ طرزِ عمل ریاستی اداروں کو محفوظ، مساوی اور فکری طور پر آزاد رکھنے میں مددگار ہوگا۔پریانک کھرگے کا قدم ایک آئینہ ہے جو ہماری اجتماعی خامیوں کو عیاں کرتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم خود سے پوچھیں: کیا ہم سرکاری اداروں کو جمہوری اقدار کا مظہر بنانا چاہتے ہیں یا نظریاتی تبلیغ کے مرکز؟ یہ سوال صرف سیاست دانوں کے لیے نہیں، بلکہ ہر شہری کے لیے ہے۔ اگر آج ہم نے ریاستی اداروں کی نظریاتی آزادی کے حق میں آواز نہ اٹھائی، تو آنے والی نسلیں غلام ذہنوں میں پروان چڑھیں گی۔ ریاست کے مؤقر ادارے عوامی بھروسے کے قلعے ہونے چاہئیں، نظریاتی تبلیغ کے مندر نہیں۔اختتام پر فیض احمد فیض کے الفاظ آج بھی ہم پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں:”یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحروہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں…”haleemmansoor@gmail.com

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
نشہ کی حقیقت اور اس کا علاج اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

دھرم پریورتن، سچائی اور پروپیگنڈه

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودیہ عربیہ) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط

بیسویں صدی سے متحدہ عرب ممالک اور جمعیت علمائے ہند

4 ہفتے ago
جنگل کا قانون

جنگل کا قانون

12 مہینے ago

مقبول

  • عقیدهٔ توحید اور توهم پرستی

    سود كی لعنت اور اس كا علاج

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • کیا پاکستان ہندستانی مسلمانوں کے راشٹرواد پر ایک سوالیہ نشان ہے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • قرآن کتاب تلاوت بھی ہے اور کتاب ہدایت بھی:مفتی سلمان منصور پوری صاحب

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • راشٹرواد(8) راشٹرواد کا ہندو ورژن

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.