کامیابی کا راز جہدمسلسل میں ہےحجۃ الاسلام اکیڈمی کا قیام ۲۰۱۳ء میں ہوا اسی سلسلے میںمرکزی لائبریری میںخطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب نوراللہ مرقدہ ‘کی صدارت میں ایک پروگرام ہواتھا جس میں ڈاکٹر محمداعظم قاسمی صاحب بھی تشریف لائے تھے اوردارالعلوم وقف کےتمام اساتذہ کرام نے شرکت کی تھی اور تمام حضرات جناب مولاناڈاکٹر محمدشکیب قاسمی صاحب کو مبارک بادی پیش کررہےتھے،دعاؤں سے نوازاجارہاتھا اوربہت ساری امیدیں کی جارہی تھی اورخواب دیکھےجارہےتھے۔سواس دن سے مسلسل اکابر واساتذۂ کرام کی وہ تمام امیدیں اور خواب شرمندۂ تعبیرہوتے دیکھ کر دلی خوشی ہوتی ہے۔اکابرعلماء دیوبندکے علوم و افکار سے عالم عرب یورپین ممالک کو متعارف کرانے کے لئے ان کے علوم کو مختلف زبانوں میں منتقل کرنے کا عزم وارادہ کیا گیا تھا، دارالعلوم وقف کے نائب مہتمم اور حجۃ الاسلام اکیڈمی کے ڈائریکٹر ڈاکٹرمولانا محمد شکیب قاسمی صاحب اپنے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی کسرنہیں چھوڑیدوربینی،دوراندیشی ،حکمت عملی اپنائی گئی جس سے منصوبہ پائے تکمیل کو پہونچے۔یکے بعد دیگرے کامیاب پروگرام کراتے رہے اللہ تعالی سے دعاہےکہ یہ سلسلہ یوہی چلتارہے۔آمیناس کے بعدسب سے پہلااجلاس۲۰۱۴ء میں ’’تقریب رسم اجراء کتب‘‘کے عنوان سے دارالاقامہ کے وسیع وعریض میدان میں ہواتھا جس میں چھ کتابوں کا اجراء عمل میں آیاتھا ۔دوسرا اجلاس ۲۰۱۸ء میں’’خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمی کی حیات وخدمات پر دو روزہ سہ لسانی عالمی سمینار‘‘ کے عنوان سے دارالحدیث کے وسیع وعریض ہال میں ہواتھا جس میں چار اہم مطبوعات اور ماہنامہ’’ ندائے دارالعلوم وقف‘‘ کی دو خصوصی اشاعت کا اجراء بھی عمل میںآیاتھا۔اوریہ تیسرااجلاس ۱۳؍۱۴؍ دسمبر۲۰۲۵ءکو دارالعلوم وقف دیوبند کے دارالحدیث کے وسیع وعریض ہال میں حجۃ الاسلام اکیڈمی کےزیراہتمام علامہ انورشاہ کشمیریؒ پر دو روزہ عالمی سیمینار کا انعقاد کیاگیا تھا جس میں بارہ کتابوں کا اجراء عمل میں آیا۔میری خوش نصیبی کہ مجھے بھی اس سیمینار میں بحیثیت مقالہ نگار شرکت کا موقع ملا ۔ مذکورہ تمام پروگرام یکے بعد دیگرے بحسن خوبی کامیابی سے ہم کنارہوئےان سب کا میابیوں کاسہرا اکیڈمی کے ڈائریکٹرحضرت مولانا محمد شکیب قاسمی صاحب نائب مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند او ران کے رفقاءکار کوجاتاہیں جن کی شبانہ روز جد وجہد اور محنت و لگن کا واضح ثبوت ہے۔دارالحدیث کا انتخاب بذاتِ خود علامہ کشمیریؒ کی نسبت سے گہری معنویت رکھتا ہے، کیونکہ ان کی علمی شناخت کا اصل مرکز حدیث و فہمِ حدیث تھا۔انتظامی سطح پر سیمینار میں سادگی، وقار اور علمی نظم نمایاں تھا۔ نہ غیر ضروری رسمی کارروائیاں تھیں اور نہ وقت کا اسراف؛ بلکہ ہر نشست اپنے موضوع کے وزن کے مطابق سنجیدگی سے آگے بڑھی۔ سامعین کی خاموش توجہ، نشستوں کے بعد ہونے والی علمی گفتگو اور سوالات نے اس بات کی گواہی دی کہ یہ سیمینار سننے سے زیادہ سوچنے کا موقع فراہم کر رہا تھا۔مجموعی طور پر یہ سیمینار اس حقیقت کی یاد دہانی تھا کہ حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی عظمت صرف ان کے حافظے یا کثرتِ معلومات میں نہیں، بلکہ ان کے علمی حوصلے، فکری دیانت اور منہجی گہرائی میں مضمر ہے۔ دارالعلوم وقف دیوبند کا یہ علمی اقدام اس اعتبار سے قابلِ تحسین ہے کہ اس نے اکابر کی یاد کو تعظیم کے ساتھ ساتھ تحقیق اور احتساب کے دائرے میں زندہ رکھا۔سیمینار میں حضرت مولانا محمد شکیب قاسمی صاحب اور ان کی ٹیم کا کردارحضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ پر منعقدہ اس علمی سیمینار کی کامیابی میں حضرت مولانا محمد شکیب قاسمی صاحب کا کردار نہایت مرکزی، مؤثر اور ہمہ جہت رہا۔ انہوں نے نہ صرف سیمینار کی فکری سمت متعین کی بلکہ اس کے انتظامی و تعلیمی پہلوؤں کو باہم مربوط کر کے اسے ایک باوقار علمی اجتماع کی شکل دی۔مولانا شکیب قاسمی صاحب کی خاص خدمت یہ رہی کہ انہوں نے سیمینار کو رسمی کارروائی بننے سے بچاتے ہوئے علمی وقار، موضوعی ربط اور وقت کی پابندی کو یقینی بنایا۔ مقالات کے انتخاب، نشستوں کی ترتیب اور علمی توازن میں ان کی بصیرت صاف جھلکتی تھی۔اسی طرح ان کی پوری ٹیم نے خاموشی، اخلاص اور نظم کے ساتھ جو خدمات انجام دیں، وہ قابلِ تحسین ہیں۔ استقبالِ مہمانان، نشستوں کا نظم، تکنیکی و انتظامی سہولتیں اور سامعین کی رہنمائی ہر مرحلے میں ٹیم ورک کی مثال نظر آئی۔ یہ وہ خدمات تھیں جو اسٹیج پر نظر کم آئیں، مگر سیمینار کی کامیابی کا اصل سہارا بنیں۔بلاشبہ یہ سیمینار اس حقیقت کا ثبوت تھا کہ جب صالح قیادت اور مخلص ٹیم یکجا ہو جائیں تو علمی اجتماعات صرف منعقد نہیں ہوتے، بلکہ یادگار بن جاتے ہیں۔ انعام الحق قاسمی ناظم لائبریری دارالعلوم وقف دیوبند ۲۲؍رجب المرجب ۱۴۴۷ھ مطابق ۱۲؍جنوری۲۰۲۶ء


















