طلحہ نعمت ندوی
ہندوستا ن میں تحریک آزادی اور خلافت تحریک ،انصاری طبی مشن جیسے وفد کے سلسلہ میں ڈاکٹر عبدالرحمن کا نام ہر جگہ ملتا ہے لیکن ان کے حالات تفصیل کے ساتھ شاید اردو میں کہیں موجود نہیں ۔یہ عبدالرحمن کون تھے ،اور ان کی خدمات کیا تھیں ،بہت کم لوگ اس سے واقف ہیں ،ذیل میں ان کے حالات وخدمات پیش کئے جارہے ہیں ۔ڈاکٹر عبدالرحمن مشہور فاضل ،ماہر ڈاکٹر فزیشین ،اور قومی قائد تھے ،ان کا آبائی وطن ڈمراواں تھا ،جہاں کے سادات کے ایک قدیم تعلیم یافتہ خاندان سے ان کا تعلق تھا ،ان کے والد کا نام مظہر الحق بن سید ظہور الحق بن سید نوازش علی بن سید سیف علی بن سید نذر علی تھا ،اس علاقہ کے معروف خاندان جاجنری سادات سے تعلق تھا ۔یہیں ۱۷جون ۱۸۸۷ کو ان کی ولادت ہوئی ،ابتدائی تعلیم کے مراحل وطن میں طے کرنے کے بعد پٹنہ آئے اور یہاں پٹنہ کالج میں داخلہ لیا ،اور ایک دو سال کی ثانوی تعلیم کے بعد کلکتہ میڈیکل کالج میں داخلہ لیا اور تین چار سال یعنی ۱۹۰۹ تک وہیں طب کی تعلیم حاصل کی ،اس کے بعد اس فن میں کمال ومہارت کے لئے وہ انگلستان گئے جہاں ان کے بہنوئی سید محی الدین استھانوی پہلے سے موجود تھے اور بیرسٹری کی تعلیم حاصل کررہے تھے ،موصوف نے اس دور میں ادب یا بیرسٹری کی تعلیم کے بجائے میڈیکل کالج میں داخلہ لے کر اسی میدان کا انتخاب کیا ،جس کا رجحان اس دور میں یہاں سے جانے والے طلبہ میں کم تھا ،چنانچہ انہوں نے ایڈنبرا یونیورسٹی کے میڈیکل فیکلٹی میں داخلہ لے کر تین سال تعلیم حاصل کی اور ۱۹۱۲ میں آخری امتحان دے کرMBChBکی سند حاصل کی ۔ اسی سال ڈاکٹر انصاری کی قیادت میں ہندوستان سے ایک طبی وفد ترکوں کی مدد کے لئے ۱۳ دسمبر کو روانہ ہوا ،ڈاکٹر انصاری بھی اس وفد میں شرکت کے لئے انگلینڈ سے روانہ ہوئے اور اپنی کم عمری کے باوجود استنبول پہنچ کر اس میں شریک ہوکر ہندوستان کی نمائندگی کی اور ترک زخمیوں کا علاج کیا ۔ علامہ سید سلیمان ندوی نے بھی حیات شبلی میں ان کے اس سفر کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے’’ڈاکٹر رحمن انگلینڈ میں اپنی تعلیم سے فارغ ہی ہوئے تھے ،وہیں سے چل کر سیدھے قسطنطنیہ پہنچے ،‘‘۔ ڈاکٹر انصاری نے جو مکاتیب مولانا محمد علی کو ارسال کئے تھے ان کا بڑا حصہ ایک کتاب میں شائع ہوچکا ہے ،اس میں ان کی سرگرمیوں اور خدمات کا جابجا ذکر ہے ۔ نیز کامریڈ میں بھی ڈاکٹر انصاری کے چند خطوط شائع ہوئے ہیں ان میں بھی ان کی سرگرمیوں کا دلچسپ تذکرہ ہے ،ایک جگہ لکھتے ہیں ’’ڈاکٹر عبدالرحمن نے بلا توقف اور انتھک محنت سے اس ہسپتال کو اس درجہ پر پہنچا دیا ہے کہ میں بلا کسی تردد اسے اس مقام کا بہترین ہسپتال کہہ سکتا ہوں ،ہمارا آپریشن روم،ڈسپنسری اور وارڈ یہاں آنے والے تمام مہمانوں کو بے حد پسند آتے ہیں ،چاہے آلات وسامان ہوں یا صفائی اور جراثیم سے پاک رکھنے کے انتظامات ،ہر چیز انہیں بہت متاثر کرتی ہے‘‘ ۔ ایک خط میں لکھتے ہیں ’’یہاں چناق قلعہ میں ہم ڈاکٹر عبدالرحمن کی پرجوش اور موثر رہنمائی میں نہایت عمدگی سے کام کررہے ہیں ،اب تک داخل مریضوں کی تعداد ۲۹۲ تک پہنچ گئی ہے ،اس وقت ہسپتال میں مریضوں کی تعداد ۱۰۸ ہے،اور میرے پچھلے خط کے بعد بیرونی مریضوں کی تعداد ۱۰۲ ہوگئی ہے ‘‘۔ اس دوران ان کی مقبولیت بہت بڑھی ،وہاں سے واپس آکر وہ دہلی میں علاج معالجہ میں مشغول ہوگئے ،اور کئی سال یہاں رہ کر اس قدر مقبول ہوگئے تھے کہ بڑے بڑے قدآور اہل علم اورقائدین قوم سے ان کے بے تکلف مراسم ہوگئے تھے اور بہت سے اہل علم ان ہی کے زیر علاج رہتے ، اس کے ساتھ ہی وہ دہلی میں رہتے ہوئے قومی وملی کاموں میں بھی حصہ لیتے رہے ، طبی وفد میں شمولیت کے بعد سے ہی ملک کے نامور قائدین سے ان کے مراسم ہوگئے تھے اور اپنی معاشی مشغولیت اور خدمت خلق کے ساتھ ہی وہ قومی کاموں میں سرگرم تھے ،اسی دوران ۱۹۲۴ میں انہوں نے گاندھی جی کا بھی علاج کیا ،چنانچہ گاندھی جی لکھتے ہیں ’’درست اور باقاعدہ طبی مشاورت کے لئے میں صرف قارئین کو ڈاکٹر انصاری اور ڈاکٹر عبدالرحمن کی طرف رجوع کرنے کو کہہ سکتا ہوں ،جو پچھلے سال کے میرے طویل روزے کے دوران میرے طبی رہنما تھے ۔وہ نہایت محنت اور جانفشانی سے کام کرتے رہے۔وہ مسلسل میرے بستر علالت کے پاس موجود رہتے تھے ،اور پوری دلجمعی اور اخلاص کے ساتھ میری دیکھ بھال کے کام میں جٹے ہوئے تھے ۔ اس سے قبل ۱۹۱۷ میں ملک کے مسلم قائدین کی رہائی کے لئےانجمن اعانت نظربندان اسلام کی تشکیل ہوئی تو اس کے ایک اہم او ر سرگرم رکن وہ بھی بنے ۔۱۹۲۷ میں وہ ریاست بھوپال منتقل ہوگئے ،سیاسی مکتوبات مولانا محمد علی جوہر میں ان کا ذکر ان الفاظ میں ہے ’’ڈاکٹر انصاری کے بعد دہلی کے سب سے مشہور اور نامور طبیب جو بعد میں نواب صاحب بھوپال کے طبی مشیر ہوگئے تھے ،مولانا محمد علی کے بے تکلف دوستوں میں تھے ،۲۲جون ۱۹۲۷ کے ہمدرد میں ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ ڈاکٹر سید عبدالرحمن جو ایک عرصہ سے دہلی میں اپنے مطب کے ذریعہ سے اہل دہلی کی خدمت کررہے تھے ہزہائینس سکندر صولت نواب حمیداللہ خاں صاحب بالقابہم والی بھوپال کے اسٹاف سرجن ہوکر عن قریب دہلی سے بھوپال تشریف لے جانے والے ہیں ،ان کو ۲۱جون کو معززین او رہندو مسلمان احباب دہلی کی طرف سے ڈاکٹر مختار احمد انصاری کے مکان پر الوداعی پارٹی کے طور پر چائے نوشی کی دعو ت دی گئی ‘‘(ص ۲۸۴)یکم نومبر ۱۹۳۴ کو وہ ریاست کے طبی مشیر(میڈیکل چیف آفیسر ) کے عہدہ پر فائز ہوئے،آموزگار اقبال میں ہے’’تعجب کی بات یہ ہے کہ لفٹنٹ کرنل سید عبدالرحمن صاحب ایم بی سی ایچ بی کے تقرر میں سپرٹنڈنٹ کے عہدہ سے چیف میڈیکل آفیسر ریاست بھوپال کی ترقی کا ذکر ہے‘‘۔(ص ۴۲) وہ تقسیم ہند تک وہیں رہے ،اس دوران انہوں نے ریاست بھوپال میں قیام کے دوران علامہ اقبال کا بھی علاج کیا ۔ ملا رموزی نے ان کے قیام بھوپال کے دوران ان کے علاج کی تعریف میں حسب ذیل الفاظ لکھے تھے ، ’’حضرت محترم کرنل والاقدر ،سید عبدالرحمن صاحب نہ فقط ایک محقق اور صاحب شفا ڈاکٹر ہیں بلکہ محترم ایک خالص قومی جذبے کے بزرگ بھی ہیں ،اور آپ نے دیسی اور انگریزی دواخانوں کی جو تنظیم وتہذیب فرمائی ہے ،اس میں خاص خاص امراض کے جو خاص خاص ماہر جمع کردئے ہیں ،ان کی لاجوابی اور ان کے فوائد کا تذکرہ ایک طویل مضمون کا طالب ہے‘‘۔ ریاست ختم ہونے کے بعد وہ کراچی چلے گئے اور محمد علی جناح کے خصوصی معالج مقرر ہوئے، ان کے بعد بھی وزیر اعظم کے معالج رہے ،اخیر دور میں علامہ سید سلیمان ندوی بھی انہیں کے زیر علاج رہے ،اور قومی وملی کاموں میں بھی دلچسپی لیتے رہے ،اور کراچی ہی میں ۲۲اپریل ۱۹۵۵کووفات پائی۔ حواشی:یہ تمام تفصیلات ایڈنبرا یونیورسٹی کے سرکاری دستاویزات سے دستیاب ہیں، جو وہاں کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں ،اور ڈاکٹر صاحب کے خاندان کے ایک فاضل جناب خالد صاحب (حال مقیم پٹنہ)کے توسط سے دیکھنے کو ملے،انہوں نے یونیورسٹی سے اس کا عکس حاصل کیا ہے۔ اس زمانہ میں اس موضوع پر جو تحریریں لکھی گئی ہیں ان سب میں ان کا ذکر ہے۔ بحوالہ کاروان گم گشتہ ،ص ۳۱۵ یہ کتاب ترکی سفیر برائے ہندوستان براق آقچار کی people’s mission to the Ottoman Empire ہے۔ کامریڈ انگریزی ،۵اپریل ۱۹۱۳ کامریڈ انگریزی،ص ۱۰مئی ۱۹۱۳ دیکھئے بزم دانشوراں ،از صالحہ عابد حسین ،ص ۹۹ اخبار ینگ انڈیا ۱۷دسمبر ۱۹۲۵ ہندوستان کے چند سیاسی رہنما از ظفر احمد نظامی، ص ۱۰۹،قاضی عبدالغفار شخصیت اور فن امیر عارفی ،ص ۶۴ علامہ اقبال کے ایک سو گیارہ غیر مدون مکاتیب مع حواشی وتعلیقات،از رفیع الدین ہاشمی۔ روزنامہ ندیم بھوپال ۲۸ اگست ۱۹۳۸ دیکھئے جمیل ایس ایم کی muslim year book of India 1948-49 پاکستان ص ۳۷ پاکستان ۵۸ سال از رضی الدین رضی وشاکر حسین شاکر ص ۱۷۱ انسائیکلوپیڈیا قائم اعظم ،از زاہد انجم ،ص ۴۴۷میں ۲۰ اگست ہے لیکن درست مذکورہ تاریخ ہے کیوں کہ اسی تاریخ کو یہ تفصیل قلمبند کی گئی ہے۔





















