جمعرات, جون 25, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار

    اہلِ مدارس کے لیے تعلیمی ایجوکیشن پالیسیز میں اہم فارمولے

    احوال و کوائف اور تعارف حضرت مولانا مفتی محمد شوکت علی صاحب بھاگلپوری دامت برکاتہم شیخ الحدیث : دار العلوم سعادتِ دارین ستپون ، ضلع : بھروچ ، گجرات

    بھارت فرقہ پرستی اور تعصب کی تباہی کے دہانے پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

    جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب

    تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    اقتدار کی منتقلی سے حکمرانی کے امتحان تککرناٹک میں نئی قیادت کے سامنے سیاسی استحکام اور سماجی توازن کا چیلنج

    تاریخی مساجد کو مندر میں بدلنے کی مہم

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا بارھواں ’عوامی بیداری پروگرام‘ سمری میں کامیابی کے ساتھ منعقد؛ نوجوانوں کی فکری و تعلیمی تربیت پر زور

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    نوجوانوں نے لیا ریل کے بجائے ری یل زندگی گزارنے کا عہد

    نوجوانوں نے لیا ریل کے بجائے ری یل زندگی گزارنے کا عہد

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا نواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ جمنی کولہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا نواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ جمنی کولہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد

    نیا ڈیہہ بانکا بہار میں  اکابر علمائے کرام کی بہار

    نیا ڈیہہ بانکا بہار میں اکابر علمائے کرام کی بہار

    یو پی کے علمائے کرام کا جھارکھنڈ کےجامعۃ الہدی میں استقبال

    یو پی کے علمائے کرام کا جھارکھنڈ کےجامعۃ الہدی میں استقبال

    نجات کے حصول کے لئے تین چیزوں پر عمل کرنے کی ضرورت

    جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

    جمعیت علمائے ہند کا 6 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار

    اہلِ مدارس کے لیے تعلیمی ایجوکیشن پالیسیز میں اہم فارمولے

    احوال و کوائف اور تعارف حضرت مولانا مفتی محمد شوکت علی صاحب بھاگلپوری دامت برکاتہم شیخ الحدیث : دار العلوم سعادتِ دارین ستپون ، ضلع : بھروچ ، گجرات

    بھارت فرقہ پرستی اور تعصب کی تباہی کے دہانے پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

    جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب

    تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    اقتدار کی منتقلی سے حکمرانی کے امتحان تککرناٹک میں نئی قیادت کے سامنے سیاسی استحکام اور سماجی توازن کا چیلنج

    تاریخی مساجد کو مندر میں بدلنے کی مہم

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا بارھواں ’عوامی بیداری پروگرام‘ سمری میں کامیابی کے ساتھ منعقد؛ نوجوانوں کی فکری و تعلیمی تربیت پر زور

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    نوجوانوں نے لیا ریل کے بجائے ری یل زندگی گزارنے کا عہد

    نوجوانوں نے لیا ریل کے بجائے ری یل زندگی گزارنے کا عہد

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا نواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ جمنی کولہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا نواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ جمنی کولہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد

    نیا ڈیہہ بانکا بہار میں  اکابر علمائے کرام کی بہار

    نیا ڈیہہ بانکا بہار میں اکابر علمائے کرام کی بہار

    یو پی کے علمائے کرام کا جھارکھنڈ کےجامعۃ الہدی میں استقبال

    یو پی کے علمائے کرام کا جھارکھنڈ کےجامعۃ الہدی میں استقبال

    نجات کے حصول کے لئے تین چیزوں پر عمل کرنے کی ضرورت

    جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

    جمعیت علمائے ہند کا 6 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اسلامیات

جہاد، حقیقت اور پروپیگنڈه

by Md Yasin Jahazi
دسمبر 4, 2025
in اسلامیات
0
الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات
0
SHARES
21
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

بسم الله الرحمٰن الرحیم

شمع فروزاں05.12.2025

مولانا خالد سیف الله رحمانی

انسان کی ایک کمزوری یہ ہے کہ جو بات اس سے بار بار کہی اور دہرائی جاتی ہے ، وہ اس کا یقین کر لیتا ہے ، خواہ وہ بات کتنی ہی خلافِ واقعہ کیوں نہ ہو ، اس کی ایک مثال اس وقت ’’ جہاد ‘‘ کے عنوان سے پھیلائی جانے والی غلط فہمیاں ہیں ، جو ایك ملی تنظیم كے سربراه كے بیان كے پس منظر میں میڈیا كا موضوع بن گئی هے، مغربی ملکوں نے اپنی ظلم و زیادتی پر پردہ رکھنے اور اسلام کو بدنام کرنے کے لئے ’’ جہاد ‘‘ کو ’’ دہشت گردی ‘‘ (Terrorism) کے ہم معنی قرار دے دیا ہے اور پوری دنیا میں اسلام کے خلاف دہشت گردی کو عنوان بناکر مہم چلائی جا رہی ہے ، اسرائیل فلسطین کی زمین پر قابض ہے ، فلسطینی تارکین کو اپنے گھر واپسی کے حق سے محروم کئے ہوا ہے ، اور خود یہودی بستیاں بسا رہا ہے ، اسرائیل کا موجودہ وزیر اعظم بنجامن نتن یاهو خوں آشام طبیعت کا انسان ہے اور اس نے نہتے عربوں کا قتل عام کیا ہے ، اس کے باوجود انھیں دہشت گرد نہیں کہا جاتا اور فلسطینی جب ان مظالم کے خلاف جد و جہد کرتے ہیں تو ان کی مدافعانہ کار روائیوں کو دہشت گردی سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ خود ہمارے ملک ہندوستان میں جن طاقتوں نے علانیہ بابری مسجد کو شہید کیا ، عدالتی احکام کی خلاف ورزی کی ، بھاگلپور ، میرٹھ اور مختلف علاقوں میں مسلمانوں کا قتل عام کیا ، اور گجرات میں منصوبہ بند طریقہ پر مسلمانوں کی جان و مال کو تباہ کیا، وہ دہشت گرد نہیں کہلاتے اور اگر مسلمانوں کی طرف سے کسی ردِ عمل کا اظہار ہو تو اسے دہشت گردی کا نام دیا جاتا ہے ، انڈونیشیا میں مشرقی تیمور کے علاحدگی پسندوں نے شورشیں برپاکیں تو انھیں دہشت گرد نہیں کہا گیا اور انڈونیشیا کو اس بات پر مجبور کر دیا گیا کہ وہ اس خطہ کو آزاد کردے ، اسے دہشت گردی نہیں سمجھا گیا ، سوڈان میں جنوبی علاقے کے عیسائی آمادۂ بغاوت تھے ، تو اس کو جنگ آزادی کا نام دیا گیا ، روس سے متعدد عیسائی ریاستوں نے اپنی علاحدگی کا اعلان کیا ، تو ان کے اس حق کو تسلیم کیا گیا ؛ لیکن چیچنیا میں جب عوامی انتخاب کے ذریعہ ایک مسلم ملک وجود میں آیا تو اسے دہشت گرد کہا گیا اور پورا مشرق و مغرب مخالفت پر کمر بستہ ہو گیا بالآخر قطعاً ظالمانہ طریقہ پر اس مملکت کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا گیا ۔ مغرب کی سامراجی طاقتوں اور هندوستان كی هندوتوا تنظیموں نے دہشت گردی کا عجیب پیمانہ مقرر کیا ہے جس میں ایک ہی عمل کہیں ’’ دہشت گردی‘‘ قرار پاتا ہے اور کہیں ’’ حق مدافعت ‘‘ اور اسلام کو مزید بدنام کرنے کے لئے ’’ جہاد ‘‘ کو بھی دہشت گردی سے مربوط کر دیا گیا ہے ، اس پس منظر میں یہ بات ضروری ہے کہ ہم جہاد کے صحیح مفہوم کو سمجھیں اور ان حالات اور مواقع کو سامنے رکھیں جن میں جہاد کی اجازت دی گئی ۔عربی زبان میں ’’ جَہد ‘‘ ( ج کے زَبر کے ساتھ) کے معنی طاقت کے ہیں اور جُہد (ج کے پیش کے ساتھ ) کے معنی مشقت کے ہیں ، جہاد ظلم كا مقابله كرنے کے لئے اپنی پوری طاقت استعمال کرنے اور اس راہ میں ہونے والی مشقتوں کو انگیز کرنے کا نام ہے ، گویا جہاد ایک وسیع مفہوم کی حامل اصطلاح ہے ، جس کا مقصد عدل قائم كرنے کی کوشش وکاوش ہے ، جہاد کے مختلف وسائل و ذرائع ہیں ، زبان و بیان بھی جہاد کا ایک ذریعہ ہے ، اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے ظالم بادشاہ کے سامنے انصاف کی بات کہنے کو سب سے افضل جہاد قرار دیا: أفضل الجہاد کلمۃ عدل عند السلطان الجائر (ابن ماجہ ، حدیث نمبر : ۱۱ ۴۰ ) جہاد کا ایک ذریعہ اس زمانہ میں قلم بھی ہے ؛ بلکہ یہ نہایت مؤثر ذریعہ ہے ، کوئی مسلمان اپنا قلم ظلم كو روكنے اور دین کی حفاظت و اشاعت کے لئے وقف کر دے تو یہ بھی جہاد میں شامل ہے ، آج کل دوسرے ذرائع ابلاغ بھی کسی فکر کی ترویج و اشاعت اور اس کے غلبہ کے لئے نہایت مفید اورمؤثر ہیں اور یہ بھی معنوی جہاد میں شامل ہیں ۔جہاد کی آخری صورت ’’ جہاد بالسیف ‘‘ ہے ، یعنی ظالموں کے خلاف طاقت کا استعمال ؛ لیکن اس کے لئے کچھ شرطیں اور تفصیلات ہیں ، ایسا نہیں ہے کہ کسی مسلمان کی نظر جس غیر مسلم پر پڑجائے ، یا جو غیر مسلم اس کی گرفت میں آجائے وہ اس کا کام تمام کر دے ، یہ جہاد نہیں بلکہ فساد ہے ، جہاد کے سلسلہ میں قرآن نے ہمیں واضح طور پر بتایا کہ جو لوگ تم کو مرنے اور مارنے کے درپے ہوں، تم بھی ان سے جہاد کرو ؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلَاتَعْتَدُوْا اِنَّ اﷲَ لَایُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ۔ (البقره: ۱۹۰)اور جو لوگ تم سے برسرِ پیکار ہیں ، ان سے اللہ کے راستہ میں جہاد کرو اور زیادتی نہ کرو ، کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے ۔اس آیت میں دو باتیں بتائی گئی ہیں ، اول یہ کہ جہاد کا آخری درجہ جسے قرآن مجید میں قتال سے تعبیر کیا گیا ہے ، ان لوگوں سے ہے ، جو مسلمانوں سے برسر پیکار ہوں ، جن كی مسلمانوں كے ساتھ صلح هو، جیسا كه بھارت میں تمام قومیں ایك معاهده كے تحت رهتی هیں، ان سے قتال کا حق نہیں ہے ، ایک اور موقع پر قرآن مجید نے اس حکم کو بہت ہی وضاحت کے ساتھ ذکر کیا ہے ، ارشاد ہے : لَا یَنْہَاکُمُ اﷲُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْھُمْ وَتُقْسِطُوْا اِلَیْھِمْ اِنَّ اﷲَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ۔ (الممتحنه: ۸)اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں کے ساتھ حُسن سلوک اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتے ، جنھوں نے دین کے معاملہ میں تم سے لڑائی نہیں کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ، یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں ۔ یہ آیت صاف طور پر بتاتی ہے کہ جہاد کا حکم ان لوگوں سے ہے ، جو مسلمانوں سے آمادۂ جنگ ہوں اور ظاہر ہے کہ اگر کوئی قوم دوسری قوم سے جنگ و جدال کا تہیہ کئے ہوئی ہو ، تواگر ان سے جنگ نہ کی جائے گی تو کیا ان کے لئے پھول کی سیجیں بچھائی جائیں گی ؟ اوپر جس آیت کا ذکر ہوا ہے ، اس میں دوسری اہم بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اسلام حالت ِجنگ میں بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ مسلمان اخلاق اور انسانیت کی حدود کو پھلانگ جائیں ، اسی کو قرآن مجید نے ’’ اعتداء ‘‘ یعنی ’’ زیادتی‘‘ سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتے ، علامہ ابن کثیرؒ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما حضرت عمر بن عبد العزیز اور حسن بصریؒ وغیرہ سے اس کی تشریح میں نقل کیا ہے کہ اس سے مراد دشمن کا مُثلہ کرنا ، عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں کو قتل کرنا ، مذہبی شخصیتوں کا قتل اوردرختوں کو جلانا ہے ، (تفسیر ابن كثیر: ۱؍۲۶۶) رسول اللہ ﷺنے اس بات سے بھی منع فرمایا کہ کسی انسان کو جلانے کی سزا دی جائے ، کہ اس سزا کا حق صرف اللہ کو ہے ، مسلمانوں نے ہمیشہ اس ہدایت کو ملحوظ رکھا ، انسانوں کو زندہ جلانے کی المناک اور انسانیت سوز صورت یا تو ان عیسائیوں کے یہاں ملتی ہے ، جن کی مذہبی عدالتیں عقیدہ سے اختلاف رکھنے والوں کو زندہ نذرِ آتش کردیا کرتی تھیں ، یورپ کی مذہبی اور اخلاقی تاریخ کی کتابوں میں بہ کثرت اس کا ذکر آیا ہے اسی طرح ہندوستان میں بیوہ عورتوں کو ان کے شوہروں کے ساتھ جرم بے گناہی میں زبردستی جلا دیا جاتا تھا ، جسے ’’ستی ‘‘ کا نام دیا جاتا تھا ۔افسوس کہ دروغ گو ذرائع ابلاغ نے جہاد کے وسیع مفہوم کو صرف قتال میں محدود کردیا ہے اور اسلام کی ایسی تصویر کھینچی گئی ہے ، جس میں رواداری ، تحمل ، قوتِ برداشت اور دیگر اہل مذہب کے ساتھ حسن سلوک کی کوئی گنجائش ہی نہ ہو ؛ بلکہ وہ چاہتا ہو کہ ہر ’’غیر مسلم‘‘ کو تہہ ِتیغ کردے ، یہ لفظ جہاد کی نہایت ہی غلط اور خلافِ واقعہ توضیح ہے ، جو اسلام کے سرڈال دی گئی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بہ حیثیت مجموعی غیر مسلموں کے تین طبقے ہیں ، ایک تو وہ غیر مسلم جومسلم ممالک میں آباد ہوں ، ان کو ’’ ذِمی ‘‘ یا ’’ اہل ذِمہ‘‘ کہا جاتا ہے ، دوسرے وہ غیرمسلم جن کے ساتھ اقتدار میں شرکت اور بقاء باہم کے اُصول پر مسلمان ایک ملک میں رہتے ہیں ، اس طرح کے غیر مسلموں کے لئے فقہاء کے یہاں ’’ معاہد ‘‘ کی تعبیر ملتی ہے ، یعنی وہ شخص جس سے عہد ہو چکا ہے ، ان دونوں سے جہاد نہیں ہے ؛ بلکہ رسول اللہ ﷺنے ان کی جان و مال کو مسلمانوں ہی کی جان و مال کی طرح قابل احترام قرار دیا ہے : ’’دمائھم کدمائنا وأموالہم کأموالنا‘‘ ہاں اگر یہ مسلمانوں پر زیادتی کریں تو اپنی مدافعت کرنا اور قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے ان سے ظلم کا بدلہ لینا جائز ہے، اور دنیا کے ہر قانون میں انسان کے لئے اس حق مدافعت کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ جہاد اُن لوگوں سے ہے، جن سے مسلمانوں کا کوئی معاہدہ نہ ہو ، وہ مسلمانوں کو اپنے دین پر عمل کرنے سے روکتے ہوں اور انھیں ان کے وطن سے بے وطن کرنا چاہتے ہوں ، جیسا کہ اس وقت اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ کر رہا هے ، ایسے لوگوں کے خلاف اسلام نے قتال کی اجازت دی ہے اور یہ صرف اسلام کی بات نہیں ، دنیا کے تمام مذاہب اور مہذب قوانین میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ جب کوئی قوم دوسری قوم پر زیادتی کرے تو اسے مدافعت اور دفاعی جنگ کرنے کا حق حاصل ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان خود جہاد کی حقیقت سے واقف ہوں ، اس بات کو جاننے کی کوشش کریں کہ جہاد کیا ہے ؟ جہاد کن قوموں سے ہے ؟ اور جہاد کا موقع و محل کیا ہے ؟ تاکہ اسلام کے بارے میں جو غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں اور جو زہر لوگوں کے ذہن میں بھی پیوست کیا جا رہا ہے ، وہ پوری بصیرت کے ساتھ اس کا جواب دے سکیں اور لوگوں کو زہر کا تریاق فراہم کر سکیں ، افسوس کہ اسلامی لٹریچر سے بے توجہی اور اسلام کے بارے میں حد درجہ ناآگہی کی وجہ سے ہمارا یہ حال ہوگیا ہے کہ ہم دوسرے کی غلط فہمی تو کیا دُور کرتے کہ خود ہی ان پروپیگنڈوں سے متأثر اور مرعوب ہوئے جاتے ہیں اور خود ہمارا ذہن شکوک و شبہات کی تاریکی میں بے سمت ہوا جاتا ہے ، ہمیں ایسے حساس موضوعات پر قرآن وحدیث کا مطالعہ کرنا چاہئے ، سلف کی تحریروں سے رہنمائی حاصل کرنی چاہئے اور اصحابِ نظر علماء سے صحیح صورتِ حال کو جاننے کی کوشش کرنی چاہئے !۰ ۰ ۰

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

جہاد کے متعلق جہالت و بے خبری

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

حج کی فرضیت کا بیان 

احرام کی قسمیں

2 مہینے ago
جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: پہلا سال: 1919ء

5 مہینے ago

مقبول

  • گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • خطرے میں شہریوں کی آزادی و حقوق

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مختصر واقعہ شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جمعیت علمائے بسنت رائے کا بارھواں ’عوامی بیداری پروگرام‘ سمری میں کامیابی کے ساتھ منعقد؛ نوجوانوں کی فکری و تعلیمی تربیت پر زور

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.