حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی نور اللہ مرقدہ بانی مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ
مسجد حرام میں داخل ہونے کے آداب کا بیان
خانہ کعبہ کے چاروں طرف جو مسجد ہے، وہی مسجد حرام ہے۔بیت اللہ مسجد حرام کے بالکل بیچ میں ہے۔
مسئلہ: مکہ میں داخل ہوتے ہی مسجد حرام میں حاضر ہونا مستحب ہے۔ اگر فورا ممکن نہ ہو تو اسباب وغیرہ کا بندوبست کرکے سب سے اول مسجد میں حاضر ہونا چاہیے، کیوں کہ اس سفر کا مقصد ہی بیت اللہ کی زیارت ہے۔ (ہدایہ)
مسئلہ: مسجد حرام میں داخل ہونے سے پہلے وضو کرلینا چاہیے، تاکہ اس کے بعد جو افعال کریں، وہ باوضو کریں، جیسے طواف اور نماز ۔
عن عروۃ بن الزبیرؓ قال: حجَّ النبیُ ﷺ فاخبرتْنیْ عائشۃؓ أنَّ أوَّلَ شئیٍ بدأَ بہِ حین قدِمَ مکۃَ أنَّہُ توضَّأ ثُمَّ طافَ بالبیتِ (متفق علیہ)
حضرت عروہ بن زبیر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حج کیا ، تو حضرت عائشہؓ نے مجھے خبر دی کہ جس وقت آپ ﷺ مکہ میں تشریف لائے تو سب سے پہلا کام آپ ﷺ نے یہ کیا کہ آپ ﷺ نے وضو کیا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا۔
مسئلہ: اس مسجد میں باب السلام سے داخل ہونا مستحب ہے۔
مسئلہ: تلبیہ پڑھتے ہوئے نہایت خشوع خضوع کے ساتھ دربار الٰہی کی عظمت و جلال کا لحاظ کرتے ہوئے مسجد میں داخل ہو۔ اور پہلے داہنا پاؤں رکھے اور یہ دعا پڑھے:
بِسْمِ اللّٰہِ وَ الصَّلوٰۃُ وَ السَّلامُ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ أبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔
مسئلہ: مسجد میں اندر داخل ہونے کے بعد جب بیت اللہ پر نظر پڑے تو تین مرتبہ کہے:
الْلّٰہُ أکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا الْلّٰہُ ۔
اور بیت اللہ کو دیکھتے وقت ہاتھ اٹھاکر یہ دعا پڑھے، جو مسند شافعی میں ابن جریج سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب بیت اللہ کو دیکھتے تو ہاتھ اٹھاتے اور کہتے:
ألْلّٰھُمَّ زِدْ ھَذا الْبَیْتِ تَشْرِیْفَاً وَّ تَعْظِیْمَاً وَّ تَکْرِیْمَاً وَّ مَھَابَۃً وَّ زِدْ مِنْ شَرَفِہِ وَ کَرَمِہِ مِمَّنْ حَجَّہُ أوْ اعْتَمَرَہُ تَشْرِیْفَاً وَّ تَعْظِیْمَاً وَّ تَکْرِیْمَاً ۔ (فتح القدیر)
اور بیہقی نے سعید بن مسیب ؓ سے بیان کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمرؓ سے ایک کلمہ سنا ہے ، جس کے سننے والوں میں سے میرے سوا کوئی باقی نہیں رہا۔ جب بیت اللہ دیکھتے تو کہتے:
ألْلّٰھُمَّ أنْتَ السَّلامُ وَ مِنْکَ السَّلامُ فَحَیِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلَامِ (فتح القدیر)
بہتر ہے کہ دونوں ہی دعا کو پڑھ لے ۔ اس کے بعد درود پڑھے اور جو دعا چاہے مانگے۔اور اس وقت یہ دعا بھی مستحب ہے جو حضرت عطا سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے بیت اللہ کی زیارت کی تو فرمایا :
أعُوْذُ بِرَبِّ الْبَیْتِ مِنَ الدَّیْنِ وَالْفَقْرِ وَ مِنْ ضَیْقِ الصَّدْرِِ وَ عَذَابِ الْقَبْرِ (زیلعی)
مسئلہ: بیت اللہ کے دیکھتے وقت کھڑے ہوکر دعا مانگنا مستحب ہے ، جو دعائیں جناب رسول اللہ ﷺ سے منقول ہیں اگر وہ یاد ہوں، تو ان کا پڑھنا افضل ہے ؛ لیکن اگروہ دعا یاد نہ ہو، تو جو چاہے دعا مانگے۔ کسی جگہ کوئی خاص دعا معین نہیں ہے کہ اس کا پڑھنا ضروری ہو ، جس دعا میں خشوع حاصل ہو، وہ پڑھے۔ (ہدایہ)
مسئلہ: مسجد حرام میں داخل ہوکر تحیۃ المسجد نہ پڑھے۔ اس کا تحیہ طواف ہے ، اس لیے دعا مانگنے کے بعد طواف کرے ؛ البتہ اگر طواف کرنے کی وجہ سے فرض نماز کے قضا ہونے یا مستحب وقت نکل جانے یا جماعت فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو طواف کے بجائے تحیۃ المسجد پڑھنا چاہیے ، بشرطیکہ وقت مکروہ نہ ہو۔
مسئلہ: نماز جنازہ ، سنت مؤکدہ ، وتر کو طواف تحیہ سے پہلے پڑھے اور اشراق و تہجد، چاشت وغیرہ کو طواف سے پہلے نہ پڑھے۔
مسئلہ: مسجد حرام میں ؛ بلکہ ہر مسجد میں داخل ہونے کے وقت نفلی اعتکاف کی نیت کرنا مستحب ہے اور نفل اعتکاف تھوڑی دیر کا بھی جائز ہے۔
مسئلہ: مسجد حرام میں نماز پڑھنے والے کے آگے طواف کرنے والوں کو گذرنا جائز ہے اور طواف نہ کرنے والوں کو بھی جائز ہے، مگر سجدہ کی جگہ میں نہ گذرے۔





















