بدھ, اکتوبر 21, 2026
  • Login
  • Register
No Result
View All Result
NEWSLETTER
جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں

    آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

    تھورنا ڈائک(Edward Thorndike)  کا قانون تعلیم

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں

    آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

    تھورنا ڈائک(Edward Thorndike)  کا قانون تعلیم

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک
No Result
View All Result
Home اسلامیات

تحریک مسجد شہید گنج اور جمعیت علمائے ہند: ایک تاریخی جائزہ

by Admin
اکتوبر 21, 2026
in اسلامیات
0
ارشاد انصاری: میرے محسن، میرے استاد اور اردو کے خاموش خادم

Signature: 1pM81mq4zNtKCJpOJRcgpofPvTZJ7QsnpBiwDuUsilZgSq3uxUczkiUrxzPcKu+dCZKcmZFWakpOoU7Vsv1evcR6N15zfYlFO/8IHnB7lU0NtSWj009WBBWuc04eyDj+KeXD8jMrzc4PTB0rKyoqsDVxjuw0v73nDImEas+hEz3CmGuWXxmVkGoVt+/42y3KAI1Ud58H2Z04dEncH1xofEmA7FqxJLZ/97F1DVPD+NjkOGnQoy1C2hCWTQEpmXM51HNqacRN+W8pdXYekk3CLrweawcF9zV1ONqvm7xBfZ5dorRWuVi0XKWTSywm00JMvBZlP9lxfP9Ggp/H5XwswkaZ9iVi7JUfB0/szLdaiIWbIxO1b13hh0V6lOiFCFSXn5DYOHZdifR6iHSfE2ky7xUttEJ80jYD9ZA1qQHH+svmx7kNyw75NZaZrK27u6a7yCtGmaeRT0IhJW7EpbPYdOKKjGypu9TEvPHJUtMgNbclFxYs49LZF3W+7PeUzb3dqSyNDl1bIR2xJ2f3uES4g7+lBx3uiddoupr6Z17WlBKSbnVrNpubsPfXuYcLgaMAaoNTQ1+9FNNVX4HJp8a3Z/rNQaVEZIGZzBEihCpbem6To0h49+o2hjVJ+Dwbs/FB+Db6l0S2BoDrgPdp8frSSYI94vxVboZSNquuMbnY+WpRD48UkbrKLwdQ1dTip9CobIPJD0vgagBsO3AtO/P703J19VTW+pRLW+tYd5QoL6kSFe2RbkRuqE3/GhwfTmQPCgZInYov0qNi+X6tDNm9kkoyUir7hSIGM5lqcRE6ErLJ5lcgh0GPof3hvoJLoEhhowx2KqyPWPpRnLlLmTCZY5Ooqk4h3WC41FHRHAz3RDMKDc6anYBEfWrsMmH5UiGDP8wdKWRmIXsTp+q2F+CWgE4B/wcGb6jbZey52W3r+nIlV/qMgHUEjjn2oEvQAQoY1nLSQHz0uyjgQ6i9OVV9UcbT0qsBqfLpeAcskG3qTG8=

0
SHARES
2
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

تحریک مسجد شہید گنج اور جمعیت علمائے ہند: ایک تاریخی جائزہ
مسجد کا تاریخی پس منظر
مسجد شہید گنج کا اصل نام عبداللہ خاں کی مسجد تھا۔ اسے 1064ھ مطابق 1653ئ میں شاہ جہاں کے ولی عہد دارا شکوہ کے خادمِ خاص محمد عبداللہ نے تعمیر کرایا تھا۔ بعد کے زمانے میں اس مقام پر سکھوں کی سمادھیاں بنیں اور اسے گوردوارہ شہید گنج کہا جانے لگا۔ 1922ئ میں روزنامہ زمین دار کی یکم جولائی کی اشاعت کے حوالے سے جاںباز مرزا لکھتے ہیں کہ ملک لال خاں اور شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے درمیان سمجھوتے کے ذریعے مسجد مسلمانوں کے قبضے میں آگئی تھی۔ تاہم اس کی ملکیت اور قانونی حیثیت کا تنازع مکمل طور پر ختم نہ ہوسکا۔ سرکاری بیان کے مطابق 1853ئ سے اس معاملے میں عدالتی کارروائیاں جاری تھیں اور 1930ئ میں گوردوارہ ٹریبونل سکھوں کے حق میں فیصلہ دے چکا تھا۔
1935ئ: مسجد کا انہدام اور تحریک کا آغاز
28 اور 29/جون 1935ئ کی درمیانی رات سکھ مزدوروں نے مسجد شہید گنج کو منہدم کرنا شروع کردیا۔ اس دوران ایک مزدور دیوار سے گر کر ہلاک ہوگیا۔ صبح مسلمانوں کو واقعے کی اطلاع ملی، تو لاہور میں شدید کشیدگی پھیل گئی۔ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مسجد گرانا ان کے طے شدہ پروگرام کا حصہ نہیں تھا، لیکن اس واقعے نے مسلمانوں اور سکھوں کو آمنے سامنے لاکھڑا کیا۔
یکم جولائی 1935ئ کو میاں عبدالعزیز بیرسٹر کی رہائش گاہ پر مولانا ظفر علی خاں، ڈاکٹر محمد عالم، چودھری افضل حق، مولانا مظہر علی اظہر، میاں امیرالدین اور ڈاکٹر سیف الدین کچلو نے مذاکرات کے لیے وفد بنانے پر غور کیا، لیکن حکومت پنجاب نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کردی۔ اسی روز مولانا ظفر علی خاں کی صدارت میں موچی دروازے کے باہر جلسہ ہوا، جس میں سکھ قوم کو مجموعی طور پر نشانہ بنایا گیا۔ 7 اور 8 /جولائی1935ئ کو گوردوارہ پربندھک کمیٹی نے اجلاس بلایا، جب کہ اسی دوران ریلوے کرین کے ذریعے مسجد کے مزید حصے گرادیے گئے۔
4/جولائی 1935ئ کو گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے نمائندوں سے مذاکرات ہوئے۔ مولانا محمد داؤد غزنوی نے واضح کیا کہ سابقہ عدالتی فیصلوں اور طویل قبضے کے پیش نظر محض سیاسی احتجاج سے مسجد کی واگزاری مشکل ہے۔ مولانا ظفر علی خاں کی قیادت میں مسلم وفد نے ماسٹر تارا سنگھ، سردار منگل سنگھ اور گیانی گورمکھ سنگھ مسافر سے ملاقات کی۔ مولانا داؤد غزنوی نے مصالحت کی تجویز پیش کی کہ مسجد کے منہدم حصے کی مرمت کی جائے، آئندہ بے حرمتی نہ ہو اور حضرت شاہ کاکو کے مزار تک مسلمانوں کو پانچ فٹ کا راستہ دیا جائے۔ تاہم ملکیت کے تنازع کو ختم کرنے کی شرط اور عدالت سے رجوع کرنے کے حق پر اختلاف کے باعث مذاکرات ناکام ہوگئے۔
10/جولائی 1935ئ کو روزنامہ انقلاب نے سر فیروز خان نون کی رہائش گاہ پر علما کے اجتماع کی خبر شائع کی، جس میں مسجد گرانے کو ناجائز قرار دیتے ہوئے قانونی ذرائع اختیار کرنے پر زور دیا گیا۔ 11/جولائی کو اسی اخبار میں مجلس احرار سے عملی جدوجہد میں حصہ لینے کا مطالبہ کیا گیا۔
13/جولائی 1935ئ کو شاہی مسجد لاہور میں صاحب زادہ سید فیض الحسن کی صدارت میں تقریباً 50,000 /افراد کا اجتماع ہوا، جہاں مولانا عطا اللہ شاہ بخاری نے مجلس احرار کی پالیسی واضح کی۔ انھوں نے کہا کہ احرار کی احتیاط اور الگ تحریک سے گریز کا مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو برقرار رکھنا تھا، نہ کہ مسجد کے تحفظ کی مخالفت کرنا۔
جمعیت علمائے ہند کا احتجاج اور اصولی موقف
12/جولائی 1935ئ کو دہلی میں بعد نماز جمعہ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا مفتی محمد کفایت اللہ کی صدارت میں مسلمانوں کا عام جلسہ ہوا۔ مولانا احمد سعید اور مولانا عبدالماجد سمیت دیگر رہنماؤں نے مسجد کے انہدام کی مذمت کی۔ جلسے میں واضح کیا گیا کہ شرعی طور پر ایک مرتبہ مسجد بن جانے کے بعد اس کی مسجدیت ہمیشہ باقی رہتی ہے اور قانونی حق کا استعمال دوسرے مذہبی گروہ کے جذبات مجروح کرنے کاجواز نہیں بن سکتا۔ جمعیت نے حکومت پر بھی تنقید کی کہ وہ امن عامہ کے تحفظ اور مصالحت کے لیے مسجد کے انہدام کو روک سکتی تھی۔
21 اور 22/جولائی 1935ئ کو مسجد کی طرف بڑھنے والے پرامن ہجوم پر پولیس کی فائرنگ ہوئی، جس میں سرکاری رپورٹ کے مطابق کئی مسلمان شہید اور تقریباً 80/زخمی ہوئے۔ 24/جولائی1935ئ کو مسجد وزیر خاں میں مولانا دیدار علی نے فتویٰ پڑھا کہ مسجد کی حفاظت مسلمانوں کا فرض ہے، لیکن انھیں اپنی جانیں ہلاکت میں نہیں ڈالنی چاہییں۔ 25 جولائی1935ئ کو لاہور سے آئے ہوئے افراد نے مفتی محمد کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید صاحبان سے مسجد کے مسئلے پر رہنمائی کی درخواست کی۔ 26/جولائی1935ئ کو شاہی مسجد میں جمعیت کا بیان پڑھ کر سنایا گیا اور مقصد کے حصول کے لیے علما سے مشورے کے بعد لائحہ¿ عمل بنانے والی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ ہوا؛ اسی اجتماع میں سول نافرمانی ترک کردی گئی۔
28/جولائی 1935ئ کو پنجاب اور صوبہ سرحد کے مختلف الخیال مسلم رہنماؤں کے مشترکہ اجلاس میں مسجد کے تحفظ کے لیے سب کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اس میں مولانا محمد داؤد غزنوی، چودھری افضل حق، مولانا مظہر علی اظہر، میاں عبدالعزیز اور متعدد دوسرے رہنما شامل تھے۔ 30/جولائی 1935ئ کو اس کمیٹی کا نام ’’مجلس اتحاد ملت‘‘ رکھا گیا؛ ملک محمد دین صدر، ملک لال دین قیصر نائب صدر اور مولانا محمد داؤد غزنوی جنرل سکریٹری مقرر ہوئے۔ کمیٹی نے مسجد کے تحفظ، گرفتار افراد کی رہائی، شہدا کے خون کے معاوضے اور سکھوں سے باعزت مفاہمت جیسے مطالبات اٹھائے۔
20/اگست 1935ئ کو مجلس احرار کے رہنما خالد لطیف گابا نے سینٹرل اسمبلی میں مسجد کے مسئلے پر بحث کا نوٹس دیا۔ 4/ستمبر1935ئ کو بحث کی اجازت دی گئی، مگر وائسرائے نے اسے مفاد عامہ کے خلاف قرار دیا۔
یکم ستمبر 1935ئ کو راولپنڈی میں پیر جماعت علی شاہ کی صدارت میں حصول مسجد کے لیے نیا پروگرام بنایا گیا، سول نافرمانی کی تجویز منظور ہوئی اور انھیں ’’امیر ملت‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ 3/اکتوبر1935ئ کو انھوں نے دس لاکھ رضاکار بھرتی کرنے کا اعلان کیا۔ اسی زمانے میں لاہور میں کاروباری بائیکاٹ کی تحریک بھی شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
صدر جمعیت حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ کے خطوط اور جمعیت کی وضاحت
موجودہ صورت حال کے پیش نظر مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے مجلس اتحاد ملت لاہور کے سکریٹری کو خط لکھ کر مقاطعہ اور پیکٹنگ کی تحریک روکنے کی اپیل کی۔ ان کے مطابق یہ طریقہ مسجد کی واگزاری کے اصل مقصد، مسلمانوں کی متحدہ قوت اور عمومی ملکی مفاد کے لیے نقصان دہ تھا اور فرقہ وارانہ فساد کو ہوا دے سکتا تھا۔ یکم اکتوبر 1935ئ کو سہ روزہ الجمعیۃ نے یہ خط شائع کیا۔
27/ستمبر 1935ئ کے روزنامہ انقلاب اور 2/اکتوبر1935ئ کے پیسہ اخبار میں مفتی محمد کفایت اللہ کی طرف ایک ایسا بیان منسوب کیا گیا، جس میں سر فضل حسین کو مسجد کے انہدام اور فائرنگ کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ مفتی صاحب نے 9/اکتوبر1935ئ کو وضاحت کی کہ انھوں نے 20/ستمبر1935ئ کو جامع مسجد دہلی میں تقریباً 25,000 مسلمانوں کے سامنے تقریر کی تھی، لیکن سر فضل حسین کا نام نہیں لیا تھا؛ اس لیے ان کی طرف یہ بات منسوب کرنا غلط تھا۔
28 اکتوبر 1935ئ کو جمعیت علمائے ہند نے اعلان کیا کہ وہ مسجد کی واگزاری کے لیے اہل رائے کے اتفاق سے طے ہونے والے ہر قابل عمل، متحدہ اور نتیجہ خیز پروگرام کی حمایت اور اعانت کے لیے تیار ہے۔ اسی تاریخ کو حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے واضح کیا کہ جمعیت علمائے ہند دہلی نے کوئی ایسی قرارداد منظور نہیں کی تھی، جو مسلمانوں کے جذبات کی تحقیر، یا سرکار پرستی پر مبنی ہو۔ ان کے مطابق کانپور کی ایک الگ رجسٹرڈ جماعت کو اصل جمعیت کے ساتھ خلط ملط کیا جارہا تھا۔
2/نومبر 1935ئ کو مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے اپنے تفصیلی جواب میں کہا کہ مسجد کی واگزاری مسلمانوں کا متفق علیہ شرعی فریضہ ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ اختلاف مسجد کے تقدس، یا اس کی واگزاری کے مقصد پر نہیں، بلکہ طریقہ¿ کار پر ہوسکتا ہے۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کو باہمی مشورے اور اتحاد کے ساتھ قانونی اور قابل عمل راستہ اختیار کرنا چاہیے، اور ایسی سرگرمیوں سے بچنا چاہیے جو اصل مقصد کو نقصان پہنچائیں۔
1936ئ: عدالتی کارروائی اور جمعیت کا موقف
23/مارچ 1936ئ کو لاہور کے ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں مسجد شہید گنج کے مقدمے کی سماعت کے دوران مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے گواہی دی۔ انھوں نے شرعی اصولوں کی روشنی میں وضاحت کی کہ مسجد کسی انسان کی ملکیت نہیں؛ بلکہ اللہ کے لیے وقف ہوتی ہے؛ عمارت کے ویران ہوجانے، اس میں نماز بند ہوجانے، یا کسی کے قبضے میں چلے جانے سے اس کی مسجدیت ختم نہیں ہوتی۔ ان کی شہادت تقریباً ڈھائی گھنٹے جاری رہی۔ اس کے بعد مولانا ثنائ اللہ امرتسری، سید علی حائری اور جماعت احمدیہ کے نمائندے محمد علی کے بیانات بھی ہوئے۔
27، 28 اور 29/مارچ 1936ئ کو جمعیت علمائے صوبہ دہلی کے سالانہ اجلاس میں قرارداد منظور کی گئی کہ مسجد شہید گنج پر طویل غیر مسلم قبضہ اس کے تقدس کو ختم نہیں کرسکتا۔
بعد ازاں 29/مئی 1936ئ کو جامع مسجد دہلی میں جمعیت علمائے صوبہ دہلی کے زیر اہتمام احتجاجی جلسہ ہوا، جس میں مفتی محمد کفایت اللہ نے مسجد شہید گنج کے ساتھ فلسطین کے مسئلے پر بھی روشنی ڈالی۔
25/مئی 1936ئ کو لاہور کی عدالت نے مسجد شہید گنج اور مزار حضرت کاکو شاہ کے مقدمات کو زائد المیعاد قرار دے کر خارج کردیا اور مقدمے میں سزا پانے والوں کو رہا کردیا۔ یکم جون 1936ئ کو مفتی محمد کفایت اللہ صاحب ؒنے فیصلے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے مسجد اور وقف شدہ عمارت ہونے کو تسلیم کرنے کے باوجود صرف اس بنیاد پر مسلمانوں کا دعویٰ خارج کیا کہ طویل عرصے سے وہاں نماز نہیں پڑھی جارہی تھی۔ انھوں نے اس فیصلے کو اسلامی احکام وقف کے خلاف قرار دیا اور مسلمانوں کو صبر، تحمل اور متحدہ قانونی جدوجہد کی تلقین کی۔ ابوالمحاسن مولانامحمد سجاد نے بھی فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو شدید صدمہ پہنچا، اگرچہ عدالت نے ان کے دعوے کی بعض بنیادی باتوں کو تسلیم کیا تھا۔
1937ئ اور 1938ئ: سول نافرمانی اور اپیل
3/دسمبر 1937ئ کو مولانا مظہر علی اظہر نے اعلان کیا کہ اگر حکومت پنجاب مسجد واپس نہ کرے، تو وہ 17/دسمبر سے سول نافرمانی شروع کریں گے۔ چنانچہ 17/دسمبر 1937ئ کو مسجد وزیر خاں سے تحریک کا آغاز کیا گیا اور مولانا مظہر علی اظہر کو دفعہ 151 کے تحت گرفتار کرلیا گیا۔ 24/دسمبر کو مجلس احرار کے دوسرے گروہ نے اور 27/دسمبر کو تیسرے گروہ کے پچاس پچاس افراد نے گرفتاریاں پیش کیں۔
26/جنوری 1938ئ کو لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے اپیل کا فیصلہ سنایا۔ چیف جسٹس اور جسٹس بڈھے نے اکثریتی فیصلے میں مسلمانوں کی اپیل خارج کردی، جب کہ جسٹس دین محمد نے اختلافی فیصلہ دیتے ہوئے مسلمانوں کے حق میں رائے دی۔
30/جنوری 1938ئ کو مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے اس فیصلے پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ اکثریتی فیصلے نے قانونِ میعاد اور پنجاب لاز ایکٹ کو اسلامی قانونِ وقف پر غالب قرار دیا ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو آخری عدالت، یعنی پریوی کونسل، سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا، تاکہ اسلامی پرسنل لا اور اوقاف کے حقوق کی حیثیت واضح ہوسکے۔
مئی 1938ئ میں لاہور ہائی کورٹ نے پریوی کونسل میں اپیل کی اجازت دے دی، کیوںکہ مقدمے میں اہم قانونی امور زیر بحث تھے۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ یکم دسمبر 1939ئ تک متنازعہ جگہ پر کوئی نئی عمارت تعمیر نہ کی جائے۔ 23/مئی 1938ئ کو مولانا ظفر علی خاں نے گورنر پنجاب اور سکندر حیات کے بیانات کے زیر اثر اپنی جماعت کی سول نافرمانی کی تحریک ملتوی کردی۔
1940ئ:پریوی کونسل کا فیصلہ اور جمعیت کا ردعمل
3/مئی 1940ئ کو پریوی کونسل کی جوڈیشل کمیٹی نے مسجد شہید گنج کے متعلق مسلمانوں کی اپیل اخراجات سمیت مسترد کردی۔ اس فیصلے میں 1762ئ میں لاہور پر سکھوں کے قبضے، 1850ئ اور 1853ئ کی سابقہ کارروائیوں، 1925ئ کے سکھ گوردوارہ ایکٹ، 1927ئ کے سرکاری نوٹیفکیشن اور بعد کے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا گیا۔ عدالت نے طویل مخالفانہ قبضے اور قانونِ میعاد کی بنیاد پر مسلمانوں کا دعویٰ ناقابل قبول قرار دیا۔ روزنامہ انقلاب لاہور نے 16/مئی 1940ئ کو فیصلے کی تفصیلات شائع کیں۔
7، 8 اور 9 جون 1940ئ کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس اور جمعیت کا بارھواں اجلاس منعقد ہوا۔ صدر اجلاس مولانا حسین احمد مدنی نے صدارتی خطبے میں پریوی کونسل کے فیصلے کو اسلامی قانون وقف اور ملکہ وکٹوریہ کے شاہی اعلانات کے منافی قرار دیا۔ اجلاس نے قرارداد منظور کی کہ مساجد اور اسلامی اوقاف کو قانونِ میعاد اور مخالفانہ قبضے کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ترمیمی یا استثنائی قانون مرتب کروا کر منظور کرانے کی کوشش کی جائے۔ اس طرح جمعیت علمائے ہند نے مسجد کی واگزاری کے ساتھ ساتھ مستقبل میں دیگر مساجد اور اوقاف کے تحفظ کو بھی اپنی جدوجہد کا اہم مقصد بنایا۔
مسجد شہید گنج کی بعد کی صورت حال
مسجد شہید گنج کا تنازع بعد کے زمانے میں بھی ختم نہ ہوا۔ اپریل 1960ئ میں متروکہ وقف املاک بورڈ نے گوردوارہ شہید گنج کا انتظام سنبھالا۔ فروری 1978ئ میں لاہور کے ایک مزدور پیشہ شخص محمد صدیق چغتائی نے سول عدالت میں دعویٰ دائر کیا کہ پاکستان بن جانے کے بعد تاریخی مسجد مسلمانوں کو واپس ملنی چاہیے۔ 19/اپریل 1978ئ کو متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے جواب داخل کیا گیا، جس میں عمارت کے مسجد ہونے کے ثبوت پر لاعلمی ظاہر کی گئی۔حیرت و افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اسلامی مملکت پاکستان بن جانے کے باوجود مارچ 1978ئ میں روزنامہ مشرق لاہور نے اس مقام پر دکانیں تعمیر ہونے سے متعلق مراسلہ شائع کیا۔
جناب مرزا کی تحقیقات کے مطابق 1979ئ تک یہ مقدمہ زیر سماعت تھا۔ اس کے بعد کے حالات ناچیز کو معلوم نہیں ۔
مسجد شہید گنج کا معاملہ آزاد بھارت میں بابری مسجد کے معاملہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ تاریخی تجزیے کے مطابق برطانوی حکومت ہند نے 1936-37کے الیکشن کے موقع پر تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ایک طرف لکھنو میں شیعہ سنی ، یعنی مسلمانوں کے دو گروہوں کو آپس میں لڑانے کا کام کیا اور پرانے مقدمہ کو منظر عام پر لایا، تو وہیں دوسری طرف لاہور میں سکھوں اور مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے لیے شہید گنج مسجد کی تحریک کو دوبارہ زندہ کردیا۔ بالکل ویسے ہی، جیسے کہ بابری مسجد کے معاملہ کو ہندو اور مسلمانوں کو لڑانے کے لیے متنازع اور طویل مدتی پروسیس اختیار کیا گیا، جس کے ناسور اثرات سے بھارتی مسلمان آج بھی جوجھ رہے ہیں۔

Admin

Admin

Next Post
 آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

حج کی فرضیت کا بیان 

حج کی فرضیت کا بیان 

6 مہینے ago

سلف صالحین سے بدگمانی سے بچیں

1 سال ago

مقبول

  • ابرہم  ہارولڈ میسلو کا تحریکی نظریہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • برونر کا دماغی ترقی کا نظریہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بلوم ٹیکسونومی کا نظریہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • تھورنا ڈائک(Edward Thorndike)  کا قانون تعلیم

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • رجسٹر
  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.