موکل چک (ضلع گڈا)، 5 جون 2026 جمعیت علمائے بسنترائے کے زیرِ اہتمام گاؤں موکل چک، ضلع گڈا میں ایک اہم اور بامقصد ’’بیداری پروگرام‘‘ منعقد کیا گیا، جس میں عوام الناس بالخصوص نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کا مقصد ایمان، عقیدہ، اسلامی تعلیمات اور اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے عوام میں شعور بیدار کرنا تھا۔
پروگرام کا آغاز عزیزم ارسلان کی پرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جب کہ نعتِ رسول مقبول ﷺ پیش کرنے کی سعادت مفتی محمد نظام الدین قاسمی کو حاصل ہوئی۔
اس کے بعد باضابطہ پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے مولانا محمد یاسین جہازی نے ’’ایمان کا محاسبہ‘‘ کے عنوان پر نہایت فکر انگیز اور تحقیقی انداز میں خطاب کیا۔ انھوں نے مختلف بستیوں کے اعداد و شمار (Data) پیش کرتے ہوئے حاضرین کو بتایا کہ مسلمانوں کی مجموعی آبادی کے مقابلے میں کتنے افراد واقعی ایمان کی فکر، مسجد، مکتب اور دعوتی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے موکل چک کی مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ تقریباً 800 سے زائد آبادی میں سے صرف محدود افراد ہی دینی سرگرمیوں سے جڑے ہوئے پائے گئے، جب کہ بڑی تعداد ابھی بھی ایمان اور دینی فکر سے دور ہے۔ ان اعداد و شمار نے حاضرین کو سنجیدگی سے اپنے حالات کا جائزہ لینے پر مجبور کیا۔
پروگرام کی ایک منفرد خصوصیت یہ رہی کہ اسلامی تعلیمات کو عملی انداز میں سمجھانے کے لیے مختلف تعلیمی و تربیتی سرگرمیاں اور گیمز بھی پیش کیے گئے۔ ان کے ذریعے شرکاء کو سلام کرنے، مصافحہ کرنے اور معانقہ کرنے کے مسنون طریقوں سے روشناس کرایا گیا، جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔
بعد ازاں مفتی محمد زاہد امان قاسمی، سکریٹری جمعیت علمائے بسنترائے، نے عقیدۂ اسلام کے موضوع پر مفصل پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے بنیادی سات عقائد کو نہایت آسان اور مؤثر انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی نجات کا دارومدار صحیح عقائد پر ہے، لہٰذا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے عقائد کی اصلاح اور مضبوطی کی فکر کرے۔
اس کے بعد مفتی محمد نظام الدین قاسمی، صدر جمعیۃ علمائے بسنترائے، نے ’’ریل سے ریئل تک‘‘ کے عنوان سے خصوصی پریزنٹیشن پیش کی۔ اپنے خطاب میں انھوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم صرف ریل (Reel) اور سوشل میڈیا کی مصنوعی دنیا میں کھوئے رہے تو حقیقی زندگی (Real Life) کی کامیابیوں سے بہت دور ہو جائیں گے۔ انھوں نے وقت کی قدر، مسلسل محنت، اعلیٰ مقاصد اور زندگی کے صحیح استعمال پر زور دیا۔ اس موقع پر پروجیکٹر کے ذریعے مختلف بصری مواد (Visual Presentation) بھی پیش کیا گیا جس نے حاضرین خصوصاً نوجوانوں پر گہرا اثر چھوڑا۔
پروگرام کے اختتامی تاثرات پیش کرتے ہوئے مفتی عبدالرحمن بسکاپوری نے کہا کہ اس نوعیت کا بیداری پروگرام دراصل کئی سال قبل شروع ہو جانا چاہیے تھا، تاہم اب جبکہ یہ سلسلہ شروع ہو چکا ہے تو اسے مزید منظم انداز میں آگے بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے تاکہ اس کے مثبت اثرات پورے علاقے میں نمایاں ہوں۔
اسی طرح مولانا آصف قاسمی، امام مسجد مدنی چک، نے اپنے تاثرات میں اس پروگرام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان شاء اللہ ان کے گاؤں میں بھی جلد اس نوعیت کا پروگرام منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے خاص طور پر خواتین تک دینی اور اصلاحی پیغام پہنچانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تجویز دی کہ عورتوں کے لیے بھی پروجیکٹر اور دیگر ذرائع کے ذریعے الگ یا مناسب انتظامات کیے جائیں تاکہ وہ بھی اس بیداری مہم سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔
پروگرام کے دوران مولانا شمس تبریز، امام مسجد کیتھ پورہ، کی نگرانی میں ذکرِ جہری کا اہتمام کیا گیا۔ انھوں نے حاضرین کو کلمۂ طیبہ کا صحیح تلفظ سکھایا، اجتماعی طور پر کلمہ دہرایا اور عقیدہ و ایمان کی بنیادی تعلیمات کو عملی انداز میں سمجھایا۔
آخر میں مولانا آصف قاسمی کی دعا پر یہ روح پرور اور فکری نشست اختتام پذیر ہوئی۔
مقامی عوام اور شرکاء نے اس پروگرام کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس طرح کے بیداری پروگرام مستقبل میں بھی مسلسل منعقد ہوتے رہیں گے، تاکہ معاشرے میں دینی شعور، صحیح عقیدہ، اسلامی تعلیمات اور نوجوانوں کی مثبت تربیت کو فروغ مل سکے۔




















