بسم الله الرحمٰن الرحیم
شمع فروزاں مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
2025.11.21
بم دھماکوں سکے واقعات بڑھتے جارہے ہیں ، جہاز اور ٹرین میں تو دھماکے ہوہی رہے تھے ، اب عبادت گاہیں بھی ان کا نشانہ بن رہی ہیں ، عبادت گاہ خواہ کسی قوم کی ہو ، اس کا بنیادی مقصد ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بندگی کرنا ہوتا ہے ، ایسی جگہوں کی بے احترامی سے گذرکر وہاں آنے والوں پر جان لیوا حملے کرنا یقیناً انسانیت سوز عمل ہے ۔حالت امن کی تو بات ہی اور ہے ، حالت جنگ میں بھی صحابہ ؓ کو جن باتوں کی تلقین کی جاتی اور رسول ﷺ فوج بھیجتے وقت جو ہدایات دیتے ، ان میں ایک یہ بھی ہوتی کہ مذہبی پیشواؤں اور عبادت گاہوں کے خادموں کو قتل نہ کیا جائے ؛ چنانچہ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما کی روایت میں ہے کہ رسول اﷲ ﷺ فوج روانہ کرتے وقت یہ ہدایات دیتے :تم لوگ اﷲ کے نام سے نکلو ، ایمان نہ لانے والوں سے اﷲ ہی کے لئے جہاد کرو ، دھوکہ نہ دو ، خیانت نہ کرو ، کسی کو مثلہ نہ کرو ، بچوں کو اور چرچ والوں کو قتل نہ کرو ۔ ( مسند احمد،حدیث نمبر:۲۷۲۸ )اس سے اسلام کی فراخدلی ، وسیع القلبی اور کشادہ چشمی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عین جنگ کے وقت جب اکثر قانون کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے اور یہ بھی اس زمانہ میں جب قوموں کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں تھا اور نہ جنگ کے کسی قانون پر حکومتوں نے دستخط کئے تھے ،یک طرفہ طورپر آپ ﷺنے مہذب قوانین جنگ انسانیت کو دیا اور دوسری قوموں کے مذہبی جذبات کو ملحوظ رکھا ۔بم دھماکوں کے سلسلے میں اسلامی نقطۂ نظر کو جاننے کے لئے چند اُمور کو ملحوظ رکھنا چاہئے :(۱) ان دھماکوں میں صرف قصور وار اور مجرمین کی جانیں نہیں جاتیں ؛ بلکہ بے قصور لوگ بھی اس کی زد میں آجاتے ہیں ۔(۲) ان دھماکوں میں بوڑھے ، بچے ، عورتیں بھی نشانہ بنتے ہیں ۔(۳) مہلوکین کی جانیں اس طرح جاتی ہیں کہ ان کے جسم کے پرخچے اُڑ جاتے ہیں ، بعض دفعہ تو سر ایسا غائب ہوتا ہے کہ بغیر سر کے آخری رسوم انجام دی جاتی ہیں ۔(۴) یہ بنیادی طورپر آتشیں ہتھیار ہے ، اسی لئے دھماکہ کا شکار ہونے والوں کے چہرے جھلس جاتے ہیں ؛ بلکہ پورا جسم ہی ، بارود وغیرہ سے بنیادی طورپر آگ پیدا ہوتی ہے اوریہی آگ دوسرے مہلک مادوں کو لے کر پوری طاقت کے ساتھ اپنے ماحول میں بکھرجاتی ہے اورجہاں تک پہنچتی ہے ، آفت ڈھاتی چلی جاتی ہے ۔اب آئیے ان نکات کے بارے میں شرعی نقطۂ نظر سے غور کریں :(۱) حالت ِامن میں شریعت کا اُصول واضح ہے کہ جو شخص مجرم نہ ہو ، اس پر ہاتھ اُٹھانا جائز نہیں ؛ کیوںکہ ایک کے عمل کی ذمہ داری دوسرے پر نہیں :’’ لا تزر وازرۃ وزر اُخریٰ ‘‘ بلکہ ممکن حد تک میدانِ جنگ میں بھی اس کو ملحوظ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ، عرب میں لوگ مزدوروں اور غلاموں کو پکڑلیتے تھے اور زبردستی اپنے ساتھ جنگ میں لے جاتے تھے ، ان کی رضامندی شامل نہیں ہوتی تھی ، اسی لئے آپ ﷺ نے مزدوروں اور غلاموں کو بھی جنگ میں نشانہ بنانے سے منع فرمایا : ’’فنهانا أن نقتل العسفاء والوصفاء‘‘۔ ( مسند احمد،حدیث نمبر:۱۵۴۲۰)(۲) بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں کو عام حالات میں تو کجا ؟ حالت جنگ میں بھی نشانہ بنانے سے منع کیا گیا ہے ، حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے بہ سند صحیح منقول ہے کہ آپ ﷺنے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ، (مجمع الزوائد : ۵؍۳۱۶)،اسی مضمون کی روایت حضرت کعب بن مالک ؓ کے صاحبزادے سے بھی منقول ہے ، (حوالۂ سابق : ۵؍۳۱۵) ایک اور روایت میں بوڑھوں کا ذکر بھی ہے اور اس کے راوی بھی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما ہیں ، (حوالۂ سابق : ۵؍۳۱۷) بعض جنگوں میں آپ ﷺنے خواتین کی لاش دیکھی تو اس پر سخت ناگواری کا اظہار فرمایا ، (دیکھئے : حوالۂ سابق : ۵؍۳۱۶) جب حالت جنگ میں بوڑھوں ، خواتین اور بچوں کی یہ رعایت ہے تو معتدل حالات میں میں کیوں کر ایسے اقدام کا جواز ہوسکتا ہے ، جس میں ان کمزوروں کی جانیں جائیں ؟(۳) حدیث میں بار بار مثلہ سے منع کیا گیا ہے ، یہ ممانعت عام حالات میں تو ہے ہی ، جنگ میں بھی اس کو خاص طورپر منع فرمایا گیا ؛ کیوںکہ عربوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ جب اپنے دشمنوں پر فتح پاتے تو نہ صرف ان کو قتل کرتے ؛ بلکہ نہایت ایذا رسانی سے ان کی جان لیتے اورپھر ان کومثلہ بھی کرتے ، ناک کاٹ دیتے ، آنکھیں نکال لیتے ، کان کاٹ دیتے ، یہاں تک کہ مقتول کی کھوپڑی میں شراب پی کر اپنی بڑائی اور قوت کا اظہار کرتے ، رسول اﷲ ﷺ نے اس غیر انسانی حرکت کو نہایت شدت سے منع کیا اور فرمایا کہ اگر کوئی شخص قتل کا مستحق ہو ، یعنی قانونی طور پر اس كا جرم ثابت هو تو اسے بہتر طریقہ پر قتل کرو ، ایذا نہ پہنچاؤ اور مثلہ نہ کرو ، جنگ کے موقع پر آپ ﷺنے جو ہدایات دی ہیں ، ان میں کثرت سے مثلہ کی ممانعت کا ذکر موجود ہے ، (دیکھئے : باب مانہی عن قتلہ من النار وغیر ذالک ، مجمع الزوائد : ۵؍۱۸-۳۱۵) بلکہ اگر کسی شخص نے کسی بے قصور کو قتل کرتے وقت ایذا رسانی اورمثلہ کرنے کا طریقہ اختیار کیا ہو ، تب بھی حکم ہے کہ جب بدلہ میں اسے قتل کیا جائے ، تو سیدھے طور پر تلوار سے قتل کردیا جائے : ’’ لا قود إلا بالسیف‘‘(ابن ماجہ ، عن نعمان بن بشیر،حدیث نمبر:۲۶۶۷) دھماکہ کے ذریعہ انسانی جسم کا جو حشر ہوتا ہے ، وہ یقیناً مثلہ کی بدترین صورت ہے ۔(۴) رسول اﷲ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی انسان دوسرے انسان یاحیوان کو آگ میں جلانے کی سزا دے ؛ کیوںکہ یہ سزا دینا اﷲ ہی کے شایانِ شان ہے : ’’فإنہ لا یعذب بالنار الا رب النار‘‘( سنن ابوداؤد،حدیث نمبر:۲۶۷۳)؛ بلکہ آپ ﷺنے تو کھیتیوں کو بھی جلانے سے منع فرمایا ، ( مجمع الزوائد عن ثوبان : ۵؍۳۱۷) اور بم بنیادی طورپر آتش گیر ہتھیار ہے ۔اس لئے شرعی نقطۂ نظر سے بم دھماکہ جنگ کے علاوہ عام حالات میں کرنا کسی طرح درست نہیں ، اس طرح کے دھماکو ں کو ایشیاء میں دراصل یہودی دہشت گردوں نے رواج دیا ، جنھوں نے ۱۹۴۷ء میں بڑے پیمانے پر فلسطین میں بم دھماکے کئے ، مسلمانوں اور عیسائیوں کو اس کا نشانہ بنایا اور اب یہ انتقام و احتجاج کا ایک اندھا ہتھیار ہوگیا ہے ،جن جمہوری ممالک میں دستوری معاہدہ کی بنیاد پر مختلف قومیں ایک دوسرے کے ساتھ رہتی ہیں اور وہاں احتجاج اور حصول انصاف کے جائز راستے کھلے ہوئے ہیں ، وہاں ایسے دھماکوں کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا ، رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے کسی مُعاهِد پر ظلم کیا ، یا اس کو نقصان پہنچایا تو میں اس کی طرف سے قیامت کے دن فریق بن کر کھڑا ہوں گا :الا من ظلم معاھداً أو أنقض … فأنا حجیجہ یوم القیامۃ ۔ ( ابوداؤد ، حدیث نمبر : ۳۰۵۲)البتہ ہماری حکومت کے لئے دو باتیں قابل غور ہیں : ایک یہ کہ کسی شخص کو ثبوت و شواہد کے بغیر مجرم کے کٹہرے میں کھڑا کردینا کھلی ہوئی ناانصافی ہے ، مسلمانوں پر ظلم روا رکھا جاتا ہے ، خود حکومت کے قائم کئے ہوئے کمیشن فرقہ پرست تنظیموں اور پولیس عہدیداروں کو قصور وار ٹھہراتی ہیں ؛ لیکن ان کے خلاف کوی ایکشن نہیں لیا جاتا اور اگر اکثریت کو کہیں کوئی نقصان پہنچے تو بلا ثبوت مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ؛ حالاںکہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے فرقہ پرستوں نے ان کے خلاف سازش رچی ہو ۔دوسرے : مسلمان محسوس کرتے ہیں کہ ان پر جو ظلم و ستم ہوتا ہے ، اس پر ظالموں کے ہاتھ تھامے نہیں جاتے ، نہ پولیس انھیں انصاف دیتی ہے ، نہ عدالتیں ان کو انصاف دینے کے لئے حرکت میں آتی ہیں ، بھاگلپور ، مرادآباد اور گجرات کے قتل عام کو عرصہ ہوگیا ؛ لیکن کوئی قابل ذکر کارروائی نہیںکی گئی ؛ بلکہ شقی القلب عہدیداروں کو ترقیوں سے نوازا گیا ؛ لیکن جب مسلمانوں پر کوئی الزام آتا ہے ، تو نہایت برق رفتاری کے ساتھ اس کی تحقیق کی جاتی ہے ، یہاں تک کہ بعض بے قصور لوگوں کو مجرم کے کٹہرے میں کھڑا کردیا جاتا ہے ، جب تک یہ ناانصافی اور دو نظری ختم نہیں ہوگی ، ملک میں حقیقی امن و آشتی قائم نہ ہوسکے گی ۔بہرحال ! مسلمان ایک داعی اُمت ہیں اور انھیں خدا نے انسانیت کے لئے رہبر بناکر بھیجا ہے ، اس لئے ان کا فریضہ ہے کہ حالات کتنے ہی دشوار ، صبر آزما ، حوصلہ شکن اور جذبات کو برانگیختہ کرنے والے کیو ںنہ ہوں ؛ لیکن وہ اپنے آپ کو شریعت کی حدود میں رکھیں ، کہ اسی میں ان کی بھلائی ہے ۔= = = _________Khalid Saifullah RahmaniGen.Secretary : Islamic Fiqh Academy,India Director : Al Mahadul A’ali Al Islami Hyderabad.E-mail :ksrahmani@yahoo.comWebsite: www.khalidrahmani.in
















