ملاحظات،
اکثریت واد کا بڑھتا دباؤ و رجحان،
عبدالحمید نعمانی
ملک اور عالمی پیمانے پر یہ عام تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ بھارت میں قوانین کے نفاذ میں دوہرے پیمانے اپنانے کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے، برٹش سامراج کے دور میں حکومت نے ایسے افراد کو عدلیہ کے نظام سے الگ کر دیا تھا جو انصاف کے تئیں ایمان دار نہیں سمجھے جاتے تھے، آج کی تاریخ میں ایسے افراد نظام عدلیہ میں بڑی تعداد میں شامل ہو گئے ہیں، یہ کئی سارے ریٹائرڈ ججز اور بہت سے وکلاء بھی تسلیم کر رہے ہیں، اس سلسلے کے بہت سے واقعات بھی مسلسل سامنے آ رہے ہیں، اب یہ کوئی راز نہیں رہ گیا ہے کہ انصاف کی فراہمی میں برابری کا پیمانہ اپنانے کے بجائے، اکثریت واد اور اقتدار کے منشاء کا زیادہ خیال رکھتے ہوئے فیصلے کیے جا رہے ہیں، ایسا نچلی عدالتوں بلکہ ہائی کورٹس میں زیادہ دیکھنے میں آتا ہے، مساجد کے بارے میں تو بی جے پی اقتدار والی ریاستوں، ان کی پولیس انتظامیہ کے ساتھ عدالتوں کا رویہ یکساں نظر آتا ہے، جب کہ، مندروں کے بارے میں معاملے کچھ الگ دکھائی دیتے ہیں، شاید ہی کوئی پولیس چوکی، تھانہ ہو، جہاں پوجا گھر اور مندر بنے ہوئے نہ ہو، بہت سے مقامات پر تو پولیس کے اعلی حکام سرکاری، عوامی جگہوں پر مندر تعمیر کراتے ہیں، یہ ہم اپنے علاقے کے بہت سے مقامات پر دیکھ رہے ہیں، کچھ دنوں پہلے جہاں کچھ نہیں تھا وہاں لائن سے جگہ جگہ مندر کی تعمیر ہو چکی ہے، پورے ملک کے مختلف حصوں حتی کہ مرکزی و ریاستی راجدھانیوں میں مندر، مٹھ بنا دیے گئے ہیں، دہلی کے لال قلعے کے پاس اور حیدرآباد کے چار مینار کے نیچے بنے مندر کو دیکھا جا سکتا ہے، سرکاری ملکیت والے میدانوں، پہاڑوں، سڑکوں پر بے شمار مندر، زیارت گاہیں بنی ہوئی ہیں، ان کو غیر قانونی قرار دے کر مسماری کے اقدامات نہیں کیے جاتے ہیں، کئی صدیوں کے دوران، بادشاہوں، راجاؤں کے دور میں مختلف مذاہب کی بہت سی عیادت گاہیں حکمرانوں اور ان کے حکام کی عملی، زبانی، تحریری اجازت سے تعمیر ہوئی ہیں، آج ان کو غیر قانونی قرار دے کر منہدم کرنا نا سمجھی کا عمل قرار پائے گا، خاص طور سے کسی ایک مذہب/کمیونٹی کی عبادت گاہوں اور ماثر و معابد کو نشانہ بنانا، اس سلسلے میں قوانین کے نفاذ میں دوہرے پیمانے اختیار کرنے کا کام کھلے عام کیے جاتے ہیں، گزشتہ دنوں بودھ وہاروں کی جگہوں پر بنے مندروں اور سرکاری جگہوں پر تعمیر مندروں کے متعلق عرضی کو سپریم کورٹ اور دہلی ہائی کورٹ نے قابل شنوائی بھی نہیں سمجھا، ہائی کورٹ نے کہا کہ اس سے دشواریاں پیدا ہوں گی، یہ اکثریت واد اور اس کے لحاظ میں ہو رہا ہے، لیکن مساجد کے معاملے میں عدالتوں خصوصا نچلی عدالتوں سے لے کر مختلف ہائی کورٹس میں الگ رویہ سامنے آ رہا ہے، کمال مولا مسجد دھار اور سہارنپور کی مسجد کی مثال سامنے کی ہے، اس بارے میں انصاف و عدالتی عمل کے پورا ہونے سے پہلے ہی انہدام و قبضے کی کارروائی ہو جاتی ہے، قریب قریب سب جگہوں پر بابری مسجد کی راہ اختیار کی جاتی ہے، عدالتی عمل پورا ہونے سے پہلے اگر مساجد و ماثر کے وجود کو ختم یا ان کی ہیت و پوزیشن کو تبدیل کر دیا جائے گا تو انصاف کی فراہمی مشکل ہو جاتی ہے، اگر بابری مسجد شہید نہیں کی جاتی اور وہ اپنی اصل حالت میں ہوتی تو اتنی آسانی سے اس کی جگہ مندر بنانے کا فیصلہ صادر نہیں کیا جاتا، اسی طرح حتمی فیصلہ ہونے تک مسجد مندر فریق دونوں کے مذہبی اعمال و مراسم کی ادائیگی پر روک دی جاتی تو نتیجہ کچھ مختلف شکل میں بر آمد ہوتا، کمال مولا مسجد کو مندر قرار دے کر جب وہاں پوجا پاٹ شروع ہو گئی ہے تو اس سے ہندو فریق کو الگ کرنا کوئی کام نہیں ہوگا، اس طرح کے تمام معاملات میں اکثریت واد پوری طرح حاوی ہوتا نظر آتا ہے، بابری مسجد/رام مندر کے قضیے میں فیصلہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ یہ ایک مستثنٰی معاملہ ہے، باقی تمام عبادت گاہوں پر 1991کا تحفظ عبادت گاہ قانون نافذ رہے گا، 15/اگست 1947 تک بنی عبادت گاہوں کے سلسلے میں کوئی دعوٰی قابل سماعت نہیں ہو گا اور ان کا کرکٹر تبدیل نہیں کیا جا سکے گا، لیکن ہندوتو کے تئیں نرم گوشہ رکھنے والے جسٹس چندر چوڑ نے یہ کہہ کر 1991کے قانون کو بے معنی بنانے کا کام کیا کہ کسی عبادت گاہ/عمارت کی پوزیشن جاننے کے لیے چانچ، انکوائری، بنے قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے، چانچ سے اس کا کرکٹر تبدیل نہیں ہو گا، مندر فریق کا کمال یہ ہے کہ وہ مفروضہ کہانیوں کو مستند تاریخ باور کرانے میں کامیاب ہو جاتا ہے جب کہ تاریخ رکھنے والا مسجد فریق کئی سارے رڈلس کی زد میں آ جاتا ہے، بابری مسجد کے معاملے میں بھی یہی ہوا تھا، اس نے شواہد کی بنیاد پر فیصلے کے بجائے مطلقا کہہ دیا کہ سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہو گا ہمیں منظور ہے، جب کہ مندر فریق نے شرط کے ساتھ اپنا عندیہ پیش کیا کہ ہمیں اپنی آستھا کے مطابق فیصلہ منظور ہو گا، آستھا کے برخلاف کوئی فیصلہ منظور نہیں ہو گا، اس صورت حال نے سپریم کورٹ کے لیے مندر کے حق میں ثبوت نہ ہونے کے باوجود اکثریت کی مبینہ آستھا کا لحاظ کرتے ہوئے اپنے خصوصی اختیار کے استعمال کا آسان راستہ کھول دیا کہ بابری مسجد کی جگہ مندر کو دے دی جائے اور مسجد کے لیے متبادل جگہ فراہم کر دی جائے، اگر بابری مسجد اپنی اصلی حالت میں ہوتی تو رام مندر توڑ کر مسجد کی تعمیر کے دعوے کو مسترد کرنے کے باوجود مسجد کی جگہ دینے کا فیصلہ آسان نہ ہوتا، مسئلہ ملکیت کا تھا نہ کہ آستھا کا، اسی لیے اب یہ پہلے سے آزمودہ نسخہ اپنایا گیا ہے کہ ابتدائی فیصلے کے ساتھ یا عمارت کی مسماری کے ساتھ متعلقہ اسلامی عبادت گاہ کا وجود ختم کر دیا جائے یا اس پر قبضہ کر کے مذہبی مراسم کی ادائیگی کا عمل شروع کر دیا جائے، اس سے مسجد والے باہر اور مندر والے اندر آ جاتے ہیں، اس سے مسجد کو ختم اور اسے مندر میں تبدیل کرنے کی راہ بآسانی ہموار ہو جاتی ہے، سپریم کورٹ نے بابری مسجد معاملے کو ایک مستثنٰی معاملہ قرار دے کر جو یقین دہانی کرائی تھی اس کو برقرار رکھنے میں وہ اب تک ناکام ہے، بھارت میں انصاف پر ،تعداد کی طاقت اور اکثریت واد کسی نہ کسی جہت سے حاوی ہوتا نظر آتا ہے، حالاں کہ آزاد جمہوری نظام میں اکثریت کی مزعومہ آستھا کو مسلم اقلیت پر لادا نہیں جا سکتا ہے، یہ اسے ماننے کی پابند نہیں ہے، موجود اور استعمال اور شواہد پر فیصلہ، آئینی مذہبی آزادی کا بنیادی تقاضا ہے، وقف برائے استعمال بھی اہم ثبوت ہے، آستھا بھی کوئی ہوا میں نہیں ہوتی ہے، اس کا ذکر معروف گرنتھوں میں ہونا چاہیے، مسجد کی جگہ مندر ہونا تاریخ کا مسئلہ ہے نہ کہ آستھا کا معاملہ، بارہویں، تیرھویں صدی تک اجودھیا سمیت پورے بھارت میں رام مندر کے نام سے کسی مندر کا حوالہ نہیں ملتا ہے، رام مندر کے لیے پانچ سو ساڑھے پانچ سو سال تک جدوجہد کی کہانی پوری طرح فرضی اور من گھڑت ہے، سارے تنازعات برٹش سامراج کے اثرات کے دور میں، تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کے تحت شروع کیے گئے تھے، رام چندر کے سب سے بڑے بھگت گو سوامی تلسی داس کے وقت میں بھی بابری مسجد/رام مندر کا کوئی تنازعہ نہیں تھا، یہ بابر کے پوتے اکبر کے عہد حکمرانی میں تھے، ان کے وسیع لٹریچر میں کہیں دور دور تک مسجد، مندر تنازعہ کا کوئی اتا پتا نہیں ہے، رام چندر کے تاریخی، غیر تاریخی وجود کو لے کر کئی طرح کی بحثیں ہیں، گاندھی جی رام، رامائن دونوں کو غیر تاریخی مانتے ہیں لیکن رام چندر کئی سارے معاملے میں آدرش کردار کے طور پر سامنے آتے ہیں، اقبال نے رام کو امام ہند قرار دیا ہے، مسلم سماج اور مسلم علماء و صوفیاء میں رام چندر کے متعلق احترام کا رویہ و جذبہ پایا جاتا ہے، لہذا ان کو ایک ہندو کردار کے طور پر پیش کرنا تنگ نظری ہے، آدرش کردار کی کوئی بھی یادگار بھی آدرش ہونا چاہیے، لیکن افسوس کہ فرقہ پرست ہندوتو وادیوں نے رام کو فرقہ واریت کی علامت بنا کر ان سے قتل و غارت گری فرقہ وارانہ فسادات کی خون آلود تاریخ وابستہ کرنے کا کام کیا ہے، رام کے نام پر غلط نظیر قائم کر کے آدرش کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے، رام مندر کی تعمیر کے نام پر مسجد کی مسماری، رام کے کردار کے منافی ہے، سپریم کورٹ نے اس کو مجرمانہ عمل قرار دینے کے باوجود جس طرح کا فیصلہ دیا وہ اکثریت کی مبینہ آستھا کے پیش نظر تھا، اس سے ہندوتو وادی عناصر کی حوصلہ افزائی ہوئی کہ دیگر مساجد پر دعوے کا سلسلہ شروع ہو گیا ان کے دعوے کو کئی عدالتیں تسلیم کر کے تحقیقات کے فیصلے دے رہی ہیں اور ان کے سرکاری جگہوں پر ہونے کے فیصلے کر رہی ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے یہ بھی تاثر پیدا ہوتا جا رہا ہے کہ سب کچھ اکثریتی سماج اور عدلیہ پر چھوڑ دیا جائے کہ جتنا چاہے لے لے اس سلسلے میں ہندی مسلم اقلیت عدالتی لڑائی ترک کر دے، کہ اس کا نتیجہ کوئی خاص نکلنے والا نہیں ہے، اس تناظر میں سپریم کورٹ کے سابق جج دیپک گپتا کا تبصرہ بہت قابل توجہ ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ عدالتوں کی مختلف سطحیں بہ تدریج اکثریتی سوچ کی طرف بڑھ رہی ہے، اس اکثریت واد کے اثرات تمام شعبہ ہائے حیات میں نظر آتے ہیں، یہ مسلم قیادت کے سامنے بڑا چلینج ہے کہ اکثریت واد کا مقابلہ کیسے کیا جائے، ؟



















