دوسری قسط
جیسا کہ اپ نے پہلی قس میں پڑھا کہ عرب ممالک کے اتحاد کے لیے چار کوششیں ہوں گی جن میں سے پہلی کوشش کا نام عرب یہ تھا اور دوسری کوشش کا نام متحدہ عرب جمہوریہ
محمد یاسین جہازی
متحدہ عرب جمہوریہ اور جمال عبد الناصر سے تعلق
جمعیت نے 23/فروری 1960 کو جمال عبد الناصر کے ہندستانی دورے کے موقع پر ان کے اعزاز میں استقبالیہ کی درخواست کی، جسے حکومت ہند نے 5/مارچ 1960 کو منظور کیا؛ چنانچہ 30/مارچ 1960 کو جمعیت نے صدر ناصر کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ خطاب میں ان کی استعمار مخالف جدوجہد، نہر سویز، بانڈونگ کانفرنس، امن پسندی اور ہند عرب تعلقات کو سراہا گیا۔
3/جون 1965 کو متحدہ عرب جمہوریہ کے فوجی اتاشی کرنل عبد الستار کے اعزاز میں الوداعی تقریب ہوئی، جب کہ 23/جولائی 1965 کو یوم آزادی کے موقع پر مولانا اسعد مدنیؒ نے صدر ناصر کو مبارک باد کا پیغام بھیجا۔
15 تا 17/اپریل 1966 کے جمعیت کے بائیسویں اجلاس میں عرب لیگ کے سکریٹری جنرل عبد الخالق حسونہ اور عرب لیگ کے نمائندے نے جمعیت کی فلسطین، عرب حقوق، ناوابستگی اور سامراج دشمنی کے موقف کو سراہا۔
1967 کی عرب اسرائیل جنگ اور جمعیت کا ردعمل
1967 کے بحران میں جمعیت نے عرب ممالک کی بھرپور حمایت کی۔ 23/مئی 1967 کو مولانا اسعد مدنیؒ نے ہندستانی وزیر اعظم، وزیر خارجہ، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور عرب سربراہوں کو اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاجی تار بھیجے۔ 27/مئی 1967 کو شام اور متحدہ عرب جمہوریہ کے سفیروں سے ملاقات کی گئی، جب کہ 28/مئی 1967 کو دہلی میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف بڑا احتجاجی اجلاس منعقد ہوا۔جس میں ساٹھ ہزار سے زائد افرادنے شرکت کی اورامریکی انفارمیشن سینٹر کو ایک یادداشت دی گئی، جس میں اسرائیل سے بیت المقدس، متحدہ عرب جمہوریہ، شام اور اردن کے مقبوضہ علاقوں سے انخلا کا مطالبہ کیا گیا۔
10/اگست 1967 کی قومی کانفرنس نے بھی متحدہ عرب جمہوریہ، شام اور اردن پر اسرائیلی حملے کی مذمت اور عرب آزادی کی جدوجہد کی حمایت کی۔ 23–24/ستمبر 1967 کی مجلس منتظمہ نے اسرائیلی مظالم کی مذمت کی، جب کہ 24/ستمبر 1967 کی عرب تعاون کانفرنس میں ہندستانی مسلمانوں کی طرف سے عرب سفرا کو ایک لاکھ چالیس ہزار روپے نقد اور پینتیس ہزار روپے کا سامان امداد پیش کیا گیا۔(جاری)























