بیسویں صدی سے متحدہ عرب ممالک اور جمعیت علمائے ہند کے روابط
تیسری قسط
جیسا کہ پہلی قسط میں پڑھا کہ عرب ممالک کے اتحاد کے چار تجربات ہوئے ہیں، اس قسط میں دوسرے اتحاد بنام متحدہ عرب جمہوریہ کے تذکرہ کا تسلسل ہے۔
محمد یاسین جہازی
مسلسل سفارتی و عملی تعاون
23/جنوری 1968 کو متحدہ عرب جمہوریہ کی مجلس اعلیٰ برائے امور اسلامیہ کے وفد کا جمعیت کے دفتر میں استقبال کیا گیا۔ جمعیت نے فلسطین کے مسئلے پر اپنی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا اور وفد نے قرآن کریم کے ریکارڈ، نماز وغیرہ کے ریکارڈ اور جمعیت کی لائبریری کے لیے 500 کتابیں دینے کا اعلان کیا۔
12/مارچ 1969 کو متحدہ عرب جمہوریہ کے سفیر نے عرب بحران کے وقت جمعیت کی بھرپور حمایت اور ہمدردی کا شکریہ ادا کیا۔ 13/مارچ 1969 کو جنرل ریاض کی وفات پر جمعیت کی تعزیت کا جواب بھی موصول ہوا۔
6/جون 1969 کو دہلی میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف جلسہ ہوا اور مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل 1967 میں قبضہ کیے گئے عرب علاقوں سے نکلے اور اقوام متحدہ کی نومبر1967 کی قرارداد پر عمل کرایا جائے۔
29/اگست 1969 کو مسجد اقصیٰ کو آگ لگائے جانے کے خلاف جمعیت نے بڑا احتجاجی اجلاس کیا۔ اسی سال 16/ستمبر 1969 کو رباط کی اسلامی کانفرنس میں ہندستان کو دعوت نہ دیے جانے پر جمعیت نے احتجاج کیا، کیوں کہ اس کے نزدیک ہندستانی مسلمانوں کو عالم اسلام سے الگ کرنا ناانصافی پر مبنی تھا۔ 23/نومبر 1969 کو عرب سفرا کے لیے افطار کا اہتمام کیا گیا۔
23/جولائی 1970 کو صدر ناصر کو یوم انقلاب کی مبارک باد دی گئی۔ 29/ستمبر 1970 کو جمال عبد الناصر کی وفات پر جمعیت نے فوری تعزیت کی اور 25–26/اکتوبر 1970 کی مجلس عاملہ نے ان کی خدمات، فلسطین اور عرب آزادی کے لیے جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کیا۔
(جاری)۔۔۔۔۔۔۔






















