پہلی قسط
(ممالک اسلام کے تواریخی مطالعے کا ماحصل)
محمد یاسین جہازی
عرب ممالک کے درمیان اتحاد کی کوششوں میں اب تک چار اہم تجربے کیے گئے ہیں:
(۱)عرب لیگ، جو22/مارچ 1945 کو قائم ہوئی۔
(۲) متحدہ عرب جمہوریہ: جو 22/فروری 1958 کو مصر و شام کے اتحاد سے وجود میں آئی اور 28/ستمبر 1961 کو شام کی علاحدگی سے ختم ہوگئی۔
(۳) متحدہ عرب ریاستیں:جو مصر، شام اور شمالی یمن کا کنفیڈریشن تھا، جو شام کی علاحدگی کے بعد دسمبر 1961 میں ختم ہوگیا۔
(۴)متحدہ عرب امارات: جو 2/دسمبر 1971 کو چھ امارات کے اتحاد سے قائم ہوا اور فروری 1972 میں راس الخیمہ کی شمولیت سے سات امارات مکمل ہوئے۔
(1)عرب لیگ کے ساتھ جمعیت علمائے ہند کے تعلقات
جمعیت علمائے ہند نے عرب دنیا کے مسائل؛ خصوصاً فلسطین، مراکش، تیونس، مصر اور الجزائر کے معاملات میں مسلسل حمایت کا موقف اختیار کیا۔ فلسطین کی بگڑتی صورت حال پر 2/نومبر 1945 کو مولانا محمد حفظ الرحمانؒ صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے پورے ہندستان میں ’’یوم فلسطین‘‘ منانے کی اپیل کی اور عرب لیگ کے اعلان کی تائید کی۔
21/جون 1946 کو عرب لیگ کے سکریٹری عبد الرحمان اعظم نے جمعیت کے فلسطین سے متعلق پیغام کے جواب میں ہندستانی مسلمانوں کی ہمدردی کو عربوں کے لیے بڑی قوت قرار دیا۔ 9/جون 1948 کو عزام پاشا نے مولانا حسین احمد مدنیؒ صدر جمعیت علمائے ہند کے نام تار بھیجا اور ہندستانی مسلمانوں کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
18/مارچ 1951 کو جمعیت نے مراکش میں فرانسیسی مظالم کے خلاف عرب لیگ کے جنرل سکریٹری عزام پاشا کو احتجاجی تار بھیجا۔ 16/نومبر 1951 کو مصر و ایران کے حق میں دعاؤں کی اپیل کی گئی، جس پر 5 /دسمبر 1951 کو عرب لیگ کی طرف سے شکریہ کا جواب موصول ہوا۔ 22/اگست 1963 کو مراکش اور تیونس میں فرانسیسی جبر کے خلاف عرب لیگ کو پھر احتجاجی مکتوب بھیجا گیا۔
26/فروری 1965 کو جمعیت نے عرب لیگ کے سکریٹری جنرل عبد الخالق حسونہ کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ اس موقع پر جمعیت نے فلسطین اور الجزائر کی حمایت، مصر پر استعماری حملے کی مخالفت اور عرب اتحاد کے لیے اپنی وابستگی کا اظہار کیا؛ حسونہ نے بھی فلسطین کی آزادی اور عرب حقوق کی بحالی کے لیے جمعیت کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔
(جاری)
@all






















