محمد ابوذر مفتاحی!
(ارریاوی)
اسلام ایک کامل و مکمل نظام حیات ہے ،زندگی کا کوئی شعبہ اور گوشۂ ایسا نہیں جس کے متعلق اسلام نے رہنمائی نہ کی ہو ،دین اسلام نے جہاں عبادات تجارت اور معاملات کے شعبوں میں رہنمائی کی ہے ،وہیں ووٹ کی شرعی حیثیت اور سیاسی حکومت کے سلسلے میں بھی رہنمائی کی ہے ،
ذرا سوچئے وہ اسلام معمولی عبادات کے بارے میں میں واضح ہدایت و رہنمائی کی ہے ،وہ سیاست و حکومت کے شعبہ میں یوں ہی خالی چھوڑ دے گا ،یوں سمجھے ووٹ اور سیاست اسلام کا اٹوٹ حصہ ہے ،
سچائ ہے کہ حکومت و سیاست سے انسانی زندگی کا ایک بڑا حصہ وابستہ ہے ،صحیح بات یہ ہے کہ ،اسلام نے ہی دنیا کو بہترین نظام حکومت خوشگوار سیاست کے اصول و ضوابط بتاۓ ہیں ،
لیکن بد قسمتی کی بات ہے کہ ہم مسلمان دنیا کو اس بابرکت اور صحیح نظام زندگی سے اب تک واقف نہیں کر اسکے ،
شرعی نقطہ نظر سے ووٹ کی 4/حیشیتں علماء کرام نے شمار کی ہیں
1/وکالت) یعنی جب کوئی آدمی کسی کے حق میں ووٹ دیتا ہے تو گویا کہ وہ اپنا حق حاصل کرنے اور ملک کو صحیح نہج پر چلانے کے لئے اس کو وکیل بناتا ہے ،
2/شفاعت) یعنی جب کوئی کسی کے حق میں ووٹ دیتا ہے تو گویا کہ وہ گورنمنٹ اور الیکشن کمیشن سے اس حق میں سفارش کرتا ہے کہ فلاں آدمی میرے حلقہ کے لئے مناسب اور بہتر رہے گا ،
3/(مشاورت) باہمی رائے دہی و مشورے سے جو بھی کام کی انشاءاللہ بہتر رہے گا ،اسی کے ضمن میں حکومت کا قیام اور امور مملکت کو انجام دینا دین اسلام کا طرزِ امتیاز رہا ہے ،اسلام رائے طلب کرنے کا حکم دیا ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت بھی مشورہ سے ہی طے پائی تھی ،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے باہمی رائے و مشورے سے حضرت فاروق اعظم کو نامزد فرمایا ،
4/(شہادت) چوتھی حیثیت شہادت کی ہے ،یعنی ووٹر اپنے کے ذریعہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ فلاں امیدوار وار اس عہدہ کے لئے درکار ساری صلاحیتیں اس امیدوار کے اندر موجود ہیں ،یہ آدمی پوری امانت داری و دیانت داری اپنی ذمہ داری سمجھ کر اس فریضہ کو بحسن وخوبی انجام دے سکتا ہے ،اس کے اندر قوم و ملت اور سماج کا درد مند انسان ہیں ، اس کو وہ نبھانے کی پوری کوشش کرے گا ،
ریاست بہار میں بلخصوص سیمانچل میں مختلف پارٹیوں کی طرف سے ایک ایک ودھان سبھا حلقہ میں کئی کئی امیدوار کھڑے کیے گئے ہیں
اب عوام کشمکش میں مبتلا ہیں, کوئی فیصلہ نہیں کر پارہی ہیں آخر کار کس کو ووٹ دیا جائے ؟کون ہماری امیدوں پر کھڑے اترے گا ؟کون ہمارے اسمبلی حلقہ کے فلاح وبہبود کے لئے عملی طور پر فکر مند اور عام پبلک کی احساسات و جذبات کی ودھان سبھا میں بہتر نمائیندگی کرسکتا ہے,
ان تمام پہلوؤں پر بڑی سنجیدگی اور بارک بینی کے ساتھ غور وفکر کرکے متحدہ و متفق ہوکر ہر ممکن کوشش کیجئے گا ,
مسلم ووٹ منتشر نہ ہوں کسی ایک سیکولر نظریات کے حامل امیدوار کو کامیاب بنانے کی کوشش کیجئے
جو قوم و ملت کے لئے بہتر نمائیندگی کرسکے ،
نہیں تو لمحوں نے خطا کی دسیوں نے سزا پائی کے مستحق ہوگئے،





















