از مولانا فضیل اختر قاسمی بھیروی
زمین کی گود میں کبھی ایسی بستیاں آباد تھیں جہاں اذانوں کی صدا فضا کو معطر کرتی، جہاں بچوں کی ہنسی اور ماؤں کی دعائیں امن کی نشانی تھیں۔ مگر آج وہی بستیاں خون و آنسو میں لتھڑی ہیں۔ غزہ وہ مقدس اور متبرک شہر جس نے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والتسلیم کے قدموں کی خاک جذب کی، آج ظلم و بربریت کی دھول میں لپٹا ہوا ہے۔ وہاں کے لوگ خالی پیٹ ضرور ہیں، لیکن دلوں میں ایمان کی روشنی روشن ہے۔ وہ بھوکے ہیں مگر صبر اور غیرت کے پیکر ہیں۔ دنیا کے شور و شر کے بیچ ان کے ہونٹ خاموش ہیں، مگر دلوں میں یقین کی صدا گونج رہی ہے۔ یہ وہ قوم ہے جو ملبے پر بھی "اللّٰہ اکبر” کہہ کر اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔فرمانِ الٰہی ہے: "وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ” (سورۃ البقرہ، آیت: 155) ترجمہ: اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے ، اور (کبھی) بھوک سے، اور (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کرکے۔ اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو۔ (آسان ترجمہ قرآن از مفتی محمد تقی عثمانی جلد اول صفحہ 109) غزہ کی سرزمین آج بھی اپنے زخمی وجود کے ساتھ آسمان کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔ وہاں کے چہرے، جن پر کبھی ایمان کی روشنی اور عزم کی چمک دیکھی جاتی تھی، آج بھوک، پیاس، اور اذیت کے غبار میں چھپ چکے ہیں۔ یہ وہی ارضِ مقدس ہے جہاں انبیائے کرام علیہم السلام نے توحید کی مشعلیں روشن کیں، مگر آج وہاں کے بچے نوالۂ رزق کے لیے آسمان کی طرف ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں۔ ان کے ہونٹ خشک ہیں، مگر زبانوں پر شکوہ نہیں۔ سسکیاں ہیں مگر دلوں میں یقین کی حرارت باقی ہے۔ یہیں سے سنائی دیتی ہیں غزہ کی خاموش چیخیں، جو دلوں کو جھنجوڑ کر ایمان کے چراغ کو روشن کرتی ہیں۔ دنیا کے ضمیر پر گویا پتھر رکھ دیا گیا ہے۔ وہی اقوام جو انسانیت، آزادی، اور مساوات کے نعرے لگاتی ہیں، آج ظلم کے مجرموں کے ساتھ کھڑی ہیں۔ وہی طاقتیں جو امن کے سفیر ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، آج خاموش تماشائی بن کر معصوم بچوں کے جسموں پر برسنے والے بارود کو دیکھ رہی ہیں۔ انسانی حقوق کے علمبردار، انسانیت کے سب سے بڑے قاتلوں کے حامی بن چکے ہیں۔ ظلم نے اپنی آخری حدوں کو پار کر لیا ہے اور انصاف کہیں گہرے غاروں میں دفن ہوچکا ہے۔خداوندِ قدوس نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: "وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ” (سورۃ آلِ عمران، آیت: 169) ترجمہ: اور (اے پیغمبر!) جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوئے ہیں، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنا، بلکہ وہ زندہ ہیں، انہیں اپنے رب کے پاس سے رزق ملتا ہے۔ ( آسان ترجمہ قرآن از مفتی محمد تقی عثمانی جلد اول صفحہ 232) غزہ کی گلیوں میں اب زندگی نہیں، صرف دھواں ہے۔ وہ دھواں جو گھروں کے جلنے سے نہیں، خوابوں کے بکھرنے سے اٹھتا ہے۔ ماؤں کی آہیں فضا کو چیر کر عرش تک جا پہنچتی ہیں، مگر زمین پر کوئی سننے والا نہیں۔ بچوں کے چہرے، جن پر کبھی مسکراہٹیں بکھرتی تھیں، اب خوف کے سائے میں لرز رہے ہیں۔ یہ وہی معصوم روحیں ہیں جن کے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہئیں تھیں، مگر آج وہ ہاتھ ملبے کے نیچے دبے اپنے والدین کو تلاش کر رہے ہیں۔ دنیا کی خاموشی خود ایک جرم بن چکی ہے۔ ظالم کے ہاتھ مضبوط اسی وقت ہوتے ہیں جب انصاف کی زبان خاموش ہو جائے۔ اقوامِ عالم کی بے حسی اس بات کی دلیل ہے کہ انسانیت کی لاش اب سیاسی مفادات کے فرش پر پڑی سڑ رہی ہے۔ سفارت کاری کے ایوانوں میں بحثیں ہو رہی ہیں، اجلاس بلائے جا رہے ہیں، مگر کسی کے دل پر ایک ننھے فلسطینی بچے کے آنسوؤں کا بوجھ نہیں۔ ظلم کی یہ آندھی، جو ہر روز معصوم چہروں کو نگل رہی ہے، شاید دنیا کے ضمیر کو بھی بہا لے گئی ہے۔ بھوک نے فلسطینی خیموں میں ڈیرہ ڈال لیا ہے۔ ماؤں کے پاس دودھ نہیں، مگر گودوں میں بھوک سے بلکتے بچے ہیں۔ روٹی کا ایک ٹکڑا، پانی کا ایک قطرہ، اب وہاں خزانے سے کم نہیں۔ مگر ان کی نگاہوں میں اب بھی استقامت ہے، دلوں میں ایمان کی چنگاری جل رہی ہے۔ وہ بھوکے ضرور ہیں، مگر غیرت کے سوتے خشک نہیں ہوئے۔ ان کے قدموں کی مٹی میں شہادت کی خوشبو بسی ہے، آنکھوں میں آزادی کے خواب زندہ ہیں۔ قال رسول اللّٰه ﷺ: "لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الحَقِّ ظَاهِرِينَ، لَا يَضُرُّهُم مَّنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللّٰهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ.” (صحیح مسلم) ترجمہ: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، ان کا کوئی مخالف ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے۔ وقت کے ظالم بادشاہوں کو شاید معلوم نہیں کہ ظلم ہمیشہ باقی نہیں رہتا۔ ایک دن تاریخ ان کے چہروں سے نقاب نوچ لے گی۔ زمین پر بہنے والا ہر قطرۂ خون، آسمان کے دفتر میں ایک گواہی بن کر محفوظ ہے۔ ہر چیخ، ہر سسکی، ہر آہ ایک دن عدلِ الٰہی کے سامنے دلیل بن کر کھڑی ہوگی۔ وہ دن ضرور آئے گا جب غزہ کے زخم پھولوں میں بدل جائیں گے، اذیتوں کی راکھ سے امید کا چراغ پھر روشن ہوگا۔ فلسطین کے لوگوں کا صبر دراصل ایمان کی تعبیر ہے۔ ان کی بھوک قربانی کی علامت ہے۔ وہ دنیا کو یاد دلا رہے ہیں کہ ایمان صرف زبان کا اقرار نہیں، بلکہ جسم اور جان سے ادا کیا جانے والا عہد ہے۔ وہ بھوکے ہیں، مگر جھکے نہیں۔ وہ کمزور ہیں، مگر ہارے نہیں۔ ان کے پیروں تلے ملبہ ہے، مگر دلوں میں قرآن کی طاقت ہے۔ ان کی سسکیاں دنیا کے ایوانوں سے بلند ہیں، ان کی خاموشی ظلم کے تختوں کو ہلا دینے والی ہے۔ یہ جنگ صرف زمین کی نہیں، ایمان اور کفر کی کشمکش ہے۔ ایک طرف طاقت کے ہتھیار، دوسری طرف یقین کے سجدے۔ ایک طرف بم، دوسری طرف دعائیں۔ ایک طرف دنیا کی حمایت یافتہ فوج، دوسری طرف خدا پر یقین رکھنے والی مائیں۔ وہ مائیں جو اپنے بچوں کی شہادت پر آنسو نہیں بہاتیں، بلکہ مسکرا کر کہتی ہیں: "الحمدللہ، میرا بیٹا جنت میں چلا گیا۔” فلسطین کی کہانی ختم نہیں ہوئی یہ ایک جاری داستان ہے، جس کے ہر صفحے پر ایمان لکھا جا رہا ہے، ہر سطر میں قربانی رقم ہو رہی ہے۔ دنیا چاہے جتنی بھی اندھی ہو جائے، مگر ظلم کی یہ سیاہی ایک دن ضرور مٹ جائے گی۔ کیونکہ جس قوم کے دلوں میں قرآن بستا ہو، اس کو مٹانے والا کوئی پیدا نہیں ہوا۔ اب وقت ہے کہ ہم عالم، دانشور اور وہ سب لوگ جو کتابوں اور فکر کی روشنی میں روشنی بانٹتے ہیں، اپنی خاموشی توڑیں۔ آپ کی علمی طاقت اور روحانی بصیرت، غزہ کی خاموش چیخوں کو سننے اور مظلوموں کے لیے آواز اٹھانے میں روشنی ڈال سکتی ہے۔ دنیا کے ضمیر کو جگانے، ظلم کے خلاف علم و عمل کی شمع جلانے، اور ایمان و انصاف کی راہ میں قدم بڑھانے کا وقت اب ہے۔ اگر ہم نے آج خاموشی اختیار کی، تو مظلوم کی چیخیں ہمارے علم اور طاقت کے گواہ کے طور پر تاریخ میں ثبت ہوں گی۔ لہٰذا ہر عالم اور فاضل کو چاہیے کہ وہ اپنے علم، اپنی قلم اور اپنی آواز سے فلسطینیوں کے حق میں کھڑا ہو اور دنیا کو یاد دلائے کہ ظلم کبھی باقی نہیں رہتا، اور حق کی حمایت ہر دور میں فریضہ ہے۔
متعلم شعبۂ تخصص فی الفقہ و الافتاء والقضاء دارالعلوم حیدرآباد





















