رشحات قلم: فضیل اختر قاسمی بھیروی
خادم التدریس دارالعلوم رحیمیہ پیلیر آندھراپردیش
آج جبکہ امتِ مسلمہ مختلف قسم کے فتنوں، گمراہیوں اور خود ساختہ دعووں کی زد میں ہے، ایسے وقت میں اہلِ حق علماءِ کرام کا بروقت اقدام نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ پوری امت کے لیے باعثِ اطمینان بھی ہے۔ دہلی کے علاقۂ خوریجی میں جس انداز سے ایک گمراہ کن فتنہ سر اٹھا رہا تھا، وہ اگر ابتدا ہی میں نہ روکا جاتا تو نہ جانے کتنے سادہ لوح مسلمان اس کے دامِ فریب میں گرفتار ہوجاتے۔ الحمد للہ! اکابر علماءِ کرام نے جس جرأت، بصیرت اور اتحاد کے ساتھ اس فتنے کا تعاقب کیا اور اسے بے نقاب کیا، وہ یقیناً دینِ اسلام کی حفاظت کی ایک روشن مثال ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی باطل فکر، جھوٹے دعویدار یا گمراہ جماعت نے امت کے عقائد و افکار پر حملہ کرنے کی کوشش کی، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلص علماء کو کھڑا فرمایا، جنہوں نے پوری قوت کے ساتھ ان فتنوں کا رد کیا۔ یہی انبیاءِ کرام علیہم السلام کے وارثین کا منصب ہے کہ وہ حق کو واضح کریں اور باطل کا پردہ چاک کریں۔ یہ بات ہر مسلمان کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ فتنہ کبھی اچانک بہت بڑا نہیں بنتا، بلکہ ابتدا میں وہ ایک معمولی دعویٰ، ایک چھوٹی جماعت، یا ایک بظاہر نیک شکل کے ساتھ سامنے آتا ہے، پھر آہستہ آہستہ لوگوں کے عقائد و اذہان کو مسموم کرتا ہے۔ اگر اس وقت خاموشی اختیار کرلی جائے تو بعد میں یہی فتنہ ناسور بن جاتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ جیسے ہی کوئی شخص شریعت کے خلاف دعوے کرے، خود کو مخصوص روحانی مقام دے، لوگوں کی تکفیر شروع کرے یا امت کے متفقہ عقائد سے ہٹ کر باتیں پھیلائے، فوراً اہلِ علم اس کا علمی محاسبہ کریں اور عوام کو اس کے شر سے بچائیں۔ خوریجی دہلی کے اس واقعہ نے یہ پیغام دیا ہے کہ: "فتنوں کے مقابلہ میں خاموشی نہیں، بلکہ حکمت، علم، اتحاد اور جرأت کے ساتھ اقدام ضروری ہے۔” علماءِ کرام کا متحد ہونا، عوام کا ان کے ساتھ کھڑا ہونا، مسجد کو فتنہ پرور سرگرمیوں سے پاک کرنا، اور نئی کمیٹی کی تشکیل یہ ایسے اقدامات ہیں جو ہر علاقے کے لیے نمونہ بننے چاہییں۔ کیونکہ مسجدیں اللہ کا گھر ہیں، کسی شخصی عقیدت، جھوٹے تقدس یا گمراہ تحریک کا مرکز نہیں۔ ہم تمام مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ: اپنے عقائد کی حفاظت کریں، ہر چمکتی چیز کو حق نہ سمجھیں، سوشل میڈیا یا جذباتی نعروں سے متاثر نہ ہوں، بلکہ اہلِ حق علماء سے وابستہ رہیں۔ یہی سلامتی کا راستہ ہے۔ صناعِ لاثانی و منعمِ حقیقی دہلی کے تمام علماءِ کرام، ائمہ، ذمہ دارانِ مسجد اور اہلِ علاقہ کی اس دینی غیرت کو قبول فرمائے، امت کو ہر نئے اور پرانے فتنے سے محفوظ رکھے، اور حق پر استقامت عطا فرمائے۔ ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم
20 مئی 2026ء بروز بدھ بوقت رات 9:22 منٹ




















