ملاحظات
مولانا عبدالحمید نعمانی صاحب
ہندوتو اور اکثریت پرستی کے اثرات تمام شعبہ ہائے حیات پر صاف نظر آتے ہیں، جج نہ معصوم عن الخطا۶ ہوتا ہے نہ وہ کوئی آسمانی مخلوق ہوتا ہے، وہ بھی اسی انسانی سماج کا حصہ ہوتے ہیں، یہ تسلیم شدہ بات ہے، یہی مانتے ہوئے نچلی عدالتوں کی اپیل اوپر کی عدالتوں میں کی جاتی ہے اور اس کی قانون میں بھی گنجائش رکھی گئی ہے، ہائی کورٹ کے فیصلے کو بھی صحیح اور آخری فیصلہ نہ مانتے ہوئے سپریم کورٹ میں اس کے خلاف اپیل کی جاتی ہے، اور وہاں بھی ایک جج کے فیصلے کو دو،اور دو کے فیصلے کو تین اور تین کے فیصلے کو چار سے زیادہ 12/13 ججوں کی بنچ میں سماعت کی جاتی ہے، اس کے مد نظر کوئی شک نہیں ہے کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے کمال مولا مسجد کو مندر قرار دینے والے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چلینج کیا جائے گا اور کیا جانا چاہیے، کچھ سیاسی امنگوں والے مسلم نام والے مسجد کے خلاف فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کو وقت کی بربادی بتا رہے ہیں، یہ ایک غلط طرز فکر کی علامت ہے، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا فیصلہ کئی معانی میں بابری مسجد کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے سے مماثلت رکھتا ہے اور کاپی کرنے کی کوشش کی گئی ہے، دونوں فیصلے حقائق و شواہد کے بجائے، مبینہ ہندو آستھا پر مبنی ہیں گرچہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ بابری مسجد/رام جنم بھومی مندر معاملے میں یہ اپنی نوعیت کا واحد فیصلہ ہے، لیکن یہ دیگر اسلامی و مسلم تاریخی ماثر و معابد پر قبضہ کرنے کے لیے نظیر بن گیا ہے، ہندوتو وادی فریق کے دباؤ و دعوے آستھا پر فیصلے نے ایسا دروازہ کھول دیا ہے، جسے بند کرنا اب کسی کے کنٹرول میں نہیں رہ گیا ہے اور جس کے کنٹرول میں ہے وہ بہ ذات خود قبضہ کرو مہم پر روک لگانا نہیں چاہتے ہیں، بابری مسجد کے معاملے میں اے ایس آئی کی رپورٹ کو سپریم کورٹ نے ثبوت تسلیم نہیں کیا تھا اور نہ ہندو فریق کے اس دعوے کو کہ مسجد، مندر توڑ کر تعمیر کی گئی ہے، اس کے باوجود مندر کے حق میں فیصلہ دے دیا گیا، یہ فیصلہ آج تک ناقابل فہم بنا ہوا ہے، اس پر ہماری طرح بہت سوں نے کہا، لکھا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے والے دنوں میں دوررس نتائج و اثرات کا حامل ہوگا اور یہ بالکل سچ ثابت ہوا کہ فیصلے سے مسلم و اسلام مخالف، ہندوتو وادی عناصر کی زبردست حوصلہ افزائی ہوئی اور فیصلے سے تقویت پا کر دیگر مساجد پر دھاوا بول دیا گیا ہے، ان کے ذہن پر یہ جذبہ پوری قوت سے حاوی ہو گیا ہے کہ ملک میں کسی تاریخی مسجد، عمارت کو اسلامی و مسلم شناخت کے ساتھ باقی نہ رہنے دیا اور عالمی برادری اور ملک کے انصاف پسندوں کی نظر میں انصاف پسند بنے رہنے کے لیے مسجد کے لیے متبادل جگہ کی پیشکش بھی کر دی جائے جس کا پورا ہونا عملا ممکن بھی نہیں ہے ،اصل تو تاریخ کو ختم کرنا ہے، دوسری متبادل جگہ پر مسجد کی تعمیر تاریخی شناخت کے ساتھ ممکن نہیں ہو گی، ویسے بھی بغیر تاریخی شناخت کے عام قسم کی مسجد کی تعمیر بھی کوئی آسان کام نہیں ہے، بابری مسجد کے لیے ملی جگہ کا جو حشر ہوا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، لیکن مسجد تعمیر کے نام پر کمائی اور سیاست ہوتی رہے گی، زمین کے لالچ میں مسلم سماج میں سودا گری کرنے والا گروہ پیدا ہو جائے گا، ہمایوں کبیر اس کی واضح مثال ہے، بابری مسجد کے معاملے میں تمام تر حقائق موجود تھے، لیکن ججوں کے سامنے اپنے اپنے مستقبل کا مسئلہ بہت اہم تھا، اس کے پیش نظر ان کو یہی بچاؤ کا صحیح راستہ نظر آیا کہ مندر کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے ،ہندوتو وادی مندر فریق نے اپنا اعلانیہ موقف پیش کر دیا تھا کہ ہم اپنی آستھا کے خلاف کسی فیصلے کو تسلیم نہیں کریں گے، جب کہ مسجد فریق بلا شرط اپنا عندیہ دے دیا تھا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کر لیں گے، اس صورت حال نے ججوں کی راہ آسان کر دی اور انھوں نے یہی کیا بھی، ہندوتو وادی فریق کے تیور سے ہر کوئی متاثر نظر آتا ہے، ان کے منشاء و مقصد کے خلاف آئندہ طویل عرصے تک شاید ہی کوئی عدالت، فیصلہ کر سکے، یہ صورت حال دیکھ کر ہندوتو وادی عناصر اور مبینہ دھرم گرو اپنی مزعومہ آستھا کے نام پر اسلامی و مسلم شناخت والے ماثر و معابد پر قبضہ کرنے کی کوششوں میں لگ گئے ہیں، جس طرح بابری مسجد کے معاملے میں مندر توڑ کر مسجد کی تعمیر کا کوئی پختہ ثبوت نہ ہونے کے باوجود ،زمین مندر کے حوالے کر دی تھی اسی طرح کمال مولا مسجد کے متعلق بھی کوئی تاریخی ثبوت اور مستند دستاویز حوالہ نہیں ہے، اس کے باوجود مسجد/مزار کی جگہ کو مندر قرار دے کر مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی سے روک دیا گیا، ایسا ہی بابری مسجد کے بارے میں بھی کیا گیا تھا، آخری فیصلہ آئے بغیر ایک فریق کو پوجا کی اجازت اور دوسرے فریق کی نماز پر روک سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ انصاف کا پیمانہ اور ذہن میں کیا کچھ ہے، یہ دوہرا معیار، کسی بھی مقام کا ہندو کرن کرنے کا آزمودہ نسخہ ہے، آزادی سے پہلے یہ کم ہوتا تھا لیکن آزادی کے بعد فرقہ وارانہ حالات سے تمام شعبہ جات کی طرح نظام عدلیہ بھی متاثر ہوا، محکمہ آثار قدیمہ قدیم تاریخی عمارتوں کی حفاظت کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا، محکمہ کے دستور میں واضح طور سے لکھا ہے کہ وہ کسی تاریخی عمارت کی پوزیشن اور کردار کو بدل نہیں سکتا ہے، لیکن وہ پوزیشن بدل کر ہندوتو وادی عناصر کا سب سے بڑا معاون بن کر کام کر رہا ہے، اور مسجد و عمارت کو ہندو مندر و عمارت ثابت کرنے کے لیے سرگرم عمل رہتا ہے، اسی محکمہ آثار قدیمہ نے اوما بھارتی سرکار عہد میں میں رپورٹ دی تھی کہ متعلقہ جگہ پر مندر ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے، اس کی نشاندہی مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی، دگ وجے سنگھ نے بھی کی ہے لیکن اب اسی نے محکمہ کے دستور کے خلاف تاریخی عمارت کی پوزیشن و کیرکٹر بدل کر مسجد کو مندر بتا دیا اور مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے تاریخی حقائق و شواہد اور دستاویزات کو نظرانداز کر کے صرف محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ پر مندر ہونے کا فیصلہ بھی دے دیا ہے، اے ایس آئی نے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق ادھر ادھر کی بے جوڑ و بے بنیاد باتوں کو توڑ جوڑ کر مندر کے حق میں رپورٹ تیار کر دی، پہلے کے محکمہ آثار قدیمہ اور گزشتہ کچھ عرصے میں تشکیل پائے محکمہ میں بہت فرق پیدا ہو گیا ہے، گزشتہ کچھ برسوں میں محکمہ میں ہندوتو وادی عناصر نے زبردست پیٹھ بنالی ہے، وہ آر ایس ایس اور دیگر ہندوتو وادی عناصر کے دعوے کے مطابق معاملات کو سیٹ کر کے پیش کرنے کا کام کرتے ہیں، نیت میں فتور اور مسجد کو لے کر بے ایمانی کا آغاز تبھی ہو گیا تھا جب کمال مولا مسجد کمپلیکس میں ہندو فریق کو بھی جمعہ کی نماز کی طرح ہندو فریق کو بھی وہاں پوجا کی اجازت دے دی گئی تھی، ایسا کہیں نہیں ہوتا ہے کہ ایک ہی جگہ نماز/پوجا دونوں ہوتی ہوں، برٹش سامراج کے اثرات سے پہلے تمام تر فارسی کتبات اور دیگر تاریخی تحریروں میں متعلقہ تاریخی مقام کو کمال مولا شاہ کا احاطہ بتایا گیا ہے نہ کہ بھوج شالہ ہندو سرسوتی مندر، تاریخی ریکارڈز میں بھی متعلقہ عمارت و مقام ایک مسجد/مزار کے طور پر بیان کرتے ہیں، نہ کہ راجا بھوج کی قائم کردہ سنسکرت پاٹھ شالہ کے طور پر، بھوج شالہ مندر کا شوشہ بہت بعد کا چھوڑا ہوا ہے، کمال مولا شاہ مسجد تیرھویں صدی سے بعد کی صدیوں تک ایک مسجد کے طور پر استعمال ہوتی اور کام کرتی رہی ہے، حتی کہ 2000 کی دہائی کے اوائل تک ایک مسلم عبادت گاہ کے طور پر فعال رہی ہے، اس کے متعلق کئی تاریخی کتابوں اور تحریروں کا ہم نے بھی مطالعہ کیا ہے، اس سلسلے کی کئی ساری چیزیں کتب خانہ دارالعلوم دیوبند، کتب خانہ ندوۃ العلماء، مولانا آزاد لائبریری دہلی، علی گڑھ، ہمدرد نیشنل لائبریری دہلی، خدا بخش لائبریری پٹنہ اور دہلی آرکائیو میں موجود ہیں، سید کریم علی کی تاریخ مالوہ، سید احمد کاظمی کی آثار مالوہ میں بہت سے تاریخی شواہد کو جمع کر دیا گیا، اس سلسلے کی بہت اہم علمی و تحقیقی کتاب قاضی عبدالقدوس فاروقی کی، مالوہ کی کہانی، تاریخ کی زبانی ہے، اس میں بہت سی متعلقہ باتوں کو سامنے لانے کا کام کیا گیا ہے، مصنف با اثر سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے سرکاری و دستاویزی کاغذات تک رسائی رکھتے تھے، انھوں نے خاندانی ذاتی ذخائر اور تاریخی دستاویزات کے ساتھ دیگر امور کے مطالعے کے بعد کتاب لکھی ہے، کتاب کا پیش لفظ مولانا علی میاں ندوی رح نے لکھا ہے، لہذا کتاب کے مستند ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، آج کی تاریخ میں ڈاکٹر مورخ روچیکا شرما کے کئی بہت تحقیقی و تاریخی کام سامنے آئے ہیں راقم سطور نے بہ ذات خود بہت سی باتوں کا مطالعہ کیا ہے، کسی سے بھی کمال مولا مسجد/مزار کی تعمیر، کسی مندر کو توڑ کر کرنے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں ہوتا ہے، مسجد اور عمارت کی تعمیر میں زیادہ تر ہندستانی طرز وفن تعمیر کو اختیار کیا گیا ہے اور زیادہ تر مزدور اور کاریگر بھی ہندو تھے، اس سلسلے میں مسلم حکمرانوں، علا۶ الدین خلیجی، دلاور خان غوری اور دیگر نے کسی فرقہ وارانہ و مذہبی تعصب سے کام نہیں لیا ہے، ان کو سنسکرت زبان سے کوئی نفرت نہیں تھی، بلکہ اس کی سرپرستی کرتے تھے، مختلف مواقع پر استعمال بھی کرتے تھے، انھوں نے ہندو مزدوروں اور معماروں کو چھوٹ دی رکھی تھی، عمارتوں میں کہیں کہیں پرانی عمارتوں کے ملبے کا بھی استعمال کیا جاتا تھا، عہد وسطی میں ایسا عام تھا، کبھی کبھار دور نزدیک کے مقامات سے ملبے اٹھا کر لائے جاتے تھے، اس کے تناظر میں کہیں سنسکرت الفاظ اور علائم کے حوالے سے اسلامی و مسلم عبادت گاہ اور عمارتوں کو مندر، عمارت باور کرانے کی غلط کوشش کی جاتی ہے، طرز و فن تعمیر کو لے کر بھی بہت سے ہندوتو وادی عناصر کہتے ہیں یہ طرز تعمیر تو ہندستانی ہے، جب زیادہ تر مزدور، کاریگر ہندو تھے اور تعمیر میں ہندستانی طرز کو اختیار کیا گیا تھا تو عمارتوں پر ہندستانی اثرات تو نظر آئیں گے ہی، اس میں فرقہ واریت کو تلاش کرنا، ذہنی فساد و بگاڑ کا نتیجہ ہے، یہی ذہن کمال مولا مسجد کو مندر ثابت کرنے میں کام کر رہا ہے، اس کی مزاحمت بہت مضبوطی سے کرنے کی ضرورت ہے، کچھ مسلم نام والے دانش ور، مسلمانوں کو مزاحمت کی راہ سے دور کرنے میں لگے ہوئے ہیں، اس سلسلے میں ایک اہم کام یہ ہو گا کہ متعلقہ تمام تاریخی تحریروں کو بہتر طور سے منظر عام پر لایا جائے، مزید یہ کہ ہندوتو وادی فریق کی طرح صورت حال پیش کرنے کے لیے اہل علم افراد سامنے آتے رہیں تاکہ یک طرفہ طور سے ہندوتو وادی عناصر کو بھرم پھیلانے کا کھلا راستہ و موقع نہ مل جائے، کمال مولا مسجد کو مندر قرار دے کر ہندوؤں کو پوجا کا حق دینا اور نماز کی ادائیگی سے روک دینا، ایک غیر معمولی اور تاریخ بدلنے کی طرف اٹھایا خطرناک قدم ہے، اسے روکنے کی آخری حد تک جدوجہد کرنی پڑے گی، ورنہ اس کے دوررس اثرات مرتب ہوں گے،




















