ازقلم افتخار حسین احسن
دار پر چڑھ کے حق بیانی کی
پر خطر اپنی زندگانی کی
آج در در بھٹک رہا ہے وہ
جس نے باطل کی ترجمانی کی
ایسے لوگوں سے دور ہی رہیے
جس کی فطرت ہے بد زبانی کی
ایک مدت تلک یہاں ہم نے
شان وشوکت سے حکمرانی کی
ایک سے جب نباہ مشکل ہو
بات چھیڑوں میں کیسے ثانی کی
ظلم ڈھاۓ ہیں جس نے روز وشب
ہم نے اس پر بھی مہربانی کی
لوٹ کر پھر کبھی نہ آۓ گی
قدر احسن کرو جوانی کی


















