بسنت رائے، 12 جون 2026 (نامہ نگار)
جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیرِ اہتمام جاری ’’گاؤں گاؤں عوامی بیداری پروگرام‘‘ کے سلسلے میں جمعہ کی نماز سے پہلے مفتی محمد نظام الدین قاسمی اور مفتی زاہد امان قاسمی جامع مسجد سمری پہونچے ، جہاں مفتی محمد نظام الدین قاسمی قاسمی صدر جمعیت علمائے بسنت کا خطاب ہوا ، جمعہ کی نماز کے بعد ایک اہم مشاورتی نششت منعقد ہوئی، جس میں گاؤں کے علماء ، ائمہ مساجد اور گاؤں کے ذمہ دار لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
اس موقع پر جمعیت علمائے بسنت رائے کے صدر اور جامعۃ الہدی جہاز قطعہ کے بانی و مہتمم مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے قرآن کریم کی آیت مبارکہ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ کی روشنی میں باہمی تعاون، دینی بیداری، نوجوانوں کی اصلاح اور اجتماعی ذمہ داریوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کی تعمیر اور آنے والی نسلوں کی حفاظت کے لیے انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی جدو جہد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موبائل اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات، منشیات، فحاشی، خاندانی انتشار اور دینی بے راہ روی جیسے بڑھتے ہوئے مسائل کے مقابلے کے لیے گاؤں گاؤں بیداری مہم وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے حاضرین سے اپیل کی کہ جمعیت علمائے بسنت رائے کی اصلاحی و بیداری سرگرمیوں میں بھرپور تعاون کریں، علماء کے ساتھ رابطہ مضبوط کریں اور نوجوانوں کو دین و اخلاق سے جوڑنے کے لیے عملی کردار ادا کریں۔
جمعہ کی نماز کے بعد مسجد میں ایک مشاورتی نشست منعقد ہوئی جس میں مقامی علماء، ائمہ، نوجوانوں اور گاؤں کے معززین نے شرکت کی۔آغاز پر مفتی زاہد امان قاسمی نے پروگرام کے عناوین کی تفصیل اور نوعیت پر تفصیلی کلام کیا ، اس کے بعد نشست میں موجود گاؤں کے علماء ، ائمہ دینی اور سماجی لوگوں کے بیچ تبادلۂ خیال کیا گیا اور گاؤں گاؤں بیداری مہم کو مزید مؤثر بنانے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔
تفصیلی مشاورت کے بعد متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ 20 جون 2026 بروز سنیچر جامع مسجد سمری میں ’’گاؤں گاؤں عوامی بیداری پروگرام‘‘ کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں نوجوانوں کی دینی و اخلاقی تربیت، معاشرتی اصلاح، اور سماجی برائیوں کے تدارک کے موضوعات پر خصوصی رہنمائی فراہم کی جائے گی۔
نششت کے شرکاء نے پروگرام کی کامیابی کے لیے مکمل تعاون کا یقین دلایا اور عوام سے کثیر تعداد میں شرکت کی اپیل کی۔ آخر میں مفتی زاہد امان قاسمی کے دعائیہ کلمات پر اختتام ہوا ـ




















