محمد یاسین جہازی
انسانی زندگی میں زبان کی بڑی قدروقیمت ہے،کیوںکہ زبان اظہارِ جذبات اورترسیلِ خیالات کا بنیادی وسیلہ ہے۔ زبان کے سائنسی وتجزیاتی مطالعے کا نام لسانیات ہے۔ لسانیات کی متعدد شاخیں ہیں۔ چند اہم شاخیں ذیل میں درج ہیں:
(۱)صوتیات
(۲)توـضیحی لسانیات
(۳)اسلوبیات
(۴)بولیاں
صوتیات
عضوِنطق سے ادا کی جانے والی آواز وں کا علم، صوتیات اور علم الاصوات کہلاتا ہے۔
اس کی دوقسمیں ہیں: (۱)مصوتے ۔(۲)مصمتے۔
مصوتے
اس سے مراد اعـضائے نطق سے پیدا ہونے والی وہ آوازیں ہیں، جن میں پھیپھڑوںمیں نکلنے والی سانس منھ میںکہیں بھی رکاوٹ کے بغیر خارج ہوتی ہے، صرف زبان اوپر،نیچے یا درمیانی حالت میں ہوتی ہے اور ہونٹ کبھی مدور ہو جاتا ہے اور کبھی غیر مدوررہتا ہے۔ مصوتوں کی ادائیگی میں منھ کبھی کم اور کبھی زیادہ کھلا ہوا رہتا ہے،لیکن کہیں رکاوٹ نہیں ہوتی، جیسے: آ، اِ، ای، اُو، اَو۔ مصوتوں کا دوسرا نام حروف علت بھی ہے۔
مصمتے
ان آوازوں کو کہا جاتا ہے ،جن کی ادائیگی پھیپھڑوں سے نکلی ہوئی سانس منھ میں حلق سے لے کر دانتوں یا ہونٹوں تک کہیں نہ کہیں رک جاتی ہے، اور یہ رکاوٹ دور ہونے کے بعد ہی وہ آواز پیدا ہوتی ہے، جیسے: با،فا، حا۔مصمتوں کو حروفِ صحیح سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔
توضیحی لسانیات
توضیحی لسانیات زبان کے ڈھانچے سے بحث کرتی ہے۔ اس میںلفظوں کی حرکات وسکنات، ان کے تغیر وتبدل اور سابقے ولا حقے لگا کر نئے نئے الفاظ بنانے کے طریقوں سے بحث کی جاتی ہے یعنی صرف ونحو کا مطالعہ کیاجاتاہے۔
اسلوبیات
اس میںیہ مطالعہ کیا جاتاہے کہ عبارت کو پیش کرنے کے لیے کون کون سے طریقے اختیارکیے گئے ہیں۔صاحب قلم کی نفسیاتی کیفیات کیا ہیں ؟اور فن پارے میں کن کن تکنیکوںکو برتا گیا ہے۔
بولیاں
لسانیات میں دو چیزیں ہوتی ہیں: بولی اور زبان ۔ جب عام بول چال کی زبان قید تحریر میںآجاتی ہے اور اس میں شعر وادب لکھاجانے لگتا ہے، تو اس کا ایک معیار متعین ہو جاتا ہے اور قواعد وضوابط ایجاد کیے جاتے ہیں۔اگر چہ یہ معیار اور قواعد وضوابط حتمی وقطعی نہیں ہوتے۔ ان میں زبان ومکان کے اعتبار سے تبدیلیا ںآتی رہتی ہیں، پھر بھی ان کی رعایت اورپابندی ضروری ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف بولی کے لیے اصول وضوابط ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کی پابندی ناگزیر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہوتی ہے کہ مختلف علاقوں کے لوگوں کی زبان، لب ولہجہ، الفاظ اور انداز تکلم میں فرق پایا جاتا ہے، جب کہ تمام خطوں کے قلم کاروں کی تحریروں میںیکسانیت اور ہم آہنگی نظر آتی ہے۔
اردو ایک مخلوط اور کل ہند رابطے کی زبان ہے، جس میں دوسری کئی زبانوں کے الفاظ شامل ہیں، جن میں بیشتر عربی ، فارسی اورہندستانی الفاظ ہیں ،اور ان کے علاوہ دیگر زبانوں کے بھی الفاظ پائے جاتے ہیں ، لیکن یہ پتہ لگانا انتہائی مشکل کام ہے کہ اردو میں مستعمل الفاظ دوسری کس زبان سے تعلق رکھتے ہیں؟ تاہم کچھ ایسے بنیاد ی اصول وضع کیے گئے ہیں ، جن کی مدد سے اردو میں موجود دوسری زبانوں کے الفاظ کی شناخت کی جاسکتی ہے اور ان کی اصلیت کا پتہ لگا یا جا سکتا ہے ۔
عربی الاصل پہچاننے کے اصول
اصول(۱):ایسے تمام الفاظ، جن میں ث،خ،ذ،ض، ظ اور غ میں سے کوئی ایک حر ف ہو؛تو وہ عربی الاصل ہوں گے ، جیسے: وارث ، خالد، ذلت، ضمانت، ظرافت،غباوت وغیرہ۔
اصول(۲):چوںکہ عربی الفاظ کے اکثر مادے عام طور پر سہ حرفی ہوتے ہیں، لہٰذا جس لفظ کا اصل مادہ سہ حرفی ہوگا،وہ عموماً عربی الا صل ہوگا،جیسے:منظر،منظور،اعظم،کریم وغیرہ کہ اس کااصل مادہ نَظَرَ،عَظَمَ اورکَرَمَ ہے۔
فارسی الاصل پہچاننے کے اصول
اصول (۱): فارسی کے اصلی حروف چارہیں: پ، چ، ژ اور گ۔ باقی دیگر حروف سامی اور عربی زبان کے ہیں۔ ان میں سے پ، چ اور گ ہندستانی زبان میں بھی استعمال ہوتے ہیں، لیکن حرف ’ژ‘صرف فارسی کے ساتھ خاص ہے، لہٰذ ا جس لفظ میں’ژ‘ ہوگا ، وہ فارسی الاصل ہوگا ، جیسے: مِژْ گاں ، ژالہ،پژمردہ ، اژدہاوغیرہ ۔
اصول (۲): جب کسی لفظ میںفارسی کے مذکورہ چاروں حرفوں میں سے کسی ایک کے ساتھ عربی کے حروف آجائیں ؛ تو وہ بھی فارسی الا صل ہوگا، جیسے:چرخہ، خوانچہ وغیرہ ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں حرف ’چ‘ ہونے کی وجہ سے عربی کا لفظ نہیں ہوسکتا ؛کیوں کہ چار حروف عربی میں نہیں آتے : پ، چ، ژ، گ۔اورآٹھ حروف فارسی الاصل،نہیں ہیں:ث،ح،ص،ض،ط، ظ،ع،ق۔اورنوحروف اردو الاصل نہیںہیں: ث،ح، ذ،ص، ض، ط، ظ، ع،ق۔بعض لوگوں نے ف اور خ کو بھی غیر اردو الاصل قرار دیا ہے۔
اصول (۳): جب خالص فارسی الفاظ : پ، چ،ژاور گ کے ساتھ ث ،ح، خ،ص ، ض، ظ، ع، ف اور ق میں سے کوئی ایک حرف آئے؛تو وہ فارسی الاصل ہوگا،جیسے:پائے تخت،پختہ،گفتگو، قینچی، ژرف، ژاژخا، پیدائش، چشم، گنبد و غیرہ۔
اردو الاصل پہچاننے کے اصول
اصول (۱): اردو میں عربی اور فارسی کی طرح ہندستانی زبان کے بھی ڈھیروں الفاظ شامل ہیں ،لہذا جس لفظ میں ہندستانی الفاظ: ٹ،ڈ،ڑ اور ھ (دو چشمی )میں سے کوئی ایک حرف ہو ، تو وہ اصل اردو کا لفظ ہوگا ، جیسے :لڑکا ، بیٹا، ڈنڈا،پنکھا ،کھٹا ، میٹھا وغیرہ۔
اصول(۲):جہاں کہیںدوزبانوں کے الفاظ ایک ساتھ آئیں، جن میں سے ایک ہندی اور دوسرا عربی یا فارسی کا ہو ،تووہ الفاظ خالص اردو کے ہوں گے،جیسے:شادی بیاہ، دنگا فساد ، دھن دولت، گھربار،دکھ سکھ وغیرہ ۔
اصول(۳):اضافت سے بھی الفاظ کی اصلیت پہچانی جاتی ہے۔اضافت زیر ،ہمزہ اور ے کے ذریعے کی جاتی ہے ،جیسے: دشتِ غم ،بیضہء طاؤس،تماشائے گلشن۔اردو میں اضافت عام طور پر اس وقت کی جاتی ہے جب کہ مضاف و مضاف الیہ میںسے کوئی ایک عربی ہو اور دوسرا فارسی ہو، جیسے : صدائے باز گشت،گنبدِ بیضاء، چر خِ کہن ، عہدِ گذ شتہ وغیرہ ۔
اصول(۴):جن لفظوں میں مکتوبی غیر ملفوظی (جو لکھا تو جائے ، لیکن پڑھا نہ جائے )حروف ہوں گے،وہ اصل اردو کے الفاظ نہ ہوںگے، بلکہ کسی دوسری زبان کے الفاظ ہوںگے ، جیسے : خواہش ، درخواست ۔یہ دونوں فارسی کے ہیں ۔صلوٰۃ ،زکـوٰۃ۔دونوں عربی لفظ ہیں۔
اصول(۵):جن کلموں میں مکتوبی حرف اپنی نوعیت کے خلاف پڑھا جائے ، تووہ بھی اصل اردو کے نہ ہوںگے ،جیسے: موسیٰ،عیسیٰ ،دعویٰ وغیرہ ۔ ایسے الفاظ عموماً عربی کے ہوںگے ۔
مذکورہ بالا اصولوں کی روشنی میں اردو میں مخلوط دیگر زبانوں کے الفاظ کی کسی حد تک شناخت کی جاسکتی ہے اور ان کی اصلیت کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔


















