بعد الحمد والصلاۃیہ جو دل ہے، یہ انسان کا سردار ہے۔ اگر یہ سدھر جائے تو سب چیز سدھر جائے، اور اگر یہ بگڑ جائے تو سب چیز بگڑ جائے۔تو ذکر کرنے کے فائدوں میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دل کا بگاڑ دور ہوتا ہے۔ ہر گندی چیز کو، خراب چیز کو صاف کرنے کے لیے الگ الگ طرح کی چیزیں ہوتی ہیں۔ صابن ہوتا ہے، پاؤڈر ہوتا ہے، سرف ہوتا ہے، فلاں ہوتا ہے، فلاں ہوتا ہے۔ دل کے زنگ کو اور میل کو دور کرنا، یہ اللہ کے ذکر کے ذریعے سے ہی ہو سکتا ہے۔اب دل کی خرابیاں کیا کیا ہیں؟تو بہت ساری خرابیوں میں سے چند خرابیاں ایسی ہیں جو بہت معروف ہیں، مشہور ہیں اور ہم سب لوگ اکثر ان میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس میں لالچ ہے، حسد ہے، بُغض ہے (بغض کا مطلب دشمنی پال لینا، کینہ بھی اسی سے ملتی جلتی قسم ہے کینے کی، کہ وہ برائی جاتی ہی نہیں دل سے)، اسی طرح تکبر ہے (کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت ہے، اسی کو زیب دیتا ہے وہ، تو انسان تکبر کرے تو وہ خدا کے ساتھ مقابلہ کرنے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جن چیزوں پر بہت غصہ آتا ہے، ان میں سے ایک تکبر ہے)، جھوٹ ہے۔تو اس طرح کی جو یہ بیماریاں ہم لوگوں نے پال رکھی ہیں، ان کو دور کرنے کے لیے اور اچھی خصوصیات دل میں جاگزیں کرنے کے لیے بہت سارے طریقے ہیں، ان طریقوں میں ذکر سب سے آسان اور سب سے اقرب (قریب ترین) طریقہ ہے۔اس کی مثال ایسی دیا کرتے ہیں، اکابر نے دی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قرب بھی نصیب ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی توجہ بھی حاصل ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ برائیوں سے… برائیاں دل سے نکلنے لگتی ہیں اور اچھائیاں آنے لگتی ہیں۔جن بیماریوں کا میں نے تذکرہ کیا ہے، ان کا تعلق جسم سے نہیں ہے، روح سے ہے۔ یہ ساری روحانی بیماریاں ہیں جو دل میں بیٹھ جاتی ہیں۔ اسی طرح جب انسان کوئی گناہ کرتا ہے یا ہو جاتا ہے اس سے کوئی گناہ، تو ایک کالا دھبہ اس کے دل پر لگا دیا جاتا ہے، سزا کے طور پر۔ یہ سزا ہے۔اسی کا تذکرہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح سے فرمایا کہ:> وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًاتو وہ جو کالا دھبہ لگتا ہے، اس کی وجہ سے زندگی کا لطف چلا جاتا ہے۔ اس کی جو معیشت ہے، زندگی ہے، صبح و شام ہے، ان میں ایک طرح کا گھٹن پن آ جاتا ہے، اچھا ہی نہیں لگتا کچھ۔ طبیعت الجھی الجھی رہتی ہے (یہ میں کہہ رہا ہوں)۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو مَعِيشَةً ضَنكًا سے تعبیر کیا ہے۔تو دل کے اوپر جو کالے دھبے پڑتے ہیں گناہوں کی وجہ سے… اور گناہ بھی دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو انسان کرتا ہے، اور ایک وہ جو ہو جاتے ہیں۔جیسے یہ جو بیماریاں دل میں ہیں، جن کا میں نے تذکرہ کیا ابھی، ان کی وجہ سے بہت سارے گناہ ہوتے رہتے ہیں، آدمی کو پتہ ہی نہیں چلتا۔ جیسے تکبر کرتا رہتا ہے، اس کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ تکبر کر رہا ہے، پتہ ہی نہیں چلتا اس کو۔ حتیٰ کہ کوئی بتانے والا اسے بتائے کہ بھائی! یہ متکبرانہ انداز ہے، متکبرانہ جملہ ہے۔کچھ لوگ اپنے گھر بھی اسی حساب سے بناتے ہیں، شادیاں بھی اسی حساب سے کرتے ہیں کہ اس میں یہ ہوتا ہے کہ ہماری برادری والوں کو، پڑوس والوں کو پتہ چلنا چاہیے کہ ہمارے پاس پیسہ ہے، اتنا بڑا مکان ہے، ایسی شادی کی ہے ہم نے۔ تو وہ بھی تکبر ہی کی قسم ہے، اگر تکبر نہ ہوتا دل میں اور اپنے آپ کو انسان ویسا ہی سمجھتا جیسا ہے (کہ اسے یہ بھی نہیں پتہ کہ اس کرسی پر سے اور یہاں سے اٹھ بھی سکے گا یا نہیں)، اور انسان ویسا سمجھتا اپنے آپ کو جیسا اللہ نے اس کو بنایا ہے، تو اس کو اس کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ اپنا مکان دکھائے یا اپنی شادی اس انداز میں کرے جس انداز میں وہ کر رہا ہے۔تو چونکہ وہ تکبر میں مبتلا ہے، اس لیے وہ یہ سب کرتا ہے۔ کہنے کو تو وہ بہت عاجزی اختیار کرے گا، یہ بھی کہے گا جی یہ تو سب کچھ اللہ کا دیا ہوا ہے۔ لیکن اگر سب کچھ اللہ کا دیا ہوا ہے تو اللہ کی امانت ہے تمہارے پاس! امانت ہے تو تمہارا تو کوئی اختیار نہیں ہے نا؟ وہ تو گائیڈ لائن متعین کر دی گئی ہے، اس کے اندر رہنا ہے۔ اس سے باہر نکل رہے ہو، اس کا مطلب تمہاری زبانی جمع خرچ ہے یہ!تو بہت سارے گناہ ایسے ہوتے ہیں جو روحانی بیماریوں کی وجہ سے انسان کرتا رہتا ہے۔ حسد کی وجہ سے کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، لالچ ہوتی ہے تو ہر طرح سے پیسہ کمانے کی فکر کرتا ہے، حق مارتا ہے، بہنوں کے حق مارتا ہے… دین دار لوگ ایسا کرتے ہیں! باپ کا انتقال ہو گیا تو وراثت میں سے بہنوں کا حق بہت لوگوں نے مارا ہوا ہے، دیتے ہی نہیں ہیں۔ وہ جب تم نے حق مار رکھا ہے تو اللہ میاں تمہارا حق مروا ئیں گے۔ کوئی اور نہیں ملے گا تو کسی بادشاہ سے، کسی حکمران سے مروا ئیں گے تمہارا حق! تو اللہ میاں کے پاس تو سب انتظام ہے نا، انہی کے پاس تو ہے سارا انتظام!تو روحانی بیماریوں کی وجہ سے بہت سارے گناہ ایسے ہوتے ہیں جو ہم سے ہوتے رہتے ہیں اور ہمیں پتہ نہیں چلتا۔ اکثر ان میں گناہِ صغیرہ ہیں، لیکن بہت سارے ایسے ہیں جو گناہِ کبیرہ ہیں، جیسے تکبر ہی ہے۔ یہ گناہِ کبیرہ ہے، شرک کے مترادف قرار دیا ہے اسے، کیونکہ اللہ تعالیٰ سے مقابلہ کر رہا ہوتا ہے بندہ۔پھر کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں جو کبیرہ ہیں اور انسان جان بوجھ کے کرتا ہے۔ جو گناہِ کبیرہ میں جو لوگ مبتلا ہوتے ہیں اور جان بوجھ کے کرتے ہیں، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں توبہ کی توفیق دے دیتے ہیں۔ کس صورت میں؟ جس صورت میں گناہِ صغیرہ سے بچنے کا اہتمام کرتے ہوں۔تو گناہ ہو جانا یا گناہ کر لینا برا نہیں ہے، گناہ پر باقی رہنا یا توبہ نہ کرنا برا ہے۔ ہو جانے میں کیا ہے، ہو گیا، بھول ہو گئی، توبہ کر لی تو پہلے سے اچھی حالت میں ہو جاتا ہے آدمی، پہلے سے اونچے مقام پر چلا جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو توبہ کرنے والے لوگ نہایت درجے پسند بھی ہیں۔تو ہونے والے گناہوں سے بچنے کی شکلوں میں سے سب سے آسان شارٹ کٹ، وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔جب کوئی بندہ پابندی کے ساتھ، اہتمام کے ساتھ، لگاتار اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا رہے، اس میں مشغول رکھے اپنے آپ کو، تو پروردگار اس کے لیے بڑے گناہوں سے بچنا آسان کر دیتے ہیں۔ پہلا کام تو یہ ہوتا ہے۔ پھر بھی اگر گناہ ہو جائے، تو توبہ کی توفیق دے دیتے ہیں۔ یعنی آدمی عزم کر لیتا ہے کہ بھائی اب نہیں کروں گا، بھول ہو گئی، کر لیا۔یہ تو وہ فائدہ ہے جو ہمیشہ ساتھ لگا رہے گا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سارے فائدے ہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے۔ سب سے بڑا فائدہ تو اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہوتا ہے، جو ہمارا مقصود ہے۔ انسانوں کا مقصود ہونا چاہیے اور مسلمانوں کا بہرحال مقصود ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کی محبت جو ہمارا مطلوب و مقصود ہے، اس کے تقاضوں میں سے سب سے بڑا تقاضا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے، یعنی ان کی اطاعت اور ان کی سنتوں پر اہتمام کرنا۔یہ لازم و ملزوم ہے۔ اگر کوئی آدمی جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر جتنا کم چلے گا، وہ اللہ سے اتنی ہی کم محبت کرنے والا ہو گا، اور جتنا زیادہ چلے گا، اتنا زیادہ چاہنے والا کہلائے گا۔ محبت کا معیار اور محبت کی شناخت و پہچان، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں رکھ دی گئی۔ آپ سنتوں پر کتنا چلتے ہیں، اس پر فیصلہ ہو گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے کتنے چاہنے والے ہیں۔اب جتنا زیادہ آپ چاہنے والے ہوں گے، اتنے ہی زیادہ چہیتے بھی ہو جائیں گے! یہ بھی قرآن میں ہے، قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:> قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُاللہ تعالیٰ تمہیں اپنا چہیتا بنا لیں گے، تم سے محبت کرنے لگیں گے۔تو یہ تین چیزیں میں نے عرض کی ہیں، میں دوبارہ ان کو آپ کے سامنے پیش کر کے اپنی بات ختم کروں گا: ایک تو یہ کہ گناہ، بیماری، دل… ویسے بھی اللہ تعالیٰ کے پاس جب بندہ حاضر ہو گا، تو دل ہی تولا جائے گا، دل ہی دیکھا جائے گا۔ تو دل کی بیماریوں میں سے وہ بیماریاں جو انسان کو بہت سارے گناہِ صغیرہ میں مبتلا رکھتی ہیں اور کئی سارے گناہِ کبیرہ میں بھی مبتلا کر دیتی ہیں، ان بیماریوں سے بچنے کا آسان طریقہ اور ان بیماریوں کے علاج کا آسان ترین علاج جو ہے، وہ ذکرِ خداوندی ہے۔ اور جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں اور نبی علیہ الصلاۃ والسلام کی اطاعت کریں، تو اللہ تعالیٰ کے چاہنے والے تو ہو ہی جائیں گے ہم، اور وہ چہیتے بھی ہو جائیں گے۔ یعنی دونوں طرف سے معاملہ ہو جائے گا ہمارا، ہماری طرف سے بھی اور ہمارے پروردگار کی طرف سے بھی۔ویسے بھی دل جب… کسی کا دل جب صاف ہو جائے یا ایک حد تک صاف ہو جائے، تو وہ خانۂ خدا ہوتا ہے۔ ویسے تو کہتے ہیں ہر مومن کا دل خانۂ خدا ہوتا ہے، لیکن یوں کہتے ہیں کہ بھائی خانۂ خدا جہاں صفائی نہیں ہو گی، گندگی ہو گی، وہاں اللہ میاں نہیں آئیں گے۔ اللہ میاں کو لانے کا اہتمام کرنا پڑے گا نا، انتظام کرنا پڑے گا، تب آئیں گے وہ۔ اپنے دل کو اس قابل بناؤ کہ اللہ تعالیٰ تشریف لے آئیں۔ اللہ کی یاد رہے گی تو اللہ ہیں!جتنا ہم انہیں یاد کریں گے، اس سے زیادہ وہ ہمیں یاد کریں گے۔ مجلس میں یاد کریں گے تو وہ بھی مجلس میں یاد کریں گے، اکیلے میں یاد کریں گے تو وہ بھی اکیلے میں یاد کریں گے۔تو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جائے تو ہمارا کام ہو جائے گا، اور قرب حاصل ہو گا تو قلب کی جو بیماریاں ہیں، ان سے نجات ملنے کا امکان بڑھ جائے گا۔تو اللہ تعالیٰ ہمیں، آپ کو، سب کو مرضِیات (اپنی رضا کے کاموں) پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)، اپنے ذکر کے نور سے ہمارے قلوب کو منور فرمائے (آمین)۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔





















