جیسا کہ پہلی قسط میں پڑھا کہ عرب ممالک کے اتحاد کے چار تجربات ہوئے ہیں جن میں سے ایک اتحاد کا نام متحدہ عرب امارات ہے۔ اس قسط میں اسی کا تذکرہ ہے
محمد یاسین جہازی
چوتھی قسط
متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلق
متحدہ عرب امارات کے قیام کے بعد جمعیت کے روابط بھی سامنے آئے۔ 9–10/اپریل 1975 کی مجلس عاملہ نے شیخ زاید بن سلطان آل نہیان کی طرف سے جمعیت کو دی گئی تین لاکھ روپے کی خطیر مالی امداد پر شکریہ کی قرارداد منظور کی اور ان کی دینی و تعلیمی اداروں کی سرپرستی کو سراہا۔
24/نومبر 1975 کو متحدہ عرب امارات کے ثقافتی مشیر شیخ عز الدین ابراہیم کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا۔ انھوں نے ہندستانی مسلمانوں کے ساتھ مذہبی اور دوستانہ دونوں رشتوں کو اہم قرار دیا اور دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ جمعیت نے بھی عرب مسائل، فلسطین اور عرب عوام کی حمایت کو اپنا قدیم اور مستقل موقف قرار دیا۔
مجموعی موقف
جمعیت علمائے ہند کے عرب دنیا سے تعلقات کی بنیادی وجہ اسلامی اخوت، استعمار مخالف جدوجہد، فلسطین کی آزادی، عرب ممالک کی خودمختاری اور مظلوم اقوام کی حمایت تھی۔ اس مقصد کے لیے جمعیت نے محض بیانات تک خود کو محدود نہیں رکھا؛ بلکہ 1945 سے 1975 تک یوم فلسطین منانے ، عرب لیگ سے خط و کتابت، احتجاجی تار بھیجنے ، عرب سفرا و وفود کے استقبال، احتجاجی جلسوں، قومی کانفرنسوں، قراردادوں، مظاہروں، مالی و مادی امداد اور عرب رہنماؤں سے مسلسل رابطے کے ذریعے عملی کردار ادا کیا۔ فلسطین اور عرب علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خلاف اس کا بنیادی مطالبہ یہ رہا کہ مقبوضہ عرب علاقوں سے اسرائیلی انخلا، فلسطینی حقوق کی بحالی اور بیت المقدس کی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔
@all






















