29/مئی 2026 پریس ریلیز
بسنت رائے بلاک، ضلع گڈا کی بستی جھپنیاں کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز سے قبل خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین مولانا محمد یاسین جہازی نے مسلمانوں کو سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے عشق و محبت کا عملی اظہار کرنے کی پرزور اپیل کی۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کا مسلمان سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے زبانی محبت کا دعویٰ تو بڑے فخر سے کرتا ہے، مگر اس کے عمل و کردار میں اس محبت کی کوئی واضح جھلک نظر نہیں آتی۔ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ محبوب کی ہر ادا کو اپنایا جائے، اس کے ہر حکم کو زندگی کا حصہ بنایا جائے اور اس کی سیرت کو مشعلِ راہ بنایا جائے، لیکن افسوس کہ ہم اس معیار پر پورے نہیں اترتے۔مولانا جہازی نے ایک نہایت ایمان افروز اور تاریخی واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ 4 ذی الحجہ 10 ہجری (مطابق یکم مارچ 632 عیسوی) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ ادا فرمانے کے بعد چار دن تک وادیٔ محصب میں قیام پذیر رہے۔ اس موقع پر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عشقِ رسولؐ کا ایسا دل نشیں اور روح پرور منظر پیش کیا جس کی مثال تاریخِ انسانیت پیش کرنے سے قاصر ہے۔انہوں نے نہایت جذباتی انداز میں کہا کہ صحابہ کرام کا حال یہ تھا کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک ادا پر اپنی جانیں نچھاور کرنے کو تیار رہتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرماتے تو صحابہ کرام دیوانہ وار لپکتے، کوئی قطرہ زمین پر گرنے نہ پاتا۔ ہر ایک کی یہ آرزو ہوتی کہ وہ مبارک قطرے اس کے ہاتھ میں آئیں، وہ انہیں اپنی ہتھیلیوں پر سمیٹ لیتے، چہروں پر ملتے اور اسے اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتے۔ یہ محض ایک عمل نہیں تھا بلکہ محبت، عقیدت اور والہانہ وابستگی کی ایک جیتی جاگتی تصویر تھی، جس میں ادب بھی تھا، عشق بھی تھا اور کامل اتباع کا جذبہ بھی۔مولانا نے کہا کہ یہ تھا صحابہ کرامؓ کا اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی اور عملی محبت کا معیار، لیکن اگر ہم اپنے حالات کا جائزہ لیں تو ہمیں احساس ہوگا کہ ہم اس راہ سے کس قدر دور ہو چکے ہیں۔ آج ہم نے سیرتِ نبویؐ کو جاننے، سمجھنے اور اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ یہاں تک کہ ہم میں سے بہت سے افراد نے اس موضوع پر ایک مختصر سی کتاب بھی نہیں خریدی، نہ ہی سیرت کے دروس و بیانات سننے کا اہتمام کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری محبت محض دعووں تک محدود ہو چکی ہے، جو عمل و کردار کی خوشبو سے یکسر خالی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر حقیقی محبت پیدا کریں اور اس کا عملی اظہار کریں۔سیرت کے فروغ کے حوالے سے انہوں نے جمعیت علمائے ہند کے دستورِ اساسی کی دفعہ 7 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس عظیم تنظیم نے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں سیرتِ نبویؐ کو رائج کرنے کے لیے باقاعدہ پروگرام پیش کیا ہے۔آخر میں انہوں نے حاضرین سے اپیل کی کہ وہ عہد کریں کہ سیرتِ نبویؐ کو جاننے کے لیے مستند کتب کا مطالعہ کریں گے، علماء کے بیانات سنیں گے، اپنے گھروں اور مساجد میں سیرت کے حلقے قائم کریں گے اور مختلف مواقع پر سیرتِ نبویؐ کے پروگرام منعقد کرکے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ تعلیمات کو عام کریں گے۔





















