جمعرات, ستمبر 24, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(8) راشٹرواد کا ہندو ورژن

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    جبری نظام اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا بھارت

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد (5) جمعیت علمائے ہند کے قیام کا پس منظر اور اس کا متحدہ راشٹرواد کا نظریہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (3) (3) ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے متحدہ قومیت کی راہ اختیار کرنا

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(02) ہندستانی مسلمانوں کا راشٹرواد

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    بھارت، انسانیت و روحانیت کی تلاش میں

    زبان سکھانے والی نصابی کتاب کیسے لکھیں

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    مولانا سلمان بجنوری صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند

    اماموں کی تربیت پر جمعیت علمائے ہند کا ایک صدی قبل کا فیصلہ اور حضرت بجنوری نقشبندی دامت برکاتہم کی جامع رہ نمائی

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    دھپرا کی مسجد میں فجر کے بعد اصلاحی نشست، آئندہ بدھ سے مستقل درس قرآن شروع کرنے کا عزم

    دارالمصنفین کی مطبوعات کے بارے میں ایک سوال

    آپ کی پوری زندگی عورتوں کے ساتھ رحمت ،شفقت، حسن سلوک اور نگہداشت کا روشن نمونہ ہے:مولانا سہیل ندوی

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(8) راشٹرواد کا ہندو ورژن

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    جبری نظام اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا بھارت

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد (5) جمعیت علمائے ہند کے قیام کا پس منظر اور اس کا متحدہ راشٹرواد کا نظریہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (3) (3) ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے متحدہ قومیت کی راہ اختیار کرنا

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(02) ہندستانی مسلمانوں کا راشٹرواد

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    بھارت، انسانیت و روحانیت کی تلاش میں

    زبان سکھانے والی نصابی کتاب کیسے لکھیں

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    مولانا سلمان بجنوری صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند

    اماموں کی تربیت پر جمعیت علمائے ہند کا ایک صدی قبل کا فیصلہ اور حضرت بجنوری نقشبندی دامت برکاتہم کی جامع رہ نمائی

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    دھپرا کی مسجد میں فجر کے بعد اصلاحی نشست، آئندہ بدھ سے مستقل درس قرآن شروع کرنے کا عزم

    دارالمصنفین کی مطبوعات کے بارے میں ایک سوال

    آپ کی پوری زندگی عورتوں کے ساتھ رحمت ،شفقت، حسن سلوک اور نگہداشت کا روشن نمونہ ہے:مولانا سہیل ندوی

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اہم خبریں

کمال مولا مسجد مقدمہ:حالیہ عدالتی فیصلے نے تاریخ، انصاف اور بھارتیہ سیکولرازم کے تئیں بھروسہ کو ختم کر دیا: ایم.ڈبلیو.انصاری -آئی پی ایس (ریٹائرڈ۔ڈی.جی)

by Admin
مئی 23, 2026
in اہم خبریں
0
کمال مولا مسجد مقدمہ:حالیہ عدالتی فیصلے نے تاریخ، انصاف اور بھارتیہ سیکولرازم کے تئیں بھروسہ کو ختم کر دیا: ایم.ڈبلیو.انصاری -آئی پی ایس (ریٹائرڈ۔ڈی.جی)
0
SHARES
10
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter


مدھیہ پردیش کے تاریخی شہر دھار میں واقع کمال مولا مسجد، جسے آج’’بھوج شالہ تنازع‘‘کے نام سے پیش کیا جا رہا ہے، محض ایک عمارت یا عبادت گاہ کا مسئلہ نہیں بلکہ بھارت میں تاریخی ورثے، آئینی مساوات اور مذہبی آزادی کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک نہایت حساس معاملہ بنا ہے اور رہے گا۔ حالیہ عدالتی فیصلے کے بعد یہ مسئلہ ایک بار پھر قومی بحث کا موضوع ہے اور ملک کے کروڑوں امن پسند انسانوں میں تشویش اور غم کا ماحول ہے۔
اسلامی تعلیمات اور فقہی اصولوں کے مطابق جب کوئی جگہ ایک مرتبہ مسجد کے طور پر وقف کر دی جاتی ہے تو وہ محض ایک عمارت یا زمین کا ٹکڑا نہیں رہتی بلکہ’’وقفِ الٰہی‘‘بن جاتی ہے۔ شریعت کی رو سے ایسی زمین ہمیشہ کے لیے اللہ کے نام مخصوص ہو جاتی ہے، جسے نہ فروخت کیا جا سکتا ہے، نہ منتقل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی مذہبی حیثیت تبدیل کی جا سکتی ہے۔ اسلئے یہ کہنا کہ مسلمان اس جگہ کو چھوڑ کر کہیں اور مسجد تعمیر کر لیں مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے ساتھ ساتھ شرعی حکم کی خلاف ورزی بھی ہے ۔ صدیوں تک جہاں اذان گونجتی رہی ہو، نماز ادا ہوتی رہی ہو اور جسے امتِ مسلمہ نے مسجد کی حیثیت سے قبول کیا ہو، اس کی شناخت محض انتظامی یا سیاسی فیصلوں سے ختم نہیں کی جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان کمال مولا مسجد کے مسئلے کو صرف ایک تاریخی تنازع نہیں بلکہ اپنے دینی ورثے، مذہبی حق اور وقف کی شرعی حیثیت سے جڑا ہوا معاملہ سمجھتے ہیں۔
کمال مولا مسجد کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ تاریخی روایات اور مختلف حوالوں کے مطابق یہ مسجد سلطنتِ دہلی کے دور میں مالوہ کی فتح کے بعد تعمیر کی گئی اور بعد کے دور میں اس کی مرمت اور توسیع بھی ہوتی رہی۔ اس مسجد کی تعمیراور فنِ تعمیر، محراب، دالان، صحن، حوض اور دیگر آثار کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہے کہ یہ ایک منظم اسلامی عبادت گاہ تھی۔ کئی صدیوں تک یہاں نماز ادا ہوتی رہی اور یہ علاقہ کے دینی و سماجی مرکز کے طور پر پہچانی جاتی رہی اور یہ مسجد عبادت گاہ مالوہ کی پہچان بنی۔
بعد کے زمانے میں بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ مقام دراصل قدیم’’سرسوتی مندر‘‘یا’’سنسکرت پاٹ شالہ‘‘ تھا جسے بعد میں مسجد میں تبدیل کیا گیا۔ لیکن اس دعوے کے حق میں ایسا کوئی تاریخی ثبوت سامنے نہیں آ سکا جس کی بنیاد پر صدیوں سے قائم مذہبی شناخت کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا جائے۔ کئی مؤرخین نے بھی اس دعوے کو بہت ہی صاف صاف لفظوں میں کمزور اور قیاس آرائی پر مبنی قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طویل عرصے تک اس مقام کو ایک متنازع مگر مشترکہ انتظامی نظام کے تحت چلایا جاتا رہا، جہاں مسلمانوں کو جمعہ کی نماز کی اجازت حاصل تھی۔
حالیہ عدالتی فیصلے نے اسی توازن کو بدل دیا ہے۔ عدالت نے نہ صرف مسلمانوں کی نماز کی اجازت ختم کی بلکہ اس مقام کو باضابطہ طور پر مندر قرار دیتے ہوئے ہندو عبادت کے لیے کھول دیاجو کہ آئین کی روح کے خلاف ہے۔عدالت اس طرح کے فیصلے مخصوص طبقہ کو خوش کرنے کے لئے دے رہی ہے۔ یہ فیصلہ مسلم حلقوں میں اس احساس کو مزید گہرا کر رہا ہے کہ ملک میں تاریخی مساجد کی مذہبی حیثیت کو مسلسل چیلنج کیا جا رہا ہے۔ بابری مسجد کے بعد اس نوعیت کے فیصلوں نے ایک بڑے طبقے کے ذہن میں یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ اگر کسی مقام پر صدیوں تک نماز ادا ہوتی رہی ہو، اسلامی آثار موجود ہوں اور اسے تاریخی اسلامی ورثے کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہو، تو پھر اس کی شناخت کو کس بنیاد پر تبدیل کیا جا سکتا ہے؟
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بعض گودی میڈیا چینلز اور چند اخبارات اس معاملے میں یکطرفہ اور غیر مصدقہ اور غیر منصفانہ معلومات پیش کر رہے ہیں۔ حالانکہ تاریخی حوالوں، قدیم دستاویزات اور صدیوں تک وہاں نماز کی ادائیگی جیسے واضح شواہد اس مقام کے مسجد ہونے کی گواہی دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود کچھ حلقے مخصوص بیانیہ قائم کرنے کے لیے بے بنیاد دعووں اور جذباتی پروپیگنڈے کا سہارا لے رہے ہیں۔ ذمہ دار صحافت کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے حساس معاملات میں حقائق، تاریخ اور غیر جانب داری کو ترجیح دی جائے، نہ کہ سنسنی اور تعصب کو۔
تاریخ میں اس سے پہلے بھی کئی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جہاں’’آستھا‘‘اور اکثریتی دعووں کو بنیاد بنا کر تاریخی مساجد کی حیثیت کو چیلنج کیا گیا۔ بابری مسجد، ایودھیا اس کی سب سے بڑی مثال ہے، جسے صدیوں تک مسجد مانے جانے کے باوجود ایک طویل تنازع کے بعد منہدم کر دیا گیا۔ان معاملات نے مسلمانوں میں یہ تشویش پیدا کی ہے کہ اگر تاریخی شواہد، مذہبی آزادی اور آئینی تحفظات کے بجائے صرف عقیدت اور اکثریتی احساسات کو بنیاد بنایا جاتا رہا تو اقلیتوں کو کبھی انصاف نہیں ملے گا۔ Majority Terrorism کو بڑھاوا ملے گا اور اس طرح ملک تباہ ہو جائے گا۔ ملک کی کئی تاریخی مساجد تنازع کا شکار ہو تی رہیں گی۔ یہی پس منظر کمال مولا مسجد کے معاملے کو بھی مسلمانوں کے نزدیک نہایت حساس اور اپنے مذہبی و تہذیبی وجود سے جڑا ہوا مسئلہ بنا دیتا ہے۔
یہاں اصل مسئلہ صرف ایک مقدمہ نہیں بلکہ انصاف کے اصول کا ہے۔ بھارت کا آئین تمام مذاہب کے ماننے والوں کو برابر حقوق دیتا ہے۔ اگر تاریخی تنازعات کو صرف اکثریتی جذبات (آستھا)کی بنیاد پر حل کیا جانے لگے تو پھر ملک کی سیکولر روح کمزور پڑ سکتی ہے۔ عدالتوں سے ہمیشہ یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ تاریخ، شواہد اور آئینی اقدار کی روشنی میں ایسے فیصلے دیں جو ملک میں اعتماد، ہم آہنگی اور انصاف کو مضبوط کریں۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ بھارت کی تہذیب مختلف مذاہب، ثقافتوں اور تاریخی روایات کے اشتراک سے بنی ہے۔ مساجد، مندروں، گرجا گھروں اور دیگر تاریخی مقامات کو محض تنازع کی علامت بنانے کے بجائے مشترکہ ورثے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اگر ہر تاریخی مقام کو نئے سرے سے مذہبی عینک اور آستھا کے جھوٹے پروپیگنڈے کی نظر سے دیکھا جائے گا تو اس سے معاشرے میں بے اعتمادی اور کشیدگی بڑھے گی اور بھارت کا سماجی تانہ بانہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گا جو اس طرح کے فیصلے سے ہوتا جارہا ہے۔
مسلم فریق نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن تب تک وہاں پوجا پاٹ نہیں ہونا چاہئے جب تک سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ نہیں آجاتا،اور امید کی جا رہی ہے کہ اعلیٰ عدالت اس معاملے کا جائزہ تاریخی حقائق، آئینی اصولوں اور مذہبی آزادی کے تناظر میں لے گی۔بھارت جیسے کثیر مذہبی ملک میں یہی راستہ امن، انصاف اور باہمی اعتماد کو برقرار رکھ سکتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو اشتعال، نفرت اور سیاسی فائدے کے بجائے تاریخی دیانت داری اور آئینی انصاف کے ساتھ دیکھا جائے۔ کیونکہ عبادت گاہیں صرف پتھروں کی عمارتیں نہیں ہوتیں، وہ قوموں کی یادداشت، عقیدت اور تہذیبی شناخت کا حصہ بھی ہوتی ہیں۔ آج حکومت تمام حکم آستھاکی بنیاد پر دے رہی ہے جو کہ غلط ہے۔

Admin

Admin

Next Post
جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض

جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

8 مہینے ago

کھلونا پر مبنی تدریس (Toy-Based Learning)

2 مہینے ago

مقبول

  • راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(8) راشٹرواد کا ہندو ورژن

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • تعلیم کے ڈیجیٹل وسائل پر بچوں کے واجبی اور متوازن حقوق

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جبری نظام اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا بھارت

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • راشٹرواد (7 ) راشٹر کی غلامانہ حیثیت بدلنے کے لیے ہندستان کی شرعی حیثیت کا معاملہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.