ہفتہ, مئی 23, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    زہریلی تاریخ نگاری کا تدارک

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک معاشی ایمرجنسی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے؟

    بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    کمال مولا مسجد مقدمہ:حالیہ عدالتی فیصلے نے تاریخ، انصاف اور بھارتیہ سیکولرازم کے تئیں بھروسہ کو ختم کر دیا: ایم.ڈبلیو.انصاری -آئی پی ایس (ریٹائرڈ۔ڈی.جی)

    کمال مولا مسجد مقدمہ:حالیہ عدالتی فیصلے نے تاریخ، انصاف اور بھارتیہ سیکولرازم کے تئیں بھروسہ کو ختم کر دیا: ایم.ڈبلیو.انصاری -آئی پی ایس (ریٹائرڈ۔ڈی.جی)

    فتنوں کے سدِّ باب میں علماءِ حق کا کردار: امت کی بقا کا ضامن

    اسلام کی بنیاد دوچیزوں پر قائم ہے،عقیدہ توحید،اور نبوت ورسالت:مولاناخالدسیف اللہ رحمانی

    اسلام کی بنیاد دوچیزوں پر قائم ہے،عقیدہ توحید،اور نبوت ورسالت:مولاناخالدسیف اللہ رحمانی

    سمویدا

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    مدرسہ کے بچوں کو چائلڈ لائن کے حوالے کرنے کی مذمت

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    زہریلی تاریخ نگاری کا تدارک

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک معاشی ایمرجنسی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے؟

    بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    کمال مولا مسجد مقدمہ:حالیہ عدالتی فیصلے نے تاریخ، انصاف اور بھارتیہ سیکولرازم کے تئیں بھروسہ کو ختم کر دیا: ایم.ڈبلیو.انصاری -آئی پی ایس (ریٹائرڈ۔ڈی.جی)

    کمال مولا مسجد مقدمہ:حالیہ عدالتی فیصلے نے تاریخ، انصاف اور بھارتیہ سیکولرازم کے تئیں بھروسہ کو ختم کر دیا: ایم.ڈبلیو.انصاری -آئی پی ایس (ریٹائرڈ۔ڈی.جی)

    فتنوں کے سدِّ باب میں علماءِ حق کا کردار: امت کی بقا کا ضامن

    اسلام کی بنیاد دوچیزوں پر قائم ہے،عقیدہ توحید،اور نبوت ورسالت:مولاناخالدسیف اللہ رحمانی

    اسلام کی بنیاد دوچیزوں پر قائم ہے،عقیدہ توحید،اور نبوت ورسالت:مولاناخالدسیف اللہ رحمانی

    سمویدا

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    مدرسہ کے بچوں کو چائلڈ لائن کے حوالے کرنے کی مذمت

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اہم خبریں

کمال مولا مسجد مقدمہ:حالیہ عدالتی فیصلے نے تاریخ، انصاف اور بھارتیہ سیکولرازم کے تئیں بھروسہ کو ختم کر دیا: ایم.ڈبلیو.انصاری -آئی پی ایس (ریٹائرڈ۔ڈی.جی)

by Admin
مئی 23, 2026
in اہم خبریں
0
کمال مولا مسجد مقدمہ:حالیہ عدالتی فیصلے نے تاریخ، انصاف اور بھارتیہ سیکولرازم کے تئیں بھروسہ کو ختم کر دیا: ایم.ڈبلیو.انصاری -آئی پی ایس (ریٹائرڈ۔ڈی.جی)
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter


مدھیہ پردیش کے تاریخی شہر دھار میں واقع کمال مولا مسجد، جسے آج’’بھوج شالہ تنازع‘‘کے نام سے پیش کیا جا رہا ہے، محض ایک عمارت یا عبادت گاہ کا مسئلہ نہیں بلکہ بھارت میں تاریخی ورثے، آئینی مساوات اور مذہبی آزادی کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک نہایت حساس معاملہ بنا ہے اور رہے گا۔ حالیہ عدالتی فیصلے کے بعد یہ مسئلہ ایک بار پھر قومی بحث کا موضوع ہے اور ملک کے کروڑوں امن پسند انسانوں میں تشویش اور غم کا ماحول ہے۔
اسلامی تعلیمات اور فقہی اصولوں کے مطابق جب کوئی جگہ ایک مرتبہ مسجد کے طور پر وقف کر دی جاتی ہے تو وہ محض ایک عمارت یا زمین کا ٹکڑا نہیں رہتی بلکہ’’وقفِ الٰہی‘‘بن جاتی ہے۔ شریعت کی رو سے ایسی زمین ہمیشہ کے لیے اللہ کے نام مخصوص ہو جاتی ہے، جسے نہ فروخت کیا جا سکتا ہے، نہ منتقل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی مذہبی حیثیت تبدیل کی جا سکتی ہے۔ اسلئے یہ کہنا کہ مسلمان اس جگہ کو چھوڑ کر کہیں اور مسجد تعمیر کر لیں مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے ساتھ ساتھ شرعی حکم کی خلاف ورزی بھی ہے ۔ صدیوں تک جہاں اذان گونجتی رہی ہو، نماز ادا ہوتی رہی ہو اور جسے امتِ مسلمہ نے مسجد کی حیثیت سے قبول کیا ہو، اس کی شناخت محض انتظامی یا سیاسی فیصلوں سے ختم نہیں کی جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان کمال مولا مسجد کے مسئلے کو صرف ایک تاریخی تنازع نہیں بلکہ اپنے دینی ورثے، مذہبی حق اور وقف کی شرعی حیثیت سے جڑا ہوا معاملہ سمجھتے ہیں۔
کمال مولا مسجد کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ تاریخی روایات اور مختلف حوالوں کے مطابق یہ مسجد سلطنتِ دہلی کے دور میں مالوہ کی فتح کے بعد تعمیر کی گئی اور بعد کے دور میں اس کی مرمت اور توسیع بھی ہوتی رہی۔ اس مسجد کی تعمیراور فنِ تعمیر، محراب، دالان، صحن، حوض اور دیگر آثار کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہے کہ یہ ایک منظم اسلامی عبادت گاہ تھی۔ کئی صدیوں تک یہاں نماز ادا ہوتی رہی اور یہ علاقہ کے دینی و سماجی مرکز کے طور پر پہچانی جاتی رہی اور یہ مسجد عبادت گاہ مالوہ کی پہچان بنی۔
بعد کے زمانے میں بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ مقام دراصل قدیم’’سرسوتی مندر‘‘یا’’سنسکرت پاٹ شالہ‘‘ تھا جسے بعد میں مسجد میں تبدیل کیا گیا۔ لیکن اس دعوے کے حق میں ایسا کوئی تاریخی ثبوت سامنے نہیں آ سکا جس کی بنیاد پر صدیوں سے قائم مذہبی شناخت کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا جائے۔ کئی مؤرخین نے بھی اس دعوے کو بہت ہی صاف صاف لفظوں میں کمزور اور قیاس آرائی پر مبنی قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طویل عرصے تک اس مقام کو ایک متنازع مگر مشترکہ انتظامی نظام کے تحت چلایا جاتا رہا، جہاں مسلمانوں کو جمعہ کی نماز کی اجازت حاصل تھی۔
حالیہ عدالتی فیصلے نے اسی توازن کو بدل دیا ہے۔ عدالت نے نہ صرف مسلمانوں کی نماز کی اجازت ختم کی بلکہ اس مقام کو باضابطہ طور پر مندر قرار دیتے ہوئے ہندو عبادت کے لیے کھول دیاجو کہ آئین کی روح کے خلاف ہے۔عدالت اس طرح کے فیصلے مخصوص طبقہ کو خوش کرنے کے لئے دے رہی ہے۔ یہ فیصلہ مسلم حلقوں میں اس احساس کو مزید گہرا کر رہا ہے کہ ملک میں تاریخی مساجد کی مذہبی حیثیت کو مسلسل چیلنج کیا جا رہا ہے۔ بابری مسجد کے بعد اس نوعیت کے فیصلوں نے ایک بڑے طبقے کے ذہن میں یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ اگر کسی مقام پر صدیوں تک نماز ادا ہوتی رہی ہو، اسلامی آثار موجود ہوں اور اسے تاریخی اسلامی ورثے کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہو، تو پھر اس کی شناخت کو کس بنیاد پر تبدیل کیا جا سکتا ہے؟
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بعض گودی میڈیا چینلز اور چند اخبارات اس معاملے میں یکطرفہ اور غیر مصدقہ اور غیر منصفانہ معلومات پیش کر رہے ہیں۔ حالانکہ تاریخی حوالوں، قدیم دستاویزات اور صدیوں تک وہاں نماز کی ادائیگی جیسے واضح شواہد اس مقام کے مسجد ہونے کی گواہی دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود کچھ حلقے مخصوص بیانیہ قائم کرنے کے لیے بے بنیاد دعووں اور جذباتی پروپیگنڈے کا سہارا لے رہے ہیں۔ ذمہ دار صحافت کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے حساس معاملات میں حقائق، تاریخ اور غیر جانب داری کو ترجیح دی جائے، نہ کہ سنسنی اور تعصب کو۔
تاریخ میں اس سے پہلے بھی کئی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جہاں’’آستھا‘‘اور اکثریتی دعووں کو بنیاد بنا کر تاریخی مساجد کی حیثیت کو چیلنج کیا گیا۔ بابری مسجد، ایودھیا اس کی سب سے بڑی مثال ہے، جسے صدیوں تک مسجد مانے جانے کے باوجود ایک طویل تنازع کے بعد منہدم کر دیا گیا۔ان معاملات نے مسلمانوں میں یہ تشویش پیدا کی ہے کہ اگر تاریخی شواہد، مذہبی آزادی اور آئینی تحفظات کے بجائے صرف عقیدت اور اکثریتی احساسات کو بنیاد بنایا جاتا رہا تو اقلیتوں کو کبھی انصاف نہیں ملے گا۔ Majority Terrorism کو بڑھاوا ملے گا اور اس طرح ملک تباہ ہو جائے گا۔ ملک کی کئی تاریخی مساجد تنازع کا شکار ہو تی رہیں گی۔ یہی پس منظر کمال مولا مسجد کے معاملے کو بھی مسلمانوں کے نزدیک نہایت حساس اور اپنے مذہبی و تہذیبی وجود سے جڑا ہوا مسئلہ بنا دیتا ہے۔
یہاں اصل مسئلہ صرف ایک مقدمہ نہیں بلکہ انصاف کے اصول کا ہے۔ بھارت کا آئین تمام مذاہب کے ماننے والوں کو برابر حقوق دیتا ہے۔ اگر تاریخی تنازعات کو صرف اکثریتی جذبات (آستھا)کی بنیاد پر حل کیا جانے لگے تو پھر ملک کی سیکولر روح کمزور پڑ سکتی ہے۔ عدالتوں سے ہمیشہ یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ تاریخ، شواہد اور آئینی اقدار کی روشنی میں ایسے فیصلے دیں جو ملک میں اعتماد، ہم آہنگی اور انصاف کو مضبوط کریں۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ بھارت کی تہذیب مختلف مذاہب، ثقافتوں اور تاریخی روایات کے اشتراک سے بنی ہے۔ مساجد، مندروں، گرجا گھروں اور دیگر تاریخی مقامات کو محض تنازع کی علامت بنانے کے بجائے مشترکہ ورثے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اگر ہر تاریخی مقام کو نئے سرے سے مذہبی عینک اور آستھا کے جھوٹے پروپیگنڈے کی نظر سے دیکھا جائے گا تو اس سے معاشرے میں بے اعتمادی اور کشیدگی بڑھے گی اور بھارت کا سماجی تانہ بانہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گا جو اس طرح کے فیصلے سے ہوتا جارہا ہے۔
مسلم فریق نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن تب تک وہاں پوجا پاٹ نہیں ہونا چاہئے جب تک سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ نہیں آجاتا،اور امید کی جا رہی ہے کہ اعلیٰ عدالت اس معاملے کا جائزہ تاریخی حقائق، آئینی اصولوں اور مذہبی آزادی کے تناظر میں لے گی۔بھارت جیسے کثیر مذہبی ملک میں یہی راستہ امن، انصاف اور باہمی اعتماد کو برقرار رکھ سکتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو اشتعال، نفرت اور سیاسی فائدے کے بجائے تاریخی دیانت داری اور آئینی انصاف کے ساتھ دیکھا جائے۔ کیونکہ عبادت گاہیں صرف پتھروں کی عمارتیں نہیں ہوتیں، وہ قوموں کی یادداشت، عقیدت اور تہذیبی شناخت کا حصہ بھی ہوتی ہیں۔ آج حکومت تمام حکم آستھاکی بنیاد پر دے رہی ہے جو کہ غلط ہے۔

Admin

Admin

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم:پانچواں سال: 1923ء

4 مہینے ago
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

مسجد کا پیغام

6 مہینے ago

مقبول

  • کمال مولا مسجد مقدمہ:حالیہ عدالتی فیصلے نے تاریخ، انصاف اور بھارتیہ سیکولرازم کے تئیں بھروسہ کو ختم کر دیا: ایم.ڈبلیو.انصاری -آئی پی ایس (ریٹائرڈ۔ڈی.جی)

    کمال مولا مسجد مقدمہ:حالیہ عدالتی فیصلے نے تاریخ، انصاف اور بھارتیہ سیکولرازم کے تئیں بھروسہ کو ختم کر دیا: ایم.ڈبلیو.انصاری -آئی پی ایس (ریٹائرڈ۔ڈی.جی)

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • فتنوں کے سدِّ باب میں علماءِ حق کا کردار: امت کی بقا کا ضامن

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جامع مسجد مولانا کمال الدین دھار کے بارے میں چند ضروری تاریخیں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • قربانی میں اسلامی اصلاحات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.