مدھیہ پردیش کے تاریخی شہر دھار میں واقع کمال مولا مسجد، جسے آج’’بھوج شالہ تنازع‘‘کے نام سے پیش کیا جا رہا ہے، محض ایک عمارت یا عبادت گاہ کا مسئلہ نہیں بلکہ بھارت میں تاریخی ورثے، آئینی مساوات اور مذہبی آزادی کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک نہایت حساس معاملہ بنا ہے اور رہے گا۔ حالیہ عدالتی فیصلے کے بعد یہ مسئلہ ایک بار پھر قومی بحث کا موضوع ہے اور ملک کے کروڑوں امن پسند انسانوں میں تشویش اور غم کا ماحول ہے۔
اسلامی تعلیمات اور فقہی اصولوں کے مطابق جب کوئی جگہ ایک مرتبہ مسجد کے طور پر وقف کر دی جاتی ہے تو وہ محض ایک عمارت یا زمین کا ٹکڑا نہیں رہتی بلکہ’’وقفِ الٰہی‘‘بن جاتی ہے۔ شریعت کی رو سے ایسی زمین ہمیشہ کے لیے اللہ کے نام مخصوص ہو جاتی ہے، جسے نہ فروخت کیا جا سکتا ہے، نہ منتقل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی مذہبی حیثیت تبدیل کی جا سکتی ہے۔ اسلئے یہ کہنا کہ مسلمان اس جگہ کو چھوڑ کر کہیں اور مسجد تعمیر کر لیں مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے ساتھ ساتھ شرعی حکم کی خلاف ورزی بھی ہے ۔ صدیوں تک جہاں اذان گونجتی رہی ہو، نماز ادا ہوتی رہی ہو اور جسے امتِ مسلمہ نے مسجد کی حیثیت سے قبول کیا ہو، اس کی شناخت محض انتظامی یا سیاسی فیصلوں سے ختم نہیں کی جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان کمال مولا مسجد کے مسئلے کو صرف ایک تاریخی تنازع نہیں بلکہ اپنے دینی ورثے، مذہبی حق اور وقف کی شرعی حیثیت سے جڑا ہوا معاملہ سمجھتے ہیں۔
کمال مولا مسجد کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ تاریخی روایات اور مختلف حوالوں کے مطابق یہ مسجد سلطنتِ دہلی کے دور میں مالوہ کی فتح کے بعد تعمیر کی گئی اور بعد کے دور میں اس کی مرمت اور توسیع بھی ہوتی رہی۔ اس مسجد کی تعمیراور فنِ تعمیر، محراب، دالان، صحن، حوض اور دیگر آثار کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہے کہ یہ ایک منظم اسلامی عبادت گاہ تھی۔ کئی صدیوں تک یہاں نماز ادا ہوتی رہی اور یہ علاقہ کے دینی و سماجی مرکز کے طور پر پہچانی جاتی رہی اور یہ مسجد عبادت گاہ مالوہ کی پہچان بنی۔
بعد کے زمانے میں بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ مقام دراصل قدیم’’سرسوتی مندر‘‘یا’’سنسکرت پاٹ شالہ‘‘ تھا جسے بعد میں مسجد میں تبدیل کیا گیا۔ لیکن اس دعوے کے حق میں ایسا کوئی تاریخی ثبوت سامنے نہیں آ سکا جس کی بنیاد پر صدیوں سے قائم مذہبی شناخت کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا جائے۔ کئی مؤرخین نے بھی اس دعوے کو بہت ہی صاف صاف لفظوں میں کمزور اور قیاس آرائی پر مبنی قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طویل عرصے تک اس مقام کو ایک متنازع مگر مشترکہ انتظامی نظام کے تحت چلایا جاتا رہا، جہاں مسلمانوں کو جمعہ کی نماز کی اجازت حاصل تھی۔
حالیہ عدالتی فیصلے نے اسی توازن کو بدل دیا ہے۔ عدالت نے نہ صرف مسلمانوں کی نماز کی اجازت ختم کی بلکہ اس مقام کو باضابطہ طور پر مندر قرار دیتے ہوئے ہندو عبادت کے لیے کھول دیاجو کہ آئین کی روح کے خلاف ہے۔عدالت اس طرح کے فیصلے مخصوص طبقہ کو خوش کرنے کے لئے دے رہی ہے۔ یہ فیصلہ مسلم حلقوں میں اس احساس کو مزید گہرا کر رہا ہے کہ ملک میں تاریخی مساجد کی مذہبی حیثیت کو مسلسل چیلنج کیا جا رہا ہے۔ بابری مسجد کے بعد اس نوعیت کے فیصلوں نے ایک بڑے طبقے کے ذہن میں یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ اگر کسی مقام پر صدیوں تک نماز ادا ہوتی رہی ہو، اسلامی آثار موجود ہوں اور اسے تاریخی اسلامی ورثے کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہو، تو پھر اس کی شناخت کو کس بنیاد پر تبدیل کیا جا سکتا ہے؟
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بعض گودی میڈیا چینلز اور چند اخبارات اس معاملے میں یکطرفہ اور غیر مصدقہ اور غیر منصفانہ معلومات پیش کر رہے ہیں۔ حالانکہ تاریخی حوالوں، قدیم دستاویزات اور صدیوں تک وہاں نماز کی ادائیگی جیسے واضح شواہد اس مقام کے مسجد ہونے کی گواہی دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود کچھ حلقے مخصوص بیانیہ قائم کرنے کے لیے بے بنیاد دعووں اور جذباتی پروپیگنڈے کا سہارا لے رہے ہیں۔ ذمہ دار صحافت کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے حساس معاملات میں حقائق، تاریخ اور غیر جانب داری کو ترجیح دی جائے، نہ کہ سنسنی اور تعصب کو۔
تاریخ میں اس سے پہلے بھی کئی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جہاں’’آستھا‘‘اور اکثریتی دعووں کو بنیاد بنا کر تاریخی مساجد کی حیثیت کو چیلنج کیا گیا۔ بابری مسجد، ایودھیا اس کی سب سے بڑی مثال ہے، جسے صدیوں تک مسجد مانے جانے کے باوجود ایک طویل تنازع کے بعد منہدم کر دیا گیا۔ان معاملات نے مسلمانوں میں یہ تشویش پیدا کی ہے کہ اگر تاریخی شواہد، مذہبی آزادی اور آئینی تحفظات کے بجائے صرف عقیدت اور اکثریتی احساسات کو بنیاد بنایا جاتا رہا تو اقلیتوں کو کبھی انصاف نہیں ملے گا۔ Majority Terrorism کو بڑھاوا ملے گا اور اس طرح ملک تباہ ہو جائے گا۔ ملک کی کئی تاریخی مساجد تنازع کا شکار ہو تی رہیں گی۔ یہی پس منظر کمال مولا مسجد کے معاملے کو بھی مسلمانوں کے نزدیک نہایت حساس اور اپنے مذہبی و تہذیبی وجود سے جڑا ہوا مسئلہ بنا دیتا ہے۔
یہاں اصل مسئلہ صرف ایک مقدمہ نہیں بلکہ انصاف کے اصول کا ہے۔ بھارت کا آئین تمام مذاہب کے ماننے والوں کو برابر حقوق دیتا ہے۔ اگر تاریخی تنازعات کو صرف اکثریتی جذبات (آستھا)کی بنیاد پر حل کیا جانے لگے تو پھر ملک کی سیکولر روح کمزور پڑ سکتی ہے۔ عدالتوں سے ہمیشہ یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ تاریخ، شواہد اور آئینی اقدار کی روشنی میں ایسے فیصلے دیں جو ملک میں اعتماد، ہم آہنگی اور انصاف کو مضبوط کریں۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ بھارت کی تہذیب مختلف مذاہب، ثقافتوں اور تاریخی روایات کے اشتراک سے بنی ہے۔ مساجد، مندروں، گرجا گھروں اور دیگر تاریخی مقامات کو محض تنازع کی علامت بنانے کے بجائے مشترکہ ورثے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اگر ہر تاریخی مقام کو نئے سرے سے مذہبی عینک اور آستھا کے جھوٹے پروپیگنڈے کی نظر سے دیکھا جائے گا تو اس سے معاشرے میں بے اعتمادی اور کشیدگی بڑھے گی اور بھارت کا سماجی تانہ بانہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گا جو اس طرح کے فیصلے سے ہوتا جارہا ہے۔
مسلم فریق نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن تب تک وہاں پوجا پاٹ نہیں ہونا چاہئے جب تک سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ نہیں آجاتا،اور امید کی جا رہی ہے کہ اعلیٰ عدالت اس معاملے کا جائزہ تاریخی حقائق، آئینی اصولوں اور مذہبی آزادی کے تناظر میں لے گی۔بھارت جیسے کثیر مذہبی ملک میں یہی راستہ امن، انصاف اور باہمی اعتماد کو برقرار رکھ سکتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو اشتعال، نفرت اور سیاسی فائدے کے بجائے تاریخی دیانت داری اور آئینی انصاف کے ساتھ دیکھا جائے۔ کیونکہ عبادت گاہیں صرف پتھروں کی عمارتیں نہیں ہوتیں، وہ قوموں کی یادداشت، عقیدت اور تہذیبی شناخت کا حصہ بھی ہوتی ہیں۔ آج حکومت تمام حکم آستھاکی بنیاد پر دے رہی ہے جو کہ غلط ہے۔



















