پیش کش: مولانا مجیب الحق صاحب نائب صدر جمعیت علمائے بسنت رائے
حضرت مولانا ومفتی نظام الدین صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ بانی ومہتمم جامعۃ الہدی جہاز قطعہ گڈا
الحمدُ لِلَّهِ رَبِّ العالَمِينَ، والصَّلاةُ والسَّلامُ عَلَىٰ رَسولِهِ الكَرِيم، أَمَّا بعد
بموقع : استقبالیہ پروگرام
بتاریخ : 10؍دسمبر 2025ء
معزز علمائے کرام! ائمہ عظام،سیاسی و سماجی قائدین، جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کے ذمہ داران، جامعۃ الہدی جہاز قطعہ کے اراکین، اساتذہ و طلبا جہاز قطعہ ، بلاک اور ضلع کے تمام معززین !
السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
سامعین ذی وقار ! آج کا یہ مبارک اجتماع،ایک ایسے فرد کے استقبال کے لیے منعقد ہوا ہے ، جو اپنے اندر قیادت، علم، حلم، سادگی، منصوبہ بندی، اور خدمت خلق جیسے اوصاف کو یکجا رکھتا ہے۔
آج ہم لوگ ایک ہمہ جہت قائد کا خیر مقدم کر رہے ہیں جس کی زبان میں تاثیر ہے، گفتگو میں مٹھاس ہے،جس کی سوچ میں وسعت ہے، جس کے دل میں درد ہے،اور جس کی راتوں میں امت کے لیے دعائیں ہیں۔ اس وقت آپ کے درمیان آنے کا مقصد ان کا مختصر تعارف کرانا ہے ـ
خاندانی پس منظر
آج سےتقریبا چار سو سال قبل جن مخصوص لوگوں نے جہاز قطعہ کو آباد کیا تھا اس کا نام شیخ ڈومن تھا ، ان کے چار لڑکے تھے، ان میں سے ایک شیخ عصمت ہے،شیخ عصمت کے تین لڑکے تھے، ان میں سے ایک جماد علی ہے،جماد علی کے دو لڑکے ہیں،الفت اور غیاث الدین، الفت کے چار لڑکے ہیں، جن میں سے ایک جناب مرحوم شریف صاحب ہیں شریف صاحب کے چھوٹے لڑکے نظام الدین ہیں جسے ہم اور آپ مفتی نظام الدین صاحب قاسمی کے نام سے جانتے ہیں ـ
تعلیمی سفر
تعلیمی سفر میں مکتب کی تعلیم سے دور تک چھ مدرسوں کا سفر کیا ہے:
- مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ ۔
- سرہندی بیگم مسجد لاہوری گیٹ دہلی۔
- شاہی مسجد وسنت وہار دہلی۔
- جامعہ اسلامیہ سین پور گڈا۔
- مدرسہ سلیمانیہ سنہولہ ہاٹ بھاگلپور۔
- اور مدرسہ جیلانیہ اشرفیہ نظیر آباد لکھنؤ۔
اعلیٰ تعلیم
حفظ قرآن سے فراغت کے بعد اعلی تعلیم کے لیے حضرت اقدس حضرت مولانا احمد نصر صاحب بنارسی دامت برکاتہم العالیہ کے مشورہ سے مدرسہ ریاض العلوم گورینی جونپور میں داخلہ لیا، وہاں فارسی،عربی اول اور عربی دوم تک کی تعلیم کے ساتھ فن قراءت میں اردو حفص کی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد اعلی تعلیم کی تکمیل کے لیے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور سن 2006 ء میں فراغت حاصل کی۔
2007 میں دارالعلوم دیوبند سے ہی اردو ادب کیا ، 2008 میں مظاہر علوم جدید سہارنپور سے عربی ادب کیا اور فقہ میں مزید مہارت حاصل کرنے کے لیے 2009 میں جامعہ مفتاح العلوم جلال آباد سے افتاء کیا گو کہ آپ حافظ ، قاری ، عالم ، اردو عربی کے ادیب اور مفتی بھی ہیں الحمد للہ
تعلیمی خدمات
2009 میں افتاء کی پڑھائی کرتے ہوئے ماہ نامہ رسالہ ” مفتاح الخیر ” کے لیے بطور ایڈیٹر کے عارضی طور پر تقرر ہوا ، عید کے بعد تدریسی خدمات اور ایڈیٹر کے لیے مستقل تقرر ہوا اور جامعہ مفتاح العلوم جلال آباد میں دس سالہ قیام کے دوران فارسی سے مشکوٰۃ تک کی مختلف کتابیں پڑھائیں ، پھر 2018 میں مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ میں لوگوں کے اصرار پر اس شرط کے ساتھ کہ مستقل حاضری ایک سال کے بعد ہوگی بطور مہتمم کے تقرر ہوا، اور باضابطہ حاضری 2019 میں ہوئی ۔
2019 اور 2020 میں مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ کو تعلیمی اور تعمیری دونوں اعتبار سے ترقی ہوئی اور پھر خدا کے حکم سے ناموافق حالات پیش آئے اور جولائی 2021 میں مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ سے علاحدگی اختیار کرلی۔
جامعۃ الھدی کا قیام
جولائی 2021 میں مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ سے علاحدگی کے چار ماہ بعد 14؍ نومبر 2021 میں جامعۃ الہدی جہاز قطعہ کی بنیاد رکھی گئی اور 23؍نومبر 2021 میں دہلی کے اہم ترین علاقہ گرین پارک حوض خاص کی جامع مسجد میں امام و خطیب کی حیثیت سے خد مت کے لیے تشریف لے گئے،جہاں انھوں نے چار سال تک بطور امام و خطیب ایسی خدمات انجام دیں جو ہزاروں دلوں کو جوڑنے کا سبب بنی ان کی تقریریں صرف آواز نہیں تھیں بلکہ لوگوں کو راستہ بھی دکھاتی تھیں اور دلوں میں درد بھی جگاتی تھیں، نوجوانوں میں خود اعتمادی پیدا کرکے زندگی کا وژن متعین کرنے پر مجبور کرتی تھیں ـ ان چار سالوں میں نہ صرف مسجد گرین پارک کی ذمہ داری کو بحسن و خوبی انجام دیا ہے بلکہ وہاں رہتے ہوئے اپنے علاقہ جہاز قطعہ میں جامعۃ الہدی جہاز قطعہ جیسے شان دار تعلیمی ادارے کو اس مقام اور معیار پر پہونچایا ہے کہ جس کے کیمپس میں حاضر ہوکر کے ہم اور آپ اس خوبصورت پروگرام میں شریک ہوکر کے یہاں کی تعلیم اور تعمیر دیکھنے کے ساتھ طلبا اور اساتذہ سے ملاقات بھی کررہے ہیں۔ ہمارے گاؤں، ہمارے بچوں، اور آنے والی نسلوں کے لیےعلم و عمل کا مرکز قائم کیا۔ وہ صرف ایک "مدرسہ کے بانی” نہیں بلکہ سوچ دینے والے رہنما،منصوبہ بندی کرنے والے قائد،اور اصلاحِ معاشرہ کا فکری ستون ہیں۔
سماجی خدمات
حضرت مفتی صاحب جب علاقہ میں آئے توشروعات میں بنیادی طور پر سماجی کام یہ کیا کہ آس پاس کی جو بستیاں ہیں ان میں فجر کی نماز پڑھنے کا معمول بنایا ، اپنے گاؤں میں ہفتہ میں تین دن عورتوں میں بیان کرنا شروع کیا ، جس سے علاقائی لوگوں میں جوڑ کا ماحول بنا اور گاؤں میں بہت زیادہ دینی بیداری آئی ـ
جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کا قیام
ضلع گڈا میں ضلعی جمعیت تھی ،لیکن علاقائی جمعیت نہیں تھی ، 2019 میں جب دہلی کا سفر ہوا تو جمعیت علمائے ہند شعبہ دعوت اسلام سے منسلک مولانا محمد یاسین جہازی سے اس پر تبادلہ خیال ہوا کہ جمعیت علمائے بلاک کی کیا ترتیب بنائی جاے؟ چنانچہ مولانا جہازی کے مشورہ کے مطابق سفر سے واپسی پر ، جمعہ کے دن مدرسہ رحمانیہ کی مسجد منیر میں جمعہ کی نماز کے بعد اس وقت کے موجودہ صدر ڈاکٹر تمیز صاحب اور مفتی اقبال صاحب کی موجودگی میں ” جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے ” کا باضابطہ قیام عمل میں آیا ، 2020 میں ٹرم پورا ہونے پر 2021 کے انتخاب کے لیے مفتی صاحب کی قیادت و نگرانی میں پانچ ہزار کی ممبر سازی ہوئی اور آج ضلع گڈا کے ہر بلاک میں جمعیت کا قائم ہونا یہ مفتی صاحب کی فکر کا نتیجہ ہے ۔
آسریٰ فاؤنڈیشن
حضرت مفتی صاحب نے کام کو مزید پھیلانے کے لیے 2021 میں آسری فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی ہے ، جس کا ہیڈ آفس ممبئی ہے ، آسری فاؤنڈیشن کے تحت ہر ماہ ہزار روپے کے اعتبار سے 16/ گھروں میں راشن جاتا ہے ، اسی فاؤنڈیشن کے تحت مفتی صاحب کی سرپرستی و نگرانی میں اپنے علاقہ میں بارہ مکاتب چلتے ہیں ،جس میں کپیٹا ، بنسی پور ، سانکھی اور کیواں وغیرہ شامل ہے ،اس کے علاوہ آدی واسی میں پانچ مرتبہ کپڑا بھی تقسیم ہو چکا ہے اور ہر مرتبہ دو سو پچاس لوگوں میں تقسیم ہوا ہے ـ
اصلاحی تعلق
یوں تو حضرت مفتی صاحب بچپن سے ہی حضرت مولانا احمد نصر صاحب بنارسی دامت برکاتہم کی تربیت میں رہے ، اس کے بعد مسیح الامت حضرت مولانا مسیح اللہ خاں صاحب کے لڑکے صفی الملت حضرت مولانا صفی اللہ خاں صاحب کی تربیت میں رہے البتہ باضابطہ بیعت حضرت مولانا قمر الزماں صاحب الہ بادی دامت برکاتہم سے ہیں اور اس وقت ان ہی کی تربیت و اصلاح سے وابستہ ہیں ۔یہ ہے حضرت مفتی صاحب کا مختصر تعارف اور خدمات ۔
اختتام
ان ہی خدمات اور قربانی کی روشنی میں ہم سمجھتے ہیں کہ یہ واپسی ایک شخص کی واپسی نہیں بلکہ ایک منظم اور مضبوط تحریک کی واپسی ہےان کا علاقے میں دوبارہ تشریف لاناعلاقے کے لیے ایک نئے دور کاآغاز ہے ان جیسے حضرات کی ہمارے علاقے اور سماج کو ضرورت کل بھی تھی آج بھی ہے اور آگے بھی رہے گی۔
ہم سب خوب جانتے ہیں کہ آج ہمارا معاشرہ انتشار، بے راہ روی، اخلاقی کمزوری، تعلیمی پسماندگی سماجی برائی ، اور سماجی کھچاؤ کا شکار ہے۔ ایسے وقت میں ایک ایسے شخص کی واپسی جس میں علم بھی ہے، عمل بھی ہے، جرأت بھی ہے، حکمت بھی ہے،اور سب سے بڑھ کر بگڑتے ہوئے سماج اور معاشرے کو سنبھالنے اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ اور صلاحیت بھی ہے ، اس لیے ہم ان کا خیر مقدم کرتے ہیں ان کی خدمات کو سلام کرتے ہیں۔ ان کی قربانیوں کا استقبال کرتے ہیں۔
ان کے عزم، ان کی محنت، اور ان کے اخلاص کو دل سے سلام پیش کرتے ہیں۔
ہم سب آج یک زبان ہو کر کہتے ہیں کہ آپ کا آنا ہمارے لیے عزت بھی ہے، رہنمائی بھی ہے، اور امید بھی آپ اس علاقے کے لیے صرف ایک عالم ہی نہیں بلکہ پورے علاقے کو ایک رخ اور سمت دینے والے عالم دین ہیں۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ آپ کے ہاتھوں اس علاقے میں علم، تربیت، اخلاق، اور اصلاح کی فضا قائم کرے۔
جمعیت علماء بلاک بسنت رائے، جامعۃ الہدی جہاز قطعہ، حاضرین میں موجود علماء ، ائمہ ، خطبا ، سماجی و سیاسی شخصیات ، علاقائی دانشوران ،اہل علاقہ اور جملہ سامعین کی جانب سے ہم پوری محبت و خلوص اور عزت کے ساتھ
آپ کا استقبال کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ آپ کی قیادت کو قبول فرمائے، آپ کی مساعی جمیلہ کو ثمر آور بنائے اور اس ادارے کو بچوں کے لیے شان دار تعلیمی ادارہ، اور اصلاحِ معاشرہ کا قلعہ بنا دے۔ آمین ثم آمین
و آخر دعوان ان الحمدللہ رب العالمین۔




















