اگر علمائے کرام بھی علمائے یہود کی طرح مداہنت اختیار کریں گے ،یعنی 1۔ ائمہ مساجد،حق جانتے ہوئے بھی مقتدیوں کی اصلاح نہیں کریں گے ،اور متولی سے ڈریں گے۔2۔ خطبائے کرام، حق جانتے ہوئے بھی نہیں بولیں گے اور نذرانہ کا خوف کریں گے ۔3۔ علمائے کرام، ارباب مدارس ،اور اسلامی ذمہ اداروں کے ذمے داران شرعی امور کے خلاف انجام پانے معاملات پر آواز بلند نہیں کریں گے، 4۔ ذمہ دار سماجی و سیاسی رہ نما اپنے فرائض منصبی سے کوتاہی برتتے ہوئے حق گوئی سے کام نہیں لیں گے، خلاصہ یہ کہ مداہنت سے کام لیں گے ،تو انھیں بھی علمائے یہود و نصاری کے اس انجام کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔دیکھیے درج ذیل تفسیری حوالہ”یہودیوں کی اخلاقی و عملی بر بادیآگے یہاں دوسری و تیسری آیت میں بھی انہی یہو دو بد باطنوں کا ذکر ہے اور ان کی اخلاقی اور عملی بر بادی کو ظاہر فرمایا گیا ہے۔بنی اسرائیل یعنی یہود کا یہی حال تھا کہ یہ لوگ عموماً دنیوی لذات و شہوات میں منہمک ہو کر خدا تعالیٰ کی عظمت و جلال اور اس کے قوانین و احکام کو بھلا بیٹھے اور جو مذہبی پیشوا کہلاتے تھے انہوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ترک کر دیا کیونکہ دنیا کی حرص اور اتباع شہوات میں وہ اپنے عوام سے بھی آگے تھے۔ مخلوق کا خوف یا دنیا کا لالچ حق کی آواز بلند کرنے سے مانع ہوتا تھا علمائے یہود کی اس غلط روش کو سخت بری عادت بتلایا گیا کہ جو اپنا فرض منصبی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ بیٹھے تھے اور یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ اگر ہم عوام کو ان کی غلط باتوں پر روک ٹوک اور منع کریں گے تو وہ ہماری بات سنیں گے اور باز آ جائیں گے پھر بھی عوام کے نذرانوں کے لالچ یا ان کے بد اعتقاد ہو جانے کے خوف سے ان مذہبی پیشوا اور علمائے یہود کے دلوں میں حمایت حق کا کوئی داعیہ پیدا نہ ہوتا اور سکوت و مداہنت برتتے اور یہ ان کے عوام بدکاروں کے اعمال بد سے بھی زیادہ اشد جرم تھا۔علماء و مشائخ کی مداہنت کے نتائجعلماء و مشائخ کے اسی سکوت اور مداہنت سے پہلی قومیں تباہ ہوئیں۔ اس لئے امت محمدیہ کو قرآن وحدیث کے بیشمار نصوص میں بہت ہی سخت تاکید و تہدید کی گئی ہے کہ کسی وقت اور کسی شخص کے مقابلہ میں اس فرض امر بالمعروف اور نہی عن المنکر “ کے ادا کرنے سے تغافل نہ برتیں۔ چنانچہ بلیغ اشارہ اس امر کی طرف اس آیت میں بھی ہے کہ مشائخ اور علماء پر لازم ہے کہ عوام کو حق تعالیٰ کی نافرمانی اور دینی اور اخلاقی تباہی سے روکیں اور جہاں تک ممکن ہو قو لی اور عملی کوششیں لوگوں کی اصلاح و نصیحت کے واسطے صرف کریں۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ مشائخ اور علماء کی ڈانٹ اور تنبیہہ کے لئے اس سے زیادہ سخت آیت قرآن پاک میں کوئی نہیں ہے۔ حضرت علی نے اپنے ایک خطبہ میں اللہ تعالیٰ کی حمدوث ثنا کے بعد فرمایا۔ لوگو! تم سے اگلے لوگ اسی بناء پر ہلاک کر دیئے گئے کہ وہ برائیاں کرتے تھے اور ان کے عالم و عابد مذہبی پیشوا خاموش رہتے تھے۔ جب یہ عادت ان میں پڑ گئی تو خدا نے انہیں قسم قسم کی سزائیں دیں پس تمہیں چاہیے کہ بھلائی کا حکم کرو۔ برائی سے روکو اس سے پہلے کہ تم پر بھی وہی عذاب آجائیں جو تم سے پہلے والوں پر آئے۔ یقین رکھو کہ اچھائی کا حکم اور برائی سے ممانعت نہ تو تمہاری روزی گھٹائے گا نہ تمہاری موت قریب کر دے گا۔سورہ المآئدۃ آیت نمبر 63لَوۡ لَا یَنۡہٰہُمُ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ وَ الۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِہِمُ الۡاِثۡمَ وَ اَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ ﴿۶۳﴾ترجمہ: ان کے مشائخ اور علماء ان کو گناہ کی باتیں کہنے اور حرام کھانے سے آخر کیوں منع نہیں کرتے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ان کا یہ طرز عمل نہایت برا ہے آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانیمحمد یاسین جہازی





















