محمد یاسین جہازی
جنگ عظیم اول (28؍ جولائی 1914ء- 11؍ نومبر1918ء) میں برطانیہ نے تین الگ الگ لوگوں سے تین متضاد وعدے کیے۔ یہودیوں سے ان کو قومی وطن دینے کا، عالم اسلام سے تحفظ خلافت کا اور ہندستانیوں سے سوراج کا؛ لیکن جنگ کے اختتام کے بعد، 30؍ اکتوبر 1918ء کو ترکی اور اتحادیوں کے درمیان ہوئی عارضی صلح، بعد ازاں 10؍اگست1920ء کو معاہدۂ سیورے کے ذریعہ اس کی تصدیق وتوثیق کے بعد عالم اسلام سے وعدہ خلافی کرتے ہوئے خلافت عثمانیہ اسلامیہ کی بندر بانٹ کرکے،2؍نومبر1917ء کے بالفور اعلامیہ کے مطابق،24؍جولائی 1922ء کو لیگ آف نیشنز کی کونسل نے فلسطین کا مینڈیٹ برطانیہ کو دینے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔ اس طرح خطۂ فلسطین خلافت عثمانیہ کی عمل داری سے نکل کر برطانیہ کی غلامی میں چلا گیا۔
ادھر ہندستانیوں کے ساتھ بھی دھوکہ کرتے ہوئے سوراج دینے کے بجائے ، 18؍جنوری 1919ء کو ’’رولٹ ایکٹ‘‘ شائع کرکے بھارتیوں کی غلامی کی زنجیروں کو مزید جکڑدیا۔ اور ان سب کے پیچھے مشرق وسطیٰ میں مغربی کنٹرول کو برقرار رکھنے کے لیے گہری سازش کافرما تھی، تاکہ وطن الیہود ’’اسرائیل‘‘ کو ایک فوجی چھاؤنی کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔
23؍نومبر1919ء کو جمعیت علمائے ہند نے اپنے قیام کے بعد، 10؍اگست 1920ء کو ہوئے سیورے معاہدہ کی رو سے خلافت اسلامیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کردینے اور فلسطین میں برطانوی قبضے کے تناظرمیں، 6؍ستمبر1920ء کوکلکتہ کے ایک خصوصی اجلاس میں برطانوی حکومت کے خلاف مکمل بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے،8؍ستمبر1920ء کو اسی فیصلے کو شرعی تقاضاقرار دے کرترک موالات کا فتویٰ دیا، جس پر تقریبا پانچ سو علمائے کرام نے دستخط کیے۔
18تا20؍نومبر1921ء کو منعقد جمعیت علمائے ہند کے تیسرے سالانہ اجلاس عام کی صدارت کرتے ہوئے امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ نے اپنے تقریری صدارتی خطاب میں فلسطین کی تحریم و تحفظ کومسلمانوں کے لیے ضروری قرار دیا۔
22؍مارچ 1922ء کو جمعیت علمائے ہند نے فلسطین کو برطانیہ کے بجائے خلافت عثمانیہ کے زیرنگیں رکھنے کا مطالبہ کیا۔اور18تا 20؍اکتوبر1922ء کو منعقد مجلس منتظمہ کے اجلاس میں مجوزۂ مطالبات خلافت میں فلسطین کو بھی شامل رکھا۔ان تمام مطالبات کو نظر انداز کرتے ہوئے، لیگ آف نیشنز نے 29؍ستمبر1923ء مینڈیٹ برائے فلسطین کو قانونی طور پر برطانیہ کے حوالے کرتے ہوئے،یہودیوں کو فلسطین میں آباد کرنے کی اجازت دے دی، جس سے اس خطے میں بڑھتی آبادی سے عدم توازن پیدا ہونے لگا۔
2؍نومبر1925ء کو مجلس عالیہ اسلامیہ فلسطین نے جمعیت علمائے ہند سے تعاون کی اپیل کی۔
یہودیوں کے لیے نیشنل ہوم کے قیام کی اجازت سے یہودی امیگریشن میں اضافے کے باعث عرب یہودی تنازع شروع ہوا، جس میں سے ایک یروشلم کی مغربی دیوار: دیوار گریہ پر یہودیوں کی دعوے داری تھی، جس کی وجہ سے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے سبب 23-24؍اگست 1929ء کو زبردست فسادات ہوئے، جن کی تحقیقات کے لیے برطانوی حکومت نے ستمبر 1929ء میں ’’شا کمیشن‘‘ تشکیل دی۔ادھر ہندستانی مسلمانوں نے دیوار گریہ پر یہودیوں کی دعوے داری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے 3؍ستمبر1929ء کو عظیم الشان اجلاس عام کیا۔
عرب یہودی بڑھتے فسادات نے عرب مسلمانوں کو معاشی اعتبار سے کمر توڑ کر رکھ دی، جس کی وجہ سے 20؍اکتوبر1929ء کو جماعت مرکزیہ فلسطین کی طرف سے ہندستانی مسلمانوں سے تعاون کی اپیل کی گئی۔
26تا 28؍اکتوبر1929ء کو مجلس مرکزیہ کا اجلاس ہوا، جس میں جمعیت علمانے ’’شا کمیشن‘‘ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے،فلسطینی انتداب اور بالفور اعلامیہ کی تنسیخ کا مطالبہ کیا۔
عالم اسلام کی تمام تر مخالفتوں کے باوجود برطانوی وزیر اعظم مسٹر ریمزے میکڈانلڈ فلسطین میں وطن الیہود بنانے میں سرگرم عمل رہا، تو جمعیت علما نے 31؍مارچ 1931ء کو منعقد دسویں اجلاس عام میں برطانیہ کی اس پالیسی کی شدید مذمت کی۔
20؍جون 1933ء کو فلسطین کا ایک مؤقد وفد ہندستان آیا، تو جمعیت علمائے ہند نے اس کا زبردست خیرمقدم کرتے ہوئے جامع مسجد دہلی میں عظیم الشان اجلاس منعقد کیا۔ بعد ازاں 25؍جون 1933ء کو اکابرین جمعیت نے وفد سے خصوصی ملاقات کی۔
فلسطین میں دنیا بھر کے یہودیوں کو لالاکر بسانے کا عمل جاری تھا، جس سے 1936ء سے تقریبا1939ء تک متعدد بار عرب فلسطینیوں اور یہودیوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں برطانیہ نے مسلمانوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے۔ انھی دنوں 27تا 29؍مارچ 1936ء کو جمعیت علمائے صوبہ دہلی کا عظیم الشان اجلاس ہوا، جس میں یہودیوں کی آبادی اور برطانوی مظالم کی مذمت کی گئی۔بعد ازاں حضرت العلامہ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہند نے یکم جون 1936ء کو ایک طویل پریس بیان دے کر فلسطین پر برطانیہ کے قبضے کی مخالفت کی۔
برطانیہ کی نوآبادیاتی پالیسی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے، آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے 19؍جون 1936ء کو’’یوم فلسطین‘‘ منایا گیا۔ بعد ازاں 26؍ ستمبر 1936ء کو شملہ میں ایک عظیم الشان اجلاس کے ذریعہ مسلمانوں کے جذبات سے برطانیہ کو آگاہ کیا اور ساتھ ہی 28؍ستمبر1936ء کو ایک اعلیٰ سطحی وفد لے کر وائسرائے ہند مسٹر لن لتھ گو سے ملاقات کرکے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔
اوائل نومبر1936ء میں جمعیت علمائے ہند نے بھی فلسطین کانفرنس منعقد کی، اس اجلاس میں ایک خط کے ذریعہ مسٹر جواہر لال نہرو نے فلسطینیوں کی تحریک آزادی وطن کی حمایت کرتے ہوئے برطانیہ کو فرقہ وارانہ جھگڑے کرانے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
صدر محکمۂ شرعیہ استانبول نے فلسطین کے تعلق سے جمعیت علمائے ہند کی کوششوں کو سراہتے ہوئے 5؍جنوری 1937ء کو ایک مکتوب لکھ کر شکریہ ادا کیا۔
1936ء میں ہوئے عرب اسرائیلی جنگ کی تحقیقات کے لیے برطانیہ نے نومبر1936ء میں ’’پیل کمیشن‘‘ تشکیل دی،جس نے فلسطین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی سفارش کی۔ 30؍ جولائی 1937ء کو حضرت مفتی اعظم ہند کی صدارت میں جامع مسجد دہلی میں عظیم الشان اجلاس ہوا، جس میں اس کمیشن کی سفارشات کی زبردست مخالفت کرتے ہوئے تقسیم فلسطین کو ناقابل قبول بتایا۔اس کمیشن کو ’’رائل‘‘ یعنی ’’شاہی کمیشن‘‘ کا بھی نام دیا گیا،یکم جون 1937ء کو حضرت مفتی اعظم ہند نے اس کمیشن پر ایک پریس بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانان فلسطین اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہادیںگے، مگر اس تقسیم کو قبول نہ کریںگے۔
8؍اگست 1937ء کو مجلس عمل فلسطین کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں رائل کمیشن کی مخالفت کرتے ہوئے 3؍ستمبر1937ء کو فلسطین ڈے منانے کا اعلان کیاگیا۔
17؍اگست1937ء کو منعقد جمعیت علمائے سندھ کے اجلاس میں بھی اس کمیشن کی مخالفت کی گئی۔
24؍اگست1937ء کو تمام زعما ولیڈران ہند نے ایک مشترکہ بیان جاری کرکے 3؍ستمبر 1937ء کو ملک گیر سطح پر ’’فلسطین ڈے‘‘ منانے کی اپیل کی۔چنانچہ پورے ملک میں احتجاج کیا گیا۔ادھر دہلی میں جمعیت علمائے ہند کے بینر تلے عظیم الشان احتجاجی اجلاس ، جلوس اور ہڑتال کی گئی۔
9؍اکتوبر1937ء کو وائسرائے ہند کے نام ایک تار بھیج کر صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مفتی اعظم ہند نے ہندستانی مسلمانوں کے اضطراب کا اظہار کیا اور برطانوی تشدد کو روکنے کا مطالبہ کیا۔
31؍اکتوبر1937ء کو مجلس عمل فلسطین کا ایک اہم اجلاس میرٹھ میں منعقد ہوا، جس میں مجلس تحفظ فلسطین کا قیام عمل میں آیا۔اسی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے فرمایا کہ ہندستان کی آزادی کا مسئلہ فلسطین کے مسئلہ سے الگ نہیں ہے۔اسی اجلاس میں مقاطعات ثلاثہ: (۱) برطانوی مصنوعات کا بائیکاٹ، (۲) دربار تاج پوشی کا بائیکاٹ، (۳) آئندہ جنگ عظیم دوم میں برطانیہ کی ہرقسم کی امداد کا بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا۔
27تا 29؍مئی 1938ء کو جمعیت علمائے بہار کا عظیم الشان اجلاس ہوا، جس میں فلسطین میں برطانیہ کی مسلم آزار پالیسی کے خلاف سخت احتجاج کیاگیا۔
28؍جون 1938ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے وائسرائے ہند کو تار بھیج کر برطانوی بربریت کو روکنے کا مطالبہ کیا۔
5؍جولائی1938ء کو مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے ایک بیان میں کہا کہ فلسطین میں برطانوی مظالم برداشت نہیں کیاجاسکتا۔
یکم اگست1938ء کو مجلس تحفظ فلسطین کا پہلا اجلاس ہوا، جس میں تحریک سول نافرمانی چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔
3؍اگست 1938ء کی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں مجلس تحفظ فلسطین کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے قربانی دینے کی اپیل کی گئی۔
17؍اگست1938ء کو مجلس تحفظ فلسطین کا چوتھا عظیم الشان اجلاس کیا گیا، جس میں تحریک سول نافرمانی میں اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کرنے کی اپیل کی گئی۔
20؍اگست1938ء کو مظلوم فلسطینیوں کی امداد کی اپیل کی گئی۔
متوقع جنگ عظیم دوم (یکم ستمبر1939ء تا 2؍ستمبر1945ء)میں بھرتی کے لیے برطانوی حکومت ہند نے فوجی بھرتی بل کو منظوری دی، جس کی مخالفت کرتے ہوئے،21؍اگست 1938ء کو ایک بیان میں حضرت مجاہد ملت نے اسے فلسطین کی تباہی سے تعبیر کیا۔
25؍اگست1938ء کو مجلس تحفظ فلسطین کا ایک اور اجلاس ہوا۔
20؍ستمبر1938ء کو صدر مجلس تحفظ فلسطین حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ نے تعاون کی اپیل جاری کی۔
مجلس تحفظ فلسطین کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے 5؍اکتوبر1938ء کو ایک اپیل میں مقاطعات ثلاثہ کو جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
7تا 11؍اکتوبر1938ء فلسطین کے مسائل کو حل کرنے کے لیے دنیائے اسلام کے نمائندوں پر مشتمل قاہرہ میں ایک عالمی کانفرنس ہوئی، جس میں صدر جمعیت حضرت مفتی اعظم ہند کی قیادت میں جمعیت علمائے ہند کے نمائندوں نے شرکت کی اور قضیۂ فلسطین کے حل کے لیے اہم اور مفید تجاویز پیش کیں؛ حتیٰ کہ کانفرنس نے جہاد تک کے اعلان کا امکان ظاہر کیا؛ لیکن مصر کی وفد پارٹی کی عدم شرکت کی وجہ سے ناکانفرنس ناکامی کی شکار ہوگئی۔
اسی موقع پر تاریخ نے سرزمین مصر میں حضرت مفتی اعظم ہند کے لیے سب سے بڑا اعزاز کا منظر دیکھا، جب شاہ مصر کے بعد درجہ رکھنے والی شخصیت شیخ الازہر علامہ مراغی بذات خود حضرت مفتی صاحب کی عیادت کے لیے ان کی جائے قیام پر تشریف لائے۔
جمعیت علما نے کانفرنس کی ناکامی سے مایوس ہونے کے بجائے 7؍نومبر1938ء سے ہفتۂ فلسطین منانے کا اعلان کیا۔
31؍دسمبر1938ء کو مجلس تحفظ فلسطین کا اہم اجلاس ہوا، جس میں عملی طور پر تحریک سول نافرمانی کو شروع کرنے کا عندیہ دیا گیا۔
16؍جنوری 1939ء کو ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ فلسطین نے برطانیہ کی تشدد آمیز پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے ہندستانی مسلمانوں کو اس کے تعاون کے لیے آمادہ کیا۔
مجلس تحفظ فلسطین نے 9؍فروری1939ء کو ایک اعلان جاری کرتے ہوئے، 11؍ فروری 1939ء کو ’’یوم آزادی فلسطین‘‘ منانے کی اپیل کی۔
برطانوی وزیر اعظم مسٹر چیمبر لین کی دعوت پر7؍فروری سے شروع ہوکر17؍مارچ 1939ء تک ہونے والی لندن کانفرنس میں عرب وفد نے یہودی وفد کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کردیا، جس کی وجہ سے یہ کانفرنس ناکامی کی شکار ہوگئی۔ اسی کانفرنس کے موقع پر مجلس احرار اسلام ہند اور جمعیت علمائے ہند کے مشترکہ وفد نے بہار کے وزیر اعظم سری کرشنا سنہا سے ملاقات کرکے فلسطین کے تعلق سے ہندستانی مسلمانوں کے جذبات سے آگاہ کرتے ہوئے انھیں برطانوی حکومت تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔
آل انڈیا مجلس تحفظ فلسطین کی دعوت پر11؍فروری1939ء کو تمام صوبوں میں فلسطین کی حمایت میں احتجاجی اجلاس کیا گیا۔
جمعیت علمائے ہند نے 3تا 6؍مارچ 1939ء کو منعقد اپنے گیارھویں اجلاس عام کے خطبۂ استقبالیہ میں مقاطعات ثلاثہ کو جاری رکھنے کی اپیل کی ۔ اور تجویز میں برطانیہ کی مجوزہ تقسیم فلسطین کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔
مجلس دفاع فلسطین کی طرف سے 23؍مارچ 1939ء کو ایک تار موصول ہوا، جس میں جمعیت علمائے ہند سے امداد کی اپیل کی گئی۔ چنانچہ جمعیت علما نے اس حوالے سے اپنا کردار ادا کیا۔
لندن کانفرنس کی ناکامی کے بعد برطانیہ کا جاری کردہ قرطاس ابیض 17؍مئی 1939ء کو شائع کیا گیا ۔ چوں کہ اس میں برطانوی عبوری اقتدار کے خاتمے اور فلسطین کی فوری آزادی کی وکالت نہیں کی گئی تھی، اس لیے 27تا 29؍مئی 1939ء کو منعقد مجلس مرکزیہ کے اجلاس میں اس کی شدید مخالفت کرتے ہوئے، اسے ناانصافی پر مبنی قرار دیاگیا۔
7تا 9؍جون 1940ء کو منعقد بارھویں اجلاس عام کے صدارتی خطاب میں صدر جمعیت مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے کہا کہ ہندستان کی آزادی سے فلسطین بھی آزاد ہوگا۔
31؍مارچ 1944ء کو وائٹ پیپر کی مدت کے اختتام کے تناظر میں، جمعیت علما نے 6؍مارچ 1944ء کو ایک اپیل جاری کرتے ہوئے 17؍مارچ 1944ء کو ملک گیر سطح پر ’’ یوم فلسطین‘‘ منانے کا اعلان کیا۔
امریکہ کے صدر فرینکلن ڈی روز ویلٹ نے امریکی یہودی تنظیم کے سینتالیسویں سالانہ کانفرنس میں 15؍اکتوبر1944ء کو خطاب کرتے ہوئے فلسطین میں مزید یہودی آبادی کی حمایت کا اعلان کیا۔ اسی طرح برطانوی وزیر اعظم مسٹر ونسٹن چرچل نے 17؍نومبر1944ء کو برطانوی پارلیمنٹ میں ایک بیان دیتے ہوئے یہودی قومی گھر کی حمایت اور خود کو یہودیوں کا مستقل دوست قرار دیا۔ جمعیت علما نے 8-9؍نومبر1944ء کو منعقد اپنی مجلس عاملہ میں ان دونوں بیانات کی مذمت کی اور انسانیت کے خلاف ایک قبیح اور بدنما دھبہ قرار دیا۔
2؍جون1945ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے شام ، لبنان اور فلسطین کے خلاف فرانس اور برطانیہ کی مسلم کش پالیسی کی مذمت کی۔
11؍جون 1945ء کو جمعیت علمائے ہند نے ایک عظیم الشان اجلاس کیا ، جس میں 22؍ جون کو یومِ ممالکِ اسلامیہ منانے کی اپیل کی۔
جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ کا ایک اجلاس18؍ 19؍ ستمبر1945ء کو ہوا، جس کی ایک تجویز میں فلسطین میں آزاد حکومت قائم کرنے کا مطالبہ کیاگیا۔
9؍اکتوبر1945ء کو جمعیت علمائے ہند کے صدر حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے مسٹر ایٹلی، مسٹر ٹرومین اور وزیر اعظم فلسطین کو بحری تار بھیج کر فلسطین میں یہودی آبادکاری پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔
2؍نومبر1917ء کو بالفور اعلامیہ سے قضیۂ فلسطین کا آغاز ہوا تھا، اسی مناسبت سے ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے 2؍نومبر1945ء کو یوم فلسطین منانے کا اعلان کیا۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں یہودیوں کی صورت حال کا جائزہ لینے اور فلسطین میں ان کی آباد کاری کے تعلق سے تحقیقات کے لیے 13؍نومبر1945ء کو اینگلو امریکن کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں تقسیم فلسطین کی سفارش کی گئی تھی۔ 13؍مئی 1946ء کو اس کمیٹی پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے صد رجمعیت حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے اسے سخت افسوس ناک قرار دیتے ہوئے 24؍مئی 1946ء فلسطین کے متعلق یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا۔
10تا 12؍جون 1946ء کو منعقد مجلس عاملہ مرکزیہ کے اجلاس میں اینگلو امریکن کمیٹی پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابل برداشت قرار دیا گیا۔
13؍جون1946ء کو اس کمیٹی کی رپورٹ سے پیداشدہ صورت حال کے تناظر میں کل فلسطین کانفرنس کرنے کا مشورہ کیا گیا۔
21؍جون1946ء کو سکریٹری عرب لیگ نے ایک تار بھیج کر آگاہ کیا کہ فلسطین کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔
21تا 24؍ستمبر1946ء کی مجلس عاملہ میں یہ طے کیا گیا کہ فلسطین سے متعلق جمعیت علما کی خدمات کو عربی، یا انگریزی میں مرتب کراکر عرب ہائی لیگ کو بھیجا جائے۔
صدر جمعیت علمائے ہند نے 17؍جون 1947ء کو یوم فلسطین منانے کا اعلان کیا۔
تقسیم ہند کے نتیجے میں پیداشدہ شدید حالات کے تناظر میں27-28؍دسمبر1947ء کو امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ کی صدارت میں لکھنو مسلم کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں فلسطین کو ناقابل تقسیم قرار دیاگیا۔
جنگ عظیم دوم کے بعد 15؍ مئی 1947ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر 106 کے تحت ’’اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی برائے فلسطین‘‘ (UNSCOP) کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کمیٹی نے فلسطین کی تقسیم کی حتمی تجویز پیش کی (جسے اقوام متحدہ کی قرارداد 181 کے طور پر جانا جاتا ہے)۔ اس میں 56 ؍فی صد رقبہ یہودی ریاست کو، 43؍فی صد عرب ریاست کو، اور یروشلم کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ اسی بنیاد پر14؍مئی 1948ء کو ’’اسرائیل‘‘ کا قیام عمل میں آیا؛ لیکن غیورعربوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔
27؍مئی 1948ء کو جمعیت علمائے ہند نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے پریس بیان میں کہا کہ فلسطین میں صرف وہاں کے باشندے ہی حکومت کا حق رکھتے ہیں۔اور6؍جون 1948ء کو عظام پاشا سکریٹری عرب لیگ کو ایک تار بھیج کر ہندستانی مسلمانوں کی طرف سے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
اسی طرح سفیر امریکہ مسٹر آصف علی کو جمعیت علما نے اس بات پر مبارک باد دی کہ انھوں نے اقوام متحدہ میں فلسطین کے مسئلے کو بہت خوبی سے پیش کیا۔



















