پیر, جولائی 13, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    کب تک بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں بیٹھی رہیں گی؟

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    دھرمستھلا، کراس ووٹنگ اور قیادت کا بحرانکرناٹک کی سیاست آخر کس سمت بڑھ رہی ہے؟

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار

    اہلِ مدارس کے لیے تعلیمی ایجوکیشن پالیسیز میں اہم فارمولے

    احوال و کوائف اور تعارف حضرت مولانا مفتی محمد شوکت علی صاحب بھاگلپوری دامت برکاتہم شیخ الحدیث : دار العلوم سعادتِ دارین ستپون ، ضلع : بھروچ ، گجرات

    بھارت فرقہ پرستی اور تعصب کی تباہی کے دہانے پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

    جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب

    تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    شہری حقوق کے تحفظ کے لیے SIR کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ضروری: مولانا محمد یاسین جہازی

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    گیروا ندی کے ساحل سے بلند ہوا ذکر و ضرب کا غلغلہ

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی

    دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندستانی جیل خانوں کے بڑھتے مسائل،توجہ کی ضرورت!

    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    ہماری نسل نو کے ایمان و تعلیم کے لیے فرشتے نہیں،رسول نہیں ،دہلی مُمبئی کے علما نہیں ، بلکہ ہمیں خود آنا ہوگا

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا بارھواں ’عوامی بیداری پروگرام‘ سمری میں کامیابی کے ساتھ منعقد؛ نوجوانوں کی فکری و تعلیمی تربیت پر زور

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    کب تک بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں بیٹھی رہیں گی؟

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    دھرمستھلا، کراس ووٹنگ اور قیادت کا بحرانکرناٹک کی سیاست آخر کس سمت بڑھ رہی ہے؟

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار

    اہلِ مدارس کے لیے تعلیمی ایجوکیشن پالیسیز میں اہم فارمولے

    احوال و کوائف اور تعارف حضرت مولانا مفتی محمد شوکت علی صاحب بھاگلپوری دامت برکاتہم شیخ الحدیث : دار العلوم سعادتِ دارین ستپون ، ضلع : بھروچ ، گجرات

    بھارت فرقہ پرستی اور تعصب کی تباہی کے دہانے پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

    جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب

    تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    شہری حقوق کے تحفظ کے لیے SIR کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ضروری: مولانا محمد یاسین جہازی

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    گیروا ندی کے ساحل سے بلند ہوا ذکر و ضرب کا غلغلہ

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی

    دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندستانی جیل خانوں کے بڑھتے مسائل،توجہ کی ضرورت!

    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    ہماری نسل نو کے ایمان و تعلیم کے لیے فرشتے نہیں،رسول نہیں ،دہلی مُمبئی کے علما نہیں ، بلکہ ہمیں خود آنا ہوگا

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا بارھواں ’عوامی بیداری پروگرام‘ سمری میں کامیابی کے ساتھ منعقد؛ نوجوانوں کی فکری و تعلیمی تربیت پر زور

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home مضامین

بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

by Md Yasin Jahazi
مارچ 16, 2026
in مضامین
0
بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟
0
SHARES
8
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

از: عبدالحلیم منصور

جمہوری سیاست میں بجٹ محض مالی اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ یہ ریاست کی ترجیحات، سماجی انصاف کے نظریے اور حکمرانی کے مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا کے حالیہ بجٹ کے بعد ایک مرتبہ پھر سیاسی بیانیہ اور حقیقت کے درمیان واضح تضاد سامنے آیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کئی رہنماؤں نے اس بجٹ کو طنزیہ انداز میں “بردرز بجٹ” قرار دیتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ حکومت نے ریاست کے وسائل صرف اقلیتوں کے لیے وقف کر دیے ہیں۔ لیکن جب بجٹ کے اصل اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو یہ دعویٰ حقیقت کے بالکل برعکس معلوم ہوتا ہے۔ریاستی بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً 4.48 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ اس کے مقابلے میں اقلیتی طبقات کے لیے مختص رقم 4,761 کروڑ روپے ہے، جو مجموعی بجٹ کا محض ایک فیصد بنتی ہے۔ اگر اسے آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو کرناٹک میں اقلیتی طبقات کی مجموعی آبادی تقریباً 16 فیصد ہے۔ اصولی طور پر اگر بجٹ کی تقسیم آبادی کے تناسب کے مطابق ہوتی تو اقلیتوں کے لیے بجٹ کا کم از کم 16 فیصد حصہ مختص ہونا چاہیے تھا۔ اس حساب سے اقلیتی فلاح و بہبود کے لیے تقریباً 70 ہزار کروڑ روپے کی رقم بنتی ہے۔حتیٰ کہ اگر اس تناسب کو کم کر کے صرف پانچ فیصد بھی مان لیا جائے تو اقلیتی طبقات کے لیے کم از کم 25 ہزار کروڑ روپے مختص ہونے چاہیے تھے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انہیں صرف 4,761 کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔ اس پس منظر میں یہ سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ جس بجٹ میں اقلیتوں کے لیے صرف ایک فیصد رقم رکھی گئی ہو، اسے کس منطق کے تحت “بردرز بجٹ” کہا جا رہا ہے؟یہ معاملہ صرف اعداد و شمار کا نہیں بلکہ سیاسی بیانیہ اور سماجی ذہن سازی کا بھی ہے۔ جب کسی بجٹ کو ایک مخصوص مذہبی شناخت کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے تو اس کا مقصد اکثر سیاسی فضا کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔ اس سے عام شہریوں میں یہ تاثر پیدا کیا جاتا ہے کہ ریاست کے وسائل کسی ایک طبقے کے حق میں جھک گئے ہیں، حالانکہ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔اگر بجٹ کی مکمل تفصیلات دیکھی جائیں تو واضح ہوتا ہے کہ حکومت نے سماج کے مختلف طبقات کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈ مختص کیے ہیں۔ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے لیے 46,500 کروڑ روپے سے زائد کی رقم رکھی گئی ہے۔ سماجی بہبود محکمہ کے تحت 15,081 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم رہائشی اسکولوں، طلبہ کے وظائف اور دیگر فلاحی اسکیموں کے لیے مختص کی گئی ہے۔ پسماندہ طبقات کے فلاحی محکمہ کے تحت کئی نئی اسکیمیں اور کارپوریشنیں قائم کی گئی ہیں، جن میں ریاست کے بڑے سماجی گروہ بھی شامل ہیں۔اس کے باوجود اقلیتوں کے لیے نسبتاً محدود فنڈ کو لے کر جو سیاسی شور برپا کیا جا رہا ہے، وہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا واقعی مسئلہ فنڈ کی مقدار ہے یا پھر سیاسی بیانیہ کی تشکیل؟ایک اور اہم پہلو گزشتہ بجٹ کے تجربات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ پچھلے مالی سال میں اقلیتوں کے لیے تقریباً 4,500 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔ مگر اس حوالے سے سنگین الزامات سامنے آئے کہ اس میں سے پچاس فیصد فنڈ بھی جاری نہیں کیا گیا۔ مزید یہ کہ جو فنڈ جاری ہوا، اس کا بھی مکمل استعمال نہیں ہو سکا۔ اس صورت حال نے اقلیتی فلاحی اسکیموں کے نفاذ پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔یہاں دو الگ الگ مسائل سامنے آتے ہیں۔ پہلا مسئلہ بجٹ میں مختص رقم کا ہے اور دوسرا مسئلہ اس رقم کے مؤثر استعمال کا۔ اگر فنڈ مختص ہونے کے باوجود بروقت جاری نہ ہو یا متعلقہ ادارے اسے استعمال نہ کر سکیں تو اس کا نقصان براہ راست ان طبقات کو پہنچتا ہے جن کے لیے یہ رقم رکھی گئی ہوتی ہے۔ اس لیے صرف سیاسی الزام تراشی سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ انتظامی سطح پر جواب دہی اور شفافیت بھی ضروری ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ اقلیتی فلاحی اسکیموں کے نفاذ میں کئی مرتبہ بیوروکریٹک رکاوٹیں، پیچیدہ قواعد اور کمزور نگرانی جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔ اگر فنڈز کے اجرا اور استعمال کے درمیان یہی خلا برقرار رہا تو بجٹ میں اعلان کی گئی اسکیمیں محض کاغذی وعدے بن کر رہ جائیں گی۔ اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف فنڈ مختص کرے بلکہ اس کے بروقت اجرا اور مؤثر استعمال کو بھی یقینی بنائے۔سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو “بردرز بجٹ” جیسی اصطلاحات دراصل ایک خاص ذہن سازی کا حصہ ہوتی ہیں۔ اس طرح کے الفاظ عوامی مباحثے کو اصل سوالات سے ہٹا کر جذباتی رخ پر لے جاتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ بجٹ میں اقلیتوں کے لیے مختص رقم نہ صرف محدود ہے بلکہ آبادی کے تناسب سے بھی بہت کم ہے۔جمہوری نظام میں بجٹ کو سماجی انصاف کے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کس مذہب یا برادری کو کیا ملا، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ ریاست کے وسائل کس حد تک پسماندہ طبقات کی ترقی اور مساوی مواقع کی فراہمی میں استعمال ہو رہے ہیں۔ اگر کوئی طبقہ تعلیمی، معاشی یا سماجی اعتبار سے پیچھے رہ گیا ہے تو اس کی مدد کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔کرناٹک کے موجودہ بجٹ پر ہونے والی بحث ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ سیاست اور حقیقت کے درمیان فاصلہ اکثر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس فاصلہ کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بجٹ کے اعداد و شمار کو جذباتی نعروں کے بجائے حقائق اور دستاویزی شواہد کی روشنی میں دیکھا جائے۔آخرکار جمہوریت کا تقاضا یہی ہے کہ ریاست کے وسائل کو انصاف اور مساوات کے اصولوں کے مطابق تقسیم کیا جائے۔ اگر اس عمل کو مذہبی یا فرقہ وارانہ زاویے سے دیکھنے کی روایت مضبوط ہوتی گئی تو نہ صرف عوامی مباحثہ کمزور ہوگا بلکہ سماجی ہم آہنگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جسے سمجھنا اور سمجھانا آج کے سیاسی ماحول میں سب سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔؀ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا کہتے ہیںجس عہد میں ہم ہیں اسے کیا کہتے ہیں

haleemmansoor@gmail.com

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

بھارت کی فرقہ وارانہ تقسیم کی مہم

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

نجات کے حصول کے لئے تین چیزوں پر عمل کرنے کی ضرورت

4 ہفتے ago
ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

4 مہینے ago

مقبول

  • کب تک بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں بیٹھی رہیں گی؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • عملی اسلام کہاں ہے……؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • حکومت اپنے شہریوں کو مشکوک کیوں بنارہی ہے؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • شہری حقوق کے تحفظ کے لیے SIR کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ضروری: مولانا محمد یاسین جہازی

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ظلم کبھی دائمی نہیں ہوتا

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.