اتوار, جولائی 26, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    اصلاح معاشرہ کانفرنس لوگائیں گڈا (22مئی 2009ء)کی ایک رپورٹ

    محمد یاسین جہازی

    پاکستان اور ہندستانی مسلمان

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    عوامی و فرقہ وارانہ اتحاد، توڑنے کی مہم

    کب تک بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں بیٹھی رہیں گی؟

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    دھرمستھلا، کراس ووٹنگ اور قیادت کا بحرانکرناٹک کی سیاست آخر کس سمت بڑھ رہی ہے؟

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار

    اہلِ مدارس کے لیے تعلیمی ایجوکیشن پالیسیز میں اہم فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    ایس آئی آر کے تعلق سے بیداررہنے کی ضرورت، غفلت نہ برتی جائے

    ایس آئی آر کے تعلق سے بیداررہنے کی ضرورت، غفلت نہ برتی جائے

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    عوامی و فرقہ وارانہ اتحاد، توڑنے کی مہم

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    شہری حقوق کے تحفظ کے لیے SIR کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ضروری: مولانا محمد یاسین جہازی

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    گیروا ندی کے ساحل سے بلند ہوا ذکر و ضرب کا غلغلہ

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    اصلاح معاشرہ کانفرنس لوگائیں گڈا (22مئی 2009ء)کی ایک رپورٹ

    محمد یاسین جہازی

    پاکستان اور ہندستانی مسلمان

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    عوامی و فرقہ وارانہ اتحاد، توڑنے کی مہم

    کب تک بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں بیٹھی رہیں گی؟

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    دھرمستھلا، کراس ووٹنگ اور قیادت کا بحرانکرناٹک کی سیاست آخر کس سمت بڑھ رہی ہے؟

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار

    اہلِ مدارس کے لیے تعلیمی ایجوکیشن پالیسیز میں اہم فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    ایس آئی آر کے تعلق سے بیداررہنے کی ضرورت، غفلت نہ برتی جائے

    ایس آئی آر کے تعلق سے بیداررہنے کی ضرورت، غفلت نہ برتی جائے

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    عوامی و فرقہ وارانہ اتحاد، توڑنے کی مہم

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    شہری حقوق کے تحفظ کے لیے SIR کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ضروری: مولانا محمد یاسین جہازی

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    گیروا ندی کے ساحل سے بلند ہوا ذکر و ضرب کا غلغلہ

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home متفرق مضامین

سلطنت آصفیہ کی ہندو نوازی

by Md Yasin Jahazi
نومبر 17, 2025
in متفرق مضامین
0
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟
0
SHARES
6
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

محترم حضرات! جمعیت علمائے ہند کی ”مشتے از نمونہ“کار گزاریوں پر سرسری نظر ڈالنے کے بعد میں اپنے اندر مسرت کی انتہا نہیں پاتا کہ آپ جیسے مخلص، آپ جیسے غم خوار، آپ جیسے قومی خدمت گزار، آپ جیسے مفکرین، آپ جیسے حاملین دین متین ہمارے دطن میں اپنا سترھواں سالانہ اجلاس منعقد کررہے ہیں، اس لیے بے جانہ ہوگا کہ میں اپنے وطن کے ماضی اور حال کی مختصر کہانی آپ کو سناکر مستقبل کے متعلق آپ کے گراں مایہ مشوروں کا طالب رہوں۔
ستمبر1948ء سے قبل یہ ملک ”سلطنت آصفیہ“ کے نام سے موسوم تھا۔ دور مغلیہ کے آخری زمانہ میں حالات پر نظر رکھ کر آصف جاہ اوّل نوراللہ مرقدہ‘ نے اس ملک کی خود مختاری کا اعلان کیا۔ اور ان کے بعد یکے بعد دیگرے اب تک چھ جانشین ہوئے۔ لیکن یہ امر قابل ذکر ہے کہ باجود اعلان خود مختاری کے آصف جاہ اوّل اور ان کے جانشینوں نے سلطنت مغلیہ کا-جب تک وہ رہی، اور کسی بھی حالت میں رہی- احترام کیا۔ اس کے فرمانوں کو سر آنکھوں پر رکھا۔ جانشینی کے واسطے اس سے سند حاصل کی۔
بانی سلطنت آصفیہ کا مذہب چوں کہ اسلام تھا، اس واسطے اس سلطنت کو عام طور سے مسلمانوں کی سلطنت کہا گیا، جس طرح کہ بڑودہ، میسور، جودھ پور، جے پور وغیرہ ریاستوں کو ہندو ریاستیں اور بھوپال، رامپور، ٹونک، خیر پور، بہاول پور کو مسلمان ریاستیں نام دیا گیا۔
شاہان آصفیہ نے یہاں کس طرح حکومت کی، متعصب مؤرخ اور افراد خواہ کچھ کہیں؛ مگر صداقت پر پردہ ڈالنا آسان نہیں۔ اور کوئی طاقت اس کو چھپا نہیں سکتی کہ بادشاہ وقت کو چھوڑ کر اعلیٰ سے اعلیٰ خدمت کا دروازہ نہ کسی کے لیے بند تھا، نہ کسی کے واسطے مخصوص تھا۔ مدارالمہام جو بادشاہ کے بعد سب سے بڑا باقتدار افسر ہوتا تھا، مسلمان بھی ہوا اور ہندو بھی اس منصب پر فائز رہا۔ مدارالمہام جاگیرات عطا کرتا تھا، منصب یعنی نسلاً بعد نسل ماہ وار جاری کرتا تھا، یومیہ اور وظائف منظور کرتا تھا، وہ بادشاہ کی طرح دربار کرتا تھا، وہ اپنے ماتحتوں،ملک کے عمائد اور جاگیرداروں کی نذریں بھی قبول کرتا تھا، اس کے دربار، یا اس کے گھر پر کوئی شخص بغیر درباری لباس کے نہیں جاسکتا تھا۔ اس کے ہاں بھی آداب و دربار کے وہی قیود تھے، جو بادشاہ کے ہاں تھے۔
میری آنکھوں نے یہ تماشہ دیکھا ہے کہ ہندو مدارالمہام کے سامنے بڑے بڑے جاگیردار امرا، عہدے دار درباری لباس میں حاضر ہیں، نذریں پیش کررہے ہیں، اور اس کی دی ہوئی خلعت کو سر آنکھوں پر رکھ رہے ہیں۔ مرحوم نظام کے خاص مصاحبین میں اگر شمس الملک ظفر جنگ منیر الملک عمادالسلطنت تھے،تو مہاراجہ سریمین السلطنت اور راجہ مرلی منوہر بھی تھے۔
محترم حضرات! اگر ہم اس سلطنت کی عدیم المثال بے تعصبی، رواداری اور بلاامتیاز مذہب و ملّت امداد اور عطایا کا جائزہ لیں، تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ اس سلطنت کے اماکن مذہبی کی تعداد49,529ہے، مسجدیں اگر5,743ہیں، تو مندر 31,889، عام سرائیں 793، اور دھرم شالے (1,363)، گردوارے (61)، آتش کدے (30) گرجے (132) ہیں۔
حکومت کے خزانے سے19پران خانوں، 58 شاستریوں، 76 بھجن خانوں کوتن خواہیں دی جاتی تھیں۔ 100 بلکہ اس سے زائد مسلمانوں کی مسجدیں، درگاہیں ایسی تھیں جن کی معاشیں اور امداد ہندوؤں کے نام تھی۔ وہی اس کے متولی اور وہی اس کے مذہبی کاموں کا انصرام کرتے تھے۔
اس سلطنت نے درگاہوں، مسجدوں، مندروں کے نام بلا امتیاز جاگیرات نسلاً بعد نسلٍ عطا کیں۔ اراضی بھی عطاہوئی اور نقد صورت میں سالانہ امداد بھی جاری کی۔
اس سلطنت کے 16 ضلعوں میں ہندوؤں کے اماکن مذہبی کے واسطے 170 جاگیردار بنائے گئے۔ 204 مواضعات جاگیر دیے گئے، اراضی الگ دی گئی، ان کی آمدنی اور نقدی ملاکے6,15,290 سالانہ آمدنی عطا ہوئی۔ مسلمانوں کے معابد کے واسطے بھی حکومت نے جاگیرات دیں، اراضی دی، نقدی معاش دی، اس کے اعداد 6,97,392 ہیں۔ پس اگر 4,898 مسلم اداروں کو امداد دی، تو 11,356 غیر مسلم ادارے بھی امداد سے مستفید ہوئے۔ ان کے علاوہ غیر مسلم معاش یاب مذہبی 1106، اور مسلم 886 تھے۔ اضلاع میں غیر مسلم منصب دار 1,349، شہر میں غیر مسلم منصب دار و وظیفہ خوار 1,680 تھے۔ صرف خاص میں جو حضور نظام کا ذاتی علاقہ تھا غیر مسلم وظیفہ خوار2,039، معاش یاب 851، اور جاگیرات میں غیر مسلم معاش یاب304 تھے۔
اب ذرا پٹہ داروں اور اجارہ داروں کی فہرست سماعت فرمائیے:
صراحت ادائی محاصل
ہندو
مسلمان
دیگر اقوام
ایک روپیہ سے ۰۵ روپیہ تک
سالانہ محاصل ادا کرنے والے
۰۵ روپیہ سے ۰۰۱ روپیہ تک // //
۰۰۱ روپیہ سے ۰۵۱ روپیہ تک // //
۰۵۱ روپیہ سے ۰۰۳ روپیہ تک // //
۰۰۳ روپیہ سے ۰۰۴ روپیہ تک // //
۰۰۴ روپیہ سے۰ ۰۵ روپیہ تک // //
۰۰۵ روپیہ سے زائد // //

۷۵۷۷۶۷
۳۸۱۰۶
۵۲۸۲۱
۳۷۰۷
۸۵۶۶
۹۹۴۳
۸۷۹۴

۳۲۱۱۵
۵۱۰۴
۷۹۷
۸۳۴
۹۲۴
۲۲۳
۹۷۲

۷۹۰۵۱
۵۹۲
۲۷
۵۳
۸۱
۶۲
۸۱
اب ذرا انعام داروں کی فہرست بھی ملاحظہ فرمائیے:
صراحت معاش یاب انعامی
ہندو
مسلمان
دیگر اقوام
ایک روپیہ سے ۰۵ روپیہ تک
سالانہ انعامی معاشی پانے والے
۰۵ روپیہ سے۰ ۰۱ روپیہ تک // //
۰۰۱ روپیہ سے۰ ۰۲ روپیہ تک // //
۰۰۲ روپیہ سے۰ ۵۲ روپیہ تک // //
۰۰۳ روپیہ سے۰ ۰۴ روپیہ تک // //
۰۰۴ روپیہ سے۰ ۰۵ روپیہ تک // //
۰۰۵ روپیہ سے زائد // //

۵۰۸۱۶
۵۶۸۴
۲۰۰۲
۸۰۴
۲۳۲
۵۵۱
۳۸۶

۶۰۱۹
۷۸۰۱
۸۰۶
۰۶۱
۳۸
۰۶
۶۷۱

۸۲۴
۶۳
۴۱
×
۱
۱
۱
اسی طرح رسوم دار بھی ایک روپے سے پانچ سو تک پانے والے ہندو 3,351 مسلمان 197 تھے۔ مالکان کارخانہ جات میں 413ہندو،144 مسلمان،225 دیگر اقوام کے لوگ تھے۔ سمستانات اسٹیٹ، پیشکاری اسٹیٹ، مال والا اسٹیٹ، راجہ رایاں وغیرہ کو چھوڑ کر -جن کی آمدنیاں پانچ لاکھ سے بارہ لاکھ تک تھیں – 599 ایسے ہندو جاگیردار بھی تھے، جن کی سالانہ آمدنی ایک ہزار سے پانچ لاکھ تک تھی۔
محترم حضرات! ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوگا کہ سلطنت آصفیہ نے ان معاملات میں مسلم اور غیر مسلم کا کوئی امتیاز روا نہیں رکھا تھا، اور بلا امتیاز مذہب و ملّت اس کے رشحات کرم سے ہر کوئی مستفید ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ یہاں ہندو، مسلمان، پارسی، عیسائی برادرانہ زندگی بسر کرتے تھے، اور اپنے اتفاق و اتحاد پر نازاں تھے۔ ان کو اپنی تہذیب پر فخر تھا۔ حتیٰ کہ فخر ہندو حیدر آباد شریمتی سروجنی نائیڈو نے مدراس کے کسی جلسہ میں اپنے اس وطن کی تہذیب اور شائستگی پر ناز کیا تھا۔ ان کے والد ڈاکٹر گہور ناتھ کے بڑے دوست ملاّ عبدالقیوم مرحوم تھے، جنھوں نے مسلمانانِ حیدر آباد میں سب سے پہلے غالباً پٹنہ کے اجلاس کانگریس میں شرکت بھی کی اور ایک بصیرت افروز تقریر بھی فرمائی۔

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

اورنگ زیب عالمگیرؒ سچائی اور پروپیگنڈه

اورنگ زیب عالمگیرؒ سچائی اور پروپیگنڈه

10 مہینے ago
نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

5 مہینے ago

مقبول

  • فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    موجودہ ہندستان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • پاکستان کا بھوت کھڑا کرکے ہندستانی مسلمانوں کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • فرقہ پرستوں کے اعتراض کا علمی و تاریخی جواب نمبر (1)

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.