استقبالیہ برائے مفتی محمد نظام الدین قاسمی
پیش کش: مولانا شمس تبریز قاسمی نائب ناظم جمعیت علمائے بسنت رائے
بموقع: تقریب استقبالیہ 10؍دسمبر2025
زیر اہتمام جمعیت علمائے بسنت رائے
الحمدُ لِلَّهِ رَبِّ العالَمِينَ، والصَّلاةُ والسَّلامُ عَلَىٰ رَسولِهِ الكَرِيم، أَمَّا بَعْدُ۔
معزز صدرِ محفل، دہلی سے تشریف لائے ڈاکٹر انیس الرحمان صاحب اور مولانا محمد یاسین جہازی صاحب،محترم علما و مفتیانِ کرام، جامعۃ الہدی جہاز قطعہ کے اراکین ، طلبا، اساتذہ اور عملہ ،جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کے ذمہ داران، معزز ائمہ و خطبا، سماجی و سیاسی شخصیات، عمر دراز بزرگوں، نوجوانوں، ساتھیو اور دور و نزدیک سے تشریف لانے ہوئے مہمانانِ گرامی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
میں اپنی بات کا آغاز نا معلوم شاعر کے اس شعر کے ساتھ کرنا چاہوں گا کہ
میں نے آواز تمہیں دی ہے بڑے ناز کے ساتھ
تم بھی آواز ملا دو مری آواز کے ساتھ
آج جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کی جانب سے جامعۃ الہدی جہاز قطعہ گڈا کی اس علمی و روحانی سرزمین پر ہم آپ سب کا صمیم قلب سے استقبال کرتے ہیں۔جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں یہ پاکیزہ اجتماع دراصل دینی حمیت، ملی اتحاد اور علمی قیادت کے احترام اور پذیرائی کا ایک حسین منظر ہے۔
اجتماع کا پس منظر
آپ لوگوں کو یہ بتا دینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آج کا یہ پروگرام خاص طور پر ہر دل عزیز و محترم عالمِ دین،و سماجی قائدحضرت مفتی محمد نظام الدین قاسمی صاحب کی آمد اور ان کے استقبالیہ کے سلسلے میں منعقد کیا گیا ہے، جنھوں نے اپنی علمی خدمات، سماجی کوششوں اور ملی درد مندی سے اس خطے کے دینی شعور کو ہمیشہ نئی توانائی عطا کی ہے۔ آج یہاں آپ سب کی تشریف آوری اس بات کی دلیل ہے کہ یہ علاقہ علما کی قدر، دین کی محبت اور ملی اتحاد کا مضبوط قلعہ ہے۔
مہمانانِ گرامی کا خیر مقدم
ہم احترام اور دل کی گہرائی کے ساتھ خوش آمدید کہتے ہیں اس اجتماع میں تشریف لائے علمائے کرام ، مفتیان عظام ،
جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کے ذمہ داران ، مختلف مساجد کے ائمہ و خطبا،سماجی و سیاسی دانشورانِ ، دور و نزدیک سے آنے والے نوجوان اور عوام اور خصوصیت کے ساتھ ہمارے مہمانِ خصوصی مفتی محمد نظام الدین صاحب کو، آپ کی شرکت اس اجتماع کی عزت اور ہماری حوصلہ افزائی ہے ۔
جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے اور جامعۃ الہدی کی کاوش
اس پروگرام کی ترتیب، ضیافت اور حسنِ انتظام میں جمعیت کے مخلص ارکان کی محنت، فکر مندی اور جامعۃ الہدی جہاز قطعہ کے اراکین کے تعاون کا بڑا حصہ ہے۔ ان کی یہ کوشش قابلِ ستائش ہے کہ انھوں نے علاقہ میں محبت، اتحاد اور دینی قیادت کے احترام کا ماحول پیدا کیا ہے ۔ اس لیےدعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مجمع کو مبارک بنائے
تمام مہمانوں کی آمد کو قبول فرمائے ، علمائے حق کی حفاظت فرمائے ، اپنے علاقہ میں اتحاد، خیر اور دینی بیداری پیدا فرمائے ، اور ہم سب کو دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے ـ آمین یا رب العالمین۔
اپنی بات اس شعر کے ساتھ ختم کرتا ہوں کہ
آپ آئے تو بہاروں نے لٹائی خوشبو
پھول تو پھول تھے کانٹوں سے بھی آئی خوشبو
وآخر دعوانا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

















