منگل, فروری 3, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    شعبان

    شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم

    باب اول در بیان انجام مداہنت

    جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ کی تاریخ

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    توہین رسالت کے مجرمین کے  خلاف کرنے کےضروری کام

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    زمانہ بدل گیا

    نشہ کی حقیقت اور اس کا علاج اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

    لمحہ مسرت میں افسردگی

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    رحم مادرمیں بیٹی کے نام ماں کا خط

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    قیام اسرائیل اور قرآن (ایک شرعی تجزیہ)

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بدلتے بھارت میں، بدلہ لینے کا پروان چڑھتا ذہن

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    جنگل کا قانون

    جنگل کا قانون

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    شعبان

    شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم

    باب اول در بیان انجام مداہنت

    جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ کی تاریخ

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    توہین رسالت کے مجرمین کے  خلاف کرنے کےضروری کام

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    زمانہ بدل گیا

    نشہ کی حقیقت اور اس کا علاج اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

    لمحہ مسرت میں افسردگی

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    رحم مادرمیں بیٹی کے نام ماں کا خط

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    قیام اسرائیل اور قرآن (ایک شرعی تجزیہ)

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بدلتے بھارت میں، بدلہ لینے کا پروان چڑھتا ذہن

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    جنگل کا قانون

    جنگل کا قانون

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اسلامیات

تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

by Md Yasin Jahazi
نومبر 6, 2025
in اسلامیات, مضامین
0
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟
0
SHARES
8
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

محمد یاسین جہازی

جنگ عظیم اول (28؍جولائی 1914-11؍نومبر1918 ) کے درمیان برطانیہ ہندستان سے فوجی اور مالی امداد طلب کی۔ چنانچہ بھارتیوں نے سوراج (خود مختاری) دینے، اور خصوصی طور پر مسلمانوں کے مقامات مقدسہ اور خلافت اسلامیہ کے تحفظ کے ساتھ پونے نو لاکھ یا گیارہ لاکھ افراد سے مدد کی۔

’’چنانچہ محکوم ہندستان نے، اور اس سرزمین نے — جس کے فرزندوں سے ہتھیار چھین لیے گئے تھے اور جن کے لیے اسلحہ کا رکھنا جرم قرار دے دیا گیا تھا — اپنے فرزندوں کی تقریباً 11 لاکھ کے قریب تعداد کو، لا کر، حاضر کر دیا؛ کہ: «یہ لیجیے، جہاں جی چاہے اُن کو لے جائیے اور اپنے مفاد کے لیے ان کی گردنیں جدا کر دیجئے۔‘‘(مسئلۂِ خلافت و جشنِ صُلح، ص؍ 3)

’’جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو اس بات کا احساس ہو چکا تھا کہ جنگ عظیم کے دوران زیادہ تر بار انھیں اٹھانا پڑا تھا۔ ہندو اپنے مذہبی عقائد کی بنا پر تشدد سے گریز کی حکمت عملی پر عمل پیرا تھے اور جنگ سے دور بھاگتے تھے۔ جنگ کے دوران وہ زیادہ تر غیر فعال رہے اور پچھلی صفوں میں غیر اہم ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔ سرکاری ریکارڈز کے مطابق انگریزوں نے 1916- 1917ء میں ایک لاکھ تیرہ ہزار، 1917ء میں دو لاکھ چوہتر ہزار اور 1918ء میں پانچ لاکھ مسلمانوں کو فوج میں لے کر محاذ جنگ پر بھیجا۔ مسلمانوں نے یہ قربانی اس توقع پر دی تھی کہ جب جنگ ختم ہوگی، تو انگریز ترکوں، ترکی، یا اسلام پر ہاتھ نہیں ڈالیں گے، اس کے علاوہ ہندستان کو آزادی بھی دیں گے۔‘‘(تحریک خلافت، میم کمال اوکے، ص/65)

چنانچہ فتح ملنے کے بعد 30؍اکتوبر1918 روف بے وزیر بحریہ اوربرطانوی وزیر البحر کالتھراپ کے دستخطو سے ایک ’’عارضی صلح ‘‘ ہوئی، جس میں خلافت اسلامیہ کو کئی حصوں میں تقسیم کردیا۔

جب مسلمانوں نے یہ دیکھا کہ برطانوی سیاست کا طرز عمل ان کے وعدوں اور اعلانات کے سراسر خلاف ہے، تو وہ خواب غفلت بیدار ہوئے ۔

’’عارضی صلح کی شرائط سے ہندستان کے مسلمانوں کو بڑی مایوسی ہوئی۔ اب ان کو اندازہ ہوا کہ مستقل صلح جب ہوگی،تو نہ ترکی باقی رہے گا نہ خلیفۃ المسلمین، نہ اماکن مقدسہ نہ فلسطین، نہ بیت المقدس؛بدحواسی اور بے چارگی میں مسلمانوں نے جلسے اور تجاویز کا انبار لگا دیا۔‘‘ (تحریک خلافت، قاضی محمد عدیل عباسی، ص/77)

آل انڈیا مسلم کانفرنس

اسی سلسلہ کا ایک عظیم الشان جلسہ آل انڈیا مسلم کانفرنس کے نام سے 18/ ستمبر 1919ء کو ہوا، جس میں کئی اہم تجاویز منظور کی گئیں، ان میں سے ایک چھٹی تجویز میں 17/اکتوبر1919ء کو ہندستان بھر میں ترکی کے لیے دعا مانگنے اور جلسے کرنے کی غرض سے معین کیا گیا۔ چنانچہ اس تجویز کے مطابق متعین تاریخ پر یہ جلسہ ہوا۔ اس جلسہ میں یہ طے کیا گیا کہ حکومت نے لڑائی جیتنے کے بعد جابجا جشن منانے کاجو فیصلہ کیا ہے، اس میں مسلمان شریک نہیں ہوں گے۔ اور اس کا بائیکاٹ کریں گے۔ (شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد دوم، ص/83)

چنانچہ لکھنؤ کی مسلم کانفرنس کی تجویز اور فیصلے کے مطابق ؍17 اکتوبر 1919ء کو پورے ہندستان میں عام ہڑتال کر کے "یومِ خلافت” منانے کا اعلان کیا گیا۔اس دن پورے ملک میں جلسے ہوئے اور برطانوی حکومت کے طرزِ عمل پر اظہارِ ناراضگی کے لیے اکثر مقامات پر یہ قرارداد منظور کی گئی کہ مسلمان آئندہ جشنِ فتح میں ہرگز شریک نہ ہوں گے۔

یومِ خلافت کے منتظمین، عارف (ایڈیٹر کانگرس) اور تاج الدین کریٹر تاج جبل پور کی جانب سے یہ مشورہ دیا گیا کہ مسلمان جشنِ فتح میں شرکت کرنے کے خلاف آواز بلند کریں۔

3؍نومبر1919 کا دہلی اجلاس

اس کے بعد 3 نومبر 1919ء کو دہلی میں ایک عام جلسہ منعقد ہوا، جس کی صدارت مولانا  فضل الحسن حسرت موہانی نے فرمائی۔

اس اجلاس میں مہاتما گاندھی جی نے بھی شرکت فرمائی اور اپنی تقریر میں نہایت واضح الفاظ میں فرمایا:

’’اگر خلافت کا فیصلہ صحیح طور سے نہ ہوا تو ہندوؤں اور مسلمانوں کو صلح کی خوشی میں شریک نہیں ہونا چاہیے۔ میں اس وقت کہتا ہوں کہ 16 دسمبر کو صلح کا جشن منانے کے لیے ہندوستان بالکل شامل نہ ہوگا، جب تک خلافت کا فیصلہ نہ ہوگا۔ اگر مسلمان ہندوستان میں نہ رہتے ہوتے تو ایک بات تھی، مگر اب 21 کروڑ ہندوؤں کو 8 کروڑ مسلمانوں کے ساتھ مل کر چلنا ہے۔ اس لیے جو رنج مسلمانوں کا ہے، وہ ہندوؤں کا بھی ہے۔ لہٰذا سرکار کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے رنج و غم میں شریک ہیں، اور ہم خلافت کے فیصلے تک صلح کی خوشی میں شریک نہیں ہوں گے‘‘(مسئلہ خلافت اور جشن صلح، ص؍7)

مہاتما گاندھی کا یہ پیغام تمام ہندستان کی فضا میں گونج اٹھا، اور ہر سمت سے یہی آواز بلند ہوئی کہ ہندستان ہرگز صلح یا فتح کی خوشی میں شریک نہیں ہو سکتا۔

گاندھی جی پر الزام اور مولانا حسرت موہانی کا جواب

بعض انگلو-انڈین اخبارات، خصوصاً لاہور کے متعصب اخبار Civil and Military Gazette نے مہاتما گاندھی کے اعلان کے بعد ان پر یہ الزام لگایا کہ “مسلمان تو خاموش ہیں، خلافت کے بارے میں کچھ نہیں کہتے، مگر مسٹر گاندھی یہ شورش پھیلا رہے ہیں۔مسلمانوں کے وہم و گمان میں بھیہ یہ بات نہ تھی۔ مسٹر گاندھی نے اپنی طرف سے یہ اختراع کی ہے۔ (مسئلہ خلافت و جشن صلح، ص؍8)

اس کے جواب میں مولانا ابوالفضل حسرت موہانی نے فرمایا:

’’یہ صرف گاندھی جی کا خیال نہیں ہے بلکہ تمام ہندستانی مسلمانوں کی متفقہ آواز ہے۔ میں خود یومِ خلافت سے پہلے پورے ہندستان کا دورہ کر چکا ہوں تاکہ مسلمانوں کے عمومی رجحان کا اندازہ ہو سکے۔ ہر جگہ یہ یقین دلایا گیا کہ مسلمان صلح کی جشن کی کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ مسلمانوں کا ارادہ یہی ہے کہ جب ان پر غم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں تو وہ خوشی کی تقریبات میں کیسے شریک ہو سکتے ہیں؟‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ حتمی فیصلہ دہلی میں منعقد ہونے والی کل ہند خلافت کانفرنس میں ہوگا، تاکہ کسی کو یہ شبہ نہ رہے کہ مسلمانوں کا ارادہ کیا ہے۔

چنانچہ دہلی کی خلافت کمیٹی نے پورے ہندستان میں دعوتی تار اور خطوط روانہ کیے، اور 23 ؍ نومبر 1919ء کو خلافت کانفرنس مخصوص بہ اہلِ اسلام اور 24 ؍نومبر 1919ء کو ہندو مسلم کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کر دیا۔

مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ کا فتویٰ

اس وقت مولانا عبدالباری صاحب فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ پورے اسلامی ہند کے مسلمہ مذہبی پیشوا تھے۔ 3؍نومبر1919ء کے اسی اجلاس کے موقع پر انھوں نے شرعی نقطۂ نظر سے اس مسئلے پر فتویٰ صادر فرمایا، اور جشنِ فتح میں شرکت کو مذہبی طور پر ایک مسلمان کے لیے حرام اور ناجائز قرار دیا۔

فتویٰ حسبِ ذیل ہے:

 سوال:

اس وقت مسئلہ خلافت، ممالکِ ترکیہ اور مقاماتِ متبرکہ اسلامیہ کے متعلق برٹش گورنمنٹ اور اس کے حلفاء کے برتاؤ کو نظر کے سامنے رکھ کر، علمائے کرام  ہندستان کے مسلمانوں کا (تہنیت صلح ) کی خوشیوں میں شریک ہونا جائز اور خالی از معصیت خیال فرماتے ہیں یا نہیں؟ اور مسلمانوں کا طرز عمل اس کے متعلق کیا ہونا چاہیے ؟ امید ہے کہ جواب باصواب سے جلد مشرف فرمائیں گے۔

المستفتی محمد حسین 3؍نومبر(1919)

مولانا کا جواب  

مکرمی دام مجدُہٗ السلام علیکم،

آپ نے جو سوال ارسال کیا ہے، مختصر اس کا جواب مُرسل ہے۔ میری عادت فتوے پر دستخط کرنے کی نہیں ہے، مگر کتمِ علم بھی روا نہیں۔

جواب چند مقدموں پر موقوف ہے:

1۔      جو اُمور اس وقت حلفا نے کیے وہ شرعاً ناروا ہیں اور معصیت ہیں، کیوںکہ غیر مسلم کا قبضہ داراسلام پر اور ارضِ عرب پر استیلا ہے نصاریٰ، اور توہینِ شعائرِ اللہ کہ جس میں خلیفۃ المسلمین بھی شامل ہیں، شرعاً جائز نہیں ہے۔ بلکہ مسلمانوں کو باز رکھنا ان امور سے، اگرچہ غیر مسلم مُرتکب ہوں، لازم و فرض ہے۔

2۔     صلح کی مجلس ابھی تک ایسی تجاویز نہیں کر رہی ہے جن سے رفع معاصی کا ہو، بلکہ برقرار رکھنے پر ان معاصی کے زور دے رہی ہے، جیسا کہ اخبارات سے ظاہر ہوتا ہے۔ تو یہ صلح کسی طرح جائز نہ ہوگی، بلکہ گناہ ہوگی، جیسا کہ حدیثِ شریف میں ہے:

کُلُّ صُلْحٍ جَائِزٌ إِلَّا مَا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا

3۔      علمِ کلام و فقہ میں تصریح ہے کہ رضا بالمعصیت کبیرہ بلکہ کفر ہے۔

 ان امور کے جاننے کے بعد یہ عرض ہے کہ سوائے حالتِ اِکراہ کے یا بنیتِ نہی عن المنکر کے، کسی مسلم کو شرکتِ ایسی صلح کے جشن میں شرعاً روا نہیں ہے۔

مَنْ كَثَّرَ سَوَادَ قَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ— حدیث ہے۔ بلکہ اسی پر خوش ہونا اور اس سے راضی رہنا مِثلِ شریک ہونے کے ہے۔

حدیثِ ابوداؤد میں ہے، آں حضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إِذَا عُمِلَتِ الْخَطِيئَةُ فِي الْأَرْضِ، كَانَ مَنْ شَهِدَهَا فَكَرِهَهَا – وَقَالَ مَرَّةً: أَنْكَرَهَا – كَمَنْ غَابَ عَنْهَا، وَمَنْ غَابَ عَنْهَا فَرَضِيَهَا، كَانَ كَمَنْ شَهِدَهَا۔ (رواہ أبو داود، رقم: 4345، وصححہ الألباني)

 واللہ اعلم بحقیۃ الحال فقط

فقیر،قیامُ الدین عبدالباری غفرلہ۔ (مسئلہ خلافت و جشن صلح، ص؍12-13)

دیگر رہنماؤں کے مؤقف

آل انڈیا مسلم لیگ کی کونسل میں بھی مسلمانوں کے جشنِ فتح میں شریک نہ ہونے کے متعلق ایک قرارداد منظور کی جا چکی تھی۔

اسی طرح دہلی کے مشہور بزرگ صوفی خواجہ حسن نظامی صاحب نے بھی اس میں شرکت کو ناجائز اور حرام قرار دیا۔مسٹر سید حسین ایڈیٹر انڈیپنڈنٹ نے جشن کے بائیکاٹ کی تجویز کی حمایت کی۔تلک ہوم رول لیگ کے صدر مسٹر جوزف بپٹیسٹا، مسٹر اینڈریوز، ڈاکٹر مختار احمد انصاری وغیرہ بھی انھیں خیالات کا اظہار کرچکے تھے۔

آل انڈیا خلافت کانفرنس کی کارروائی

منعقدہ: 23-24؍نومبر 1919ء

خطبۂ صدارت از آنریبل مسٹر فضل الحق صدر خلافت کانفرنس:

حضرات! اس عام مظاہرے کی ابتدا وہ یومِ خلافت تھا جو 17 ؍اکتوبر 1919ء کو تمام ہندستان میں پورے جوش کے ساتھ منایا گیا، جس کے سلسلے میں ملک کے مختلف مقامات پر یہ آواز بلند ہوئی کہ مسلمانوں کو جشنِ صلح میں کوئی حصہ نہیں لینا چاہیے۔ اور جس جوش کے ساتھ اس آواز کی لبیک کہی گئی، وہ ہمارے دلوں کی حالت کا بین ثبوت ہے کہ کون غیرت مند مسلمان ہے جو گھر کے باہر اس جشن میں شریک ہونا گوارا کرے گا جب کہ خود اس کے گھر میں عظمتِ اسلامی کا جنازہ تیار کیا جا رہا ہے۔ درحقیقت ہم سے یہ امید کرنا کہ ہم ان حالات میں حکومت کی بزم آرائیوں میں شریک ہونا پسند کریں گے، غلطی ہے۔ کچھ بھی نہ کہیں تو مسلمان حکومت سے کہہ سکتے ہیں:

نہ چھیڑ اے نکہتِ بادِ بہاری، راہ الگ اپنی

 تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں، ہم بیزار بیٹھے ہیں

لیکن اب قطعی طور پر یہ طے کر لینا ہے کہ اس راستے میں، جو خطرات سے خالی نہیں، پہلا قدم کس طرح بڑھایا جائے تاکہ برطانوی حکومت اور اس کی مسلمان رعایا کے درمیان ان معاملات کا تصفیہ ہوسکے، جو بلا مبالغہ مسلمانوں کے لیے سوہانِ روح ہو گئے ہیں۔

 خلافت کانفرنس میں عدمِ شرکتِ جشنِ صلح کا ریزولوشن باتفاق پاس ہو چکا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ تمام ہندستان کے مسلمانوں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ آئندہ جشنِ فتح میں شرکت سے قطعی الگ رہیں گے۔ کیوں کہ خلافت کانفرنس میں ہر ایک صوبے کے نمائندے اور ہر ایک طبقے اور ہر خیال کے قائم مقام موجود تھے۔

علمائے کرام کی جانب سے ریزولوشن مذکور کی تحریک پیش کی گئی اور اس کی تائید ہر خیال اور طبقے کے مسلمانوں نے کی۔  (مسئلہ خلافت و جشن صلح، ص؍17-18)

مقاطعہ جشن صلح کی تجویز

مولانا کفایت اللہ صاحب دہلی نےتجویز کی تحریک پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ:شرعاً ایسی حالت میں -کہ مقامات مقدسہ خلیفۃ المسلمین کے قبضے سے باہر ہیں اور بغداد شریف و بیت المقدس و نجف اشرف و غیرہ غیر مسلموں کے قبضے میں ہیں – مسلمان کسی طرح ایسی صلح کی خوشی میں شریک نہیں ہو سکتے، جس کا نتیجہ اس وقت تک اس کے سوا کچھ نہیں نکلا کہ امیر المومنین خلیفۃ السلمین کے قبضہ اقتدار سے ان کے ممالک نکال لیے گئے ہیں اور اسلام کی دنیوی طاقت اور اقتدار کو زائل کیا جا رہا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں طبقہ علما سے ہوں اور شرعی نقطہئ نظر سے کہتا ہوں کہ مسلمان کسی طرح ایسی صلح کی خوشی میں شریک نہیں ہو سکتے۔ اور اگر ہوں گے، تو شرعا گنہ گار ہوں گے۔

مولانا شاہ ولایت حسین صاحب الہ آبادی

نے اس ریزولیوشن کی تائید کی اور فرمایا کہ وہ حقیقت یہ صلح نہیں ہے بلکہ اسلام کے سیزده صد سالہ عظمت کا جنازہ نکالا جا رہا ہے اور ہم سے کہا جاتا ہے کہ تم اس جنازہ کے آگے خوشیاں مناتے ہوئے چلو، اسلام کے جلال وجبروت کو زخمی کیا جاچکا ہے اور اب ہم سے یہ کہا جاتا ہے کہ اس لاش کو اپنے پاؤں سے خوب پامال کرو، اسلام کی قبر تیار ہوچکی ہے اور ہم سے صلح کی خوشی کی صورت میں کہا جاتا ہے کہ اس کو بڑے تزک و احتشام اور بڑی دھوم دھام  سے آتش بازباں چھوڑنے،  باجا بجانے اور ہر طرح کی خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہوئے تیار شدہ قبر میں جاکر اپنے ہاتھ سے دفن کردو، مگر مسلمان اگران میں ذرہ برابر بھی دینی حرارت اور مذہبی غیرت و حمیت باقی ہے تو وہ ہرگز ایسی صلح کی خوشی میں شریک نہ ہوں گے جو ان کی بربادی و تباہی پر منائی جاتی ہے۔

مولانا شاہ ولایت حسین صاحب الہ آبادی کے بعد بہت سے ممتاز و مقتدر علماء اور لیڈران نے اس ریزولیوشن کی تائید کی ، مثلا نواب حاجی محمد موسی خاں صاحب شروانی، مولانا محمد داود صاحب امرتسری، مسٹر محمد حسین بریشرمیرٹھ ، مولانا فاخر صاحب الہ آباد ی، سیٹھ میاں محمد حاجی جان محمد صاحب چھوٹانی بمبئی، قاری عباس حسین صاحب ایڈیٹر قوم، مہاتما گاندھی اور بہت سے ہر اک صوبہ کے ممتاز قائم قام حضرات نے بھی پر جوش تقریروں کے ساتھ تائید مزید کی

مولانا داؤد صاحب امرتسری

مولانا داؤد صاحب امرتسری نے فرمایا کہ صلح نے جو مصیبت ہم پر ڈھائی ہے اس کو دیکھ  کر میں  کہتا ہوں کہ مسلمانوں کے لیئے جشن فتح کی شرکت مذہبا حرام ہے

مسٹر محمد حسین صاحب

مسٹر  محمد حسین صاحب بیرسٹر ایٹ لا میرٹھ نے فرمایا کہ اب تک مسلمان حضرت امام حسین کی شہادت کا ماتم کرتے آئے ہیں؛ مگر اب جب کہ اسلام کو شہید کرنے کے منصوبے ہو رہے ہیں، تو ہمیں بجائے جشن فتح میں شریک ہونے کے ماتم کرنا چاہیے ۔

مولانا فاخر صاحب

مولانا فاخر صاحب نے فرمایا کہ مسلمانوں کے لیے یہ سوچنے کا وقت ہے کہ ہمیں قیامت کے دن رسول خدا کے سامنے جانا ہوگا۔ ہمیں اس  دن کے لیے اپنی سرخ روئی کا سامان کرنا چاہیے، اور یہ سمجھ کر فتح کی خوشی میں شریک ہونے نہ ہونے کا فیصلہ کرنا چاہیے، اور فرمایا

یہ صلح وہ ہے جس کے مطابق ہمارا ور ہمارے مذہب کا خاتمہ کیا جارہاہے، اس لیے ہم اس میں قطعا شریک نہیں ہوسکتے۔

اس قدر ممتاز اور سربرآوردہ حضرات کی تائید کے بعد ریزولیوشن پاس ہوا، جو حسب ذیل ہے:

”یہ جلسہ ان دل دوز واقعات کو پیش نظر رکھ کر- جو سلطنت ترکی، خلافت، مقامات مقدس اور سلطنت ایران کے متعلق اس صلح کے نتیجے کے طور پر پیش آئے- مذہبی نقطہئ نظر سے تجویز کرتا ہے کہ ہندستان کے مسلمانوں کو جشن فتح میں کوئی حصہ نہ لینا چاہیے۔“

اس ریزولیوشن کے علاوہ دوسرے دن تمام ہندستان اور ہندستان کے ہر اک صوبے کے ممتاز علمائے کران نے اس مضمون کو فتویٰ بھی شائع کردیا، جو ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔

جشن صلح کے بائیکاٹ کا فتویٰ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ چوں کہ صلح کا نفرنس معرض التوا میں پڑا ہوا ہے۔ مقامات مقدسہ خطرے میں ہیں۔ بیت المقدس اور بغداد شریف غیر مسلموں کے قبضے میں ہیں۔ مسلمانوں کے قبضے سے مرکز خلافت، یعنی قسطنطنیہ کو نکالنے کی تدابیر پیہم ہو رہی ہیں۔ کیا بحالات موجودہ مسلمانوں کو جشن صلح، یا فتح کی خوشی میں شریک ہونا جائز ہے؟ خصوصاً جب کہ خلافت کے اقتدار زائل ہونے اور حرمین شریفین کی حرمت زائل ہونے اور ان پر غیر مسلم سیادت قائم ہونے کا جاں کاہ خطرہ پیش نظر ہے؟

المستفتی: آصف علی سکریٹری خلافت کمیٹی دہلی۔

جواب

بحالات موجودہ مسلمانوں کو تا وقتیکہ معاملات کا فیصلہ شرعی نقطہئ نظر سے ان کے جذبات کے موافق نہ ہو جائے، جشن صلح، یا فتح کی خوشی اور مسرت میں شریک ہونا قطعا ناجائز ہے۔

فقط۔محمد کفایت اللہ غفرلہ

علمائے کرام کے تائیدی دستخط

الجواب صحیح: احمد سعید واعظ۔ محمد انیس عفا اللہ عنہ نگرامی۔ المجیب  مصیب :خواجہ غلام نظام الدین قادری مفتی بدایونی۔ ذالک کذالک :سید محمد فاخر بیخود فخری اجملی الہ آبادی۔ الجواب صحیح: سید کمال الدین احمد جعفری الہ آباد۔ الجواب صواب: محمد قدیر بخش عفا اللہ عنہ۔ مولوی تاج محمد امروت۔اجاب من اصاب: محمد ابراہیم عفی عنہ انجمن اسلامیہ دربھنگہ۔ بے شک ناجائز: خدا بخش مظفر پوری۔صح الجواب :محمد سلامت اللہ فرنگی محلی لکھنوی ۔الجواب صحیح : محمد امام صاحب زادہ حضرت پیر صاحب علم سندھ۔ الجواب مطابق بالکتاب والسنۃ : اسد اللہ حسینی کھڑی سندھی۔ الجواب صحیح :مولا بخش مدرس تقویۃ الاسلام امرتسر۔الجواب صحیح: عبدہ ابراہیم سیالکوئی۔الجواب صحیح: العبد الاثیم محمد عبد الحکیم المدرس الثانی مدرسہ انوار العلوم گیا۔ صحیح الجواب : محمد صادق عفی عنہ کراچی۔

اندریں حالت کسی مسلمان کو جشن صلح میں شریک ہونا قطعی ناجائز اور حرام ہے۔ جو شریک ہو، وہ وعید من کثر سواد قوم فہو منھم میں داخل ہے، اور اس سے ہر ایک مسلم صادق کو قطع تعلق کرنا چاہیے: سید محمد داؤد غزنوی امرتسر۔  جواب صحیح ہے: عاجز سید اسماعیل غزنوی امرتسر۔

بحدیث المسلمون کرجل واحد اشتکی عینہ اشتکی کلہ الحدیث:  ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری۔ من اجاب اصاب: محمد عبد اللہ عفی عنہ۔ (مسئلہ خلافت و جشن صلح، ص؍21-22) مطبوعہ جے اینڈ پریس دہلی۔

23؍نومبر1919ء کے اجلاس میں گاندھی جی کی تقریر

اس اجلاس میں گاندھی جی نے بھی خطاب فرمایا ۔ انھوں نے کہا کہ

ہندوؤں کا مسئلہ خلافت میں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہونا تقاضائے انسانیت واخوت کی بنا پر ہے، جو صلح آٹھ کروڑ مسلمانوں کے لیے طمانینت بخش نہیں  ہے، وہ بیس کروڑ ہندووں کے لیے بھی نہیں ہوسکتی۔ جرمنی، بلغاریہ، آسٹریا کے اتحادیوں نے جو کیا ہے، وہ سب کو معلوم ہے، اب اتحادی جو کچھ ٹرکی کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں، وہ ہندستان والوں کو معلوم ہونا چا ہیے۔جب تک یہ معلوم نہ ہوگا اس وقت تک اہل ہند صلح کی خوشی میں شامل نہیں ہوسکتے۔

آگے چل کر گاندھی جی نے اس کی بھی تشریح کی کہ اس معاملہ میں ہندو مسلمان بھائیوں سے کوئی سمجھوتہ نہ کرنا چاہیے۔ آپ خود ان کی روش سے خوش ہوکر جو چاہیں کریں، مگر ہند و بلاشرط آپ کے ساتھ ہوں گے،کیوں کہ وہ آپ کے جذبات سے بھی ہمدردی رکھتے ہیں۔‘‘

24؍نومبر1919ء کی کانفرنس کی کارروائی

24؍ نومبر کی ہندومسلم کانفرنس میں بھی، جس کے صدر مہاتما  گاندھی جی تھے ،حاذق الملک حکیم محمداجمل خاں صاحب نے عدم شرکت جشن فتح  کا ریزولیوشن پیش کیا اور سوامی شردھانند، پنڈت کرشن کانت مالوی، مسٹربومن جی، مسٹر سید حسین ایڈیٹر انڈی پینڈنٹ،  مولانا آزاد سبحانی اور دیگر مقتدر اصحاب کی پر زور تائیدوں سے پاس ہوا۔

ہند ومسلم کانفرنس کا ریزولیوشن

مسلمانوں اور غیر مسلموں کا نمائندہ جلسہ، جس کی غرض انعقاد یہ ہے کہ خلافت کے مسئلہ پر غود کیا جائے، یہ رائے رکھتا ہے کہ خلافت کا مسئلہ جو ضابطہ صلح کا ایک جزو ہے اور جس سے ہندستان کے آٹھ  کروڑ مسلمانوں کے مفاد کو نقصان پہنچا ہے اس لیے ایک قومی سوال ہے ، جو اس وقت غیر فیصل شدہ ہے، اس لیے ہندستانیوں کے لیے یہ نا ممکن ہے کہ جشن صلح میں جو عنقریب ہونے والا ہے شریک ہوں۔

اور یہ جلسہ ہز ایکس لینسی وائسرائے سے درخواست کرتا ہے کہ صلح کے جشن کو خلافت کے مسئلہ کے باعزت اور قابل اطمینان فیصلہ تک ملتوی کر دیا جائے۔‘‘ (مسئلۂ خلافت و جشن صلح، ص؍23)

24؍نومبر1919ء کے اجلاس میں گاندھی جی کا صدارتی خطاب

دوسرے دن آل انڈیا ہندو مسلم خلافت کانفرنس میں مہاتما گاندھی نے اپنے صدارتی ایڈریس میں پھر جشن فتح کی شرکت کے متعلق فرمایا کہ

’’ اب عملی کام کرنے کا وقت آگیا ہے، کیوں کہ ان دنوں میں صلح کی خوشیاں منائے جانے کا فیصلہ ہوا، مگر میں محسوس کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میرے ساتھ ہی اپ سب بھائی یہ محسوس کرتے ہوں گے کہ دنیا کے لیے خواہ یہ صلح صلح ہو؛ مگر ہندستانیوں کے لیے یہ صلح نہیں ہے۔ کوئی ہندستانی بھی اس صلح سے مطمئن نہیں ہوسکتا، کیوں کہ ابھی ترکی کی قسمت کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ اس کے ساتھ آٹھ کروڑ مسلمانوں کے دل وابستہ ہیں، اس لیے 20 کروڑ ہندو بھی ان کے ساتھ ہیں اور جس جشن فتح میں آٹھ کروڑ مسلمان نہ ہوں گے، اس میں 20 کروڑ ہندو بھی شریک نہیں ہوسکتے۔ ہندوؤں، عیسائیوں، یہودیوں، پارسیوں اور تمام اقوام کو جو ہندستان میں رہتی ہیں، لازم ہے کہ جشن فتح میں شریک نہ ہو؛ کیوں کہ مسلمان بھائیوں کی خلافت کانفرنس نے جشن کی شرکت سے انکار کر دیا ہے، اس لیے ہم کو ان کا ساتھ دینا چاہیے؛ کیوں کہ وہ ہم سب کے بھائی ہیں اور خلافت کا سوال انصاف پر مبنی ہے، اس لیے ہمیں انصاف کا ساتھ دینا چاہیے۔‘‘ (مسئلہ خلافت و جشن صلح، ص؍24-25)

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

ووٹ کی شرعی حیثیت اور ہماری قومی و ملی ذمہ داریاں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

مصورانہ اسلوب

2 ہفتے ago
رحم مادر میں بیٹی کے نام ماں کا خط

رحم مادر میں بیٹی کے نام ماں کا خط

4 مہینے ago

مقبول

  • تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    شعبان

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ کی تاریخ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • توہین رسالت کے مجرمین کے  خلاف کرنے کےضروری کام

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • زمانہ بدل گیا

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.