!از۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
بابری مسجد کی شہادت کی ۳۳ ویں برسی پر مرشد آباد میں ہمایوں کبیر کی جانب سے بابری مسجد کی طرز پر مسجد کی سنگِ بنیاد رکھ دینا محض اعلان یا نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی قدم ہے جس نے ریاست، قوم اور سیاسی ماحول میں ایسی شدت پیدا کردی ہے جس کے دور رس نتائج سے آنکھیں بند کرنا ممکن نہیں۔ یہ منظر کہ ہزاروں نوجوان اور مرد ’’جذبات کے ہیجان‘‘ میں اینٹیں سروں پر اٹھائے اس تقریب میں شریک ہوئے، ایک طرف مسلمانوں کے زخمی احساسات اور بابری مسجد سے جڑی ہوئی تڑپ کی داستان سناتا ہے، لیکن دوسری جانب سیاسی شطرنج کی وہ بساط بھی سامنے لاتا ہے جس میں مسلمان بارہا صرف مہرہ بنتے آئے ہیں۔ ہمایوں کبیر کے اس اقدام کے بعد مسلم معاشرہ منقسم ہوچکا ہے، ایک طبقہ اسے ایمانی غیرت، دینی شناخت اور بابری مسجد کی یاد کو زندہ رکھنے کا عنوان قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اسے ’’مسجد ضرار‘‘ اور ایک کھلی سیاسی سازش کے طور پر دیکھ رہا ہے، اس بنا پر کہ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب 2027کے انتخابات کی تیاری میں بنگال کی سیاست پولرائزیشن کے دہانے پر کھڑی ہے اور ممتا بنرجی ہندتوادی سیاست کے سامنے مضبوط چٹان بنی ہوئی ہیں۔ بعض طنزیہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ہمایوں واقعی ’’کبیر‘‘ ہیں تو بنگال کا چکر چھوڑیں، دہلی پہنچیں، پھر دہلی سے آقا کا فرمان لے کر یوپی جائیں اور قسم اٹھائیں کہ ’’مسجد وہیں بنائیں گے جہاں تھی‘‘۔ دوسری طرف کچھ لوگوں کا خدشہ ہے کہ ہمایوں کے پیچھے مکمل حمایت ہندتوادی تنظیموں اور پارٹیوں کی ہے، جبھی تو وہ کھلے عام ممتا کو چیلنج کرکے اور مسلم رائے عامہ اور ریاست کے اہم علما کی رائے کے خلاف جاکر سنگِ بنیاد رکھ کر آئے، اور یہ تاثر بھی تقویت پکڑ رہا ہے کہ بابری مسجد کے نام پر مسلمانوں کو جذباتی طور پر مشتعل کرکے مذہبی تقسیم کو بڑھانا اور پھر اس تقسیم کے ذریعے ہندو ووٹ کو متحد کرنا وہ راستہ ہے جس سے بی جے پی کے لیے اقتدار کی راہ آسان ہوسکتی ہے۔ ہمایوں کبیر کی سیاسی تاریخ اس خدشے کو مزید سنگین بناتی ہے، کیونکہ ان کا سیاسی سفر اصولی وابستگی کے بجائے مفاد پرستی پر مشتمل رہا ہے، کبھی کانگریس، کبھی ٹی ایم سی، پھر بی جے پی، پھر دوبارہ ٹی ایم سی، اور اب معطلی کے بعد ۲۲ دسمبر کو نئی پارٹی کا اعلان؛ ایسے شخص سے یہ توقع کرنا کہ وہ اچانک مسجد کی تعمیر کے نام پر دین کے دیوانے بن گئے ہیں اور مسلمانوں کی دنیا میں ایک نیا نجات دہندہ بن کر ابھرے ہیں، حقیقت سے زیادہ سادگی کہلائے گی۔ اصل سوال یہ نہیں کہ مسجد بننی چاہیے یا نہیں،مسلمانوں کی سرزمین پر مسجد بننے پر کسی کو اعتراض نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ اس کی نیت کیا ہے، اس کے پیچھے قوتیں کیا ہیں اور اس کے نتائج کس کے حق میں جائیں گے؟ اگر یہ مسجد امت کو متحد کرے، علم و اخلاق کا مرکز بنے، دینی خدمات، تعلیم اور اجتماعیت کا گہوارہ بنے تو یقیناً یہ خیر ہے، لیکن اگر اس کے ذریعے پولرائزیشن بڑھے، مسلمان جذبات کی بنیاد پر سیاسی ایجنڈوں کے لیے استعمال ہوں، اور خون خرابے کی فضا پروان چڑھے تو اس کے نتائج انتہائی خوفناک ہوں گے، اور پھر نقصان ان رہنماؤں کو نہیں ہوگا جو تصاویر کھنچوا کر گاڑیوں میں بیٹھ کر نکل جاتے ہیں بلکہ ان گھروں کو ہوگا جن کے بیٹے جذبات میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔ مسجد اللہ کی عبادت گاہ ہے، سیاست، انتقام یا طاقت کے اظہار کا اسٹیج نہیں، اور قرآن کا تصور بالکل واضح ہے کہ مسجد وہ ہے جو اللہ کے تقویٰ، خیر اور امت کی وحدت کے لیے بنے۔۔۔ لیکن دوسری طرف وہ مسجد جو اختلاف، سیاست یا فتنہ کے لیے بنے وہ ’’مسجد ضرار‘‘ کہلاتی ہے ایسی مسجد امت کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔ آج سنگِ بنیاد رکھا جا چکا ہے، جذبات کی آگ بھڑک چکی ہے، ویڈیوز اور سوشل میڈیا نے اسے ایک فتوحات جیسے واقعے میں بدل دیا ہے، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ امتیں جلسوں اور نعروں سے نہیں بلکہ حکمت اور اجتماعی بصیرت سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر یہ قدم واقعی خیر کے لیے ہے تو اس کے نتائج وقت ثابت کرے گا، لیکن اگر یہ سیاسی جال ہے تو ہمیں یہی سوچنا ہوگا کہ ہم پھر کب سیکھیں گے؟ کیا ہم ہمیشہ جذبات سے کھیلنے والوں کے ہاتھوں استعمال ہوتے رہیں گے؟ اس لمحے امت کے اہلِ فکر، علماء، سماجی قائدین اور دانش مندوں کی ذمہ داری بہت بھاری ہے کہ وہ حقائق کو دیکھیں، قوم کو جذباتیت نہیں حکمت فراہم کریں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسلمان کسی سیاسی منصوبے کا ایندھن نہ بنیں۔ بابری مسجد کا زخم ہمارے دلوں میں رہے گا، لیکن اگر زخم کے نام پر ہمیں بار بار سیاسی قربان گاہ پر دھکیلا جائے تو یہ غم نہیں بلکہ غفلت ہے۔ مسجد عبادت کے لیے ہوتی ہے، سیاست کے لیے نہیں اور امت کے لیے اصل کامیابی یہی ہے کہ وہ ہر قدم جذبات سے نہیں بلکہ عقل اور ایمان کی روشنی میں اٹھائے۔



















