جمعہ, اپریل 10, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    ہندستان فرقہ پرستی کی راہ پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    امت مسلمہ پر یلغار

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    فرقہ پرست ہندو استھان میں بدلتا بھارت

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت کی فرقہ وارانہ تقسیم کی مہم

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    ہندستان فرقہ پرستی کی راہ پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    امت مسلمہ پر یلغار

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    فرقہ پرست ہندو استھان میں بدلتا بھارت

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت کی فرقہ وارانہ تقسیم کی مہم

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home مضامین

مسجد ضرار کی بنیاد

by Md Yasin Jahazi
دسمبر 10, 2025
in مضامین
0
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟
0
SHARES
7
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

!از۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327

بابری مسجد کی شہادت کی ۳۳ ویں برسی پر مرشد آباد میں ہمایوں کبیر کی جانب سے بابری مسجد کی طرز پر مسجد کی سنگِ بنیاد رکھ دینا محض اعلان یا نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی قدم ہے جس نے ریاست، قوم اور سیاسی ماحول میں ایسی شدت پیدا کردی ہے جس کے دور رس نتائج سے آنکھیں بند کرنا ممکن نہیں۔ یہ منظر کہ ہزاروں نوجوان اور مرد ’’جذبات کے ہیجان‘‘ میں اینٹیں سروں پر اٹھائے اس تقریب میں شریک ہوئے، ایک طرف مسلمانوں کے زخمی احساسات اور بابری مسجد سے جڑی ہوئی تڑپ کی داستان سناتا ہے، لیکن دوسری جانب سیاسی شطرنج کی وہ بساط بھی سامنے لاتا ہے جس میں مسلمان بارہا صرف مہرہ بنتے آئے ہیں۔ ہمایوں کبیر کے اس اقدام کے بعد مسلم معاشرہ منقسم ہوچکا ہے، ایک طبقہ اسے ایمانی غیرت، دینی شناخت اور بابری مسجد کی یاد کو زندہ رکھنے کا عنوان قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اسے ’’مسجد ضرار‘‘ اور ایک کھلی سیاسی سازش کے طور پر دیکھ رہا ہے، اس بنا پر کہ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب 2027کے انتخابات کی تیاری میں بنگال کی سیاست پولرائزیشن کے دہانے پر کھڑی ہے اور ممتا بنرجی ہندتوادی سیاست کے سامنے مضبوط چٹان بنی ہوئی ہیں۔ بعض طنزیہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ہمایوں واقعی ’’کبیر‘‘ ہیں تو بنگال کا چکر چھوڑیں، دہلی پہنچیں، پھر دہلی سے آقا کا فرمان لے کر یوپی جائیں اور قسم اٹھائیں کہ ’’مسجد وہیں بنائیں گے جہاں تھی‘‘۔ دوسری طرف کچھ لوگوں کا خدشہ ہے کہ ہمایوں کے پیچھے مکمل حمایت ہندتوادی تنظیموں اور پارٹیوں کی ہے، جبھی تو وہ کھلے عام ممتا کو چیلنج کرکے اور مسلم رائے عامہ اور ریاست کے اہم علما کی رائے کے خلاف جاکر سنگِ بنیاد رکھ کر آئے، اور یہ تاثر بھی تقویت پکڑ رہا ہے کہ بابری مسجد کے نام پر مسلمانوں کو جذباتی طور پر مشتعل کرکے مذہبی تقسیم کو بڑھانا اور پھر اس تقسیم کے ذریعے ہندو ووٹ کو متحد کرنا وہ راستہ ہے جس سے بی جے پی کے لیے اقتدار کی راہ آسان ہوسکتی ہے۔ ہمایوں کبیر کی سیاسی تاریخ اس خدشے کو مزید سنگین بناتی ہے، کیونکہ ان کا سیاسی سفر اصولی وابستگی کے بجائے مفاد پرستی پر مشتمل رہا ہے، کبھی کانگریس، کبھی ٹی ایم سی، پھر بی جے پی، پھر دوبارہ ٹی ایم سی، اور اب معطلی کے بعد ۲۲ دسمبر کو نئی پارٹی کا اعلان؛ ایسے شخص سے یہ توقع کرنا کہ وہ اچانک مسجد کی تعمیر کے نام پر دین کے دیوانے بن گئے ہیں اور مسلمانوں کی دنیا میں ایک نیا نجات دہندہ بن کر ابھرے ہیں، حقیقت سے زیادہ سادگی کہلائے گی۔ اصل سوال یہ نہیں کہ مسجد بننی چاہیے یا نہیں،مسلمانوں کی سرزمین پر مسجد بننے پر کسی کو اعتراض نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ اس کی نیت کیا ہے، اس کے پیچھے قوتیں کیا ہیں اور اس کے نتائج کس کے حق میں جائیں گے؟ اگر یہ مسجد امت کو متحد کرے، علم و اخلاق کا مرکز بنے، دینی خدمات، تعلیم اور اجتماعیت کا گہوارہ بنے تو یقیناً یہ خیر ہے، لیکن اگر اس کے ذریعے پولرائزیشن بڑھے، مسلمان جذبات کی بنیاد پر سیاسی ایجنڈوں کے لیے استعمال ہوں، اور خون خرابے کی فضا پروان چڑھے تو اس کے نتائج انتہائی خوفناک ہوں گے، اور پھر نقصان ان رہنماؤں کو نہیں ہوگا جو تصاویر کھنچوا کر گاڑیوں میں بیٹھ کر نکل جاتے ہیں بلکہ ان گھروں کو ہوگا جن کے بیٹے جذبات میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔ مسجد اللہ کی عبادت گاہ ہے، سیاست، انتقام یا طاقت کے اظہار کا اسٹیج نہیں، اور قرآن کا تصور بالکل واضح ہے کہ مسجد وہ ہے جو اللہ کے تقویٰ، خیر اور امت کی وحدت کے لیے بنے۔۔۔ لیکن دوسری طرف وہ مسجد جو اختلاف، سیاست یا فتنہ کے لیے بنے وہ ’’مسجد ضرار‘‘ کہلاتی ہے ایسی مسجد امت کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔ آج سنگِ بنیاد رکھا جا چکا ہے، جذبات کی آگ بھڑک چکی ہے، ویڈیوز اور سوشل میڈیا نے اسے ایک فتوحات جیسے واقعے میں بدل دیا ہے، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ امتیں جلسوں اور نعروں سے نہیں بلکہ حکمت اور اجتماعی بصیرت سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر یہ قدم واقعی خیر کے لیے ہے تو اس کے نتائج وقت ثابت کرے گا، لیکن اگر یہ سیاسی جال ہے تو ہمیں یہی سوچنا ہوگا کہ ہم پھر کب سیکھیں گے؟ کیا ہم ہمیشہ جذبات سے کھیلنے والوں کے ہاتھوں استعمال ہوتے رہیں گے؟ اس لمحے امت کے اہلِ فکر، علماء، سماجی قائدین اور دانش مندوں کی ذمہ داری بہت بھاری ہے کہ وہ حقائق کو دیکھیں، قوم کو جذباتیت نہیں حکمت فراہم کریں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسلمان کسی سیاسی منصوبے کا ایندھن نہ بنیں۔ بابری مسجد کا زخم ہمارے دلوں میں رہے گا، لیکن اگر زخم کے نام پر ہمیں بار بار سیاسی قربان گاہ پر دھکیلا جائے تو یہ غم نہیں بلکہ غفلت ہے۔ مسجد عبادت کے لیے ہوتی ہے، سیاست کے لیے نہیں اور امت کے لیے اصل کامیابی یہی ہے کہ وہ ہر قدم جذبات سے نہیں بلکہ عقل اور ایمان کی روشنی میں اٹھائے۔

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
کارروائی رپورٹ سالانہ تعلیمی پروگرام جامعۃ الہدی جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ

کارروائی رپورٹ سالانہ تعلیمی پروگرام جامعۃ الہدی جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

قلمِ رواں کی ایک اور روشن کاوش

قلمِ رواں کی ایک اور روشن کاوش

5 مہینے ago
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

تحقیق وتصنیف کے زریں اصول

3 مہینے ago

مقبول

  • الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات

    حقیقی گھر کی طرف واپسی

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ہندستان فرقہ پرستی کی راہ پر

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.