مبین نعمانی متعلم دارالعلوم دیوبند
دارالعلوم دیوبند علوم کتاب وسنت کا امین، متاع دین و دانش کا نگہبان، اسلامی تعلیمات و روایات کا پاسبان، علم و عرفان کا سنگم، ہندوستان میں تحفظ دین کی اولین کوشش کا مظہر جمیل، علماء حق کے جذبہٴ ایثار وقربانی کی لازوال یادگار، اکابر کی آہ سحرگاہی و دعائے نیم شبی کا ثمرہ اور اسلام کی بقاء و تحفظ کا وہ عظیم مرکز ہے جس نے اسلامی علوم و فنون کی تعلیم و اشاعت، ملک وملت کی دینی ودنیاوی قیادت، تزکیۂ اخلاق، وعظ وتذکیر، تصنیف وتالیف، صحافت وخطابت، دعوت وارشاد اور ملک کی آزادی کے سلسلے میں جو زریں خدمات انجام دیں ہیں وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔جب ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے بعد برصغیر میں انگریزوں کا تسلط پوری طرح مضبوط ہوگیا تھا، شاطران فرنگ پورے بر صغیر پر اپنا قبضہ جما چکے تھے اور ان کے زیرِ اثر قادیانیت، عیسائی مشنری اور دیگر گمراہ کن فتنوں نے سر اٹھانا شروع کردیا تھا، جس کے باعث عام مسلمانوں کے لئے اپنا ایمان بچانا مشکل ہوتا جارہا تھا اور انگریزوں کی طرف سے رائج کی جانے والی مغربی تعلیم نے بھی مسلمانوں کے عقائد پر گہرے اثرات ڈالنے شروع کردیے تھے۔تو ایسے پُرفتن حالات میں مسلم معاشرے کی دینی، ملی اور دعوتی ضرورتوں کی تکمیل، علومِ کتاب و سنت کی حفاظت و اشاعت، دینی عقائد و شعائر کی صیانت، نت نئے فتنوں کی سرکوبی، سرمایۂ ملت کی پاسبانی اور دیگر دینی و ملی اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لئے دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا۔اس کے مؤسسین صالح، خدا رسیدہ اور صاحبِ بصیرت ہستیاں تھیں، جو عرفانِ شریعت سے آراستہ اور وقت کی نزاکتوں سے پوری طرح باخبر تھیں۔ انہوں نے درسِ نظامی میں حکیمانہ اور دوراندیشانہ ترمیم و اضافہ کرکے دارالعلوم دیوبند کے لئے ایسا جامع اور متوازن نصاب مرتب کیا، جس میں ایک طرف افراد سازی کا ملکہ موجود تھا اور دوسری طرف وقت کے فتنوں سے ٹکرانے کی فکری، علمی اور استدلالی قوت بھی بدرجۂ اتم پائی جاتی تھی۔منطق، فلسفہ، علمِ کلام، اصولِ حدیث ، اصول تفسیر ، اصول فقہ اور دیگر معاون علوم کو نصاب میں شامل رکھنا کوئی اتفاقی امر نہ تھا، بلکہ یہ اکابرِ دیوبند کی غیر معمولی بصیرت اور آنے والے خطرات کے پیشِ نظر کی گئی ایک حکیمانہ منصوبہ بندی تھی۔ماضی میں اسی نصابِ تعلیم سے ایسے نابغۂ روزگار علماء پیدا ہوئے، جن کے رسوخ فی العلم، مقامِ تحقیق اور کمالِ علم کا اعتراف پورے عالمِ اسلام نے کیا ہے۔فقہ، حدیث، تفسیر، عقائد اور ردِ باطل کے میدان میں ان اکابر کی خدمات آج بھی علمی دنیا کے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ اپنے مضبوط نظام اور متوازن نصاب کی بنا پر دارالعلوم دیوبند روزِ اوّل ہی سے اہلِ باطل کے لئے دردِ سر بنا ہوا ہے۔اکابرِ دیوبند کے تجویز کردہ اسی نصاب کے زیر سایہ تربیت پانے والے ابنائے دارالعلوم دیوبند نے ہر دور کے فتنوں کا جرأت و استقامت کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔ خواہ رافضیت و شیعیت ہو، نصرانیت و عیسائیت ہو، بابیت و بہائیت ہو یا قادیانیت، یا پھر دورِ حاضر میں جدّت اور جدیدیت کے خوش نما عنوان سے جنم لینے والے نئے فتنوں کی یلغار— دارالعلوم دیوبند کے سپوت ہر محاذ پر بے لاگ، بے خوف اور بے سمجھوتہ باطل کے خلاف سینہ سپر نظر آئے ۔آج بھی اگر اہلِ باطل کے دلوں میں کسی ادارے کا خوف رچا بسا ہوا ہے، اگر کسی نام سے ان کے ہوش اُڑ جاتے ہیں، نیندیں حرام ہو جاتی ہیں اور سازشیں دم توڑ دیتی ہیں، تو وہ دارالعلوم دیوبند اور ابنائے دارالعلوم دیوبند ہی ہیں ، اور اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس اثر و ہیبت کے پسِ پردہ سب سے بڑا کردار دارالعلوم دیوبند کے مضبوط نظام اور اس کے مدبرانہ نصابِ تعلیم کا ہے۔اس کے باوجود گزشتہ کئی برسوں سے تجدد پسند طبقہ دارالعلوم دیوبند کے نصابِ تعلیم کو ہدفِ تنقید بناتا آیا ہے۔ کبھی اسے فرسودہ کہا جاتا ہے، کبھی غیر ضروری علوم کا بوجھ قرار دیا جاتا ہے اور کبھی اسے عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے؛ لیکن ”وجودِ باری تعالیٰ“ پر حالیہ ڈیبیٹ میں حضرت مفتی شمائل صاحب کی مدلل گفتگو، مضبوط منطق اور علمِ کلام کی دقیق اصطلاحات سن کر یہی ناقدین یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ اکابرِ دیوبند کی بصیرت کتنی گہری اور ان کی منصوبہ بندی کس قدر دور رس تھی۔علم کلام میں شرح عقائد کو ممتاز مقام حاصل ہے، جو نصاب دارالعلوم دیوبند کا ایک اہم جز ہے۔ اس کتاب کو تنگ نظری کے شکار لوگ فرسودہ قرار دے کر اکابر دیوبند پر استہزاء کرتے آئے ہیں؛ لیکن حضرت مفتی شمائل صاحب کی کامیابی کے پیچھے اگر کسی کتاب کا سب سے بڑا کردار رہا ہے تو وہ یہی کتاب ہے، جس کی تیاری انہوں نے دارالعلوم دیوبند کے ایک عظیم سپوت حضرت مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب کی رہنمائی اور تربیت میں کی۔ اسی لئے اس ڈیبیٹ کی کامیابی کا کریڈٹ بالواسطہ دارالعلوم دیوبند کو جاتا ہے۔ نصابِ دارالعلوم پر اعتراض کرنے والوں کو اپنی تنگ نظری کا احساس ہورہا ہوگا۔اگرچہ وقت کے بدلتے دھارے کے ساتھ اسلوبِ بیان اور طرزِ اظہار میں تبدیلی ایک فطری تقاضا ہے، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس نصابِ تعلیم کے سائے سے باہر رہ کر فتنوں کے اس ہجوم میں فکری استحکام، علمی رسوخ اور نظریاتی مضبوطی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ یہ نصاب آج بھی حق کے متلاشیوں کے لیے سمت متعین کرنے والا چراغ اور باطل کے فکری و اعتقادی حملوں کے مقابل ایک ناقابلِ تسخیر علمی حصار کی حیثیت رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ اکابرِ دیوبند کو بہترین بدلہ عطا فرمائے، ان کی قبروں پر اپنی خاص رحمتیں نازل فرمائے اور ان کے لگائے ہوئے اس پودے کو ہمیشہ سر سبز و شاداب رکھے۔آمین



















