جمعہ, اکتوبر 16, 2026
  • Login
  • Register
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    گاندھی جی اور جمعیت علمائے ہند

    گاندھی جی اور جمعیت علمائے ہند

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    گاندھی جی اور جمعیت علمائے ہند

    گاندھی جی اور جمعیت علمائے ہند

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اسلامیات

تحریک مدح صحابہ اور جمعیت علمائے ہند

by Admin
اکتوبر 16, 2026
in اسلامیات
0
0
SHARES
9
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

محمد یاسین جہازی

تحریک مدح صحابہ اور جمعیت علمائے ہند
تاریخی پس منظر اور شیعہ سنی اختلافات کا آغاز
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت و محبت مسلمانوں کے دینی عقائد کا اہم حصہ ہے۔ ان کی مدح و ثنا اور ان کے احترام کے تحفظ کے سلسلے میں جمعیت علمائے ہند نے مختلف ادوار میں مذہبی، آئینی اور شہری حقوق کے لیے آواز اٹھائی، نیز فرقہ وارانہ کشیدگی کے موقع پر صلح، امن اور انصاف کی کوششیں بھی کیں۔
تحریک مدح صحابہ کے تاریخی پس منظر میں لکھن¶ کے محرم کے جلوسوں، مذہبی رسوم اور شیعہ سنی اختلافات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ 1902ئ میں مقبول احمد رام پوری لکھن¶ آئے اور ان کے وعظ و تقریروں کے بعد اختلافا پیدا ہوئے، جس کی وجہ سے 1903ئ میں اہل سنت نے پھول کٹورا کے نام سے اپنی کربلا الگ قائم کی۔ 1905ئ میں تعزیوں کے جلوسوں سے متعلق پابندیوں پر اختلاف ہوا،جس کے باعث 1906ئ میں شیعہ اور سنی جلوس الگ الگ راستوں سے نکلنے لگے اورپھر بعد اسی وجہ سے 1908ئ میں لکھن¶ میں فساد ہوا۔
پیگوٹ کمیشن اور مذہبی پابندیاں
حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے حکومت یوپی نے 30/اکتوبر 1908ئ کو مسٹر پیگوٹ کی صدارت میں کمیشن قائم کیا، جس نے 7/جنوری 1909ئ کو اپنی رپورٹ پیش کی۔ اس میں تعزیے کے جلوس کو شیعہ، یا سنی جلوس کے بجائے صرف تعزیے کا جلوس کہنے ، پھول کٹورا اور تال کٹورا کے جلوسوں کے لیے مشترکہ راستہ مقرر کرنے اور عشرہ¿ محرم، چہلم اور 21 /رمضان کے دنوں میں مدح صحابہ پر پابندی لگانے کی سفارش کی گئی۔ خلاف ورزی پر تعزیرات ہند کی دفعہ 298، یا کسی مناسب دفعہ کے تحت کارروائی کی گنجائش بھی رکھی گئی۔ حکومت یوپی نے یہ سفارشات نافذ کردیں، جب کہ بعض شیعہ حلقے 28/ذوالحجہ سے 8 / ربیع الاول تک پابندی چاہتے تھے۔
وادی تیراہ کا واقعہ اور جمعیت علما کا موقف
1926ئ میں وادی تیراہ کے علاقے میں اخونزادہ ملا محمود کی تقریروں کے بعد کشیدگی بڑھی اور 1927ئ میں کلایا اور مستورہ وادی میں شیعہ سنی تصادم ہوا، جس میں شیعوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کیے جانے کا ذکر ملتا ہے۔ 1928ئ میں حکومت نے شیعوں کی باقی ماندہ زمینوں کو محفوظ علاقہ قرار دیا، جب کہ مارچ 1930ئ میں ہونے والے امن معاہدے کے تحت انھیں ان کی سابقہ زمینوں پر واپس بحال کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اس صورت حال پر جمعیت علمائے ہند نے اپنے آٹھویں اجلاس عام، منعقدہ 2 تا 5/دسمبر 1927ئ میں تجویز نمبر (20) کے ذریعے رنج و افسوس کا اظہار کیا اور دونوں فریقوں سے باہمی صلح کے ذریعے اختلاف ختم کرنے کی اپیل کی، تاکہ حکومتی مداخلت سے علاقے کی آزادی متاثر نہ ہو۔
لکھنو کے شیعہ سنی اختلافات ایک طویل خاموشی کے بعد
1936ئ کے انتخابات کے دوران سیاسی رنگ اختیار کرگیا۔ مولانا مظہر علی اظہر کے بیان کے مطابق، مہاراجہ محمود آباد اور سر وزیر حسن کے خاندانوں کی باہمی رقابت اور سید علی ظہیر و چودھری خلیق الزماں کے انتخابی مقابلے نے بھی شیعہ سنی کشیدگی کو بڑھانے میں کردار ادا کیا۔
تحریک مدح صحابہ کمیٹی کا قیام اور سول نافرمانی کا آغاز
1935ئ میں 12/ربیع الاول کے جلوس محمدی میں مدح صحابہ پڑھے جانے پر سٹی مجسٹریٹ ابو طالب نقوی نے دفعہ 144 نافذ کرکے جلوس پر پابندی لگادی۔ اس کے بعد دو مسلمانوں نے احتجاجاً گرفتاری پیش کی اور مدحِ صحابہ پڑھنے پر مزید پابندیاں عائد ہونے لگیں۔ چنانچہ 16/مئی 1936ئ کو لکھنو کے تعلیم یافتہ مسلمانوں نے ایک جلسے میں مدح صحابہ کمیٹی قائم کی، جس کے صدر الحاج مولوی محمد حبیب ایڈووکیٹ، سکریٹری مولانا ظفر الملک علوی اور خازن شیخ محمد علی تاجر چکن مقرر ہوئے۔
یکم جون 1936ئ کو مجسٹریٹ نے 3/جون کو نکلنے والے جلوسِ محمدی اور مدحِ صحابہ پر پابندی کا اعلان کیا، لیکن اس کے باوجود 3/جون 1936ئ کو جلوس نکالا گیا۔ اسی دوران شیعہ حلقوں کی طرف سے تبرّا کا جلوس نکالے جانے کی اطلاعات سے کشیدگی بڑھی۔ 10/جولائی 1936ئ کو مجلس احرار اسلام نے باقاعدہ سول نافرمانی شروع کردی، جب کہ بعض تاریخی روایات میں اس کا منظم عملی آغاز 17/جولائی 1936ئ سے بتایا گیا ہے۔ اس روز ٹیلہ شاہ پیر محمد کی جامع مسجد میں جمعہ کے بعد پندرہ مسلمانوں کا ایک جتھا مدحِ صحابہ پڑھتا ہوا نکلا، جسے گرفتار کرلیا گیا۔ اس کے بعد ہر جمعہ کو گرفتاریاں ہوتی رہیں اور یہ سلسلہ نومبر 1936ئ تک جاری رہا۔ گرفتار افراد کو تین سے چھ ماہ تک قید اور جرمانوں کی سزائیں دی گئیں۔
اس دوران جمعیت علمائے ہند نے تحریک کو آئینی طریقے سے آگے بڑھایا، لیکن مسلم لیگ سے آئندہ انتخابی اتحاد اور تنظیمی مصلحتوں کے پیش نظر اس کی عملی ذمہ داری صوبائی مجلس احرار کے سپرد کردی گئی۔
17/ستمبر 1936ئ کی علما کانفرنس
تحریک کے ملک گیر پھیلا¶ کے بعد 17/ستمبر 1936ئ کو لکھنو میں ایک اہم علما کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا احمد سعید دہلوی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی صاحب، مولانا محی الدین صاحب ایڈیٹر الجمعیۃ، ابوالمحاسن حضرت مولانا محمد سجاد صاحب، امام اہل سنت حضرت مولانامحمد عبدالشکور فاروقی لکھنوی صاحب، مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی صاحب، مولانا قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند اور علامہ سید سلیمان ندوی سمیت متعدد ممتاز علما شریک ہوئے۔
کانفرنس میں اس مسئلے پر غور کیا گیا کہ مدحِ صحابہ پر حکومتی پابندی مذہبی معاملات میں مداخلت ہے یا نہیں۔ اکابر علما نے اس بات پر زور دیا کہ مدحِ صحابہ اہلِ سنت کا مذہبی حق ہے اور اسے طاقت کے ذریعے روکنے کی صورت میں اس حق کے تحفظ کے لیے جدوجہد ضروری ہوجاتی ہے۔ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی نے واضح کیا کہ مدحِ صحابہ اپنی اصل میں مستحب عمل ہے ، لیکن جب حکومت اسے ممنوع قرار دے کر مسلمانوں کو اس سے روکے تو اس پابندی کے خلاف جدوجہد واجب ہوجاتی ہے۔ کانفرنس میں آئینی اور احتجاجی طریقے سے کام کرنے والے دونوں گروہوں کو متحد رکھنے کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔
حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب،حضرت مولانا محمد سجادصاحب اورحضرت مولانا قاری محمد طیب نے بھی تحریری، یا تقریری بیانات کے ذریعے اس موقف کی تائید کی۔ اس کانفرنس نے تحریک کو مذہبی اور آئینی بنیاد فراہم کی اور اس کی ملک گیر اہمیت کو نمایاں کردیا۔
نومبر 1936ئ کی مصالحتی کوششیں اور آلسوپ کمیشن
10/نومبر 1936ئ سے یوپی اسمبلی میں مدحِ صحابہ کے مسئلے پر بحث شروع ہوئی۔ 14/ نومبر 1936ئ کو ایک وفد نے گورنر سے ملاقات کی، جس میں سنی مسلمانوں کے مطالبات پیش کیے گئے۔ گورنر نے شکایات کی تحقیق، فریقین میں مصالحت اور گرفتار افراد کی رہائی کی یقین دہانی کرائی۔ چنانچہ 19/نومبر 1936ئ کو سول نافرمانی کی تحریک عارضی طور پر ملتوی کردی گئی۔ اس وقت تک ایک ہزار سے زائد احراری رضاکار جیل جاچکے تھے۔
مصالحت کی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں، تو 10/اپریل 1937ئ کو حکومت نے آلسوپ کمیشن (Allsop Commission) قائم کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے چیئرمین جسٹس آلسوپ اور دوسرے رکن مسٹر ایچ ایس راس تھے۔ کمیشن نے 20/اپریل 1937ئ سے سنی علما، وکلا اور دیگر گواہوں کے بیانات قلم بند کیے۔ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی نے 20/اپریل کو اور مولانا عبدالشکور لکھنوی و مفتی محمد کفایت اللہ نے 21/اپریل 1937ئ کو اپنے بیانات میں واضح کیا کہ مدحِ صحابہ اہلِ سنت کا مذہبی عمل ہے اور اسے زبردستی روکنے ، یا مخصوص حالات میں اس پر پابندی لگانے سے مذہبی آزادی متاثر ہوتی ہے۔
آلسوپ کمیشن نے 15/جون 1937ئ کو اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کردی، تاہم الیکشن کی وجہ سے رپورٹ فوری طور پر شائع نہیں کی گئی ۔ بعد ازاں 10/جنوری 1938ئ کو مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی اور مفتی محمد کفایت اللہ صاحبان شیعہ سنی اختلافات کے حل کے لیے لکھنو پہنچے اور مذاکرات شروع ہوئے۔ مارچ 1938ئ میں کمیشن کی 23 صفحات پر مشتمل رپورٹ اور 28/مارچ 1938ئ کو حکومتی فیصلہ شائع ہوا۔ رپورٹ میں سابقہ پابندیوں کو حالات کے پیش نظر برقرار رکھنے اور امنِ عامہ کے لیے حکام کو مداخلت کا اختیار دینے کی حمایت کی گئی، اگرچہ حکومت نے اصولی طور پر تسلیم کیا کہ سنی مسلمانوں کو نجی اور عوامی مجالس میں خلفائے ثلاثہ کی مدح کا حق حاصل ہے۔ تاہم، وقت، مقام اور طریقہ¿ کار کی پابندیوں کے باعث یہ فیصلہ اہلِ سنت کے لیے اطمینان بخش ثابت نہ ہوا۔
1938ئ میں دوبارہ احتجاج اور سول نافرمانی
23/اپریل 1938ئ کو مفتی محمد کفایت اللہ، مولانا احمد سعید اور مولانا ظفر الملک علوی نے دیوبند میں مولانا حسین احمد مدنی کے ساتھ مشاورتی اجلاس کیا۔ اسی دوران مولانا عبدالشکور لکھنوی نے مدحِ صحابہ پر پابندی کے خلاف سخت موقف اختیار کیا اور سول نافرمانی کی دھمکی دی۔ چہلم کے موقع پر تبرّا کے اشعار پڑھے جانے اور اس کے جواب میں احتجاج کے دوران فساد ہوا، جس میں 9/افراد ہلاک، 160/زخمی، 33/گرفتار اور 9 /مکانات جل گئے۔ 25/اپریل 1938ئ کو مولانا عبدالشکور اور دیگر علما کو دفعہ 107 کے تحت ضمانت دینے کے مطالبے پر گرفتار کرلیا گیا۔
7/مئی 1938ئ کے قریب کانگریسی وزرا اور جمعیت علمائے ہند کے اکابر کی مشاورت سے مسئلے کے حل کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ ہوا، جس میں مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد اور پنڈت گووند ولبھ پنت شامل تھے۔ 20/مئی 1938ئ کو مولانا مدنی نے لکھنو پہنچ کر جیل میں سنی رہنما¶ں سے ملاقات کی اور مصالحتی کمیٹی کے فیصلے تک سول نافرمانی روکنے کی اپیل کی۔ اس اپیل پر تحریک عارضی طور پر ملتوی ہوئی۔
3/اگست 1938ئ کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے حکومت یوپی سے مطالبہ کیا کہ مدحِ صحابہ کے تسلیم شدہ حق کے استعمال میں حکام کی طرف سے عائد رکاوٹیں دور کی جائیں۔ تاہم، 17/اکتوبر 1938ئ کو متعدد اکابر علما نے مشترکہ بیان جاری کرکے حکومت کے فیصلے اور عملی پابندیوں پر سخت تنقید کی۔ مجلس احرار نے 12/اکتوبر 1938ئ کو دوبارہ سول نافرمانی کا فیصلہ کیا اور حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر 11/نومبر 1938ئ تک مسئلے کا حل نہ نکالا گیا ،تو تحریک شروع کردی جائے گی۔ 11/نومبر 1938ئ کو سول نافرمانی شروع کرنے کا فیصلہ ہوا، لیکن حکومت کی جانب سے گھروں، مسجدوں اور محافلِ میلاد میں مدحِ صحابہ کی اجازت اور عوامی جلوسوں کے متعلق غور کرنے کے اعلان کے بعد اسے عارضی طور پر ملتوی کردیا گیا۔
1939ئ کی ملک گیر سول نافرمانی اور تحریک کی کامیابی
حکومت کی جانب سے وعدوں پر عمل نہ ہونے کے باعث مولانا محمدعبدالشکور لکھنوی نے یکم محرم 1358ھ، مطابق 20/فروری 1939ئ کو لکھنو کے امین الدولہ پارک میں یوم فاروق منانے کا اعلان کیا۔ اس کے نتیجے میں مولانا محمدعبدالشکور اور ان کے رفقا گرفتار ہوئے ، جن میں مولانا ظفر الملک، حافظ محمد اسحاق، حاجی محمد کامل اور مولانا عبدالسلام شامل تھے۔ گرفتاریوں کے خلاف تحریک دوبارہ شروع ہوگئی اور روزانہ چالیس سے پچاس افراد گرفتار ہونے لگے۔
3 تا 6/مارچ 1939ئ کو جمعیت علمائے ہند کے گیارہویں اجلاسِ عام میں حکومتِ یوپی کے طرزِ عمل کی مذمت کی گئی اور سنی مسلمانوں کے مذہبی و شہری حق کی حمایت کی گئی۔ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی نے 28/فروری، یکم مارچ اور پھر 8/مارچ 1939ئ کو اپیلیں جاری کر کے مسلمانوں سے پُرامن سول نافرمانی میں حصہ لینے کی درخواست کی۔ 7/مارچ 1939ئ تک دو سو سے زائد سنی اور 27/ شیعہ افراد مختلف احتجاجی سرگرمیوں کے سلسلے میں گرفتار ہوچکے تھے۔
17/مارچ 1939ئ کو ٹیلہ شاہ پیر محمد کی تاریخی مسجد میں تقریباً چالیس ہزار مسلمانوں کی موجودگی میں چار سو کے قریب رضاکاروں نے گرفتاریاں پیش کیں۔ اسی روز ایک بڑے احتجاجی اجلاس میں مولانا محمد سجاد اور مولانا حسین احمد مدنی نے خطاب کیا۔ تحریک کے مطالبات میں مدحِ صحابہ پر پابندی کے حکم کی منسوخی اور عوامی مقامات، جلسوں اور جلوسوں میں بلاقید مدحِ صحابہ پڑھنے کی اجازت شامل تھی۔ 24/مارچ 1939ئ کو ایک اور عظیم الشان اجلاس میں 571 / افراد گرفتار ہوئے، جن میں مجلس تحفظ ناموس صحابہ اور مجلس احرار کے رضاکار شامل تھے۔ اس دوران بمبئی، کانپور، بریلی، سہارنپور، فیض آباد، سلطان پور، جون پور، غازی پور، بھاگلپور اور متعدد دیگر مقامات سے قافلے تحریک میں شرکت کے لیے پہنچے۔
21/مارچ 1939ئ کو مولانا مدنی نے 31/مارچ کو ملک گیر یومِ مدحِ صحابہ منانے کی اپیل کی۔ چنانچہ 31/مارچ 1939ئ کو مختلف مقامات پر احتجاج کیا گیا۔ اسی روز حکومتِ یوپی نے اعلان کیا کہ اہلِ سنت کو ہر سال 12/ربیع الاول کو ایک عوامی جلسے اور جلوس میں مدحِ صحابہ پڑھنے کی اجازت ہوگی، البتہ وقت، مقام اور راستہ ضلعی حکام مقرر کریں گے۔ اس اعلان کے بعد مولانا حسین احمد مدنی نے تحریک ختم کرنے کا اعلان کیا۔ مولانا محمدعبدالشکور لکھنویõ جو اس وقت ہردوئی جیل میں تھے õ نے بھی 4/اپریل 1939ئ کو سول نافرمانی ملتوی کرنے کی تائید کی۔ اس مرحلے تک دو ہزار سے زائد افراد گرفتار ہوچکے تھے۔
تاہم، 28/اپریل 1939ئ کو مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے تبرّا کی مہم کی مذمت کی۔ 27 تا 29/مئی 1939ئ کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ نے حکومت کے 31/مارچ کے اعلان کو موجودہ حالات میں غنیمت قرار دیا، لیکن اسے اہلِ سنت کے جائز مطالبات سے کم تر بھی بتایا۔ اسی اجلاس میں تبرّا کی تحریک کو غیر آئینی اور امنِ عامہ کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کی روک تھام کا مطالبہ کیا گیا۔
3/مئی 1939ئ کو حکومت کے فیصلے کے تحت مدحِ صحابہ کا جلوس نکالا گیا، جس میں تقریباً ڈھائی لاکھ افراد کی شرکت کا ذکر ملتا ہے۔ اس کے باوجود وسط مئی میں تبرّا کے جلوسوں اور شیعہ سنی تصادم کے واقعات جاری رہے۔
1940ئ اور اس کے بعد تصادم اور تحریک کا تسلسل
1939ئ کے حکومتی اعلان کے باوجود اختلافات ختم نہ ہوئے۔ تاریخی بیان کے مطابق 27/مئی 1940ئ کو عید میلاد کے موقع پر سنی مسلمانوں نے جلوس نکالنے کی کوشش کی، لیکن حکومت نے اسے روکنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں گرفتاریاں شروع ہوگئیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مدحِ صحابہ کے حق کو اصولی طور پر تسلیم کیے جانے کے باوجود اس کے عملی استعمال پر پابندیوں اور انتظامی رکاوٹوں کا مسئلہ برقرار رہا۔
جمعیت علمائے ہند کا بارھواں اجلاس عام 7 تا 9/جون 1940ئ کو مولانا حسین احمد مدنیؒ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس میں واضح کیا گیا کہ تحریک مدح صحابہ سنی مسلمانوں کی تقریباً تیس سالہ جدوجہد ہے ، جس کا مقصد مذہبی اور شہری حق حاصل کرنا تھا، نہ کہ کانگریسی حکومت کو مشکلات میں ڈالنا۔ اجلاس نے خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کی اعلانیہ مدح و ثنا کو اہل سنت کا مذہبی حق قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی قبول نہ کرنے کا اعلان کیا۔
20 اور21/اپریل 1941ئ کو جمعیت کی مجلس عاملہ نے ریاست محمود آباد میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ مظالم کی تحقیقات کے لیے مولانا محمد احمد کاظمی اور ڈاکٹر عبدالعلی پر مشتمل وفد مقرر کیا۔ 22 /اپریل 1941ئ کو مولانا حسین احمد مدنیؒ نے گورنر یوپی کو تار بھیج کر سنی مسلمانوں کو ان کے قانونی حق سے محروم کرنے اور مقابل جلوس کی اجازت دینے پر اعتراض کیا۔ 25/جون 1941ئ کو مجلس عاملہ نے تحقیقاتی وفد کے فیصلے کی توثیق کی اور تحریک کے کام کو انجمن تحفظ ناموس صحابہ، لکھن¶ کی زیر نگرانی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
ریاست محمود آباد میں وفد کو دفعہ (144) کے تحت داخلے سے روک دیا گیا، جس پر 4/ جولائی 1941ئ کو جمعیت نے احتجاجی بیان جاری کیا۔ اسی سال 4/نومبر 1941ئ کو حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ صدر جمعیت علمائے ہند نے کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ کو خپلو میں سنی مسلمانوں پر مبینہ مظالم کے خلاف تار بھیجا۔ ناظم جمعیت حضرت مولانا عبدالحلیم صدیقی صاحبؒ نے بھی کارروائی اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
1941ئ میں تحریک کا تیسرا دور
اپریل 1941ئ میں 12/ربیع الاول کے موقع پر حکومت نے شیعوں کو بھی اسی تاریخ کو جوابی جلوسِ قدحِ صحابہ نکالنے کی اجازت دے دی، جس سے لکھنو میں شدید اضطراب پیدا ہوا۔ مجلس تحفظ ناموس صحابہ کے ایک جلسے میں تقریباً بیس ہزار مسلمانوں نے مولانا کلیم اللہ الہ آبادی کے ہاتھ پر قربانی کا عہد کیا۔ مولانا کلیم اللہ الہ آبادی، غازی میاں خان اور وصی احمد گرفتار ہوئے اور شہر میں تین روزہ ہڑتال رہی۔ 12/ربیع الاول کو ڈپٹی کمشنر نے 36/گھنٹے کا کرفیو نافذ کردیا۔ عیدگاہ عیش باغ میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مدحِ صحابہ پڑھنے پر تقریباً ایک ہزار افراد گرفتار ہوئے۔ مذاکرات کی مہلت ختم ہونے کے بعد مولانا محمدعبدالشکور لکھنوی نے 4/اپریل 1941ئ کو گرفتاری پیش کی، جس کے نتیجے میں مزید تقریباً نو سو افراد گرفتار ہوئے۔ مولانا محمدعبدالشکور کو بنارس جیل منتقل کیا گیا، جہاں وہ تقریباً ڈھائی ماہ قید رہے۔
اس مرحلے پر مجلس تحفظ ناموس صحابہ، مجلس احرار اسلام اور جمعیت علمائے ہند نے مشترکہ طور پر تحریک کی قیادت سنبھالی۔ حکومت نے گرفتاریوں، جرمانوں، مکانات اور املاک کی ضبطی و نیلامی کے ذریعے تحریک کو دبانے کی کوشش کی۔ پنجاب سے آنے والے قافلوں کو روکا گیا اور مولانا ظہور احمد بگوئی و پیرزادہ مولانا زین الدین کو دفعہ 129 کے تحت گرفتار کیا گیا۔ اس کے بعد پنجاب میں بھی فوجِ محمدی کی جانب سے تحریک شروع ہوئی اور سیکڑوں افراد گرفتار ہوئے۔ تقریباً تین ماہ کی جدوجہد کے بعد نواب چھتاری اور خان بہادر غضنر اللہ کی کوششوں سے اس وعدے پر تحریک ملتوی ہوئی کہ حکومت سے مذاکرات کرکے سنی مسلمانوں کا حق بحال کرانے کی کوشش کی جائے گی۔
4 تا 7/مئی 1945ئ کو جمعیت کا چودھواں اجلاس عام منعقد ہوا، جس میں حکومت یوپی کی جانب سے مدح صحابہ پر پابندیوں کو غیر منصفانہ قرار دیا گیا۔ اجلاس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 12 /ربیع الاول کے موقع پر جلسے اور جلوس میں مدح صحابہ کی اجازت دینے کے وعدے کی خلاف ورزی ختم کی جائے۔
18/نومبر 1945ئ کو مولانا مظہر علی اظہر کے صاحب زادے قیصر مصطفیٰ ایڈووکیٹ لاہور سے ایک قافلے کے ساتھ لکھنو پہنچے۔ سہارنپور میں ان کا استقبال کیا گیا اور اگلے روز لکھنو میں مدحِ صحابہ پڑھنے پر انھیں گرفتار کرلیا گیا۔ اس واقعے سے تحریک کو دوبارہ تقویت ملی اور یوپی حکومت کو قانون میں ترمیم کرنا پڑی۔ فراہم کردہ تاریخی بیان کے مطابق، تبرّا کی سرگرمیوں کے باعث لکھنو اور مضافات میں دفعہ 144 کے نفاذ نے دونوں فریقوں کے اجتماعات کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں تبرّا کی تحریک بھی بتدریج کمزور پڑگئی۔
9 تا 11/مئی 1947ئ کو جمعیت کی مجلس عاملہ مرکزیہ نے حکومت یوپی کے دوہرے معیار پر تشویش ظاہر کی اور مطالبہ کیا کہ لکھنو اور دیگر مخصوص شہروں میں بھی وہی اصول نافذ کیے جائیں، جو صوبے کے دوسرے شہروں میں رائج تھے۔
1997ئ تا 2005ئ: بعد کے فرقہ وارانہ واقعات اور جمعیت کا کردار
آزادی کے بعد بھی شیعہ سنی اختلافات کے بعض واقعات پیش آتے رہے۔ 25/ جون 1997ئ کو محرم کے جلوسوں کے پس منظر میں لکھن¶ میں تصادم ہوا۔ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کے 4 اور 5/اکتوبر 1997ئ کے اجلاس میں اس مسئلے پر گفتگو ہوئی۔ مولانا عبدالعلیم فاروقی صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے صورت حال بیان کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ ملک کے دیگر مقامات پر بھی مدح صحابہ کانفرنسیں منعقد کی جائیں اور تبرا کے خلاف واضح موقف اختیار کیا جائے۔
28/اپریل 1999ئ کو لکھن¶ میں محرم کے جلوسوں کی تعداد اور اجازت کے تنازع نے فرقہ وارانہ تشدد کی شکل اختیار کرلی، جس میں تقریباً 40/افراد زخمی ہوئے۔ 2/مئی 1999ئ کو حضرت مولانا اسعد مدنیؒ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے پریس بیان جاری کرکے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ اس تنازع سے سیاسی فائدہ نہ اٹھایا جائے۔ انھوں نے شرپسند عناصر کی جانب سے چھوٹے صنعت کاروں کی دکانوں اور کارخانوں کو نقصان پہنچانے کی مذمت کی اور حکومت سے متاثرین کو معاوضہ دینے اور بے قصور گرفتار شدگان کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔
اعظم گڑھ کے قصبے مبارک پور میں 5/نومبر 2000ئ کو شیعہ سنی تشدد بھڑک اٹھا، جس میں کم از کم 11/افراد ہلاک اور 30/سے زائد زخمی ہوئے۔ 17/نومبر 2000ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ صدر جمعیت علمائے ہند نے حالات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انتظامیہ اور فرقہ پرست طاقتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انھوں نے دونوں مسلکوں کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ سیاسی مفادات اور فرقہ پرست عناصر کی سازشوں کا شکار نہ ہوں اور قانون کو ہاتھ میں لینے سے گریز کریں۔
20/فروری 2005ئ کو یوم عاشورا کے موقع پر لکھن¶ میں تعزیے کے جلوس کے راستے کے تنازع پر خوںریز تصادم ہوا، جس میں تین افراد ہلاک اور کم از کم 20/زخمی ہوئے۔ 21/فروری 2005ئ کو صدر جمعیت علمائے ہند مولانا ارشد مدنی صاحب نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے شرپسندوں کی گرفتاری، ذمہ داروں کو سزا دینے اور اسے محض دوطرفہ جھگڑا قرار دینے سے گریز کا مطالبہ کیا۔
2012ئ: موضع بہاری کا واقعہ اور جمعیت کی مداخلت
ضلع مظفر نگر کے موضع بہاری میں تعزیے اور قبرستان کے پرانے تنازع پر پہلے بھی کئی مرتبہ جھگڑے ہوچکے تھے۔ 28/اپریل 2012ئ کو ایک حملے میں آٹھ افراد زخمی ہوئے۔ 30/اپریل 2012ئ کو جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی مولانا محمود مدنی صاحب جائے وقوعہ پر پہنچے اور ضلع انتظامیہ کے اعلیٰ افسران سے غیر جانب دارانہ کارروائی اور امن و امان کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے دونوں فریقوں کو باہمی اتحاد اور صلح کی تلقین کی اور واضح کیا کہ مسلکی اختلاف کی بنیاد پر باہم لڑنا افسوس ناک ہے۔
2025ئ: عظمت صحابہ کے تحفظ کی اپیل
11/جون 2025ئ کو جمعیت علمائے ہند کے مرکزی دفتر، مسجد عبدالنبی، نئی دہلی میں ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی صاحب نے عظمت صحابہ کے موضوع پر خطاب کیا۔ اس کا پس منظر مولانا سلمان حسینی ندوی کی جانب سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیے گئے مبینہ گستاخانہ بیان سے متعلق تنازع تھا۔ مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے لوگوں سے اپیل کی کہ صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو مؤثر جواب دیں۔
تحریک مدح صحابہ کی تاریخ محض ایک مذہبی تحریک کی داستان نہیں، بلکہ مذہبی آزادی، شہری حقوق، فرقہ وارانہ کشیدگی اور سیاسی مداخلت کے باہمی تعلق کی تاریخ بھی ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے اس پورے عرصے میں مدح صحابہ کو اہل سنت کا مذہبی حق قرار دیا، حکومتی پابندیوں کے خلاف قراردادیں منظور کیں، تحقیقاتی وفود مقرر کیے ، اعلیٰ حکام سے رابطے کیے اور اپنے اکابر کے ذریعے مفاہمت کی کوششیں جاری رکھیں۔ جمعیت کی توجہ اس امر پر رہی کہ صحابہ کرام کے احترام کے ساتھ امن، انصاف، شہری حقوق اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی سے اجتناب کو اہمیت دی جائے۔

Admin

Admin

Next Post
قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

3 مہینے ago
حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے

6 مہینے ago

مقبول

  • قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • تحریک مدح صحابہ اور جمعیت علمائے ہند

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • تدریس میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے فوائد

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بچوں کی تعلیم میں والدین اور کمیونٹی کا کردار

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • تعلیمی اور انتظامی عہدے داروں کا کردار

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • رجسٹر
  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.