اتوار, مئی 3, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    ہندستان فرقہ پرستی کی راہ پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    امت مسلمہ پر یلغار

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    سمویدا

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    مدرسہ کے بچوں کو چائلڈ لائن کے حوالے کرنے کی مذمت

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    ہندستان فرقہ پرستی کی راہ پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    امت مسلمہ پر یلغار

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    سمویدا

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    مدرسہ کے بچوں کو چائلڈ لائن کے حوالے کرنے کی مذمت

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home مضامین

محترم مولانا ابوالکلام آزاد کا خطاب

by Md Yasin Jahazi
اکتوبر 25, 2025
in مضامین
0
محترم مولانا ابوالکلام آزاد کا خطاب
0
SHARES
16
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

محترم مولانا ابوالکلام آزاد کا خطاب
(ہندوستان اور ایشیائی ممالک کے درمیان ثقافتی تعاون کے قیام کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس — نئی دہلی، 21 اگست 1949)
میں آپ سب کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے میری دعوت مختصر نوٹس پر قبول کی اور اس ابتدائی اجلاس میں شرکت فرمائی، جس کا مقصد مختلف ایشیائی ممالک کے درمیان ثقافتی تعاون کے لیے ایک تنظیم کا قیام ہے۔
میں مدت سے یہ محسوس کرتا رہا ہوں کہ ہمیں ایسے ثقافتی روابط کے فروغ اور استحکام کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ تاریخ کے ابتدائی ادوار سے لے کر مغل سلطنت کے آخری ایام تک، ہندوستان کے اپنے مشرقی و مغربی ہمسایوں سے انتہائی خوشگوار اور قریبی تعلقات رہے ہیں۔
ہمیں یاد ہے کہ مذہبی اور ثقافتی مشن ہندوستان سے نکل کر چین، جاپان، مصر اور ایشیائے کوچک (Asia Minor) تک گئے۔ ہمیں وہ تجارتی تعلقات بھی یاد ہیں جن کے ذریعے ہندوستانی تاجروں نے بازنطینی درباروں (Byzantine Courts) سے رشتے قائم کیے یا جنوب مشرقی ایشیا میں ہندوستانی تہذیب کے مراکز قائم کیے۔
جب ہم غور کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ ایسے زمانے میں ہوا جب ذرائع آمد و رفت نہایت محدود اور ابتدائی تھے، تو ان تعلقات کی قربت اور وسعت پر حیرت ہوتی ہے۔ مگر جب ہندوستان اپنی سیاسی آزادی سے محروم ہوا تو یہ رشتے کمزور پڑ گئے، اور گزشتہ ایک صدی سے ان میں صرف کبھی کبھار ہی رابطہ رہا۔
میں یقین رکھتا تھا کہ ہمیں اس کمی کو دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ اسی لیے آزادی کے فوراً بعد میں نے اس کام کا آغاز کیا۔
چند سال قبل ایران سے ایک خیر سگالی مشن کی آمد کے بعد ایک ہند۔ایران سوسائٹی قائم کی گئی، جو یقیناً ایک مثبت قدم تھا، مگر یہ کافی نہیں تھا۔ ہماری دوستی اور روابط کو صرف ایران ہی نہیں بلکہ ترکی، مشرقِ وسطیٰ، چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک تک پھیلانا ضروری ہے۔
یہ بین الاقوامی نقطۂ نظر سے بھی نہایت اہم ہے، کیونکہ اگر ہم دنیا کے مختلف حصوں میں خیر سگالی کے مضبوط حلقے قائم کر سکیں تو نفرت اور بدگمانی کے اسباب ختم ہو جائیں گے، اور ہم بین الاقوامی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گے۔
تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ ثقافتی روابط اقوام کو متحد کرنے میں سیاسی اتحادوں سے کہیں زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔ سیاسی اتحاد اکثر مفاد پرستی اور سودے بازی پر مبنی ہوتے ہیں، جبکہ ثقافتی روابط باہمی سمجھ بوجھ اور اخلاص کو گہرا کرتے ہیں۔
یہ سمجھ بوجھ آج کے دور میں اس لیے بھی ضروری ہے کہ پورے مشرق میں ایک نئی بیداری اور علمی و ثقافتی احیاء کی لہر اٹھ رہی ہے، جو ہماری توجہ اور ہمدردانہ مطالعہ کی متقاضی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں، مختلف وجوہات کی بنا پر، ہندوستان کے یورپ اور امریکہ کے ساتھ تعلقات بڑھے ہیں، مگر اب وقت آگیا ہے کہ ہم ان ممالک سے بھی گہرے روابط قائم کریں جو اس دائرے سے باہر ہیں۔
ایسی ثقافتی تنظیم کے قیام کی ضرورت واضح ہے، مگر مجھے اعتراف ہے کہ میں اس کے لیے ایک موزوں نام تجویز کرنے میں کچھ دقت محسوس کر رہا ہوں۔ ایک ہی ادارہ اگر تمام خطوں کو شامل کرے گا تو شاید انتظامی طور پر پیچیدہ ثابت ہو۔
جغرافیائی لحاظ سے بہتر یہی ہوگا کہ ہم دو علیحدہ انجمنیں قائم کریں:
انڈیا–مشرقِ وسطیٰ ثقافتی انجمن (India–Middle East Association)
انڈیا–جنوب مشرقی ایشیا ثقافتی انجمن (India–South East Asia Association)
اگرچہ یہ تقسیم بھی مکمل طور پر تسلی بخش نہیں ہے، کیونکہ ترکی اور افغانستان مشرقِ وسطیٰ انجمن میں شامل نہیں ہوں گے، اور اسی طرح چین، جاپان اور کوریا جنوب مشرقی ایشیا والی انجمن سے باہر رہ جائیں گے۔
اس مسئلے کا واحد مناسب حل یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہم اسے "انڈین کونسل آف کلچرل کوآپریشن” (Indian Council of Cultural Co-operation) کے نام سے قائم کریں، جس کے دو شعبے ہوں:
ایک مغربی ممالک کے لیے (جس میں افغانستان، ترکی، مصر وغیرہ شامل ہوں)،
دوسرا مشرقی ممالک کے لیے (جس میں چین، جاپان، کوریا وغیرہ شامل ہوں)۔
اس کونسل کا بنیادی مقصد ہندوستان اور ان ممالک کے درمیان ثقافتی روابط کو فروغ دینا اور مضبوط کرنا ہوگا۔ یہ ادارہ معلومات، کتب اور افرادی تبادلوں کے لیے ایک ذریعہ کے طور پر کام کرے گا۔
ہندوستان اور دیگر ممالک کے اساتذہ اور طلبہ کے مختصر مطالعاتی دورے باہمی فہم و محبت بڑھانے میں نہایت معاون ثابت ہوں گے۔ کونسل کو ایک لائبریری اور مطالعہ گاہ بھی قائم کرنی چاہیے اور رسالوں اور دیگر علمی اشاعتوں کا انتظام بھی کرنا چاہیے۔
میرا یقین ہے کہ اگر یہ تنظیم دانشوروں اور اہلِ علم طبقے کی نمائندہ غیر سرکاری انجمن ہو تو یہ سب سے بہتر طریقے سے اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔

جہاں تک اس کے قیام کا تعلق ہے، میری رائے میں سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہم ایک دستور تیار کریں، جس کے مطابق ملک کی تمام یونیورسٹیاں اور ثقافتی ادارے اس کونسل میں تین یا چار نمائندے بھیج سکیں۔ اس کے علاوہ، فن، ادب اور انسانی علوم کے ممتاز افراد کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔
یہ تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں، اور اس ابتدائی اجلاس میں فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ میں نے اس منصوبے میں دلچسپی رکھنے والے دیگر افراد سے مشورہ کیا ہے، اور میری رائے میں سب سے مناسب طریقہ یہ ہے کہ ہم آج ہی ایک عبوری کمیٹی (Interim or Provisional Committee) تشکیل دیں، جو:
کونسل کے مقاصد اور اغراض متعین کرے،
دستور کا مسودہ تیار کرے،
اور دیگر ابتدائی انتظامات کرے۔
یہ کمیٹی اپنے اراکین میں سے ایک ذیلی کمیٹی (Sub-Committee) مقرر کرے جو تمام تفصیلات پر کام کرے، اور اکتوبر تک اپنی رپورٹ مکمل کرے۔
اس کے بعد نومبر میں یونیورسٹیوں اور ثقافتی اداروں کے نمائندوں کی موجودگی میں کونسل کا باضابطہ افتتاح کیا جا سکے۔
میں ایک بار پھر آپ سب کا خیر مقدم کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ مشرق کے ممالک کے درمیان ثقافتی رشتوں کے استحکام کے لیے ہماری یہ کوششیں کامیاب ہوں۔
ابوالکلام آزاد
وزیرِ تعلیم، حکومتِ ہند
(خطاب: 21 اگست 1949، نئی دہلی)

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post

فلسفے کی تعلیم: روایت نہیں، ضرورت

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

نشہ کی حقیقت اور اس کا علاج اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

لمحہ مسرت میں افسردگی

3 مہینے ago
حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

 نبی اکرم  ﷺ کا آخری حج (حجۃ الوداع)قدم بہ قدم، منزل بہ منزل

2 ہفتے ago

مقبول

  • قصہ حجۃ الوداع

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • سمویدا

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • اب وہ جمعہ جمعہ نظر آئیں گے!!

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بچوں كے لئے دینی تعلیم كی اهمیت

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.