محترم مولانا ابوالکلام آزاد کا خطاب
(ہندوستان اور ایشیائی ممالک کے درمیان ثقافتی تعاون کے قیام کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس — نئی دہلی، 21 اگست 1949)
میں آپ سب کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے میری دعوت مختصر نوٹس پر قبول کی اور اس ابتدائی اجلاس میں شرکت فرمائی، جس کا مقصد مختلف ایشیائی ممالک کے درمیان ثقافتی تعاون کے لیے ایک تنظیم کا قیام ہے۔
میں مدت سے یہ محسوس کرتا رہا ہوں کہ ہمیں ایسے ثقافتی روابط کے فروغ اور استحکام کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ تاریخ کے ابتدائی ادوار سے لے کر مغل سلطنت کے آخری ایام تک، ہندوستان کے اپنے مشرقی و مغربی ہمسایوں سے انتہائی خوشگوار اور قریبی تعلقات رہے ہیں۔
ہمیں یاد ہے کہ مذہبی اور ثقافتی مشن ہندوستان سے نکل کر چین، جاپان، مصر اور ایشیائے کوچک (Asia Minor) تک گئے۔ ہمیں وہ تجارتی تعلقات بھی یاد ہیں جن کے ذریعے ہندوستانی تاجروں نے بازنطینی درباروں (Byzantine Courts) سے رشتے قائم کیے یا جنوب مشرقی ایشیا میں ہندوستانی تہذیب کے مراکز قائم کیے۔
جب ہم غور کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ ایسے زمانے میں ہوا جب ذرائع آمد و رفت نہایت محدود اور ابتدائی تھے، تو ان تعلقات کی قربت اور وسعت پر حیرت ہوتی ہے۔ مگر جب ہندوستان اپنی سیاسی آزادی سے محروم ہوا تو یہ رشتے کمزور پڑ گئے، اور گزشتہ ایک صدی سے ان میں صرف کبھی کبھار ہی رابطہ رہا۔
میں یقین رکھتا تھا کہ ہمیں اس کمی کو دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ اسی لیے آزادی کے فوراً بعد میں نے اس کام کا آغاز کیا۔
چند سال قبل ایران سے ایک خیر سگالی مشن کی آمد کے بعد ایک ہند۔ایران سوسائٹی قائم کی گئی، جو یقیناً ایک مثبت قدم تھا، مگر یہ کافی نہیں تھا۔ ہماری دوستی اور روابط کو صرف ایران ہی نہیں بلکہ ترکی، مشرقِ وسطیٰ، چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک تک پھیلانا ضروری ہے۔
یہ بین الاقوامی نقطۂ نظر سے بھی نہایت اہم ہے، کیونکہ اگر ہم دنیا کے مختلف حصوں میں خیر سگالی کے مضبوط حلقے قائم کر سکیں تو نفرت اور بدگمانی کے اسباب ختم ہو جائیں گے، اور ہم بین الاقوامی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گے۔
تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ ثقافتی روابط اقوام کو متحد کرنے میں سیاسی اتحادوں سے کہیں زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔ سیاسی اتحاد اکثر مفاد پرستی اور سودے بازی پر مبنی ہوتے ہیں، جبکہ ثقافتی روابط باہمی سمجھ بوجھ اور اخلاص کو گہرا کرتے ہیں۔
یہ سمجھ بوجھ آج کے دور میں اس لیے بھی ضروری ہے کہ پورے مشرق میں ایک نئی بیداری اور علمی و ثقافتی احیاء کی لہر اٹھ رہی ہے، جو ہماری توجہ اور ہمدردانہ مطالعہ کی متقاضی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں، مختلف وجوہات کی بنا پر، ہندوستان کے یورپ اور امریکہ کے ساتھ تعلقات بڑھے ہیں، مگر اب وقت آگیا ہے کہ ہم ان ممالک سے بھی گہرے روابط قائم کریں جو اس دائرے سے باہر ہیں۔
ایسی ثقافتی تنظیم کے قیام کی ضرورت واضح ہے، مگر مجھے اعتراف ہے کہ میں اس کے لیے ایک موزوں نام تجویز کرنے میں کچھ دقت محسوس کر رہا ہوں۔ ایک ہی ادارہ اگر تمام خطوں کو شامل کرے گا تو شاید انتظامی طور پر پیچیدہ ثابت ہو۔
جغرافیائی لحاظ سے بہتر یہی ہوگا کہ ہم دو علیحدہ انجمنیں قائم کریں:
انڈیا–مشرقِ وسطیٰ ثقافتی انجمن (India–Middle East Association)
انڈیا–جنوب مشرقی ایشیا ثقافتی انجمن (India–South East Asia Association)
اگرچہ یہ تقسیم بھی مکمل طور پر تسلی بخش نہیں ہے، کیونکہ ترکی اور افغانستان مشرقِ وسطیٰ انجمن میں شامل نہیں ہوں گے، اور اسی طرح چین، جاپان اور کوریا جنوب مشرقی ایشیا والی انجمن سے باہر رہ جائیں گے۔
اس مسئلے کا واحد مناسب حل یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہم اسے "انڈین کونسل آف کلچرل کوآپریشن” (Indian Council of Cultural Co-operation) کے نام سے قائم کریں، جس کے دو شعبے ہوں:
ایک مغربی ممالک کے لیے (جس میں افغانستان، ترکی، مصر وغیرہ شامل ہوں)،
دوسرا مشرقی ممالک کے لیے (جس میں چین، جاپان، کوریا وغیرہ شامل ہوں)۔
اس کونسل کا بنیادی مقصد ہندوستان اور ان ممالک کے درمیان ثقافتی روابط کو فروغ دینا اور مضبوط کرنا ہوگا۔ یہ ادارہ معلومات، کتب اور افرادی تبادلوں کے لیے ایک ذریعہ کے طور پر کام کرے گا۔
ہندوستان اور دیگر ممالک کے اساتذہ اور طلبہ کے مختصر مطالعاتی دورے باہمی فہم و محبت بڑھانے میں نہایت معاون ثابت ہوں گے۔ کونسل کو ایک لائبریری اور مطالعہ گاہ بھی قائم کرنی چاہیے اور رسالوں اور دیگر علمی اشاعتوں کا انتظام بھی کرنا چاہیے۔
میرا یقین ہے کہ اگر یہ تنظیم دانشوروں اور اہلِ علم طبقے کی نمائندہ غیر سرکاری انجمن ہو تو یہ سب سے بہتر طریقے سے اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔
جہاں تک اس کے قیام کا تعلق ہے، میری رائے میں سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہم ایک دستور تیار کریں، جس کے مطابق ملک کی تمام یونیورسٹیاں اور ثقافتی ادارے اس کونسل میں تین یا چار نمائندے بھیج سکیں۔ اس کے علاوہ، فن، ادب اور انسانی علوم کے ممتاز افراد کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔
یہ تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں، اور اس ابتدائی اجلاس میں فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ میں نے اس منصوبے میں دلچسپی رکھنے والے دیگر افراد سے مشورہ کیا ہے، اور میری رائے میں سب سے مناسب طریقہ یہ ہے کہ ہم آج ہی ایک عبوری کمیٹی (Interim or Provisional Committee) تشکیل دیں، جو:
کونسل کے مقاصد اور اغراض متعین کرے،
دستور کا مسودہ تیار کرے،
اور دیگر ابتدائی انتظامات کرے۔
یہ کمیٹی اپنے اراکین میں سے ایک ذیلی کمیٹی (Sub-Committee) مقرر کرے جو تمام تفصیلات پر کام کرے، اور اکتوبر تک اپنی رپورٹ مکمل کرے۔
اس کے بعد نومبر میں یونیورسٹیوں اور ثقافتی اداروں کے نمائندوں کی موجودگی میں کونسل کا باضابطہ افتتاح کیا جا سکے۔
میں ایک بار پھر آپ سب کا خیر مقدم کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ مشرق کے ممالک کے درمیان ثقافتی رشتوں کے استحکام کے لیے ہماری یہ کوششیں کامیاب ہوں۔
ابوالکلام آزاد
وزیرِ تعلیم، حکومتِ ہند
(خطاب: 21 اگست 1949، نئی دہلی)
















