اتوار, اپریل 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    ہندستان فرقہ پرستی کی راہ پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    امت مسلمہ پر یلغار

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    فرقہ پرست ہندو استھان میں بدلتا بھارت

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    مدرسہ کے بچوں کو چائلڈ لائن کے حوالے کرنے کی مذمت

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    ہندستان فرقہ پرستی کی راہ پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    امت مسلمہ پر یلغار

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    فرقہ پرست ہندو استھان میں بدلتا بھارت

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    مدرسہ کے بچوں کو چائلڈ لائن کے حوالے کرنے کی مذمت

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اسلامیات

مختصر واقعہ شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ

by Md Yasin Jahazi
مارچ 4, 2026
in اسلامیات
0
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟
0
SHARES
19
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

محمد یاسین جہازی

حضرت علی ؓ نے کوفہ کو اپنا دارالخلافہ قرار دیا تھا ۔ اس لیے وہاں ان کے حامی بہت زیادہ تھے۔حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد لوگوں نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ آپ کے اعلان خلافت سے اہل شام نے کوفہ پر حملے کا ارادہ کیا اور دونوں فوجوں کا مدائن میں سامنا ہوا، لیکن قبل از جنگ حضرت حسنؓ نے خلافت سے دستبرداری پر صلح کرلی ۔اور حضرت امیر معاویہؓ کو بادشاہ تسلیم کرلیا گیا۔حضرت امیر معاویہ ؓ کے انتقال کے بعد کوفیوں نے یزید کو اپنا خلیفہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور حضرت حسین ؓکو لکھا کہ آپ تشریف لائیے ۔ ہم آپ کا ساتھ دیںگے۔ ادھر یزید نے حاکم مدینہ ولید بن عتبہ کو لکھا کہ وہ یزید کے لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے بیعت لیں ، جب قاصد کے ذریعے یہ خبر ان تک پہنچی ، تو انھوں نے کہا کہ مجھ جیسا آدمی خفیہ بیعت نہیں کرسکتا ، جب بیعت عام ہوگی تو میں بھی آجاوں گا۔ اور یہ کہہ کر مدینہ سے مکہ چلے آئے اور کوفیوں کے خطوط کے پیش نظر پہلے اپنے چچا حضرت مسلم بن عقیلؓ کو بیعت کے لیے بھیجا۔ جب حضرت مسلم وہاں پہنچے تو حالات کو سازگار پایا اور اٹھارہ ہزار کوفیوں نے حضرت حسینؓ کے نام پر آپ کے ہاتھ پر بیعت کی، جس کی وجہ سے انھوں نے حضرت حسین ؓکو لکھ دیا کہ آپ تشریف لائیں ، یہاں کے حالات سازگار ہیں۔ خط پاکر حضرت حسین رضی اللہ عنہ سفر کی تیاری کرنے لگے، حالاں کہ روانگی کی خبر سن کر حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ ،حضرت عبداللہ ابن جعفرؓ اور دیگر حضرات نے یہی مشورہ دیا کہ عراق والے دغاباز ہیں۔ آپ وہاں جانے کا ارادہ ترک کردیجیے؛ لیکن حضرت حسین رضی اللہ عنہ پھر بھی نکل پڑے۔مکہ سے روانگی کے راستے میں مقام صفاح پر مشہور شاعر فرزدق سے ملاقات ہوئی، تو ان سے وہاں کے حالات پوچھے جانے پر ان کاجواب تھا کہ ان کے دل توآپ کے ساتھ ہیں؛ مگر تلواریں بنی امیہ کے ساتھ ہیں۔
نواسہ رسولﷺ کی آمد کی خبر سن کر اہل عراق بہت زیادہ پرجوش ہوگئے۔ یہ جوش دیکھ کر حاکم عراق عبیداللہ ابن زیاد نے سخت گیری شروع کردی ، جس سے اہل کوفہ ڈر گئے اور حضرت مسلم ابن عقیلؓ کا ساتھ چھوڑتے چلے گئے، یہاں تک کہ آپ جب کوفہ کی مسجد میں پہنچے ، تو اٹھارہ ہزار میں سے صرف تین آدمی آپ کے ساتھ رہ گئے تھے۔اور پھر بالآخر آپ کو شہید کردیا گیا۔
زرود یا ثعلبیہ نامی مقام پر حضرت مسلم بن عقیلؓ کی شہادت کی خبر ملی، تو آپؓ نے واپسی کا ارادہ فرمالیا ، مگر ان کے رشتہ داروں کی ضد کی وجہ سے پھر عا زم سفر ہوگئے۔قادسیہ سے تھوڑا آگے بڑھے تو والی عراق عبید اللہ بن زیاد کے عامل حصین بن نمیرتیمی کی طرف سے حر بن یزید حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا راستہ روکنے کے لیے ایک ہزار فوج لے کر آگئے ، دونوں میں گفت و شنید ہونے کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اس راستہ کو اختیار کریں گے جو نہ کوفہ جاتا ہو اور نہ مدینہ۔اور حر اپنی فوج کے ساتھ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ رہا اور کہیں جانے دینے سے راستہ روکے رکھا، بالآخر ۲؍ محرم الحرام ۶۱ ہجری ،مطابق ۲؍ اکتوبر ۶۸۰ ء کو عبیداللہ بن زیاد کی طرف سے ایک خط آیا، جس میں یہ لکھا تھا کہ حضرت حسین ؓاور ان کے ساتھیوں کو کہیں جانے مت دو اور ایک ایسی جگہ اترنے پر مجبور کرو جو چٹیل میدان ہو ، پانی کا انتظام نہ ہو ، غرض وہاں کوئی بھی وسائل حیات میسر نہ ہو۔ چنانچہ حر نے اس خط پرعمل کرتے ہوئے مقام کربلا پر اترنے پر مجبور کردیا۔
۳ ؍ محرم کو عمرو ابن سعد ،ابن زیاد کے حکم سے چار ہزار، اور بروایت دیگر چھ ہزار فوج لے کر یہاں پہنچ گیا اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے آنے کا سبب معلوم کیا ، تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیتے ہوئے کوفہ والوں کی طرف سے بھیجے گئے دعوتی خطوط دکھائے اور کہا کہ میں کوفہ والوں کے بلانے پر آیا ہوں۔لیکن اگر میرا آنا گوارا نہیں ہے ، تو میں لوٹ جانے کے لیے تیار ہوں۔یہ بات عمرو بن سعد نے عبیداللہ بن زیاد کو بتائی ، تو اس نے لکھا کہ پنجہ میں پھنسنے کے بعد نجات پانا چاہتا ہے، اس لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں پر سختیاں بڑھا دو۔ معاملہ کے سلجھانے کے لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے عمرو بن سعد کے ساتھ کئی خفیہ ملاقاتیں کیں ،جن میں آپ رضی اللہ عنہ نے تین صورتیں پیش کیں کہ
(۱) جہاں سے میں آیا ہوں، مجھے وہیں لوٹ جانے دو۔
(۲) مجھے خود یزید سے اپنا معاملہ طے کرنے دو۔
(۳) مجھے مسلمانوں کی کسی سرحد پر نکل جانے دو۔
اس مضمون پر مشتمل ایک خط عمرو بن سعد نے عبیداللہ بن زیاد کو لکھا ۔ اس کے مشیر شمر ذی الجوشن نے اس خط کی مخالفت کی اور کہا کہ قبضہ میں آئے شخص کو جانے دیں گے، تو وہ عزت و قوت حاصل کرلیں گے اور آپ کمزور ہوجائیں گے۔ چنانچہ عبیداللہ بن زیاد نے شمر کے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے شمر کو ہی ایک خط دے کر کربلا بھیجا جس کا مضمون یہ تھا کہ اگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہمارے خود سپردگی کردیں، تو لڑائی نہ کی جائے ، ورنہ وہ جنگ کے لیے تیار رہیں۔
۱۰؍ محرم۶۱ ھ مطابق ۱۰؍ اکتوبر ۶۸۰ ء کو ایک طرف سے عمرو بن سعد فوج لے کر نکلا ،ادھر دوسری طرف حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے حامیوں کی صفیں قائم کیں۔ ادھر سے پانچ ہزار فوج تھی جب کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ کل ۷۲؍ آدمی تھے۔جب صفیں تیار ہوگئیں تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے فوجوں کے سامنے نہایت پرجوش تقریر کی، جس میں انھوں نے کہا کہ میرا حسب و نسب یاد کرو، میں کون ہوں؟ کیا میں تمھارے نبی کا نواسہ نہیں ہوں؟ کیا سید الشھدا حضرت حمزہؓ میرے چچا نہیں تھے؟ کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان میرے بارے میں نہیں سنا کہ الحسن والحسین سیدا شباب اہل الجنۃ؟، سنو ، ذرا غور کرو کہ کیا تم اس پیشانی کو زخمی کروگے جس کو بارہارسول خداﷺ چوما کرتے تھے، کیا ان آنکھوں کو بینائی سے محروم کروگے ، جنھوں نے رسول اللہ ﷺکا دیدار کیا ہے، یہ میرے سر پر پگڑی دیکھو!سرور کائناتﷺ کی ہے ، کیا تم اسے خاک و خون میں غلطاں کروگے، میرے ہاتھ میں یہ تلوار، حیدر کرار کی ہے، کیا تم اس سے مقابلہ کروگے۔
بہر کیف حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی کسی بات کا ان پر اثر نہیں ہوا اور عمرو ابن سعد نے پہلا تیر چلاتے ہوئے جنگ کاآغاز کردیا۔ایک ایک کرکے فدائے حسینی شہید ہوگئے ، یہاں تک کہ خاندان نبوت کے ایک ایک چراغ جام شہادت نوش کرتے چلے گئے ، سب سے پہلے علی اکبر شہید ہوئے پھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت قاسم نے جام شہادت پیا۔ عین لڑائی کے دوران حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک بچے کی پیدائش ہوئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کان میں اذان دینے کے لیے آگے بڑھے ہی تھے کہ ایک تیر آیا اور اس نومولود بچے کو زخمی کر شہید کرگیا۔ آپ نے وہ تیر حلق سے نکالا تو خون کا فورا پھوٹ پڑا، خون کو چلو میں لے کر آپ نے آسمان کی طرف اچھالتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ائے اللہ! اگر تو نے ہم سے اپنی نصرت روک لی ہے، تو وہی کر جس میں بہتری ہے۔ اب قافلہ حسینی میں صرف آپ رضی اللہ عنہ کی ذات باقی تھی ۔ آپ میدان میں آئے ۔ گھمسان کی لڑائی ہوئی ۔ لڑتے لڑتے آپ رضی اللہ عنہ کو شدت کی پیاس محسوس ہوئی۔ آپ رضی اللہ عنہ پانی پینے کے لیے فرات کی طرف بڑھے ، لیکن دشمن نے ایک تیر مارا جو حلق میں لگا اور خون کے فوارے نکلنے شروع ہوگئے۔زرعہ بن شریک تمیمی نے بائیں ہاتھ اور شانے پر تلوار ماری جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ گھوڑے سے گر گئے اور سنان بن انس نخعی یا شمر ذی الجوشن آگے بڑھا اور آپ کے سر کو تن سے جدا کردیا ۔پھر گھوڑے دوڑا کر نعش مبارک کو روند ڈالا گیا ۔ حضرت رضی اللہ عنہ کا سر کوفہ لے جاکر عبیداللہ ابن زیاد کو دیا گیا ، اس نے سر مبارک کے لب پر چھڑی ماری تو زید ابن ارقم رضی اللہ عنہ نے منع کیا ۔ پھر یہ سر یزید کے پاس بھیجا گیا جو اس وقت دمشق میں تھا ۔ انھوں نے یہ دیکھ کر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ قتل کے بغیر بھی یہ مسئلہ حل کیا جاسکتا تھا ۔ اور پھر کہا کہ یہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اجتہادی غلطی تھی جس کا نتیجہ شہادت کی شکل میں سامنے آیا۔ سر کے بعد قافلہ حسینی کے بقیہ افراد کو بھی دمشق بھیج دیا گیا ، جس میں حضرت زینب، حضرت فاطمہ ، حضرت سکینہ اور حضرت زین العابدین کے نام ملتے ہیں۔ یزید نے ان کے ساتھ بہت اچھا برتاو کیا اور انھیں عزت و احترام کے ساتھ مدینہ واپس بھیج دیا۔
ماتم حسین
ایک مشہور مغربی شاعر گوئٹے نے کہا ہے کہ انسانی عظمت کی انتہا یہ ہے کہ وہ افسانہ بن جائے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ اس کی زندہ مثال ہے ۔ اس تعلق سے اگر صرف واقعی اور تاریخی چیزیں تلاش کریں گے، تو محض رطب و یابس اوریاوہ گوئی کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔ بہر کیف واقعہ شہید کربلا اسلامی تاریخ میں سب سے دردناک اور وکوہ کن حادثہ ہے، جس میں اپنے نبی کے نام لینے والے منافقین نے نواسہ رسول اکرم ﷺ کو انتہائی بے دردی اور بے چارگی کے عالم میں شہید کردیا تھا۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، لیکن اس واقعہ پر جشن ماتم منانے والوں کو دیکھ کر یہ یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ حقیقت میں کون ہیں؟ قسم کھاکر کہہ سکتا ہوں کہ یہ محبان حسینی ہرگز ہرگز نہیں ہوسکتے۔ کیوں کہ ہمیں یقین ہے کہ واقعہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ پر کوئی بھی حسینی ڈھول تاشے نہیں بجاسکتا اور نہ ہی اسے تماشا بنا سکتا ہے۔ یہ ڈھول یقینی طور پر قاتلان حسین نے بجائے تھے اور اس کی تال پر خوشی میں جھومے تھے، اور یہی قاتلان حسین اب تک اپنے باب دادا کی وراثت کو سنبھالے ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح سمجھ عطا فرمائے ۔ اور اپنی مرضیات پر چلنا آسان کرے۔ آمین۔

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

اردو املا: چند ضروری اصول

3 مہینے ago
پاکستان کے متعلق حضرت مولانا شاہ عطاء اللہ بخاری ؒ کی پوری ہوتی پیشین گوئیاں

پاکستان کے متعلق حضرت مولانا شاہ عطاء اللہ بخاری ؒ کی پوری ہوتی پیشین گوئیاں

7 مہینے ago

مقبول

  • باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  •  نبی اکرم  ﷺ کا آخری حج (حجۃ الوداع)قدم بہ قدم، منزل بہ منزل

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • نبی اکرم ﷺ کا آخری حج (حجۃ الوداع): قدم بہ قدم ، منزل بہ منزل

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مدرسہ کے بچوں کو چائلڈ لائن کے حوالے کرنے کی مذمت

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • حقیقی گھر کی طرف واپسی

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.