محمد عادل ارریاوی
3 صفر المظفر 1448ھ________________________________
نکاح اسلام کا نہایت آسان پاکیزہ اور بابرکت نظام ہے مگر افسوس کہ ہم نے اپنی بے جا خواہشات غیر ضروری شرائط اور معاشرتی رسم و رواج کے ذریعے اسے اس قدر مشکل بنا دیا ہے کہ بہت سے نوجوان بروقت نکاح سے محروم رہ جاتے ہیں۔ آج اگر ایک عام لڑکا کسی کے یہاں رشتے کے لیے جاتا ہے تو سب سے پہلے اس کے سامنے اتنی لمبی فہرست رکھ دی جاتی ہے کہ وہ سن کر ہی پریشان ہو جاتا ہے۔سب سے پہلے کہا جاتا ہے کہ لڑکا آئیڈیل ہونا چاہیے عمر کم ہو اچھی نوکری یا کامیاب کاروبار ہو خوب پیسے والا ہو ہینڈسم ہو خوبصورت ہو گورا رنگ ہو لمبا قد ہو خوب صحت مند ہو اپنا ذاتی گھر ہو نئی گاڑی ہو اچھا خاصا بینک بیلنس بھی موجود ہو۔ پھر یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے ماں باپ زندہ نہ ہوں تاکہ ان کی خدمت یا ذمہ داری نہ اٹھانی پڑے اور اگر بہن بھائی ہوں بھی تو صرف ایک یا دو ہوں زیادہ نہ ہوں تاکہ کسی قسم کی خاندانی ذمہ داری نہ آئے۔ اور کچھ لڑکیوں کی یہ شرط بھی ہوتی ہے کہ لڑکا بغیر داڑھی والا ہو بالکل کلین شیو ہو ہجڑے شکل کا جدید فیشن کے مطابق رہنے والا ہو ہر وقت سجی سنوری شخصیت کا مالک ہو تاکہ دیکھنے میں زیادہ خوبصورت اور اسمارٹ لگے خواہ اس کی دینداری اخلاق اور کردار ثانوی حیثیت ہی کیوں نہ رکھتے ہوں۔ پھر شادی کی بات آئے تو مطالبات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ دس سے پندرہ تولے سونا چالیس سے پچاس سوٹ دس سے بیس لاکھ روپے حق مہر ہر ماہ پچیس سے تیس ہزار روپے جیب خرچ الگ گھر گھر کے تمام کاموں کے لیے نوکرانی ہر ہفتے لازمی میکے جانا روزانہ یا کم از کم ہر شام باہر گھومنے جانا رات کا کھانا اکثر ہوٹل یا ریسٹورنٹ میں کھانا اور اس کے ساتھ لڑکی کے ماں باپ اور بہن بھائیوں کی مالی مدد بھی کرنا۔ پھر بھی اگر یہ سب کچھ کر دیا جائے تو مزید نئی نئی خواہشات سامنے آتی رہتی ہیں۔ اب ذرا انصاف سے بتائیے کہ آخر نکاح کو مشکل کون بنا رہا ہے؟ایک اور افسوسناک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں دوسری شادی کو ایسا جرم سمجھ لیا گیا ہے جیسے کوئی بہت بڑا گناہ کر دیا گیا ہو۔ اگر کوئی شخص دوسری شادی کر لے تو ساری زندگی اسے طعنے دیے جاتے ہیں گھر میں جھگڑے ہوتے ہیں لوگ باتیں بناتے ہیں اور اسے برا بھلا کہتے رہتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص زنا جیسے سنگین گناہ میں مبتلا ہو جائے تو کچھ دن بعد لوگ اسے بھول جاتے ہیں اور زندگی معمول پر آ جاتی ہے۔یہی وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے لاکھوں لڑکیاں اپنے گھروں میں بیٹھی رہ جاتی ہیں ان کی عمریں گزرتی چلی جاتی ہیں اچھے رشتے غیر ضروری شرائط کی وجہ سے واپس چلے جاتے ہیں اور پھر بعد میں یہی شکایت کی جاتی ہے کہ اچھے رشتے نہیں ملتے۔آج اگر ہم واقعی اپنے معاشرے سے بے حیائی فتنوں اور نکاح میں بڑھتی ہوئی رکاوٹوں کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ نکاح کو مشکل نہیں بلکہ آسان بنانا ہوگا۔ غیر ضروری شرائط بے جا مطالبات اور فضول رسم و رواج کو چھوڑ کر سنتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اپنانا ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔اللہ ربّ العزت ہمارے معاشرے میں نکاح کو آسان بابرکت اور سنت کے مطابق بنانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یارب العالمین ۔





















