دہلی اور نئی دہلی کے میٹرو اسٹیشنوں پر روزانہ ایک عجیب اور قابلِ غور منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہماری مائیں اور بہنیں گھروں سے مکمل پردے اور برقعے میں ملبوس نکلتی ہیں، مگر جونہی میٹرو اسٹیشن کی حدود میں داخل ہوتی ہیں، برقعہ اتار کر پرس میں رکھ دیتی ہیں اور یوں بے حجابی کا ایک نیا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ واپسی پر یہی عمل الٹ ترتیب کے ساتھ دہرایا جاتا ہے، گویا پردہ صرف گھر سے اسٹیشن تک محدود ایک رسم بن کر رہ گیا ہو۔یہ دوہرا طرزِ عمل نہ صرف پردے کی حقیقی روح کے منافی ہے بلکہ اس سے کئی سنگین مسائل جنم لے رہے ہیں:غلط تاثر اور اعتراضات کا جواز: اس طرح کے رویے سے غیروں کو اسلام کے نظامِ حجاب پر اعتراض کرنے اور اسے محض ایک "دکھاوا” یا "مجبوری” قرار دینے کا موقع ملتا ہے۔پردے کی روح سے دوری: حجاب صرف گھر کے باہر کی ایک رسمی چادر نہیں، بلکہ حیا اور عفت کا مستقل ضابطہ ہے جو ہر جگہ برقرار رہنا چاہیے۔والدین اور بیٹیوں کی مشترکہ ذمہ داری: یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ لڑکیاں خود بھی اپنے اس عمل پر غور کریں اور والدین بھی اپنی بیٹیوں کی ایسی تربیت کریں کہ وہ پردے کو کسی دباؤ کے تحت نہیں، بلکہ دل سے اپنی حفاظت اور دینی فریضہ سمجھ کر اپنائیں۔دین کی بدنامی اور پردے کے تقدس کو پامال ہونے سے بچانے کے لیے معاشرے، بالخصوص والدین اور نوجوان نسل کو اس سنجیدہ معاملے پر گہرے غور و فکر اور اصلاحِ احوال کی اشد ضرورت ہے۔
محمد یاسین جہازی























