نظرِ بد (Evil Eye) کا تصور انسانی تاریخ کے قدیم ترین اور عام ترین عقائد میں سے ایک ہے۔ دنیا کی تقریباً ہر بڑی تہذیب اور مذہب میں یہ مانا جاتا رہا ہے کہ انسانی آنکھ سے نکلنے والی پوشیدہ لہریں یا منفی توانائی کسی دوسرے شخص کی خوشحالی، صحت یا خوبصورتی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اگرچہ مختلف اقوام میں اس سے بچاؤ کے طریقے الگ ہیں، لیکن اس کے پیچھے کارفرما بنیادی نفسیات ایک ہی ہے، اور وہ ہے حسد اور رشک۔اسلامی نقطۂ نظر اور نبوی تعلیماتاسلام میں نظرِ بد کو ایک مادی اور حقیقی اثر رکھنے والا امر تسلیم کیا گیا ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری کی حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا واضح فرمان ہے:حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: اَلْعَيْنُ حَقٌّ، وَنَهَى عَنِ الْوَشْمِ۔ترجمہ: مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے حدیث بیان کی، انہوں نے معمر سے، انہوں نے ہمام بن منبہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: نظر کا لگ جانا سچ ہے، اور آپ ﷺ نے جسم کو گودنے سے منع فرمایا۔حوالہ:کتاب: صحیح بخاری (Sahih al-Bukhari)کتاب کا نام: کتاب اللباسباب: باب الواشمةحدیث نمبر: 5944اسلام یہ سکھاتا ہے کہ جب کوئی شخص کسی کی نعمت کو دیکھ کر حسد کرتا ہے یا حد سے زیادہ رشک کرتا ہے، تو اس کے منفی اثرات اگلے شخص پر پڑ سکتے ہیں۔ تاہم، اسلام نے اس سے بچنے کے لیے غیر شرعی تعویذوں یا ٹوٹکوں کے بجائے قرآنی آیات اور مسنون دعاؤں کے ذریعے اللہ کی پناہ حاصل کرنے کی تعلیم دی ہے۔غیر مسلم اقوام اور قدیم تہذیبوں کا عقیدہدنیا بھر کے غیر مسلم مذاہب اور ثقافتوں میں بھی یہ تصور گہرے اثرات رکھتا ہے:یہودیت: یہودی روایات کے مطابق نظرِ بد کو عین ہارا (Ayin Hara) کہا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی کی کامیابی پر بہت زیادہ رشک کرتا ہے تو وہ انجانے میں اسے نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے وہ ہمسہ (Hamsa) یعنی ہاتھ کے درمیان آنکھ کا نشان اور بچوں کی کلائی پر سرخ دھاگا (Red String) باندھتے ہیں۔ہندومت: ہندو ثقافت میں یہ عقیدہ ہے کہ حسد یا لالچ کی نظر، جسے دِرسٹی (Drishti) یا نظر کہا جاتا ہے، کسی کی بھی مثبت توانائی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسی لیے بچوں کو کالا تیکا (Kala Tika) لگانا، گھروں کے باہر لیموں مرچیں لٹکانا یا خوفناک چہرے والے ماسک لگانا عام ہے۔قدیم یونانی اور رومی تہذیب: قدیم یونان میں اسے بسکانیہ (Baskania) کہا جاتا تھا اور فلاسفر پلوٹارک (Plutarch) کا ماننا تھا کہ انسانی آنکھ سے مہلک شعاعیں نکلتی ہیں۔ رومی تہذیب (Roman Culture) میں نظر کو بھٹکانے کے لیے خاص قسم کے نشانات اور تعویذ، جسے فاسینم (Fascinum) کہتے ہیں، استعمال کیے جاتے تھے۔یورپی اور اطالوی ثقافت: اٹلی اور بحیرہ روم (Mediterranean) کے عیسائی علاقوں میں نظرِ بد کو ملوکیو (Malocchio) کہا جاتا ہے، اور وہاں اس کے اثر کو زائل کرنے کے لیے سرخ سینگ کی شکل کا تعویذ کورنیچیلو (Cornicello) پہنا جاتا ہے۔ترکی اور وسطی ایشیا کا نازار: ترکی اور اس کے اطراف میں نظر سے بچنے کے لیے نیلی اور سفید آنکھ والا جو شیشہ استعمال کیا جاتا ہے اسے نازار بنجوک (Nazar Boncuğu) کہتے ہیں۔ یہ مانا جاتا ہے کہ یہ نیلی آنکھ سامنے والے کی بدنیتی کو جذب کر لیتی ہے۔حاصلِ کلاممختلف مذاہب اور تہذیبوں کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نظرِ بد محض ایک علاقائی وہم نہیں، بلکہ ایک عالمگیر انسانی احساس ہے جو حسد کے پوشیدہ نفسیاتی اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔ جہاں غیر مسلم اقوام نے اس سے بچنے کے لیے مختلف مادی اشکال کا سہارا لیا، وہاں اسلام نے اسے ایک حقیقت مانتے ہوئے اس کا علاج روحانی پاکیزگی، اللہ پر توکل اور دعاؤں میں بتایا ہے۔























