محمد یاسین جہازی
تحریک مسجد شہید گنج اور جمعیت علمائے ہند
مسجد شہید گنج کے معمار
اس مسجد کا اصل نام عبداللہ خاں کی مسجد تھا۔1064ھ (1653ئ)میں شاہ جہاں کے ولی عہد دارا شکوہ کے خانساماں(کھانا بنانے والا نہیں؛ بلکہ سامان کی حفاظت کرنے والا) محمد عبد اللہ نے تعمیر کیا تھا۔ مغلیہ دور حکومت میں باغی سکھوں کو اس جگہ قتل کیا گیا تھا۔ جب مہا راجہ رنجیت پنجاب پر قابض ہوا، تو اس نے سکھوں کی سمادھیاںõ جو یہاں قتل ہوئے تھےõ یہاںبنوا دیں۔ اس طرح سکھوں کی زبان میں یہ گوردوارہ شہید گنج قرار دیا گیا۔ (کاروان احرار، جلد دوم، ص/222)
جناب جانباز مرزا صاحب، اخبار زمین دار کے یکم جولائی 1922ئ کی اشاعت کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ 1922ئ میں ملک لال خاں مسجد شہید گنج کے متعلق شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی سے ایک سمجھوتہ کرچکے تھے۔باہمی اتحاد اور گفت و شنید سے مسئلے کا حل نکل آیا تھا اور کمیٹی کے فیصلے کے مطابق مسجد مسلمانوں کے قبضے میں آگئی تھی۔
(کاروان احرار، جلد دوم، ص/217)
تاریخ شہادت مسجد شہید گنج
28اور 29/جون 1935ئ کی درمیانی رات کو سکھ مزدوروں نے رات کی تاریکی میں مسجد شہید گنج کوگرانا شروع کر دیا۔ اس دوران ایک سکھ مزدورمسجد کی دیوار سے گر کر ہلاک ہو گیا۔اس کی اطلاع صبح لاہور کے مسلمانوں کو ہوئی، توانھوں نے ہنگا مہ کر دیا۔ یہ خبر جب گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سکھ لیڈروں کو امر تسر پہنچی، تو وہ حیران ہوگئے؛ کیوںکہ ان کے کسی پروگرام ،یا ارادے میں نہیں تھا کہ مسجد گرائی جائے۔ یہ درست ہے کہ مسجد گرانے والے سکھ تھے؛ لیکن وہ صرف مزدور تھے،انھیں محض اپنی مزدوری سے غرض تھی۔ وہ سکھ جماعت کے بھیجے ہوئے نہیں تھے۔ سکھ مزدوروں کی اس حرکت سے لاہور کی پرامن فضا اچانک زہر آلود ہوگئی۔ سکھ اور مسلمان آمنے سامنے آن کھڑے ہوئے۔(کاروان احرار، جلد دوم، ص/ 213)
جب صبح مسلمانوں کو اس مسجد کی شہادت کی اطلاع ملی، تو شہر میں کشیدگی پھیل گئی، حالاں کہ گوردوارہ پر بندھک کمیٹی کے سکھ رہنما¶ں کا دعویٰ تھا کہ مسجد گرانے کا کوئی منصوبہ ان کے پیش نظر نہیں تھا۔ احرار رہنما¶ں کو لائل پور میں اس واقعے کی خبر ملی، تو انھوں نے سکھوں سے مذاکرات کے لیے وفد بنانے پر غور کیا۔ یکم جولائی 1935ئ کو میاں عبدالعزیز بیرسٹر کی رہائش گاہ پر مولانا ظفر علی خاں، ڈاکٹر محمد عالم، چودھری افضل حق، مولانا مظہر علی اظہر، میاں امیرالدین اور ڈاکٹر سیف الدین کچلو کی موجودگی میں اسی نوعیت کا فیصلہ کیا گیا، لیکن حکومت پنجاب نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کردی۔
یکم جولائی1935ئ کومولانا ظفر علی خاں کی صدارت میں موچی دروازے لاہور کے باہر ایک جلسہ ہوا، جس میں احرار کے متعلقہ رہنما¶ں کو دعوت نہیں دی گئی۔ مقررین نے مسجد گرانے والے مزدوروں کی انفرادی ذمہ داری کی تحقیق کا مطالبہ کرنے کے بجائے سکھ قوم کو مجموعی طور پر نشانہ بنایا۔ جلسے کی کارروائی روزنامہ ’’زمین دار‘‘ میں شائع ہونے کے بعد معاملہ سکھ قوم کے لیے چیلنج بن گیا۔
7-8/ جولائی1935ئ کو گوردوارہ پر بندھک کمیٹی نے اس صورت حال پر غور کرنے کے لیے اجلاس بلایا، جب کہ اسی رات ریلوے کرین کے ذریعے مسجد کے مزید حصے بھی گرادیے گئے۔
مولانا ظفر علی خاں صاحب نے مسجد شہید گنج کے معاملے کو لے کر انجمن اتحاد ملت قائم کی گئی اور احرار کے سرخ پوشوں کے مقابل نیلی پوش تحریک چلائی گئی۔ مولانا ظفر علی خاں کا نعرہ تھا کہ ’’جو لینی ہے تمھیں مسجد، تو نیلی پوش ہو جا¶!‘‘۔
4/جولائی 1935ئ کو مسجد شہید گنج کے مسئلے پر گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے نمائندوں سے مذاکرات طے پائے۔ اس موقع پر مولانا محمد دا¶د غزنوی نے مولانا ظفر علی خاں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ متعدد عدالتی فیصلے مسلمانوں کے خلاف ہوچکے ہیں اور تقریباً پونے دو سو سال سے مسجد سکھوں کے قبضے میں ہے ، اس لیے محض احتجاج اور سیاسی تحریک کے ذریعے مسجد کا حصول ممکن نہیں۔ انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت مسلمانوں اور سکھوں کو باہم لڑانے کے لیے تحریک کو استعمال کرسکتی ہے ، لیکن مولانا ظفر علی خاں اس امید پر قائم رہے کہ احتجاج کے نتیجے میں مسجد مسلمانوں کو مل جائے گی۔
اس کے بعد مولانا ظفر علی خاں کی قیادت میں مسلم وفد نے سکھ رہنما¶ں: ماسٹر تارا سنگھ، سردار منگل سنگھ اور گیانی گورمکھ سنگھ مسافر سے ملاقات کی۔ تارا سنگھ نے مسلمانوں کی جانب سے مبینہ دھمکیوں اور اخبارات میں شائع ہونے والی تحریروں کا حوالہ دیتے ہوئے مسجد کی حوالگی پر گفتگو سے انکار کردیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ سکھوں کی تاریخی وابستگی کے باعث وہ مسجد شہید گنج سے دست بردار نہیں ہوسکتے۔ اس صورت حال میں مولانا دا¶د غزنوی نے مصالحت کی تجویز پیش کی کہ مسجد کے منہدم شدہ حصے کی مرمت کردی جائے ، آئندہ اس کی بے حرمتی نہ ہو اور مزار حضرت شاہ کاکو تک مسلمانوں کو پانچ فٹ کا راستہ دے دیا جائے۔ تارا سنگھ نے اس تجویز پر غور کرنے کی آمادگی ظاہر کی، بشرطیکہ قبضے اور ملکیت کا تنازع ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے۔
تاہم مولانا ظفر علی خاں نے اس تجویز کو قبول کرنے کے باوجود مسجد کی واگزاری کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا حق محفوظ رکھنے کی بات کہہ دی۔ اس پر تارا سنگھ نے واضح کردیا کہ ایسی صورت میں مصالحت ممکن نہیں۔ مسلم وفد کے ارکان نے مولانا ظفر علی خاں کو سمجھایا کہ احتجاج کے ذریعے مسجد حاصل ہونے کی امید درست نہیں اور اس سے مسلمانوں کی اجتماعی رسوائی کا اندیشہ ہے ، لیکن وہ اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹے۔ مولانا سید حبیب نے بھی انکشاف کیا کہ حکومت کی طرف سے سکھوں کو قانونی حمایت اور تحفظ کا یقین دلایا جارہا ہے ، جب کہ دوسری طرف مسلمانوں کو تحریک جاری رکھنے پر مسجد ملنے کی امید دلائی جارہی ہے۔ بالآخر سکھ رہنما¶ں نے وفد سے تحریری طور پر اپنی تجاویز بھیجنے کو کہا۔ 5/جولائی 1935ئ کو روزنامہ مجاہد لاہور میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے۔
مذاکرات کی ناکامی کے بعد حالات مزید کشیدہ ہوگئے۔ مسلمان نوجوان مسجد کی طرف بڑھنے لگے ، پولیس کی لاٹھیاں اور فوج کی گولیاں ان کا سامنا کرنے لگیں، جب کہ پنجاب کے مختلف اضلاع سے مسلمانوں اور سکھوں کے قافلے لاہور پہنچنے لگے۔ حکومت نے ریلوے کرین کے ذریعے مسجد کا اندرونی حصہ بھی منہدم کرادیا، جس سے اشتعال میں مزید اضافہ ہوا۔ حکومت پنجاب نے مولانا ظفر علی خاں، سید حبیب، ملک لال خاں اور دوسرے رہنما¶ں کو مختلف مقامات پر نظر بند کرکے ان کے الا¶نس مقرر کردیے۔
10/جولائی1935ئ کو روزنامہ انقلاب نے سر فیروز خان نون کی رہائش گاہ پر علمائے کرام کے اجتماع کی خبر شائع کی، جس میں مسجد گرانے کو ناجائز قرار دیتے ہوئے قانونی طریقے سے حقوق حاصل کرنے کی رائے دی گئی۔اسی طرح 11/جولائی1935ئ کو روزنامہ انقلاب میں مجلس احرار سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی روایتی شان کے مطابق میدان عمل میں آئے ۔
حکومت پنجاب کا بیان
10/جولائی 1935ئ کو حکومت پنجاب نے اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسجد تقریباً 170/سال سے سکھوں کے قبضے میں تھی۔ 1853ئ میں مقدمہ بازی شروع ہوئی اور 1930ئ میں گوردوارہ ٹریبونل نے سکھوں کے دیوانی حقوق کی آخری تصدیق کردی تھی، جس کے خلاف مسلمانوں نے اپیل نہیں کی۔ حکومت کے مطابق اس نے سکھوں کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ اپنے حقوق اس انداز میں استعمال نہ کریں، جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوں۔ حکومت نے یہ بھی کہا کہ سکھ رہنما¶ں نے اپنی کمیٹی کے اجلاس تک مسجد گرانے کا فیصلہ مؤخر رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن 7/جولائی1935ئ میں شاہ عالمی دروازے کے قریب ایک سکھ کی لاش ملنے اور اس کی موت کو قتل سمجھنے سے سکھوں میں اشتعال پیدا ہوگیا۔ حکومت کے مطابق مسجد کا انہدام اچانک شروع کیا گیا، جس سے مصالحت کے امکانات ختم اور فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
مجلس احرار اسلام کا بیان
13/جولائی 1935ئ کو شاہی مسجد لاہور میں، صاحب زادہ سید فیض الحسن کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں مولانا سید عطائ اللہ شاہ بخاری نے مجلس احرار اسلام ہند کی پالیسی واضح کرنے کے لیے بیان پڑھ کر سنایا۔ اس وقت حاضرین کی تعداد تقریباً 50,000 تھی۔ بیان کے مطابق مجلس احرار کے رہنما مسجد کے واقعے کی اطلاع ملنے کے وقت لائل پور میں تبلیغی کانفرنس میں مصروف تھے۔ وہاں خواجہ غلام حسین کے مکان پر مشورہ ہوا اور رانا فیروزالدین ایڈووکیٹ نے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے احتیاط کا مشورہ دیا۔ اس دوران مولانا ظفر علی خاں، اختر علی خاں، سید حبیب، سید محمد علم اور ملک لال خاں سمیت متعدد رہنما¶ں نے مسجد کے تحفظ کے لیے ایک الگ جماعت تشکیل دے کر تحریک چلانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ مجلس احرار نے اس لیے مداخلت سے گریز کیا کہ اس سے مسلمانوں کے درمیان غیر ضروری کشمکش پیدا ہوسکتی تھی۔
مولانا عطائ اللہ شاہ بخاری نے وضاحت کی کہ مجلس احرار کی خاموشی کا مطلب تحریک کی مخالفت نہیں تھا۔ مولانا محمد دا¶د غزنوی ابتدا ہی سے تمام مشوروں میں شریک رہے اور انجمن تحفظ مسجد شہید گنج میں پوری محنت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ اس کے باوجود بعض حلقوں نے ان کے خلاف غلط پروپیگنڈا کیا اور مجلس احرار کی حکمت عملی کو مجرمانہ خاموشی قرار دیا۔ بیان میں بتایا گیا کہ مسجد گرائے جانے کے بعد مجلس احرار مسلسل دوسرے رہنما¶ں سے مشورہ کرتی رہی۔ میاں عبدالعزیز بیرسٹر نے بھی مجلس احرار سے رابطہ کرکے آئندہ لائحہ¿ عمل پر گفتگو کی اور اتحاد بین المسلمین برقرار رکھنے کی درخواست کی۔ چنانچہ مجلس احرار نے اپنے اجلاس میں اختلافی تقریر یا الگ پروگرام پیش کرنے سے گریز کیا، تاکہ مسلمانوں کا اتحاد مجروح نہ ہو۔(ملخصا از : کاروان احرار، جلد دوم، ص/210-234)
جمعیت علمائے ہند کا صدائے احتجاج
12/جولائی 1935ئ کو بعد نمازجمعہ حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کی زیر صدارت مسلمان دہلی کا ایک عام جلسہ ہوا۔ مولانا منورالدین صاحب نے قرآن شریف کی تلاوت فرمائی۔ تلاوت قرآن کے بعدمولانا احمد سعید صاحب سکریٹری جمعیت علمائے ہند کی تحریک اور شیخ محمد امین صاحب سکریٹری اہل حدیث کا نفرنس کی تائید سے حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جلسہ قرار پائے۔
جناب صدر نے اپنی افتتاحی تقریر میں مساجد کی حرمت و عظمت اور احکام وقف پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اور سکھوں کی غیر دانش مندانہ روش کی سخت مذمت کی۔ آپ نے فرمایا کہ سکھوں نے نے ایک ایسی مذموم اور قابل نفرت مثال قائم کی ہے، جو ہندستان کی قوموں میں اتحاد واتفاق کے لیے سخت مضر ثابت ہوگی۔آپ نے فرمایا کہ قانونی حق کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے فریق کی دل آزاری کی جائے اور لوگوں کے قلوب کو مجروح کیا جائے۔
صدر محرم کی تقریر کے بعدمولانا عبد الماجد صاحب ناظم جمعیت علمائے صوبہ دہلی نے ایک مختصر تقریر کرتے ہوئے حسب ذیل تجویز پیش کی:
مسجد شہید گنج کے انہدام کی مذمت
مسلمانان دہلی کایہ عظیم الشان جلسہ مسجد شہید گنج لاہور کے واقعہ¿ انہدام ومسماری پر اپنے دلی رنج و غم کا اظہار کرتاہے۔ مسلمانوں کے نزدیک مذہبی احکام کے تحت جومسجد ایک مرتبہ باقاعدہ مسجد بن جائے، تو وہ قیامت تک مسجد رہے گی۔اس کومسجد ہونے کے حکم سے کوئی مخالفانہ عمل نکال نہیں سکتا۔
جب کہ مسلمان سکھوں کے ساتھ ایسے سمجھوتہ کی صورت نکالنے میں مصروف تھے کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات بھی مجروح نہ ہوں اور سکھوں کے لیے بھی وہ نا قابل منظوری نہ ہو۔ حکومت بھی اس قسم کے حل کی تلاش میں منہمک اور ساعی تھی، ان حالات میں سکھوں کا عاجلانہ اقدامõجو مسجد کے انہدام و مسماری پر منتج ہواõکسی طرح نظر انداز کیے جانے کے مستحق نہیں۔ اس اقدام نے نہ صرف لاہوراور صوبہ پنجاب؛بلکہ تمام ہندستان کے مسلمانوں کے دلوں کو اس طرح مجروح کر دیا ہے کہ ان کے اند مال کی کوئی توقع باقی نہیں رہی اور ہندستان کے اندر سکھوں اور مسلمانوں کی باہمی رواداری کے تعلقات کو بڑی حد تک منقطع کر دیا۔
یہ جلسہ اس حقیقت کا دوبارہ اعلان کرتا ہے کہ صحیح اور شرعی مسجد قیامت تک کے لیے مسجد رہتی ہے اور اگر مسلمان قانونی مجبوریوں کی بنا پرکسی مسجد کو عملا استعمال نہ کر سکیں، تو نہ وہ مسجد مسجد ہونے سے خارج ہو سکتی ہے اور نہ مسلمان اسے اپنے دلوں سے فراموش کر دینے پر قادر ہیں۔
تجویز کی تائید مولانا محمد یونس صاحب اور مولانا محمد شفیع صاحب وارثی اور مولانا احمد سعید صاحب سکریٹری جمعیت علمائے ہند نے کی۔ مولانا احمد سعید صاحب نے تقریباً ایک گھنٹہ تقریر کی، جس میں سکھوں کی ابتدائی تاریخ اور سکھوں کا پنجاب پر قبضہ اور مولانا اسماعیل شہید کے واقعات تفصیلی طور پر بیان کیے۔ مولانا نے یہ بھی فرمایا کہ رواداری اور دوسروں کے جذبات کا احترام قانون اور قانونی حق سے بالا تر چیز ہے۔ فاضل مقرر نے سکھوں کے اس عاجلانہ اقدام کی پرزور مذمت کی اور مولانا نے یہ بھی فرمایا کہ گورنمنٹ پنجاب کے اعلانات مسلمانوں کے اطمینان کے لیے ناکافی ہیں۔ آپ نے فرمایا گورنمنٹ کا یہ کہنا اگر درست بھی مان لیا جائے کہ سکھوں کو قانونی حق حاصل تھا، تب بھی گورنمنٹ انتظامی امور کی رعایت رکھتے ہو ئے دفعہ144 کے ذریعہ اس حق کے استعمال کو چند دن کے لیے روک سکتی تھی۔ اگر گورنمنٹ اس مسجد کو سکھوں سے لے کر مسلمانوں کے دینے پر معذور و مجبور رہتی اور وہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف ایسا نہیں کر سکتی تھی، تب بھی امن عامہ کا لحاظ رکھتے ہوئے اتنے عرصہ کے لیے مسجد کے انہدام کو روک سکتی تھی،جتنے عرصہ میں صلح کی گفتگو کا کوئی نتیجہ برآمد ہوتا۔
آخر میں جناب صدر نے تجویز کی منظوری کے بعد دعاپر جلسہ کو تقریباً چار بجے ختم کیا۔
(سہ روزہ الجمعیۃ، 16/جولائی 1935ئ)
مسجد شہید گنج کے متعلق جمعیت علما کابیان
21 اور 22 /جولائی 1935ئ کو پولیس نے لنڈا بازار میں مسجد شہید گنج کی طرف بڑھنے والے پرامن ہجوم پر فائرنگ کردی، جس سے سرکاری رپورٹ کے مطابق کئی مسلمان شہید اور تقریباً 80/زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد جذبات میں مزید شدت پیدا ہوگئی۔ چنانچہ 24/ جولائی 1935ئ کو مسجد وزیر خاں میں مولانا دیدار علی نے فتویٰ پڑھ کر سنایا کہ مسجد کی حفاظت مسلمانوں کا فرض ہے ، لیکن انھیں اپنی جانوں کو بھی ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ اس پر بعض شرکا نے سوال اٹھایا کہ علما نے پہلے عوام کو اس موقف سے آگاہ کیوں نہیں کیا۔
25/جولائی1935ئ کی صبح کو لاہور سے چند حضرات دہلی آئے اور انھوں نے حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند اور حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند سے لاہور تشریف لے جانے، یا اپنا ایک بیان دینے کے لیے اصرار کیا، تاکہ دوسرے دن جامع مسجد کے جلسہ میں اسے پڑھ کرسنایا جائے۔
چنانچہ حضرات ممدوحین نے ان لوگوں کو ایک بیان لکھ کر دے دیا۔
26/جولائی 1935ئ کو یعنی دو سرے دن شاہی مسجد میں بیان پڑھ کر سنایا گیا اور اس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ حصول مقصد کی سعی کے لیے ایک کمیٹی مقرر کر دی جائے، جو علمائے اسلام سے مشورہ کرنے کے بعد مختلف ذرائع پر غور کر کے ایک راہ عمل تجویز کرے۔ سول نافرمانی اسی اجتماع میں ترک کردی گئی۔(سہ روزہ الجمعیۃ، یکم اگست 1935ئ)
چوں کہ تحریک مسجد شہید گنج سے متعلق مختلف جماعتوں کے درمیان اختلاف ہوگیا، اس لیے جمعیت علمائے ہند نے اپنے بیان میں اس نزاکت کا خیال رکھا۔بیان کامتن درج ذیل ہے:
مسجد شہید گنج کے انہدام پر جس قدر افسوس کا اظہار کیا جائے، کم ہے۔ اسی قدر مسلمانوں پر لاٹھی چارج اور آتش باری کے نتائج الم انگیز ہیں اور روح فرسا بھی۔ اس ضمن میں ہم جماعتی حیثیت میں تشویش کا اظہار حسب ذیل اعلان سے کرتے ہیں:
۱۔ باوجود یکہ عدالتی فیصلے سکھوں کے حق میں تھے اور بدیں وجوہ سکھ مسجد پر قابض تھے، سکھوں کے لیے مسجد کا گرا دینا مسلمانان ہند کی انتہائی دل آزاری کرتا ہے۔ نیز اخلاقی اور وطنی حیثیت سے جائز نہیں تھا۔
۲۔ مذکورہ بالا دونوں باتوں کے باوجود حکومت قیام امن کی خاطر مسجد کے انہدام کو روک سکتی تھی۔
۳۔ جن مسلمانوں نے مسجد کے انہدام کے خلاف اظہار رنج و غم کیا اور اس کے لیے پرامن مظاہرے کیے، حق بجانب تھے۔
۴۔ مسلمانوںنے باوجود انتہائی اشتعال انگیزی کے جوامن پسندی کا ثبوت دیا، وہ اپنی نظیر آپ ہے۔
۵۔ مسلمانوں نے لاٹھی چارج اور آتش باری کے ہوش ربا مواقع پرجس ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، وہ بے نظیر ہے۔ اس پروہ تمام مسلمان مبارک باد کے مستحق ہیں۔
۶۔ جو مسلمان ان پر امن مظاہروں کے درمیان متعلقہ حکام کی ناعاقبت اندیشانہ آتش باری سے شہید ہوئے، وہ ہر گز اس تشدد کے مستحق نہ تھے۔ اور جو اس بنا پر شہید ہوئے، یا مجروح ہوئے ہیں، وہ ثواب کے مستحق ہیں۔
۷۔ مسجد جب ایک مرتبہ مسجد بن جائے، تو قیامت تک مسجد ہی رہتی ہے۔ کوئی جابرانہ دستور، یا مخالفانہ قبضہ اس کو مسجد ہونے سے خارج نہیں کر سکتا۔
۸۔ اگر کوئی غیرمنظم ایجی ٹیشن باعتبار نتائج کے معنوی طور پر مفید نہ ہو،تو اس ایجی ٹیشن کو ترک کر کے حصول مسجد کے لیے دوسرے ذرائع مثلاً، باہمی مفاہمت پر غور کرنا چاہیے اور کوئی ایسا اقدام کرنا چاہیے، جو فرزندان توحید کے لیے مفید ثابت ہو۔
۹۔ جو طریقہ بھی اختیار کیا جائے، وہ تمام مسلمان زعما کے باہم مشورہ اور اتحاد عمل سے ہو،تا کہ اس کا نتیجہ بہتر اور با عزت صورت میں نکل سکے۔
(کاروان احرار، جلد دوم، ص/248)
26/جولائی 1935ئ کوصدر بلدیہ لاہور ملک محمد دین کا بیان بھی شائع ہوا، جس میں کہا گیا کہ اگر علما پہلے ہی اپنی رائے واضح کردیتے اور وکلا مسجد کی قانونی حیثیت سمجھا دیتے تو بے گناہ مسلمانوں کا خون ضائع ہونے سے بچ سکتا تھا۔ اسی زمانے میں مسلم لیگ کے رہنما خان بہادر حافظ ہدایت حسین نے مسلمانوں کو ایسے اقدامات سے گریز کا مشورہ دیا،جن سے امن و امان خراب ہو، تاہم انھوں نے مسجد کے انہدام کی مذمت بھی کی۔
تحفظ مسجد شہید گنج کے لیے مشترکہ اجلاس اور کمیٹی کی تشکیل
28/جولائی 1935ئ کو پنجاب اور سرحد کے مختلف الخیال مسلم رہنماؤں پر مشتمل مشترکہ اجلاس میں مجلس احرار کے نمائندوں نے واضح کیا کہ وہ مسجد کے حصول کے مخالف نہیں، لیکن سول نافرمانی اور تشدد کے ذریعے حصول مسجد کو ناممکن سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک دو راستے تھے: عدالتی چارہ جوئی، یا سکھوں سے باعزت مفاہمت۔ چنانچہ اجلاس نے مسجد کے تحفظ اور مسلمانوں کے دیگر مطالبات کے لیے ایک مشترکہ سب کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس اجلاس میں پنجاب اور صوبہ سرحد کے مسلم مندوبین نے مسجد شہید گنج کے انہدام پر رنج و غم کا اظہار کیا، سکھوں کے اقدام کی مذمت کی اور شہدا، زخمیوں اور گرفتار افراد سے ہمدردی ظاہر کی۔ قرارداد میں مسلمانوں کو غیر مشروط طور پر تلوار رکھنے کی اجازت، مساجد و اوقاف کے تحفظ کے لیے قانون سازی، گرفتار افراد کی رہائی، شہدا کے خون کا معاوضہ اور سکھوں سے باعزت مفاہمت کی کوشش کو اہم مطالبات قرار دیا گیا۔
اس سب کمیٹی میں لال دین قیصر، مولانا محمد دا¶د غزنوی، خواجہ عبدالرحمان غازی، چودھری افضل حق، مولانا مظہر علی اظہر،ملک لال دین قیصر، مولانا اختر علی خان، مولانا عبدالقادر قصوری، سید عنایت شاہ، خواجہ محمد حسین امرتسری، مولانا شیر نواب قصوری، پروفیسر ملک عنایت اللہ، ملک محمد دین صدر بلدیہ لاہور، میاں عبدالعزیز ایڈووکیٹ، شیخ محمد صادق امرتسری، میر مقبول محمود امرتسر، میاں محمد شریف پراچہ لاہورشامل تھے۔ بعد میں مولانا عبدالمجید سالک اور مصطفیٰ شاہ گیلانی کو بھی اس کمیٹی میں شامل کرلیا گیا۔
بعد میں 30/جولائی 1935ئ کو اس کمیٹی کا نام ’’مجلس اتحاد ملی‘‘ طے کیا گیا۔ اس کے صدر ملک محمد دین، نائب صدر ملک لال دین قیصر اور جنرل سکریٹری مولانا محمد دا¶د غزنوی مقرر ہوئے۔ سکھوں سے مفاہمت کے لیے مخصوص ذیلی کمیٹی میں چودھری افضل حق، مولانا مظہر علی اظہر، میاں عبدالعزیز، میر مقبول محمود، شیخ محمد صادق اور مولوی شیر نواب قصوری شامل تھے۔
بعد ازاں 20/اگست 1935ئ کو مجلس احرار کے رہنما مسٹر خالد لطیف گابا نے شہید گنج مسجد کے متعلق سینٹرل اسمبلی میں اس تحریک پر بحث کا نوٹس دیا۔ 4/ستمبر1935ئ کو اس پر بحث کی اجازت دے گی گئی، لیکن اس کے جواب میں وائسرائے ہند نے کہا کہ اس پر بحث مفاد عامہ کے خلاف ہے۔
مجلس اتحاد ملت کے نام صدر جمعیت کا مکتوب
26/ستمبر1935ئ
شہید گنج تحریک کے سفلی جذبات مات پڑنے لگے، تو پرانے شکاری نئے جال لے کر آن دھمکے۔ یعنی یکم ستمبر 1935ئ کو راولپنڈی میں پیر جماعت علی شاہ علی پوری کی صدارت میں حصول مسجد کے لیے نیا پروگرام وضع کیا گیا اور انھیں ’’امیر ملت‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ اس اجتماع میں سول نافرمانی کی تجویز پاس کی گئی۔ رضا کاروں کی بھرتی اور فراہمی فنڈ کا بھی اعلان کیا گیا؛لیکن احرار کو اس اجلاس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔
(کاروان احرار، جلد دوم، ص/263)
پیر جماعت علی شاہ کو مسلمانوں نے حصول مسجد کے لیے ’’امیرملت‘‘ منتخب کیا تھا۔ یہ درست ہے کہ اس منصب پر یہ آئے نہیں، لائے گئے تھے؛ کیوںکہ یہ اسکیم ہنور ادھوری تھی اور مہرے چلانے والا ہاتھ پہچانا گیا تھا، لہٰذا پیر صاحب کو اس رخ پر موڑ دیا گیا۔ انھوں نے 3/ اکتوبر (1935ئ) کو حصول مسجد کے لیے دس لاکھ رضا کاروں کی بھرتی کا اعلان کیا۔ اب نومن تیل ہوگا، تو رادھا ناچے گی۔
لاہور میں اچانک ہندو¶ں سے کاروباری بائیکاٹ کی تحریک چل نکلی۔ اس وقت تک تمام منڈیوں پر غیر مسلم قابض تھے۔ انھوں نے جواب میں مسلمان کے ہاتھ سود اسلف بیچنے سے انکار کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خوانچہ فروش سے درمیانے درجے کا کاروباری مسلمان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ گیا۔ اس تحریک کا محرک کون تھا؟ اس کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی۔
(کاروان احرار، جلد دوم، ص/ 277)
انھیں حالات کے پیش نظر حضرت العلامہ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے ذیل کا مکتوب گرامی سکریٹری مجلس اتحاد ملت لاہور کو ارسال فرمایا :
بخدمت جناب سکریٹری صاحب مجلس اتحادملت لاہور!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مہربانی کر کے پوری کوشش کیجیے کہ فریقین مقاطعہ اور پیکٹنگ کی تحریک کو õجو نہایت بے وقت اور نا موافق حالات میں شروع ہوگئی ہےõ قطعا روک دیں؛ کیوںکہ یہ تحریک موجودہ فضا میں عام ملکی مفاد اور خصوصا اصل مقصد، یعنی واگذاری مسجد اور اخص خصوص کے طور پر مسلمانوں کی متحدہ قوت کو بے حدمضر اور فرقہ وارانہ فسادات پیدا کرنے والی ہے۔ مزید یہاں مسلمانوں کو اقتصادی پیچیدگیوں میں الجھا دینا اس کا لازمی نتیجہ ہوگا۔ تیسری طاقت کے لیے موقع بہم پہنچائے گا کہ وہ فرقہ وارانہ کشمکش کو آڑ بنا کر من مانی کار روائی کرے اور تشدد کے وہی مناظر سامنے آجائیں، جو اس نے قانون کی حمایت کے پردے میں مسلم اجتماعات کے خلاف و دوران انہدام مسجد پیش کیے تھے۔ مسلم پالیسی متعین کرنے کے لیے اجتماعی شوریٰ اور متحدہ فیصلہ ضروری ہے۔ بہر حال اس مہلک تحریک کو روکنے کے لیے متفقہ سعی عمل میں لائیے اور آگے پھیلنے سے جلد از جلد رو کیے۔
محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ۔ (سہ روزہ الجمعیۃ،یکم اکتوبر1935ئ)
ایک غلط فہمی کا ازالہ
9/اکتوبر1935ئ
حضرت العلامہ علی محمدکفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہندنے حسب ذیل بیان جاری کیاہے:
27/ستمبر1935ئ انقلاب میں اور 2/اکتوبر 1935ئ کے پیسہ اخبار میں میری طرف یہ بات منسوب کرکے کہ میںنے یوم شہید گنج کے جلسہ میں یہ کہا ہے کہ’’ مسجد شہید گنج کے انہدام اور مسلمانوں پر آتش باری کے ذمہ دار سر فضل حسین ہیں۔‘‘ اس پر رائے زنی کی گئی ہے اور مذاق اڑایا ہے اور سر فضل حسین کی بیماری اور لاہور سے غیر حاضری کا عذر بیان کر کے صفائی پیش کی ہے۔ میں حقیقت واقعہ کے اظہار کے لیے چند سطریں اخبارات میں بھیج رہا ہوں، تاکہ ناظرین اخبار کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ رہیں۔
میں نے 20/ستمبر(1935ئ) کو جامع مسجد دہلی میں ہیں پچیس ہزار مسلمانوں کے سامنے تقریر کی تھی، اس میں معاملہ¿ انہدام کے تمام پہلوؤں پر قانونی حیثیت اوراخلاقی حیثیت سے بحث کی تھی اور سکھوں اور حکومت کو پورا ذمہ دار ٹھہرایا تھا، جیسا کہ اسی جلسہ کی تجویز سے ظاہر ہے۔ میری تقریر اسی تجویز کی تفصیل اور توسیع تھی۔
میں نے اپنی تقریرمیں سر فضل حسین کا نام لیا اور نہ ان پر کوئی ذمہ داری عائدکی ، نہ صراحتا، نہ اشارتاً؛بلکہ میرے خیال میں بھی یہ بات نہیں تھی اورنہ اب تک میرے ذہن میں اس نسبت کے لیے کوئی دلیل آئی۔ میری طرف اس قول کی نسبت بالکل غلط اور افترا ہے۔
محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ۔(سہ روزہ الجمعیۃ،9/اکتوبر1935ئ)
مسجد شہید گنج تحریک میں معاونت کا اعلان
28/اکتوبر1935ئ
کچھ سکھوں نے پنجاب کی مسجد شہید گنج کو شہید کردیا، جس کے خلاف دیگر مسلم اداروں کی طرح جمعیت علمائے ہندنے بھی شدید احتجاج درج کرایا۔ اس مسجد کی واگزاری کے سلسلہ میں فرضی جمعیت ’’جمعیت علمائے کانپور رجسٹرڈ‘‘ نے جمعیت کے خلاف پرو پیگنڈا کرنا شروع کیاکہ اس مسجد کے مسئلہ کے ذمہ دار اعلیٰ حضرت امیر ملت سے اختلاف رائے رکھتے ہیں۔ اس پر صدر جمعیت نے مفصل فتویٰ بھی دیا اور جمعیت نے اپنے اس موقف کا اعلان بھی کیا کہ:
’’جمعیت علمائے ہند مسجد شہید گنج کے قیامت خیز حادثے کی اہمیت اور شہدائے لاہور کے خون کی قدروقیمت سے اچھی طرح واقف ہے اور وہ مسجد کی واگزاری کے سلسلے میں ہر اس پروگرام کیõ جسے اہل الرائے اتفاق و اتحاد سے قابل عمل اور مثمر اور نتیجہ خیز قرار دیںõ پوری تائید و اعانت کے لیے ہر وقت تیار ہے۔‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ، 28/اکتوبر1935ئ)
مجلس اتحاد ملت راول پنڈی کی قراداد پرجمعیت کا بیان
28/اکتوبر1935ئ
مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علما نے حسب ذیل بیان اخبارات کو دیا:
اخبارات میں مجلس اتحاد ملت راولپنڈی کی مجلس عاملہ کی ایک قرار داد بدیں مضمون شائع ہوئی ہے کہ جمعیت علمائے ہند بدایوں کے اجلاس میں، ایک غیر ذمہ دارانہ قرارداد منظور کر کے مسلمانان ہند کے جذبات کی تحقیر کی ہے اور پنجاب کے مسلمانوں کی قربانیوں اور فداکاری کے مظاہروں کو ضائع کر دیا ہے اورجمعیت کے ارکان نے اس قرارداد کو( امیر ملت )کی صدارت میں منظور کر کے اپنی سرکار پرستی اور ٹوڈی ہونے کا ثبوت دے د یا ہے۔
قرار داد مذکور میں یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ’’چوںکہ مسجد پنجاب میں شہید کی گئی اور پنجاب ہی میں مسلمانوں پر گولیاں چلیں، پنجاب ہی میں کا نفرنس منعقد کی گی اور آئندہ پرگرام مرتب کیا گیا۔ اب اس فیصلہ کو منسوخ کرنے کا جمعیت علمائے ہند کانپور کوکوئی حق نہیں، نیز امیرملت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے وعدوں کے موافق راولپنڈی کانفرنس کے فیصلے سے انحراف نہ فرمائیں۔‘‘
میں مجلس اتحاد ملت راولپنڈی کی اس قرار داد کے متعلق صرف اس قدر عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جمعیت علمائے ہند ہندستان کی وہ واحد مشہور و معروف جمعیت ہے، جو 1920ئ (1919ئ) سے قائم ہے اورجس کی مذہبی اور وطنی قربانیاں آفتاب نصف النہار کی طرح روشن ہیں۔ اس جمعیت علما کا کوئی اجلاس بدایوں میں منعقد نہیں ہوا اور نہ اُس نے کوئی ایسی قرار داد منظور کی، جس سے اسلامیان ہند کے جذبات کی تحقیر ہوتی ہو، یا سر کار پرستی، یا ٹوڈی ہونے کا ثبوت بہم پہنچتا ہو۔
اور مسلمانان ہند کی بدقسمتی سے اس جمعیت سے کٹ کرکانپور میں جو جمعیت علمائے ہند کان پورکے نام سے بن گئی تھی، اس کا بھی اب کوئی مستقل وجود باقی نہیں رہا۔ گزشتہ نومبر میں بمقام مراد آباد اس کے عہدے داروں اور ارکان نے جمعیت علمائے ہند دہلی سے اتفاق و اتحاد کر لیا اور حضرات علمائے فرنگی محل و بدایوں، کانپور،و الہ آباد اب قدیم جمعیت علمائے ہند دہلی کے ہی دائرہ میں داخل ہیں، ان میں سے بھی کوئی بدایوں کی قرارداد کا ذمہ دار نہیں ہے۔
جمعیت علمائے ہند دہلی کے صدر محترم حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کا بیان مسجد شہید گنج کے متعلق اخبارات میں شائع ہو چکا ہے کہ مسجد قیامت تک مسجد ہے اور اس کے انہدام کی ذمہ داری حکومت اور سکھوں کے ناعاقبت اندیشانہ رویہ پر ہے۔ اور اس سلسلہ میں جن مسلمانوں نے اپنی جانیں قربان کردی ہیں، وہ سب شہید اور قابل صد تبریک ہیں اور مسجد کی واگزاری کے لیے کسی صحیح اور متحدہ اور نتیجہ بخش پروگرام کے ماتحت جدو جہد کرنامسلمانوں کا مذہبی وظیفہ ہے۔
اس بیان کی روشنی میں ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ جمعیت علمائے ہند کوئی ایسی تجویز کس طرح پاس کر سکتی ہے، جس میں سرکار پرستی، یاٹوڈی پنے کا شائبہ بھی ہو۔ رہا بدایوں کا جلسہ اور اس کی تجویز، تو اس کے بارے میں اس امر کو فراموش نہ کرنا چاہیے کہ یہ جلسہ اس مشہور و معروف جمعیت علمائے ہند کا جلسہ نہیں تھا؛ بلکہ ابھی تک ایک مخصوص باڈی ایسی موجود ہے، جس نے اپنے خاص اغراض و فوائد حاصل کرنے اور خداو ندان نعمت کو خوش کرنے کے لیے اسی نام سے ایک جمعیت بنا رکھی ہے اور بھولے بھالے مسلمانوں کو مغالطہ میں ڈالنے کے لیے اس خود ساختہ جمعیت کا نام بھی قریب قریب وہی رکھ لیا ہے،جو جمعیت علماکا تھا۔ اور ہم معنی الفاظ میں ( کہا جاتا ہے کہ) رجسٹرڈ بھی کرالیا ہے۔ مذہبی ووطنی خدمات میںاس کی کوئی فداکاری اور قربانی آج تک مسلمانان ہند کے سامنے نہیں آئی۔ بدایوں کا جلسہ اسی خود ساختہ رجسٹرڈ باڈی کا جلسہ تھا، جس کی صدارت خیر سے امیرملت سید جماعت علی شاہ صاحب کے حصے میں آئی اور آپ کی صدارت اور رہنمائی میں جلسے نے ایسی تجویز پاس کی، جس کو مجلس اتحاد ملت راولپنڈی بجا طور پر سرکار پرستی اور ٹوڈیت قرار دیتی ہے۔
نہیں کہا جاسکتا کہ قرارداد کا مضمون اس خود ساختہ جمعیت کے ارکان کے خیالات کا عکس ہے، جو پیر صاحب کی صدارت کے سایہ میں بروئے کارآ کر پاس ہوگیا، یا امیرملت کے ہی دل کی آواز ہے، جس کی بندوق جلسہ کے کاندھے پر کہہ کر چھوڑی گئی ہے؛مگر واقعہ یہی ہے کہ اس باڈی کے جلسہ میں اور امیرملت کی صدارت میں تجویز مذکور پاس کی گئی۔ بہرحال جمعیت علمائے ہند دہلی کا دامن اس تجویز کے دھبہ سے پاک ہے اور تمام اراکین جمعیت علمائے ہند õجن میں علمائے فرنگی محل وبدایوں،وکانپور، والہ آباد،وبہار اور تمام صوبہ جات کے علما بھی شامل ہیںõ اس قرار دادسے بری الذمہ ہیں۔
آخر میں اس قدر اور عرض کردینا ضروری ہے کہ جمعیت علمائے ہند مسجد شہید گنج کے قیامت خیز حادثے کی اہمیت اور شہدائے لاہور کے خون کی قدر وقیمت سے اچھی طرح واقف ہے اور وہ مسجدکی واگزاری کے سلسلے میں ہر اس پروگرام کیõ جسے اہل الرائے اتفاق و اتحاد سے قابل عمل اور مثمر اور نتیجہ خیز قرار دیںõپوری تائید و اعانت کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
(سہ روزہ الجمعیۃ، 28/اکتوبر1935ئ)
مسجد شہید گنج کی واگزاری سے متعلق ایک استفتا کاجواب
2/نومبر1935ئ
مسجد شہید گنج کے بارے میں کسی صاحب کے سوالات کے جواب میں حضرت مفتی اعظم نے مفصل خط تحریر فرمایا۔ سوالات کے مضمون کا اندازہ خط کے مطالب سے ہو جاتا ہے۔ جواب یہ ہے:
جناب مکرم دام! مجد ہم، السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ عنایت نامہ نے ممنون فرمایا۔ جناب نے تحریر فرمایا ہے کہ بعض اخبارات (اکثر غیر مسلم) اور بعض افراد یہ پر چار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ جناب اعلیٰ حضرت امیر ملت سے مسئلہ¿ شہید گنج کے بارے میں اختلاف رائے رکھتے ہیں، چوں کہ اس کے متعلق کوئی مصدقہ اطلاع نہیں، اس لیے از راہ کرم بدیدن خط ارشاد فرمائیں کہ ان بیانات میں کہاں تک صداقت ہے؟
جوابا گزارش ہے کہ مسجد شہید گنج کے متعلق میرا واضح اور غیر مشتبہ بیان اخبارات میں شائع ہو چکا ہے۔ اس کا خلاصہ جناب کی مزید توجہ کے لیے درج ذیل ہے:
(۱) جو مسجد کہ ایک مرتبہ با قاعدہ شرعی طور پر مسجد ہو جائے، وہ قیامت تک مسجد ہی رہتی ہے۔کسی غاصب کے غاصبانہ قبضے اور کسی جابر کی جابرانہ دست برد سے اس کی مسجدیت باطل نہیں ہوسکتی۔
(۲) سکھوں کو باوجود اس کے õکہ عدالتی فیصلے ان کے قبضے کے حق میں تھےõ مسجد کو منہدم کرنے کا حق ہرگز حاصل نہ تھا۔ انھوں نے مسجد کو شہید کر کے ایک شدید اخلاقی جرم کا اور قانونی حیثیت سے نقض امن عامہ کی جنایت کا ارتکاب کیا ہے۔
(۳) حکومت نے بندوقوں اور سنگینوں کی حمایت میں سکھوں کو مسجد منہدم کرنے کا موقع بہم پہنچا کر عدالتی فیصلوں کی منزلوں کی حدود سے تجاوز کیا اور حفظ امن عامہ کے فرائض ادا کرنے سے تفافل اور تساہل کی ذمہ داری سے وہ سبک دوش نہیں ہو سکتی۔
(۴) مسجد شہید گنج کا انہدام یقیناً مسلمانوں کے لیے دل آزار، اشتعال انگیز اور ناقابل برداشت تھا۔
(۵) مسجد کی واگزاری کے لیے جدو جہد کرنا اور قابل عمل متحدہ نتیجہ بخش ذرائع سے اسے واگزار کرانا مسلمانوں کا مذہبی اور شرعی وظیفہ ہے۔
جہاں تک مسجد شہید گنج کے معاملے کا تعلق ہے، اس کے بارے میں اس بیان سے میری رائے ظاہر ہے۔ رہا اس کی واگزاری کے سلسلے میں پیر سید جماعت علی شاہ صاحب کے طریقہ¿ کار سے میرا اتفاق، یا اختلاف کرنا، تو جہاں تک واقعات کا تعلق ہے، وہ یہ ہیں کہ راولپنڈی کا نفرنس نے مسجد کی واگزاری کے لیے پروگرام تجویز کرنے کی غرض سے ایک مجلس شوریٰ مقرر کر دی تھی اور مجلس کے پروگرام پر عمل کرنے اور مسلمانوں سے عمل کرانے کے لیے پیر سید جماعت علی شاہ صاحب کو پہلاڈ کٹیٹر مقرر کر دیا تھا۔ اگر چہ یہ بات میرے علم میں نہیں آئی کہ اس مجلس شوریٰ کا کوئی جلسہ منعقد ہوا اور اس نے کوئی پروگرام تجویز کیا، یا نہیں؟ مگر یہ واقعہ ہے کہ راولپنڈی کا نفرنس کے انعقاد پر دو ماہ سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود پیر صاحب نے مسجد کی واگزاری کے سلسلے میں کوئی عملی اقدام اس وقت تک نہیں کیا اور نہ کوئی پروگرام شائع فرمایا۔
رجب سے پہلے لاہور میں پیر صاحب نے اپنی تقریروں میں کہا تھا کہ چوں کہ مسجد شہید گنج کا معاملہ تمام مسلمانوں کا معاملہ ہے، اس کے لیے کوئی اقدام تمام مسلمانوں کے مشورے سے ہونا چاہیے۔ اس لیے میں نے اس کو اجمیر شریف کے عرس تک ملتوی کر دیا ہے، کیوں کہ عرس کے موقع پر صوفیا و سجادہ نشینان ہندستان اور ہر طبقے کے مسلمانوں کا اجتماع عظیم اجمیر شریف میں ہوتا ہے۔ اس لیے سب کے مشورے سے کوئی پروگرام تجویز کیا جائے گا۔ اجمیر شریف کے عرس میں پیرصاحب تشریف بھی لے گئے اورعرس کوکامل ایک مہینے کا عرصہ بھی گزر گیا؛ مگر کوئی پروگرام شائع نہیں ہوا۔
اس کے بعد بدایوں میں جمعیت علمائے کان پوررجسٹرڈ کے جلسے پر محمول کیا گیا تھا۔ وہ جلسہ بھی پیر صاحب کی صدارت میں ہوچکا۔ اس کے بعد مجلس شوریٰ، یا مجلس اتحاد ملت کا کوئی مؤثرپروگرام بھی شائع نہیں ہوا۔
الحاصل مسجد کی واگزاری کے لیے اس وقت تک پیر صاحب کی کوئی عملی سرگرمی بروئے کار ہی نہیں آئی، جس سے اتفاق، یا اختلاف کرنے کا سوال بھی پیدا ہو سکے۔
آخر میں یہ عرض کر دینا بھی نا مناسب نہ ہوگا کہ مسجد شہید گنج کا معاملہ ایسا معاملہ نہیں ہے کہ اس میں مسلمانوں کی دورا ئیں ہوسکیں۔ مسجد کی واگزاری کا مسئلہ متفق علیہ اور مسلمانوں کا شرعی وظیفہ ہے، اس میں تو اختلاف کی گنجائش ہی نہیں ۔یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص، یا استبدادی طرز عمل، یا غیر متعلق سرگرمیاں موجب اختلاف ہو جائیں۔ اگر ایسا ہوا، تو یہ مسلمانوں کی انتہائی بد قسمتی ہوگی۔ مجلس اتحاد ملت کی کانفرنس منعقدہ راولپنڈی نے بجا طور پر مجلس شوریٰ کے ہاتھ میں یہ کام دے دیا تھا کہ وہ اہل الرائے کے مشورے سے کوئی متحدہ اور قابل عمل اور نتیجہ بخش پروگرام تجویز کرے۔ اور مجلس شوریٰ کے تجویز کردہ پروگرام کو عمل میں لانے اور مسلمانوں سے عمل کرانے کے لیے ڈکٹیٹر مقرر کرنا بھی ضروری تھا، مگر اس مسئلے کو امارت شرعیہ کے مسئلے کے ساتھ (جوفی حد ذاتہ نہایت اہم اور غور طلب مسئلہ ہے) خلط کر دینا موقع شناسی اور اصابت رائے کی حد سے متجاوز ہے۔
ڈکٹیٹر کو بھی اپنی تمام تر توجہ مسجد کی واگزاری کے معاملے پر مرکوز کر دینی چاہیے اور ایسی تمام باتوں سے قطعاً مجتنب رہنا چاہیے، جو اتحاد بین المسلمین کے منافی ہوں، یا جن کا نتیجہ یہ ہو کہ مسجد کی واگزاری جیسا اہم اور متفق علیہ مسئلہ بھی خدا نخواستہ اختلاف کا آماجگاہ بن جائے۔ مجلس اتحاد ملت کو اس نازک ترین موقع پر ان امور کی نگہداشت لازم ہے۔
جناب کے عنایت نامے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اخبارات کچھ غلط فہمی پھیلا رہے ہیں، تو اگر آپ اجازت دیں، تو میں اس خط کی نقل اخبارات میں بغرض اشاعت بھیج دوں۔ میں نے اس کی نقل رکھ لی ہے۔
محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ، دہلی 2/ نومبر1935ئ۔ (کفایت المفتی،جلد نہم،کتاب السیاسیات۔ بحوالہ شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلددوم، ص/636-638)
مسجد شہید گنج کے مقدمہ میں صدر جمعیت علما کی شہادت
23/مارچ 1936ئ
آج مسٹریبل ڈسٹرکٹ جج لاہور کی عدالت میں اٹھارہ مدعیوں کی طرف سے õجس میں مسجد شہید گنج بھی مدعی شامل ہےõ ڈاکٹر عالم کے دائر کردہ دعوے کی سماعت ہوئی۔
مدعیان کی طرف سے ڈاکٹر محمدعالم بیرسٹر ملک برکت علی ایڈوکیٹ، میاں نور الدین بیرسٹر اورمدعا علیہان کی طرف سے رائے بہادر بدری د اس اور سردار نزندر سنگھ پلیڈر پیش ہوئے۔ سب سے پہلے حضرت العلامہ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کی شہادت ہوئی۔ حضرت مفتی صاحب کی تشریف آوری پر فاضل جج نے ممدوح کے لیے کرسی پیش کرنے کا حکم فرمایا۔ حضرت مفتی صاحب نے کرسی پربیٹھ کر شہادت دی۔
شہادت کے دوران میں حضرت مفتی صاحب نے جو کچھ ارشاد فرمایا، اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
میں جمعیت علمائے ہند کا صدر ہوں اور میں مفتی بھی ہوں۔ تقریبا ایک ہزاراشخاص مجھ سے ایک سال میں فتوے لیتے ہیں۔
فتوے لینے والے ہندستان و بیرون ہندستان سے آتے ہیں۔ اور وہ عمومامسلمان ہوتے ہیں۔ کبھی غیر مسلم بھی فتوی لیتے ہیں۔ میں حنفی اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھتا ہوں۔ ہم قبلہ رو ہو کر نماز پڑہتے ہیں۔ مسجد کے علاوہ میں نے کوئی ایسی عمارت نہیں دیکھی، جس میں ہم قبلہ کی طرف منھ کر کے کھڑے ہوں اور اس مسجد کی پشت پر امام جماعت کے کھڑے ہونے کے لیے محراب بھی ہو۔ امام مسجد کے کھڑے ہونے کی جگہ محراب کہلاتی ہے۔ جب سے اسلامی تمدن و جو د میں آیا ہے،وقف کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص اپنی جاگیر، یا عمارت کو اپنی ملکیت سے نکال کر خدا کی ملکیت میں دے دے اور اس کی آمدنی کسی ثواب کے کام میں استعمال ہوتی رہے۔ وقف کسی مقررہ میعاد کے لیے نہیں ہو سکتا۔ وقف کسی خاص گروہ، یا عام کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ وقف مسجد کے لیے بھی ہوسکتا ہے ۔مسجد اس قطعہ¿ زمین، یا عمارت کو کہتے ہیں، جو نماز پڑھنے کے لیے وقف ہو۔ مسجد کسی انسان کی ملکیت نہیں؛ بلکہ خدا کی ملکیت تصور کی جاتی ہے۔ جب کوئی مسجد گر جائے، غیر آباد ہو جائے ، یا اس میں نماز پڑھنی چھوڑدیں، تب بھی وہ مسجد ہی رہتی ہے۔
احناف کے واسطے فتاویٰ عالم گیری وغیرہ مستند کتابیں ہیں، ان کتابوں کے حوالے دیے جا سکتے ہیں، اسلامی قانون کا منبع قرآن شریف اور حدیث ہے۔ قرآن شریف میں بھی لکھا ہے کہ مسجد خدا کی ملکیت ہے۔ اور اسلامی قانون کے مطابق مسجد پر قبضہ¿ مخالفانہ نہیں ہو سکتا۔ مسجد پر خواہ کسی کا کتنی دیر تک قبضہ کیوں نہ رہے، مسجد کی حیثیت نہیں بدلتی۔ مسجد کی حیثیت تحت الثریٰ سے آسمان تک رہتی ہے۔ مسجد کسی غرض کے لیے کبھی منتقل نہیں کی جاسکتی۔ سات برس کی عمرمیں مسلمان بچے کونماز پڑھنے کا حکم ہوجاتا ہے۔ دس برس میں تاکید ہو جاتی ہے اور بالغ ہونے کے بعد ، یعنی پندرہ سال کی عمرپرپہنچنے پر شریعت کی رو سے نماز فرض ہو جاتی ہے۔ جب کوئی مسجد برباد ہوجائے ، یا اُس پر کوئی قبضہ کرلے، تو ہر مسلمان کو اُس کی واپسی کے لیے دعوے کرنے کا حق ہے؛لیکن دعویٰ ملکیت کا نہیں ہوسکتا، صرف نماز پڑھنے کا ہوسکتا ہے۔ تمام مسلمانوں کو مسجد میں نماز پڑھنے کا حق ہے۔ مسجد کے متعلق اصولی طور پر کسی فرقہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جس عمارت کے مینار ہوں،قبلہ رخ محراب ہوں اور جس میں گنبد بھی ہوں، وہ لازمی طور پر مسجد ہوتی ہے۔ مسجد پر متولی کا قبضہ ہوتا ہے، یا مسلمانوں کا قبضہ ہوتا ہے۔
حضرت مفتی صاحب کی شہادت تقریبا ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی، جس کے دوران میں ممدوح نے بعض مستند فقہی کتابوں کی عبارتیں بھی نقل کر کے شامل مسل کرا ئیں۔
حضرت مفتی صاحب کی شہادت کے بعد مولانا ثنائ اللہ صاحب امرتسری، شمس العلمائ سید علی الحائری ،محمد علی امیر جماعت احمدیہ لاہور کے بیانات بھی ہوئے، جن میں اہل حدیث،شیعہ اور احمدی فرتوں کی جا نب سے مسجد کے وقف ہونے پر روشنی ڈالی گئی۔
( سہ روزہ الجمعیۃ،28/مارچ 1936ئ)
جمعیت علمائے دہلی کے سالانہ اجلاس میں شہید گنج مسجد پر قرارداد
جمعیت علمائے دہلی کا سالانہ اجلاس27,28,29/مارچ 1936ئ کو منعقد ہوا۔ اس کی تجویز نمبر(۳) میں کہا گیا کہ:
’’جمعیت علمائے ہند صوبہ دہلی کا یہ اجلاس اس حقیقت کا اعلان کرتا ہے کہ اسلامی احکام کی رو سے مسجد خدا کی ملک اور قیامت تک مسجد رہتی ہے۔ مسجد شہید گنج پر اگر ایک عرصہ سے غیر مسلم کا قبضہ¿ مخالفانہ رہا،تو اس سے اس کی مسجدیت اور تقدس پر کوئی اثر نہیں پڑا اور مسلمانوں اور اسلامی اور شرعی نقطہ¿ نظر سے وہ قیامت تک واجب الاحترام مسجد ہی رہے گی۔
یہ جلسہ امید رکھتا ہے کہ پنجاب؛ بلکہ ہندستان کے امن اور ہمسایہ اقوام کے باہمی حسن سلوک کی بنا پر سکھ بھائی بھی مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان موجودہ تلخی کو õخواہ وہ کسی حد تک طول پکڑ گئی ہےõ رفع کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
محرک: حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب۔
مؤیدین: حضرت مولانا احمد علی صاحب۔ حضرت مولانا عبد السمیع صاحب۔
(سہ روزہ الجمعیۃ، یکم اپریل، 1936ئ)
مسجد شہید گنج کے عدالتی فیصلہ پر جمعیت کا احتجاج
’’مسجد شہید گنج اور پیر کاکوشاہ صاحب کے مزار کے انہدام کے مقدمات کا فیصلہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور نے 25/مئی کو مزار حضرت کاکو شاہ اور شہید گنج کے مقدمات کو زائد المیعاد قرار دے کر خارج کردیا ۔اس سلسلے میں جن کو سزائیں ہوئی تھیں، وہ رہا کردیے گئے۔
یکم جون 1936ئ کو جمعیت علمائے ہند کے صدر حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ:
’’مسجد شہید گنج کو مسجد اور وقف شدہ عمارت تسلیم کرتے ہوئے عدالت نے محض اس بنا پر õکہ ایک عرصہ سے مسجد میں نماز نہیں پڑھی گئیõ مسلمانوں کے استحقاق عبادت کا دعویٰ خارج کردیا۔ اس فیصلے کا اسلامی صریح احکام کے خلاف ہونا آفتاب سے زیادہ روشن ہے ۔ اسلامی شریعت کی رو سے مسجد ہمیشہ مسجد رہتی ہے خواہ اس میں نماز پڑھی جاتی رہے، یا نہ پڑھی جائے، اس کی مسجد یت باطل نہیں ہوتی۔
اس فیصلے نے نہ صرف یہ ثابت کردیا کہ یہ فیصلہ مسلمانوں کے لیے مذہبی مداخلت ہے؛بلکہ بعض دوسری مساجد کے لیے õجس میں کسی مجبوری سے نماز نہیں ہوتی ہےõ ایک خطرناک مثال قائم کردی ہے۔
مزار کے مقدمہ میں جج نے تسلیم نہیں کیا کہ وہ پیر کاکوشاہ رحمۃ اللہ علیہ کا مزار تھا ، حالاں کہ شہادتوں کی کثرت اور قوت اس کی مقتضی ہے کہ مزار کا وجود بدیہی اور یقینی ہے ۔ مسلمانوں کو لازم ہے کہ وہ صبر، تحمل اور امن پسندی کے ساتھ اس فیصلے کے خلاف آواز اٹھائیں اور متحدہ قوت سے عدالت کی اپیل کو منسوخ کرنے کی سعی کریں۔
محمد کفایت اللہ کان للہ لہ دہلی۔ ‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ، یکم جون 1936)
ابوالمحاسن حضرت مولانا محمد سجاد صاحب کا بیان
حضرت نائب امیر شریعت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب بہاری نور اللہ مرقدہ نے مسجد شہید گنج کے تعلق سے ایک طویل بیان دیا، جس میں انھوں نے کہاکہ:
ملک کی موجودہ فضا اور عدالتی و انتظامی محکموں کے موجودہ نظام کو ملحوظ رکھتے ہوئے مسجد شہید گنج اور مزار کاکو شاہ کے مقدمات کا وہ فیصلہõجو 25/مئی (1936ئ )کو لاہور کے ایک انگریز فاضل جج نے سنایاõکوئی خلافِ توقع نہیں ہے۔ اخبارات میں اس فیصلے کے اقتباسات جو اب تک شائع ہوئے ہیں، ان پر غور کرکے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس فیصلے سے اگرچہ مسلمانوں کے خالص مذہبی جذبات و حسیات کو نہایت زبردست ٹھیس لگی ہے اور ان کے قلب بہت زیادہ مجروح ہوگئے ہیں، مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس فیصلے سے مسلمانوں کی پوزیشن پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگئی ہے ؛ کیوںکہ فاضل جج نے مسلمانوں کے دعوے کی اصل بنیادوں کو تسلیم کرکے نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کے پاک دامن کو روشن تر کردیا، جو ان کی عمومی روایات کے شایان شان ہے اور جس کو متعصب سکھوں اور مہاسبھائی ہندو¶ں کے غلط پروپیگنڈے سے بچانے کی کوشش کی جارہی تھی؛ بلکہ مسلمانوں کے حریت پسند طبقہ کے اس عقیدے کو پختہ کردیا ہے کہ ہندستان میں حکومت کے موجودہ آئین کے ماتحت اسلامی پرسنل لائ کے تحفظ کی کوئی صورت موجود نہیں ہے۔اور مجھے امید ہے کہ کراچی کے تاریخی اور مشہور مقدمے کے بعد مسجد شہید گنج کا یہ فیصلہ قابلِ یادگار فیصلہ ہے ، جس سے ان مسلمانوں کی بھی آنکھیں کھل جانی چاہییں، جو موجودہ حکومت کے موجودہ، یا آئندہ آئین سے کسی نہ کسی طرح اب تک مطمئن تھے۔
اسی کے ساتھ میں اس حقیقت کے اظہار پر مجبور ہوں کہ فاضل جج نے اپنے نقطہ¿ نظر سے اگرچہ بالکل دیانت دارانہ فیصلہ کیا ہو اور اس حیثیت سے اس کا فیصلہ حق بجانب ہو، مگر اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ جن قوانین کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف فیصلہ دیا گیا ہے ، ان کی بنیاد نہایت کمزور ہے اور ان کے اطلاق میں دیانت دارانہ غلط فہمی ہوئی ہے ؛ کیوںکہ اطلاقِ قانون میں اس نقطے کو قطعاً فراموش کردیا گیا ہے کہ ملکہ (وکٹوریہ( آں جہانی اور ان کے جانشینوں کے شاہی فرامین کے منشا و مفاد پر ملک کا کوئی قانون اثر انداز نہیں ہوسکتا ہے۔ اس لیے ہر قانون کو ان فرامین کی روشنی میں دیکھنا لازم ہے۔ اس لیے قوانین میعاد، یا ذاتی ملکیت، یا گردوارہ ایکٹ کی کوئی دفعہõخواہ کتنی ہی عام ہوõ مساجد و اوقاف کے شرعی احکام پر کسی طرح اثرانداز نہیں ہوسکتی اور جب تک شاہی فرامین، خاص شاہی فرامین کے ذریعے منسوخ نہیں ہوتے ، ملک کے ہر عمومی قانون سے اس قسم کے تمام شرعی احکام مستثنیٰ ہوںگے ، خواہ قانون میں اس کا استثنائ مذکور ہو یا نہ ہو۔
لیکن جب مسجد اور اوقافِ اسلامی کے متعلق یہ غلط فیصلہ صادر ہوگیا ہے، تو مسلمانوں کو چاہیے کہ صبر و سکون کے ساتھ اس معاملے پر غور کریں اور اسلامی احکام کے احترام کی بقا اور تحفظ کے لیے پُرامن طریقے پر اپنی جدوجہد کو قائم رکھیں اور غم و غصے کی وجہ سے مغلوب الحال ہوکر کوئی ایسی حرکت نہ کریں، جس سے امنِ عامہ میں خلل پڑے اور اس عظیم مقصد کو نقصان پہنچے۔
مسلمانانِ پنجاب سے میری دیانت دارانہ اور مخلصانہ التجا ہے کہ اس اہم ترین نازک موقع پر اس اہم مقصد کے حصول کے لیے باہم متحد ہوجائیں، اور مجھے امید ہے کہ تمام ہندستان کے مسلمان ان کی متحدہ آواز پر لبیک کہیں گے۔
اس وقت حکومت پنجاب اور حکومت ہند کو اس فیصلے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ، حکومت کے مفاد کے لیے اس گزارش پر میں پُرامید ہوں کہ جب متنازع جگہ کا اس فیصلے کی رو سے حکومت کے نزدیک مسجد ہونا متعین ہوگیا ،تو اس کے احترام و وقار کے لیے اس جگہ کو سرِدست اپنی نگرانی میں لے لے ، تاکہ اس کی بے حرمتی کی وجہ سے فساد کا اندیشہ باقی نہ رہے۔ نیز مزار کاکو شاہ کی جگہ کو بھی سرِدست اپنی نگرانی میں رکھ کر اس کے فیصلے کی نگرانی استغاثہ کی طرف سے جلد از جلد دائر کردے۔‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ، یکم جون 1936ئ)
جمعیت علمائے صوبہ دہلی کا احتجاجی اجلاس
29/مئی 1936ئ کو جامع مسجد دہلی میں بعد نمازِ جمعہ مسلمانانِ دہلی کا ایک عام جلسہ زیرِ سرپرستی جمعیت علمائے صوبہ دہلی منعقد ہوا۔ حضرت مولانا حافظ احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند کی تحریک اور حضرت مولانا عبدالماجد صاحب ناظم جمعیت علمائے صوبہ دہلی کی تائید سے حضرت علامہ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر نے اپنی صدارتی تقریر میں جلسہ کے غرض و غایت بیان کرتے ہوئے مسجد شہید گنج اور فلسطین کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ صدرِ جلسہ کی مبسوط اور مفصل تقریر کے بعد حسبِ ذیل تجویزیں پاس ہوئیں۔ مسلمانوں میں بہت جوش تھا۔
تجویز نمبر نمبر ایک: جمعیت علمائے صوبہ دہلی کا یہ عظیم الشان جلسہ فلسطین میں برطانیہ کی تشدد آمیز پالیسی اور حریت پسند عربوں پر آتش باری اور بے پناہ گرفتاریوں کی بہیمانہ کارروائی پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے اور برطانیہ کو یہ بتا دینا چاہتا ہے کہ اس کی یہ کارروائی تمام دنیا کے مسلمانوں کو بے چین کر رہی ہے اور برطانیہ کی طرف سے مسلمانانِ عالم کے دلوں میں غم و غصے کے جذبات بھڑک رہے ہیں، اور یہ کہ عربوں کی تحریکِ آزادی کے ساتھ نہ صرف مسلمانانِ عالم ؛بلکہ ہر انسانیت پسند شخص کی دلی ہمدردی شامل ہے ، اور ان کی یہ تحریک برطانیہ کے بہیمانہ تشدد سے بجائے دبنے اور مضمحل ہونے کے تمام عرب میں بغض و نفرت کی آگ پھیلا دی گئی، اور اس کے نتائج برطانیہ کے حق میں بھی خوش گوار نہ ہوں گے۔
محرک: مولانا احمد سعید صاحب، ناظم جمعیت علمائے ہند۔
مؤید: مولانا نور الدین صاحب، نائب ناظم جمعیت علمائے ہند۔
تجویز نمبر دو: جمعیت علمائے صوبہ دہلی کا یہ عظیم الشان جلسہ مسجد شہید گنج اور مزار کاکو شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے مقدمات کے فیصلوں کوõ جو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور نے مسلمانوں کے خلاف سنائے ہیںõ اسلامی شریعت اور مذہبی آزادی اور آئین وانصاف کے خلاف سمجھتا ہے۔ جج نے یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ مسجد شہید گنج فی الحقیقت مسجد اور ایک وقف شدہ عمارت تھی، سکھوں کے قبضہ¿ مخالفانہ کی وجہ سے سکھوں کو دے دی اور مسلمانوں کے حقِ ادائے نماز کو باطل کر دیا۔ اس فیصلے نے بعض دوسری مساجد کے متعلق بھی ایک خطرناک مثال قائم کر دی ہے ، جس کے دور رس نتائج ہندستان کے امن و امان کے حق میں افسوس ناک ہوں گے۔ اسی طرح مزار کاکو شاہ کے انہدام کے مقدمے کو خارج کر دینا اور مزار کے وجود سے ہی انکار کر دینا سخت تعجب خیز اور موجبِ افسوس ہے۔ یہ جلسہ مسلمانوں کو صبر و تحمل کی تلقین کرتے ہوئے اس فیصلے کے خلاف پُرزور صدائے احتجاج بلند کرتا ہے اور مسلمانوں سے امید رکھتا ہے کہ متحدہ قوت سے اپیل میں اس فیصلے کو منسوخ کرانے کی بیش از پیش جدوجہد کریں گے۔
محرک: مولانا عبدالماجد صاحب، ناظم جمعیت علمائے صوبہ دہلی۔
مؤید: مولانا احمد سعید صاحب، ناظم جمعیت علمائے ہند۔(یکم جون1936ئ)
مسجد شہید گنج کی واگزاری کے لیے تحریک سول نافرمانی کا اعلان
3/دسمبر1937ئ کو مولانا مظہر علی اظہر ایم ایل سے نے لاہور شاہی مسجد میں اعلان کیا کہ وہ مسجد کی واگزاری کے لیے 17/دسمبر1937ئ کو مسجد وزیر خاں سے اپنا پروگرام واضح کریں گے۔ اس دوران اگر حکومت پنجاب نے مسجد واپس نہ کی، تو میں اسی روز سے سول نافرمانی کروںگا۔ (کاروان احرار، جلد سوم، ص/199)
چنانچہ اعلان کے مطابق 17/دسمبر1937ئ کو مسجد وزیر خاں سے تحریک سول نافرمانی کاآغاز کردیا گیا۔تحریک کے قائد مولانا مظہر علی اظہر کو ایک جلوس کی قیادت کے جرم میں دفعہ 151کے تحت گرفتار کرلیا گیا۔
بعد ازاں24/دسمبر1937ئ کو مجلس احرار کے ایک دوسرے جتھے نے، پھر 27/دسمبر1937ئ کو تیسرے جتھے کے پچاس پچاس آدمیوں نے اپنی اپنی گرفتاریاں پیش کیں۔
مسجد شہید گنج کی اپیل خارج ہونے پر صدر جمعیت کا بیان
26/جنوری 1938ئ کو لاہور ہائی کورٹ(فل بیچ،جو چیف جسٹس اور مسٹر بڈھے اور جسٹس دین محمد پر مشتمل تھا) نے مسجد شہید گنج کی اپیل کا فیصلہ سنا دیا۔ چیف جسٹس اور جسٹس بڈھے دونوں کا فیصلہ متفقہ تھا۔ دونوں نے مسلمانوں کی اپیل بمعہ خرچہ کے مسترد کر دی؛ لیکن جسٹس دین محمد کا فیصلہ ان دونوں فاضل ججوں سے بالکل مختلف تھا۔ فاضل موصوف نے اپیل منظور کرلی اور کہا کہ فریقین اپنا اپنا خرچ برداشت کریں ،نیز جسٹس دین محمد نے قرار دیا کہ مسجد کا امام مسلمانوں کے لیے بنا ئے دعویٰ ہوا۔
فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا: مسلمانوں کے پرسنل لا میں پنجاب لاز ایکٹ اور قانون میعاد میں ترمیم ہوچکی ہے۔ اوقاف کے بارے میں شریعت اسلامی میں میعاد کے متعلق کسی قاعدے کی عدم موجودگی کا اطلاق اس مقدمے پر نہیں ہوتا۔ ہو سکتا ہے قانون میعاد اور اس قانون کی دفعہ144کا اس پر اطلاق ہو۔
مسجد پر قانون میعاد کا اطلاق
مسجد غیر منقولہ جائداد ہے۔ ہر دعویٰ قانون کی میعاد کے تحت آتا ہے اور قانون کا اطلاق کسی قسم کے امتیاز کے بغیر تمام دعوؤں پر ہوتا ہے، خواہ یہ دعویٰ مقدس جائداد کے متعلق ہوں، یا غیر مقدس جائداد کے متعلق ہوں۔اور نہ اس کے بارے میں اس وجہ سے کوئی فرق پڑتا ہے کہ ایسے دعوؤں میں قدیمی کوئی عمارت میں فرق پڑتا ہے۔
اس لیے یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ بارہ سال (گذشتہ )تک سکھوں کے قبضہ¿ مخالفانہ کے بعد مسلمان اس زمین اور مسجد کو بطور عبادت کے اپنے تمام حقوق کھو بیٹھے ہیں، جن میں عبادت کرنے کا حق بھی شامل ہے۔ اس پر کسی قانون میعاد کی دفعہ28 کے تابع سکھوں کو زمین اور اس پر عمارت کی پوری ملکیت کا حق حاصل ہے۔ اندریں حالات یہ قرار نہیں دیا جاسکتا کہ مسجد کے طور پر اس کا تقدس برقرار رہ سکتا ہے۔ اور نہ ہی موجودہ مالکوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اصل تقدس برقرار رکھیں، یا اس کی عمارت کو بدستور قائم رہنے دیں۔ خدا کے نام پر وقف کی ہوئی جائداد بھی، اگر اس پر بارہ سال تک قبضہ¿ مخالفانہ رہے، تو مستقل ہوجاتی ہے۔
دعویٰ دائر کرنے کی تاریخ کو مدعیوں کو کوئی حق امداد حاصل نہیں تھا، لہٰذا کوئی بنائے دعویٰ موجود نہ تھی۔ علاوہ ازیں سکھ گوردوارہ ٹریبونل کے فیصلے کے پیش نظر یہ دعویٰ نہیں چل سکتا، لہٰذا اکثریت کے فیصلے کے مطابق یہ اپیل مسترد کی جاتی ہے۔
(کاروان احرار، جلد سوم، ص/237-238)
30/جنوری1938ئ کو صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے مسجد شہید گنج کے اس فیصلے پر مندرجہ ذیل بیان ہفت روزہ ’’انصاری‘‘ دہلی کو دیا:
’’لاہور کی مسجد شہید گنج کی اپیل کا فیصلہ سنا دیاگیا۔ یہ فیصلہ فل بنچ کی اکثریت کا ہے،جو چیف جسٹس اور جسٹس بڈھے کا ہے۔ جسٹس دین محمد نے اس سے اختلاف کیا ہے۔
میجورٹی نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ مسلمانوں کے پرسنل لائ کے مطابق مسجد ہمیشہ مسجد رہتی ہے؛ مگر حکومت کا قانون میعاد اور پنجاب لا ایکٹ نے مسلمانوں کے پرسنل لاز کی ان دفعات کو õجو مسجد اور اوقاف کی تائید کے متعلق ہیںõ منسوخ، یا بے کار کر دیا ہے۔
پنجاب لاز ایکٹ اور قانون میعاد مساجد پر بھی اسی طرح حاوی ہے، جس طرح شخصی، غیر منقولہ جائدادوں پر ہے اور مسجد بھی اب غیر منقولہ جائداد ہے، جوقانون میعاد اور قبضہ¿ مخالفان کی زدمیں آتی ہے۔ چوںکہ مسجد پر سکھوں کا بارہ سال سے زائد قبضہ رہ چکا ہے، اس پر وہ مالکانہ حقوق رکھتے ہیں اور مسجد کو اپنی جائدادکی طرح استعمال کر سکتے ہیں۔
ہم اس فیصلے کو اسلامی نقطہ¿ نظر سے نہ صرف غیر صحیح؛ بلکہ غیر معقول سمجھتے ہیں اور اس فیصلے سے یہ نظریہ پھر مسلمانوں کے سامنے آگیا ہے کہ اسلامی پرسنل لائ کی آزادی کا بار بار اعلان کیا گیا ہے اور جس کی حفاظت کے شاہی وعدے متعدد مرتبہ دہرائے گئے ہیں، موجودہ قوانین کے سامنے انھیں ناکارہ قرار دیا جا سکتا ہے اور موجودہ قانون کوõ خواہ وہ اسلامی پرسنل لائ کے کتنے ہی مخالف ہوںõ غالب رکھا جاتا ہے۔ آزادی اور حفاظت کا اعلان محض ایک نمائش اور آبلا فریبی ہے۔ جسٹس دین محمد نے اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے یہ بات بالکل صحیح طور پر ظاہر کردی ہے کہ مسجد کا تقدس جب ایک مرتبہ قائم ہو جائے، تو پھروہ قیامت تک کسی طرح زائل نہیں ہو سکتا۔ اور نہ ہی مسجد کی جائداد کو غیر منقولہ قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی وہ قانون میعاد کی زد میں آسکتی ہے۔ یہ اسلامی پرسنل لائ کی صیح تعبیر نہیں ہے، جس کومیجورٹی نے تسلیم نہ کرتے ہوے ملکی قوانین کو اسلامی پرسنل لا پر حاوی ہونے کا فیصلہ کردیا۔ ان حالات میں مسلمانوں کو لازم ہے کہ وہ آخری عدالت یعنی پریوی کونسل میں مقدمے کو لے جائیں اور اس نقطہ کو صاف کرائیں کہ اسلامی پرسنل لا آزاد اور محفوظ ہے، یا ملکی قوانین نے اسے ختم کر دیا ہے۔ اور پھر مسلمان اس پر غور کریں کہ ان کے لیے صحیح طریقہ کون سا ہے۔(کاروان احرار،جلد سوم، ص/239-240)
تحریک کا التوا
لاہور ہائی کورٹ کی اجازت اور لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ سرجیمس ایڈیسن قائم مقام چیف جسٹس دین محمد اور جسٹس بڈھے کے رو برو شہید گنج کے سلسلے میں مسلمانوں کی طرف سے پیش کردہ اس درخواست کی سماعت ہوئی، جس کا مفہوم یہ ہے کہ مسجد شہید گنج کی اپیل کے سلسلے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف پریوی کونسل میں اپیل کرنے کی اجازت دی جائے۔ مسلمانوں کی طرف سے ملک برکت علی اور سکھوں کی طرف سے رائے بہادر بدری داس اور ہرنام سنگھ پیش ہوئے۔
فریقین کی بحث کے بعد فاضل ججوں نے پریوی کونسل میں اپیل کی اجازت اس بنا پر دے دی کہ اس مقدمہ میں اہم قانونی امور ہیں۔
دوسری درخواست یہ تھی کہ لوکل سکھ گردوارہ پر بندھک کمیٹی کو متنازعہ فی جگہ پر پریوی کونسل کے فیصلے تک کوئی عمارت وغیرہ بنانے کی مخالفت کر دی جائے۔ اس پر فاضل جوں نے حکم دیا کہ یکم دسمبر1939ئ تک متنازعہ فیہ جگہ پر ہرقسم کی عمارت تعمیرنہ کی جائے۔
(روزنامہ انقلاب لاہورõ24/مئی 1938ئ)
23/مئی 1938ئ کو مولانا ظفر علی خان نے گورنرپنجاب اور سکندر حیات کے بیانات کے زیر اثر مسجد شہید گنج کے لیے اپنی جماعت کی طرف سے جاری کردہ تحریک سول نافرمانی ملتوی کردی۔(کاروان احرار، جلد سوم، ص/349)
مسجد شہید گنج سے متعلق پریوی کونسل کا فیصلہ
’’لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف مسلمانوں نے پریوی کونس میں جو اپیل دائر کررکھی تھی، 3/ مئی 1940ئ کو کونسل کی جوڈیشنل کمیٹی نے اسے خرچہ سمیت خارج کردیا۔ پریوی کونسل کے سربراہ مسٹر جارج رینکس نے اپیل خارج کرتے ہوئے حسب ذیل فیصلہ سنایا:
’’1762ئ سے یہ عمارت اور اس کا ملحقہ احاطہ سکھوں کے قبضہ میں ہے۔ بھنگی سرداروں نے 1762ئ میں جب لاہور پر قبضہ کیا اور اس وقت سے ہندستان کے اس حصے پر سکھ طاقت کا آغاز ہوا، سکھ مہاراجہ سنجیت سنگھ کے تحت حکومت کرتے رہے اور مہاراجہ کی موت کے بعد پنجاب برٹش انڈیا کے حصے میں آگیا۔ اس جگہ تارا سنگھ کی سمادھی تھی۔ پچاس سال ہوئے اس عمارت کا ایک حصہ گرو گرنتھ صاحب کی پوجا کے لیے استعمال ہونے لگا۔ سماعت کنندہ نے فیصلہ کیا کہ مسلمانوں نے اس مسجد کو بطور عبادت گاہ استعمال نہیں کیا، جب یہ سکھوں کے قبضے میں تھی۔
1850ئ میں نور محمد نامی شخص نے جو اپنے کو متولی ہونے کا دعویٰ کرتا تھا، محکمہ بندوبست میں ایک دعویٰ کیا جو خارج ہوگیا۔ ایسا ہی ایک دعویٰ 1853 ئ کو بھی خارج ہوا۔ 1853ئ میں دوبارہ ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں سکھوں کے خلاف جائداد پر قبضہ رکھنے کے خلاف مقدمہ درج ہوا، جو خارج ہوگیا اور اپیل پر کمشنر اور جوڈیشیل کمشنر نے بھی اسے خارج کردیا۔
1925ئ میں سکھ گوردوارہ ایکٹ اس غرض کے لیے پاس ہوا کہ سکھ کتنے ہیں اور ان کی جائداد کتنی ہے۔ 1927ئ میں گورنمنٹ نوٹیفکیشن کے ذریعہ مسجد کی عمارت اور اس سے ملحقہ زمین سکھ گوردوارہ بھائی تارا سنگھ کی ملکیت قرار دے دی گئی۔ اس سلسلے میں دو دعویٰ ہوئے۔ ایک سنت پرنام سنگھ وغیرہ نے کیا کہ جائداد اس کی ذاتی ملکیت ہے اور دوسرا انجمن اسلامیہ پنجاب نے مسلمانوں کی طرف سے کیا کہ زمین اور جائداد مسجد کی ہے، گوردوارہ کی نہیں۔ سکھ گوردوارہ ٹریبونل کے سامنے دونوں دعوے خارج ہوگئے۔ ہائی کورٹ میں اپیل کی، وہ بھی خارج ہوگئی۔ نتیجہ کے طور پریہ جائیداد اور بلڈنگ مدعا علیہم کے قبضے میں چلی گئی۔
23/ جولائی 1935ئ کو سکھ قابضوں، یا ان کی رضامندی سے متنازعہ جگہ گرا دی گئی۔ اس پر فسادات ہوئے اور مسلمانوں نے اظہار ناراضگی کیا۔ اس کے بعد پریوی کونسل کے فاضل ججوں نے شہید گنج کے مقدمات پر سیشن و ہائی کورٹ کے فیصلوں پر تبصرہ کیا اور قرار دیا کہ شہید گنج کی جائداد سکھوں کے مخالفانہ قبضہ میں ہے اور مسلمانوں کا دعویٰ قابل قبول نہیں۔ نیز اس مقدمہ میں قانون میعاد ہوتاہے، فیصلہ میں لکھا ہے :
متنازعہ جائداد اب سکھوں کے وقت سے مخالفانہ قبضہ میں ہے اور وقف کے لیے متولی کا قبضہ کرنے کا حق زیر دفعہ 14/الیمٹیشن ایکٹ ختم ہوجاتا ہے، اس لیے فاضل ججوں نے ہز مجسٹی کو مشورہ دیا ہے کہ یہ اپیل خارج کردی جائے۔ اپیل کنندگان مدعا علیہم کا خرچہ برداشت کریں۔‘‘ (روزنامہ انقلاب لاہور، 16/مئی 1940ئ ) ۔ ‘‘
(کاروان احرار، جلد چہارم، ص/380-81)
پریوی کونسل کے فیصلے پر جمعیت علما کا رد عمل
جمعیت کی مجلس عاملہ کی ایک میٹنگ7،8،9/ جون1940ئ کو منعقد ہوئی۔ بعد ازاں جمعیت علمائے ہند کا بارھواں اجلاس 7،8،9/ جون 1940ئ کو منعقد ہوا، جس کے صدارتی خطاب میں صدر اجلاس حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے فرمایاکہ:
مسجد شہید گنج کے متعلق پریوی کونسل کا غلط رویہ
اس وقت ہم یہ ظاہر کردینا ضروری سمجھتے ہیں کہ پریوں کونسل نے مسجد شہید گنج کے متعلق جو فیصلہ قبضہ¿ مخالفانہ کی بنا پر کیا ہے، نہایت ہی غلط اور قابلِ نفرت ہے اور اعلان شاہی کوئن وِکٹوریہ کے بھی سراسر مخالف ہے۔ مساجد اور موقوفہ زمینیں کسی طرح بھی قبضہ¿ مخالفانہ کی بنا پر مملوک نہیں ہوسکتیں۔ جمعیت علمانے اپنے گذشتہ تجاویز میں اس کے متعلق پوری روشنی ڈال دی ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ مساجد اور اوقاف کو قبضہ¿ مخالفانہ اور تمادی کے قوانین سے مستثنیٰ کرانے کی پوری جدوجہد کریں۔
مسجد شہید گنج پر پریوی کونسل کا فیصلہ افسوس ناک
پھر اس بارھویں اجلاس عام نے اس کے متعلق درج ذیل تجویز منظور کی:
جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس مسجد شہید گنج کے متعلق پریوی کونسل کے فیصلہ کوõ جو قانون تمادی و قبضہ¿ غاصبانہ کے ماتحت صادر کیا گیا ہےõ اسلامی قانون وقف پر ایک افسوس ناک حملہ سمجھتا ہے۔ یہ اجلاس ضروری سمجھتا ہے کہ مساجد اور اسلامی اوقاف کو قانون تمادی و قبضہ¿ غاصبانہ کی زد سے بچانے کے لیے کسی ترمیمی، یا استثنائی قانون کا مسوّدہ مرتب کرکے اس کو قانون بنوانے کی سعی کی جائے۔
محرک: مفتی محمد نعیم صاحبؒ۔ مؤید: مولوی سیّد حمید الدین صاحبؒ۔
مسجد شہید گنج کی موجودہ صورت حال
اس مسجد کے بارے میں طویل قانونی روداد لکھنے کے بعد مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ:
یکے بعد دیگرے حکومتیں بنتی اور بگڑتی رہیں۔ گزشتہ بیس برس تک کرسیوں کے محافظ تو اکثر آئے؛مگر خدا کے گھر کا محافظ کوئی نہ آیا۔ آخر فروری 1978 ئ میں لاہور کے ایک مزدور پیشہ شخص محمد صدیق چغتائی نے بعدالت سردار علی گل خان سول جج لاہور کی عدالت میں دعویٰ دائر کیا:
’’ مسجد شہید گنج õجس پر کئی برسوں سے سکھوں کا قبضہ چلا آرہا ہےõ اب چوںکہ پاکستان بن چکا ہے ، لہذالنڈا بازار کی تاریخی مسجد مسلمانوں کو واپس ملنی چاہیے۔‘‘
اس دعویٰ کے جواب میں 19/اپریل 1978ئ کو چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کی طرف سے حسب ذیل جواب دعوی داخل کیا گیا:
شق نمبر(۴): بوجہ لا علمی انکار کیا جاتا ہے۔ تاہم مدعا علیہ کی طرف سے اس قسم کا کوئی دستاویزی ثبوت ریکارڈ پر پیش نہیں کیا گیا، جس میں یہ دکھایا گیاہو کہ مذکورہ پراپرٹی کبھی مسجد کی صورت میں تھی۔
گوردوارہ شہید گنج کا نظم و نسق مترد کہ وقف املاک بورڈ نے اپریل1960ئ میں سنبھالا تھا اور جواب دہندگان کے پاس ایسی کسی مسجد کے بارے میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔‘‘
(یہ مقدمہ تادم تحریر (1979) زیر سماعت ہے۔)
8/مارچ1978ئ کے روز نامہ ’’مشرق‘‘ لاہور میں مسجد شہید گنج اور متروکہ املاک کے عنوان سے حسب ذیل مراسلہ شائع ہوا:
’’مسجد شہید گنج ،جسے سکھوں نے شہید کردیا تھا اور پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد یہ مسجد مسلم اوقاف کی تحویل میں ہونی ضروری تھی؛ مگر آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ اس جگہ متروکہ اوقاف کا قبضہ ہے اور مسجد کی جگہ دکانیں تعمیر کردی ہیں۔ ‘‘
(کاروان احرار، جلد چہارم، ص/383)
خلاصہ مسجد شہید گنج کی تحریک اور جمعیت علمائے ہند
مسجد شہید گنج لاہور کا اصل نام مسجد عبداللہ خاں تھا، جسے 1064ھ (1653ئ) میں محمد عبداللہ نے تعمیر کیا تھا۔ بعد میں سکھوں کے قبضے کے باعث اس کی حیثیت متنازع ہوگئی، تاہم 1922ئ میں ملک لال خاں اور شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے درمیان سمجھوتے سے مسجد مسلمانوں کے قبضے میں آنے کی بات سامنے آئی۔ 28 اور 29 جون 1935ئ کی درمیانی رات سکھ مزدوروں نے مسجد کو منہدم کرنا شروع کردیا، جس سے لاہور میں شدید کشیدگی پھیل گئی۔ یکم جولائی 1935ئ کو مسلم رہنما¶ں نے مذاکرات کی کوشش کی، مگر 4 اور 5 جولائی1935ئ کے مذاکرات بھی ناکام رہے۔ 7 اور 8 جولائی1935 کو سکھ کمیٹی کے اجلاس کے دوران مسجد کے مزید حصے گرائے گئے ، جب کہ 10جولائی 1935کو علما کے اجتماع میں قانونی راستہ اختیار کرنے پر زور دیا گیا۔ 12جولائی 1935ئ کو دہلی میں جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا مفتی محمد کفایت اللہ کی صدارت میں احتجاجی جلسہ ہوا اور مسجد کے انہدام کی مذمت کی گئی۔ 13جولائی1935 کو لاہور کی شاہی مسجد میں مجلس احرار نے اپنا موقف واضح کیا، جب کہ 21 اور 22 جولائی1935 کو احتجاجی ہجوم پر پولیس کی فائرنگ سے مسلمان شہید اور تقریباً 80 زخمی ہوئے۔ 24 جولائی 1935ئ کو علما نے مسجد کے تحفظ کے ساتھ جانوں کو ہلاکت میں ڈالنے سے بچنے کی تلقین کی، اور 25 و 26 جولائی1935 کو جمعیت کے رہنما¶ں نے بیان جاری کرکے سول نافرمانی ترک کرنے اور متحدہ لائحہ¿ عمل اختیار کرنے پر زور دیا۔
اسی دوران 28 جولائی 1935ئ کو مختلف مسلم رہنما¶ں کے مشترکہ اجلاس میں مسجد کے تحفظ کے لیے سب کمیٹی بنانے کا فیصلہ ہوا، جس کا نام 30 جولائی1935 کو ’’مجلس اتحاد ملت‘‘ رکھا گیا۔ 20 اگست 1935ئ کو مرکزی اسمبلی میں اس مسئلے پر بحث کا نوٹس دیا گیا، لیکن 4 ستمبر1935 کو وائسرائے نے بحث کی اجازت نہیں دی۔ یکم ستمبر 1935ئ کو راولپنڈی کانفرنس میں سول نافرمانی، رضاکاروں کی بھرتی اور فنڈ جمع کرنے کا پروگرام بنایا گیا، جس کے بعد صدر جمعیت مفتی محمد کفایت اللہ نے یکم اکتوبر1935 کو فرقہ وارانہ مقاطعے اور پکٹنگ کو روکنے کی اپیل کی۔ 20 ستمبر 1935ئ کی جامع مسجد دہلی کی تقریر سے متعلق غلط فہمی کی وضاحت 9 اکتوبر1935 کو کی گئی، جب کہ 28 اکتوبر1935 کو جمعیت نے اعلان کیا کہ وہ مسجد کی واگزاری کے لیے اہلِ رائے کے متفقہ، قابلِ عمل اور نتیجہ خیز پروگرام کی حمایت کرے گی۔ 2 نومبر 1935ئ کو مفتی محمد کفایت اللہ نے اپنے جوابِ استفتا میں مسجد کی شرعی حیثیت برقرار رہنے اور اتحاد کے ساتھ جدوجہد کرنے پر زور دیا۔
23 مارچ 1936ئ کو مسجد شہید گنج کے مقدمے میں مفتی محمد کفایت اللہ نے عدالت میں شہادت دی اور 27 تا 29 مارچ 1936ئ جمعیت علمائے دہلی کے سالانہ اجلاس میں مسجد کی حرمت برقرار رہنے کی قرارداد منظور ہوئی۔ 25 مئی 1936ئ کو لاہور کی عدالت نے مقدمہ زائد المیعاد قرار دے کر خارج کردیا، جس پر یکم جون 1936ئ کو جمعیت نے احتجاج کیا۔
3 دسمبر 1937ئ کو مولانا مظہر علی اظہر نے سول نافرمانی کا اعلان کیا، جس کا آغاز 17 دسمبر کو ہوا؛ وہ گرفتار ہوئے اور 24 و 27 دسمبر کو مزید رضاکاروں نے گرفتاریاں پیش کیں۔
30 جنوری 1938ئ کو لاہور ہائی کورٹ کی اکثریت نے اپیل مسترد کردی، اگرچہ جسٹس دین محمد نے اختلاف کیا۔ 24 مئی 1938ئ کو پریوی کونسل میں اپیل کی اجازت ملنے کے بعد 23 مئی کو مولانا ظفر علی خاں نے سول نافرمانی کی تحریک ملتوی کردی۔ بالآخر 3 مئی 1940ئ کو پریوی کونسل نے اپیل خارج کردی، جس پر جمعیت علمائے ہند کے 7 تا 9 جون 1940ئ کے اجلاس میں مولانا حسین احمد مدنی نے فیصلے کی مذمت کی اور مساجد و اوقاف کو قانونِ میعاد اور مخالفانہ قبضے کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے قانونی ترمیم کی جدوجہد پر زور دیا۔ بعد ازاں فروری 1978ئ میں محمد صدیق چغتائی نے مسجد کی واگزاری کے لیے مقدمہ دائر کیا؛ 19 اپریل 1978ئ کو متروکہ وقف املاک بورڈ نے جواب داخل کیا، جب کہ 1979ئ تک مقدمہ زیرِ سماعت تھا۔

















