طرزِ داستان بدلے!!
بقلم: معاذ حیدر
٦/ رمضان ١٤٤٧ھ
اسلام کی تعلیمات ابدی اور آفاقی ہیں، اس کی عالم گیریت میں عالمِ ناسوت کے تمام مسائل پنہاں ہیں، اس کی ہمہ گیریت زمانے کے حوادثات پر حاوی ہے، لوگوں کے نئے تجربات میں اس کو عبور کرنے کی صلاحیت ہی نہیں، زمانے کی جدّت اس کو متاثّر نہیں کرسکتی، اس کی قدامت بے مثال ہے۔
اہلِ علم نے اپنے دور کے مزاج و مذاق کی رعایت سے اس کی تشریح فرمائی ہے، اصول میں غور کر کے زمانے کی مشکلات کا حل پیش کیا ہے، نصوص کی روشنی میں وقتی مسائل کو سلجھایا ہے، حدیث کے باب میں امام بخاری -رحمہ اللہ- کی کاوش بے نظیر ہے، اپنے دور کے مسائل پر انہوں نے مفید سے مفید تراجم قائم کیے ہیں، احادیثِ نبویہ کے خفی اشارات و تلمیحات کو عنوانات کی شکل میں روشن کیا ہے، ایک ہی حدیث کے اجزاء کو بسا اوقات 20 سے زائد جگہوں پر ذکر کر کے اس سے مسائل اخذ کیے، اپنی مجتہدانہ شان، دقت رسی اور دقیقہ سنجی سے امت کی ضرورتوں کے متعلق صحیح نبض شناسی کی ہے، اپنے زمانے کے الجھے ہوئے مسائل پر تراجم کی بنیاد ڈالی ہے۔
حضرت امام بخاری -رحمہ اللہ- کے اس طرزِ عمل کو اسوہ بنا کر اکابرِ دیوبند نے بھی خدمات انجام دی ہیں، بین الاقوامی اور اجتماعی مسائل میں دینِ کامل کی ہدایت کو تلاش کیا ہے، اس غرض سے احادیثِ نبویّہ پر دوبارہ نظر ڈالی ہے، اور اس کو زمانے کی سب سے بڑی ضرورت قرار دیا ہے، "ترجمان السنّۃ" اور "معارف القرآن" وغیرہ کتابیں اسی کا نتیجہ ہیں۔
یہ ضرورت ہر زمانے میں باقی رہے گی، قدیم معلومات کو جدید قالب میں محتاج انداز سے پیش کرنے کا احساس ہر تھوڑے عرصے میں پیدا ہوگا، اس نوع کی خدمت اسی کی جانب سے معتبر کہلائے گی جس کے پیشِ نظر حدیث کا ایک بڑا ذخیرہ، وقتی مسائل کا استحضار، موجودہ اصطلاحات سے واقفیت، دلائل میں فرق مراتب کی صلاحیت ہو، اور اکابر کا اس پر اعتماد ہو، ذہن جدیدیت سے متاثر نہ ہو، طبیعت مغرب زدہ نہ ہو۔
اگر اس نوع کی خدمت صحیح بخاری پر ہوجائے تو موجودہ زمانے کے فتنوں کی سرکوبی اور الحاد و دہریت کے مقابلے کے لیے ایک اہم ذخیرہ تیار ہو جائے گا۔













