جمعرات, مئی 28, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    تاریخی مساجد کو مندر میں بدلنے کی مہم

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    زہریلی تاریخ نگاری کا تدارک

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک معاشی ایمرجنسی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے؟

    بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    بلاک بسنترائے میں جمعیت علما کا گاؤں گاؤں بیداری پروگرام شروع، کیتھ پورا سے باضابطہ آغاز

    بلاک بسنترائے میں جمعیت علما کا گاؤں گاؤں بیداری پروگرام شروع، کیتھ پورا سے باضابطہ آغاز

    جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض

    جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض

    کمال مولا مسجد مقدمہ:حالیہ عدالتی فیصلے نے تاریخ، انصاف اور بھارتیہ سیکولرازم کے تئیں بھروسہ کو ختم کر دیا: ایم.ڈبلیو.انصاری -آئی پی ایس (ریٹائرڈ۔ڈی.جی)

    کمال مولا مسجد مقدمہ:حالیہ عدالتی فیصلے نے تاریخ، انصاف اور بھارتیہ سیکولرازم کے تئیں بھروسہ کو ختم کر دیا: ایم.ڈبلیو.انصاری -آئی پی ایس (ریٹائرڈ۔ڈی.جی)

    فتنوں کے سدِّ باب میں علماءِ حق کا کردار: امت کی بقا کا ضامن

    اسلام کی بنیاد دوچیزوں پر قائم ہے،عقیدہ توحید،اور نبوت ورسالت:مولاناخالدسیف اللہ رحمانی

    اسلام کی بنیاد دوچیزوں پر قائم ہے،عقیدہ توحید،اور نبوت ورسالت:مولاناخالدسیف اللہ رحمانی

    سمویدا

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    مدرسہ کے بچوں کو چائلڈ لائن کے حوالے کرنے کی مذمت

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    تاریخی مساجد کو مندر میں بدلنے کی مہم

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    زہریلی تاریخ نگاری کا تدارک

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک معاشی ایمرجنسی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے؟

    بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    بلاک بسنترائے میں جمعیت علما کا گاؤں گاؤں بیداری پروگرام شروع، کیتھ پورا سے باضابطہ آغاز

    بلاک بسنترائے میں جمعیت علما کا گاؤں گاؤں بیداری پروگرام شروع، کیتھ پورا سے باضابطہ آغاز

    جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض

    جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض

    کمال مولا مسجد مقدمہ:حالیہ عدالتی فیصلے نے تاریخ، انصاف اور بھارتیہ سیکولرازم کے تئیں بھروسہ کو ختم کر دیا: ایم.ڈبلیو.انصاری -آئی پی ایس (ریٹائرڈ۔ڈی.جی)

    کمال مولا مسجد مقدمہ:حالیہ عدالتی فیصلے نے تاریخ، انصاف اور بھارتیہ سیکولرازم کے تئیں بھروسہ کو ختم کر دیا: ایم.ڈبلیو.انصاری -آئی پی ایس (ریٹائرڈ۔ڈی.جی)

    فتنوں کے سدِّ باب میں علماءِ حق کا کردار: امت کی بقا کا ضامن

    اسلام کی بنیاد دوچیزوں پر قائم ہے،عقیدہ توحید،اور نبوت ورسالت:مولاناخالدسیف اللہ رحمانی

    اسلام کی بنیاد دوچیزوں پر قائم ہے،عقیدہ توحید،اور نبوت ورسالت:مولاناخالدسیف اللہ رحمانی

    سمویدا

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    مدرسہ کے بچوں کو چائلڈ لائن کے حوالے کرنے کی مذمت

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اسلامیات

یوم عرفہ

by Admin
مئی 27, 2026
in اسلامیات
0
حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت
0
SHARES
4
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

اللہ اللہ یہ عرفات کا لق و دق ویرانہ، جو نہ انسان کے بسنے کے لائق ہے نہ حیوان کے اور جہاں سال بھر انسانی آبادی تو الگ رہی، پرندہ بھی پر نہیں مارتا، دم کے دم میں آن کی آن میں کیا سے کیا ہوجاتا ہے، دن بھر کے لیے سینکڑوں نہیں، ہزاروں کا نہیں، لاکھوں کی آبادی کا ایک عظیم الشان شہر آباد ہوجاتا ہے، ان میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور جوان بھی، بچے بھی اور عورتیں بھی، شہ زور پہلوان بھی اور لب مرگ کمزور و ناتواں بھی، گورے بھی کالے بھی، سانولے بھی پیلے بھی، مشرقی بھی مغربی بھی، جنوبی بھی شمالی بھی، عالم بھی عامی بھی، امیر بھی فقیر بھی، عابد بھی و زاہد بھی، فاسق و فاجر بھی اور یہ سارا مجمع کیوں آپ ہی آپ اکٹھا ہو رہا ہے؟ کوئی دلچسپ تماشہ ہونے والا ہے؟ کوئی بزم مشاعرہ ہے؟ کوئی ہنسنے ہنسانے والی نقل دکھائی جائے گی؟ کوئی گھوڑ دوڑ ہے؟ پولو ہے، ہاکی، فٹ بال کا میچ ہے؟ رستم دوران گاما پہلوان کی کشتی کا دنگل ہے؟ ہالی ووڈ کی کوئی نئی فلم آئی ہوئی ہے؟ کوئی مشہور ایکٹرس بےحجابی کے ساتھ اسٹیج پر نمودار ہونے والی ہے؟ تجارتی مصنوعات کی نمائش ہونے والی ہے؟ ڈربی سویپ ۔(sweep)۔ہے؟ گھوڑوں اور ہاتھیوں کا بازار لگنے والا ہے؟ کسی کانفرنس کسی کانگریس کا افتتاح ہے؟ کسی لیڈر کا لکچر ہو نے والا ہے؟ کسی درگاہ پر عرس ہورہا ہے؟ کسی دیوی دیوتا کی پوجا ہونے والی ہے؟ کوئی گنگا اشنان ہے؟ کوئی کمبھ میلا ہے؟ بجز ایک اللہ کی عبادت کے، بجز ایک اللہ کے حکم کی تعمیل کے، بجز ایک اللہ کے نام پر مرمٹنے کی تمنا کے اور کون سی شے ان ہزارہا بندوں کو، ان لاکھوں کلمہ گویوں کو یہاں اس تپتی ہوئی ریت میں گھسیٹ کر لائی ہیں؟ مجمع دنیا میں اور بہت سے ہوتے رہتے ہیں۔ میلے ٹھیلے خدا معلوم کتنے ہوتے رہتے ہیں، کھیل تماشوں میں ٹھٹ کے ٹھٹ ہر جگہ لگ جاتے ہیں لیکن اللہ کے نام پر جمع ہونے والوں کا لبیک لبیک کی رٹ لگا کر اللہ کا نام جپنے والوں کا، اور محض بن دیکھے مولا و مالک کے آگے رونے اور گڑگڑانے جھکنے اور گرنے والوں کا اتنا بڑا مجمع دریاؤں اور سمندروں کو پارکر کے پہاڑوں کو پھاند کرکے دنیا کے طول و عرض میں کہیں، اور وقت کے کسی حصہ میں کبھی ہوتا ہے؟ دعائیں، ان اللہ والوں کی نہ قبول ہوں گی تو اور کس کی ہوں گی؟ بےحساب رحمتوں اور بیشمار برکتوں کا نزول ان کے سروں پر نہ ہوگا تو کس پر ہوگا؟ مشہور ہے کہ آدم علیہ السلام کی توبہ اسی مقام پر اور آج ہی کے دن قبول ہوئی تھی، یہ روایت صحیح ہو یا نہ ہو لیکن بہرحال بنی آدم اپنے گناہوں کے بخشوانے کے لیے آج سے بہتر تاریخ اور یہاں سے بہتر زمین اور کونسی ڈھونڈ کر لائیں گے؟ دنیا کی کوئی قوم، روئے زمین کا کوئی مذہب، اس خالص توحید و خالص خدا پرستی کے عظیم الشان مظاہرہ کا نمونہ پیش کرسکتا ہے؟ کسی نے کبھی پیش کیا، کوئی آج پیش کررہا ہے؟ کوئی آئندہ کبھی پیش کرے گا؟ بتوں کے بندے بے شمار، حرص و ہوا کے پرستار لاتعداد، سیر و تماشہ کے سودائی بےگنتی لیکن دنیا آئے، پارکوں اور سبزہ زاروں کی سیر کرنے والی دنیا آئے، بازاروں اور نمائش گاہوں کی گشت لگانے والی دنیا آئے، عجائب خانوں اور چڑیا خانوں میں وقت گزارنے والی، دنیا آئے اور بیسویں صدی عیسوی میں ایک بار ذرا اللہ کی فوج کے ان سپاہیوں کو، اپنے رب کے ان مستوں کو اور دیوانوں کو دیکھے کہ اس چلچاتی دھوپ میں، تپتی ہوئی ریت کے اوپر ننگے سر اور پسینہ میں شرابور، مٹی میں اٹے ہوئے اور خاک میں لتھڑے ہوئے کس کس طرح جھک جھک کر اور گر گر کر، رو رو کر، گڑ گڑا کر اپنے ان دیکھے مولا و مالک کے آگے مانگنے اور بھیک مانگنے کے لیے کن کن آرزؤں اور تمناؤں کے ساتھ ہجوم شوق و اشتیاق کے ساتھ، اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں! جو سوال ہوگا، پورا ہوگا، لیکن اتنا کرم تو دنیا کے کریم بھی کر دکھاتے ہیں، انھیں تو وہ ملے گا جو ان کے وہم و خیال میں بھی نہیں، یہ تو وہ پائیں گے جس کا سوال ان کے ذہن میں بھی نہیں۔نور کے بنے ہوئے فرشتے ظلوم و جہول انسان کی اس طاعت و اطاعت پر دنگ رہ جاتے ہیں ۔۔″ان اللہ ینزل الی السماء الدنیا ویباھی بھم الملائکۃ یقول ھؤلاء عبادی جاؤنی شعثا غبرا یرجون رحمتی و یخافون عذابی ولم یرونی فکیف لو راونی″۔انھیں دکھایا جاتا ہے اور جنھوں نے کبھی کہا تھا کہ انسان روئے ارض پر فتنہ و فساد ہی کرے گا، انھیں دکھا دکھا کر عرفات کی حاضری دینے والوں پر فخر کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ دیکھو خاک کے پتلوں کا ذوق جبیں سائی دیکھو، آج جب اپنے کو اتنے حجاب میں رکھا ہے، اس وقت تو ان کی تمنائے دیدار اور دیوانگی کا یہ حال ہے پھر جس وقت حجابات اٹھ جائیں گے، اس وقت اس شمع رخ پر پروانے کس بے انداز مستی اور دیوانگی سے گریں گے۔۔۔۔لیجئے آفتاب غروب ہونے لگا، سب کے خیمے اکھڑ چکے، ہمارے خیمے اکھڑ ہی رہے تھے کہ بے شان و گمان بغیر کسی موسمی توقع و تغیر کے دفعتاً آسمان پر ایک طرف سے ابر کا ٹکڑا آتا نمودار ہوا، دو چار بار بجلی چمکی، بوندیں شروع ہوئیں اور چند ہی لمحوں میں اچھی خاصی بارش ہونے لگی! کریم کی کریمی اور مولا کی رحمتوں کی تھاہ کون پاسکتا ہے! احرام پوشوں کے جسم کہاں تو ابھی چلچلاتی ہوئی دھوپ میں تپ رہے تھے اور کہاں ابھی پانی میں لت پت ہونے لگے۔ بارش ہوئی اور خوب اچھی طرح ہوئی، لوگ بھیگے اور خوب بھیگے، بارانِ رحمت کا لفظ سنا بار ہا ہے۔ حقیقتاً ”باران رحمت“کا مشاہدہ آج ہی ہوا! لوگ کہتے تھے اتنی بارش عرفے کے دن سالہا سال کے بعد ہوئی ہے۔ بزرگوں نے کہا ہے کہ عرفات کی بارش حج کی قبولیت کی علامت ہے۔ یہ اگر سچ ہے تو خدا ہی کو علم ہے کہ اب کی حج میں کون اللہ کا شیر شریک تھا۔ بارش پانی کی کیوں تھی، یوں کہیے کہ عفو و مغفرت کی بارش تھی اور جو جو بوند جسم پر گرتی تھی بس یہ معلوم ہوتا تھا کہ معاصی کی سیاہیاں دھل رہی ہیں! لکھو کھاکے مجمع میں لوگ سب ہی طرح کے ہیں، ہر مزاج، ہر مذاق، ہر مرتبہ کے نمونے موجود ہیں، ہزاروں ایسے ہیں، جو عرفات کی حاضری کو ایک طرح کی تفریحی تقریب سمجھے ہوئے ہیں اور چائے پینے پلانے کی دعوتوں میں مصروف ہیں، سینکڑوں ہزاروں ایسے ہیں جو سو سو کر اپنا وقت کاٹ رہے ہیں، کہیں کہیں دیگیں چڑھی ہوئی ہیں، اور اعلیٰ درجہ کی بریانی اور پلاؤ کا سامان ہورہا ہے، پھر بھی ہزاروں بندے اللہ کے ایسے بھی ہیں جو وقت کی قدر و قیمت کو پہچانے ہوئے اور مقام کی اہمیت کو پوری طرح جانے ہوئے، اس دوپہر کی ایک ایک گھڑی اور اس سہ پہر کا ایک ایک لمحہ اپنے رب کے آگے ہاتھ پھیلانے اور پیشانی رگڑنے، رونے اور گڑگڑانے استغفار و مناجات کرنے میں بسر کررہے ہیں، انھیں میں کیسے کیسے مخلص و متقی ہوں گے، قطب ہوں گے ابدال ہوں گے، اولیاء ہوں گے، کاملین ہوں گے، ان کی دعائیں کیا تنہا اپنے نفسوں کے لیے ہوں گی؟ ان کے رب کی رحمتوں کا نزول کیا صرف انھیں کے لیے ہوگا؟ اللہ اور اللہ والوں سے تنگ دلی کی بدگمانی! نعوذباللہ! آج تو وہ دن ہے کہ کسی کا کرم بےحساب اور رحمت بےپایاں اپنے سایہ دامن میں لینے کے لیے حیلہ ڈھونڈھتی ہے، اللہ والوں کی سفارش سے بڑھ کر اور کیا حیلہ ہوگا، ان مقبولوں کے طفیل میں خدا معلوم کتنے غیر مقبول آج مقبول بن جاتے ہیں اور کتنے مفلسوں اور تہی دستوں کا شمار آج سرمایہ داروں میں ہونے لگتا ہے، کریم جب دینے پر آئے اور کریم کے در کے بھکاری مانگنے میں کمی نہ کریں تو داد و دہش کی کیا کمی! ۔اہل و نااہل کس و ناکس حقدار اور بے حقے، کھرے اور کھوٹے سب ہی اپنی قسمتوں کے حصہ کے مطابق نعمتوں سے سرفراز اور دولتوں سے مالا مال ہورہے ہیں!۔صوفیہ کے تذکروں میں آتا ہے کہ علی بن موفقؒ ایک بہت قدیم بزرگ گزرے ہیں، حج کے لیے حاضر ہوئے، نویں شب میں منیٰ میں خواب دیکھا کہ دو فرشتے باہم گفتگو کررہے ہیں۔ایک نے دوسرے سے پوچھا کہ اب کی کتنے حاجی آئے؟ جواب ملا کہ ۶ لاکھ، پھر پوچھا کہ حج مقبول کتنوں کا ہے؟ جواب ملا کہ ۶ کا، ۶ لاکھ میں کل ۶چھ! ۔ہول و دہشت سے آنکھ کھل گئی اور دل نے کہا کہ اپنا شمار ان چھ خوش نصیبوں میں تو بہرحال نہیں ہوسکتا، معلوم ہوتا ہے یہ ساری محنت و مشقت بے کار ہی گئی، دسویں شب میں عرفات سے واپسی کے بعد پھر اسی طرح خواب میں انھیں دو فرشتوں کو دیکھا، ایک نے پوچھا کہ حج مقبول کل چھ کا ہوا؟ دوسرے نے جواب دیا کہ ان چھ کے طفیل میں پورے چھ لاکھ کے حج قبول ہوگئے!۔ العظمتہ للہ! ان نوازشوں اور سرفرازیوں کا کوئی ٹھکانہ ہے! ان رحمتوں اور بخششوں کی کوئی حد و انتہا ہے!۔ان حکایتوں پر حیرت کیوں کیجئے، کیا روز مرہ آپ نہیں دیکھتے رہتے کہ غلہ کے انبار میں جو مٹی اور تنکے پڑجاتے ہیں، وہ بھی غلہ ہی کے حساب سے بکتے ہیں اور سونے میں گردوغبار کے جو ذرات شامل ہوجاتے ہیں، وہ بھی سونے ہی کے ساتھ تلنے لگتے ہیں!۔ کتا ایک نجس اور ناپاک جانور ہے، اصحاب کہف کے طفیل میں کہاں سے کہاں پہونچ گیا!۔ پھر انسان تو بہرحال انسان ہے اور جو عرفات میں حاضر ہوتا ہے وہ آخر اللہ اور رسول ﷺ کا نام لیوا تو ہوتا ہے، اس سے بڑھ کر بدنصیب اور کون ہوگا، جو آج اور یہاں کی حاضری کے وقت بھی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد مبارک کو بھلائے رکھے، کہ ۔″اعظم الناس ذنبا من وقف بعرفۃ فظن ان الله لم یغفرلہ″۔سب سے بڑھ کر گناہ گار وہ ہے جو عرفات میں حاضر ہو اور پھر بھی یہ خیال رکھے کہ اللہ نے اسے نہیں بخشا۔

Admin

Admin

Next Post
نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

عید قرباں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

باب اول در بیان انجام مداہنت

مکمل آزادی کا مطالبہ سب سے پہلے کس نے کیا؟

4 مہینے ago
حج کی فرضیت کا بیان 

مسجد حرام میں داخل ہونے کے آداب کا بیان

3 ہفتے ago

مقبول

  • الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات

    گوشت خوری اور مختلف مذاهب كی تعلیمات!

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • عید قرباں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • یوم عرفہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • تاریخی مساجد کو مندر میں بدلنے کی مہم

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.