حج کی سنتوں کابیان
حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی نور اللہ مرقدہ مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ جھارکھنڈ
یہ سب چیزیں حج کے اندر سنت ہیں:
(۱) حدود میقات سے باہر رہنے والوں کے لیے خواہ حج کا احرام باندھا ہو، یا حج اور عمرہ دونوں کا؛ ان کے لیے طواف قدوم کرنا ۔
(۲) طواف قدوم میں رمل کرنا۔ اگر اس میںنہ کیا، تو طواف زیارت ،یا طواف وداع میں رمل کرنا، یعنی تین پھیر ااکڑ کر پہلوان کی طرح منڈھے ہلاتے ہوئے چلنا ۔
(۳) امام کا تین مقام پر خطبہ پڑھنا: ساتویں کو مکہ میں، نویں کو عرفہ میں اور گیارھویں کو منیٰ میں ۔
(۴) آٹھویں اور نویں ذی الحجہ کے درمیان والی رات کو منیٰ میں رہنا ۔
(۵) سورج نکلنے کے بعد نویں ذی الحجہ کو منیٰ سے عرفات کو جانا ۔
(۶) عرفات سے امام کے چلنے کے بعد چلنا ۔
(۷) مزدلفہ میں عرفات سے واپس ہوکر رات کو ٹھہرنا ۔
(۸) عرفہ میں غسل کرنا ۔
(۹) ایام منیٰ میں رات کو منیٰ میں رہنا، یعنی ۱۱،۲۱ ،او ر ۱۳؍ کی رات گزارنا ۔
(۱۰) منیٰ سے واپسی میں محصب میں ٹھہرنا ۔اگر چہ ایک لحظہ کے لیے ہو۔
ان کے علاوہ اور بھی سنتیں ہیں، جو مسائل اور افعا ل کے ساتھ ان شاء اللہ موقع بموقع ذکر کی جائیں گی ۔
مسئلہ : سنت کاحکم یہ ہے کہ ان کو قصدا ترک کرنابر اہے اور کرنے سے ثواب ملتا ہے، ان کے ترک کرنے سے جزا لازم نہیںہوتی ہے ۔




















