حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی نور اللہ مرقدہ مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ جھارکھنڈ
وقت معین اور مکان معین کو میقات کہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ میقات کی دو قسمیں ہیں: میقات زمانی اور میقات مکانی۔
میقات زمانی کا بیان
پہلی شوال سے دسویں ذی الحجہ تک کا زمانہ، حج کا زمانہ کہلاتا ہے۔ اس کے اندر افعال حج کیے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے :
الحج اشھر معلومات( سورۃ بقرۃ رکوع۲۵)
حج (کا زمانہ) چند معلوم مہینے ہیں۔
اور وہ معلوم مہینے وہی ہیں، جن کو بیان کیا۔ صحابہ کرام سے یہی ثابت ہوا ہے ۔(ہدایہ)
مسئلہ : حج کے افعال خواہ کسی قسم کے ہو:واجب ہو، یا سنت، یا مستحب ؛تمام افعال حج کے مہینوں ہی میں صٓحیح ہوتے ہیں۔ احرا م کے سوا اگر کوئی فعل ان مہینوں سے پہلے کیا، تو صحیح نہ ہوگا، مثلا قارن یا متمتع اگر حج کے مہینوں سے پہلے عمرہ کا طواف کرلے، یا حج کی سعی طواف قدوم کے بعد حج کے مہینوں سے پہلے کرلے ،تو سعی نہ ہوگی ۔طواف قدوم کرنا صحیح ہوگا، لیکن سعی کے لیے موسم حج میں پھر طواف کرنا ہوگا خواہ نفلی طواف ہی سہی ۔
مسئلہ: حج کا احرام حج کے مہینوں سے پہلے باندھنا مکروہ تحریمی ہے ۔
مسئلہ: طواف قدوم کے اکثر شوط شوال میں کیے اور اس کے بعد حج کے لیے سعی کرلی، تو یہ حج کی سعی ہوجائے گی۔ اور اگر شوال کے بجائے رمضان ہی میٓں یہ طواف اور سعی کرلی، تو وہ حج کی سعی نہ ہوگی۔ پھر سے حج کی سعی موسم میں کرنی ہوگی۔ اگر رمضان ہی میں طواف کیا، مگر سعی شوال میںکیا، تو یہ سعی صحیح نہ ہوگی؛ البتہ اگرشوال میں کوئی نفلی طواف کرکے ،پھر سعی کرے تو یہ حج کی سعی ہوجائے گی۔ اگر طواف قدوم کے اکثر پھیرے رمضان ہی میں کیے اورتھوڑے سے شوال میں، تب بھی جائز نہیں ہے ۔ اسی طرح اگر سعی طواف قدوم سے پہلے کرلی، گو شوال ہی میں کی، تو سعی نہ ہوگی ۔ سعی کے لیے پہلے طواف ضروری ہے، خواہ کسی قسم کا طواف ہو، لہذا شوال میں طواف اور سعی ہونا چاہیے۔
میقات مکانی کابیان
وہ جگہ جہاں سے احرام باندھنا ضروری ہے اور احرام کے بغیر وہاں سے آگے بڑھنا جائز نہیں ہے، اس کی تین قسمیں ہیں :
(۱) آفاقی کی میقات، یعنی جو لوگ میقات سے باہر رہتے ہیں ۔
(۲) حلی کی میقات یعنی جو لوگ حرم سے باہر رہتے ہیںاور میقات کے اندر کے ہیں، ان کی میقات ۔
(۳) حرمی کی میقات، یعنی جو لوگ حرم کے حدو دکے اندر رہتے ہیں، ان کی میقات۔ آفاقیوں کی میقات یہ ہیں :
(۱) ذوالحلیفہ: یعنی بیر علی مدینہ کی طرف سے آنے والوںکے لیے۔
(۲) ذات عرق: عراق کی طرف سے آنے والوں کے لیے ۔
(۳) جحفہ: شام اور مصر کی طرف سے آنے والوں کے لیے۔
(۴) قرن: نجد کی طرف سے آنے والوں کے لیے۔
(۵) یلملم: یمن اور ہندستان اور پاکستان وغیرہ سے آنے والوں کے لیے۔ (ہدایہ )
ان لوگوں کے لیے رسول ﷺ نے یہی میقاتیں مقرر کی ہیں، چنانچہ حدیث میںہے:
وقَّتَ رسول ﷺلا ھل المدینۃ ذالحلیفۃ، و لا ھل الشام الجحفۃ، ولا ھل نجد قرن المنازل، ولا ھل الیمن یلملم، فمن لھم ولمن اتی علیھن من غیر اھلھن لمن کان یرید الحج والعمرۃ، فمن کان دونھن فمھلہ من اھلہ وکذاک وکذاک حتی اھل مکۃ یھلون منھا ( متفق علیہ)
رسول اللہ ﷺ نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ اور شام والوں کے لیے جحفہ اور نجد والو ں کے لیے قرن منازل اور یمن والوں کے لیے یلملم میقات مقررکی ہیں۔ یہ میقات ان میقات والوں کے لیے ہے اور ان کے علاوہ جو بھی ان راستوں سے گزرے ان کے لیے بھی یہی میقات ہے ،جو بھی حج اور عمرہ کے ارادہ سے آئے ۔ اور جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہیں، ان کی میقات اپنے اہل سے ہے۔ اسی طرح اور اسی طرح یہاں تک مکہ والے مکہ سے احرام باندھے ۔ (بخاری ومسلم )
یعنی جو لوگ میقات مقررہ کے اندر رہتے ہیں، ان کے لیے میقات اپنا گھر ہے۔ افضل یہی ہے کہ گھر سے احرام باندھے، ورنہ کم از کم حدود حرم سے باہر ضرور احرام باندھ لے۔ اور جولوگ حدود حرم میں رہتے ہیں، وہ بھی اپنے گھرسے احرام باندھے، یا حرم کے اندر جہاں سے چاہے ۔ اس حدیث سے تینوں قسم کی میقات معلوم ہوگئی اور آپ ﷺنے فرمایا:
مھل اھل المدنیۃ من ذی الحلیفۃ والطریقۃ الا الجحفۃ ومھل اھل العراق من ذات عرق (رواہ مسلم )
مدینہ والوں کے لیے میقات ذوالحلیفہ ہے اور دوسرا راستہ جحفہ ہے اور عراق والوں کی ذات عرق ہے ۔(مسلم)
جحفہ رابغ کے قریب مکہ سے تین منزل پر ایک مکان ہے، جو شام والوں کی میقات ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک میقات والے جب دوسری میقات پر پہنچے، تووہی دوسری میقات اس کی میقات ہے ،جیسے مدینہ والوں کے لیے میقات ذوالحلیفہ ہے، جو مدینہ سے تقریبا چھ میل دور ہے، جس کا نام آج کل بیر علی ہے۔ آ پﷺ نے مدینہ والو ں کے لیے جب کہ دوسرے راستے آئے، تو اس کے لیے وہی میقات بتائی، جو شام والوں تھی، یعنی جحفہ۔ ذات عرق ایک مقام کانا م ہے، جو آج کل ویران ہوگیا ہے۔ مکہ مکرمہ سے تقریبا تین روز کی مسافت پر ہے۔ عراق سے مکہ آنے والوں کے لیے آپ نے یہ میقات ٹھہرائی ہے ۔
حلی کی میقات
جو لوگ میقات میں، یا میقات اور حدود حرم کے درمیان میں رہتے ہیں، ان کے لیے کل زمین حل میقات ہے۔ حدود حرم میں داخل ہونے سے پہلے جہاں چاہے احرام باندھ لے، لیکن گھر سے احرام باندھنا افضل ہے ۔(ہدایہ)
حرمی کی میقات
حج کے لیے مکہ اور حدود حرم میں رہنے والے کے لیے حرم کی کل زمیں میقات ہے ، حدود حرم میں جہا ں چاہے احرام باندھ لے ۔ (ہدایہ)اور عمرہ کے لیے میقات حل ہے، جیسا کہ حضرت عائشہ ؓ کو آپ ﷺنے عمرہ کے احرام کے لیے تنعیم بھیجا ۔(بخاری و مسلم )
مسئلہ : آفاقیوں کے لیے جو میقات بیان کی گئی ہیں، یہ خاص ان ممالک والوں کے لیے بھی میقات ہیں اور جو لوگ دوسرے ممالک کے رہنے والے مکہ مکرمہ کو جاتے ہوئے ان میقاتوں سے گزرتے ہیں، ان کے لیے بھی یہ میقات ہیں ،جیسا کہ روایت سے واضح ہوا۔
مسئلہ : آفاقیوں کے لیے اگر وہ مکہ یا حرم کے ارادے سے سفر کرے، تو اس کو میقات پر پہنچ کر حج یا عمرہ کا احرام باندھنا واجب ہے، خواہ حج یا عمرہ کا ارادہ ہو یا نہ ہو ۔ (ہدایہ)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لا یجاوز الوقت الا بالاحرام ( رواہ ابن ابی شیبہ)
احرام کے بغیر کوئی میقات سے آ گے نہ بڑھے ۔
مسئلہ : مکہ یا حرم میں حج یا عمرہ کے ارادہ سے جائے، یا تجارت و سیر کے لیے جائے، بہر صورت میقات پر پہنچ کر احرام باندھنا واجب ہے۔ (ہدایہ)
مسئلہ : میقات پر آنے سے پہلے بھی احرام باندھنا جائز ہے، بلکہ افضل یہ ہے کہ اپنے گھرہی سے احرام باندھ لے، بشرطیکہ ممنوعات احرم میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہو؛ ورنہ مکروہ ہے ۔ (ہدایہ)
سئل علی رضی اللہ عنہ عن قولہ عز وجل: واتمو الحج والعمرۃ للّٰہ فقال: ان تحرم من دویرہ اھلک ( رواہ الحاکم فی تفسیرہ من المستدرک وقال: صحیح علی شرط شیخین)
حضرت علی ؓ سے اللہ تعالیٰ کے قول و اتموا الحج والعمرۃ کے بارے میں سوال کیا گیا، آپؓ نے فرمایا: حج اور عمرہ کا اتمام یہ ہے کہ اپنے گھر ہی سے احرام باندھو۔
مسئلہ: اگر کوئی شخص خشکی میں، یا سمند ر میں ایسے راستہ سے مکہ جارہا ہے کہ اس میں کوئی میقات مذکورہ بالا میقاتوں میں سے نہیں آئے گی، تو اس کو مذکورہ بالا میقات میں سے کسی میقات کی محاذات ( برابری ) سے احرام باندھنا واجب ہے ۔
مسئلہ : اگر ایسے راستہ سے جارہا ہے کہ جس میں میقات مقررہ کوئی نہیں آئے گی، تو اس کو محاذات معلوم کرکے احرام باندھنا چاہیے۔ اگر محاذات معلوم نہ ہو، تو تحری کرے، یعنی غورو فکر سے محاذات کا اندازہ لگائے اور جس جگہ محاذ کا ظن غالب ہو، وہاں سے احرام باندھ لے ۔
مسئلہ : تحری اور غورو فکر اس وقت کرنا چاہیے، جب کہ کوئی بتانے والا موجود نہ ہو، لیکن اگر محاذات کا واقف کا ر اگر موجود ہے، تو اس سے پوچھ لینا واجب ہے؛ لیکن اگر دونوں یکساں ناواقف ہوں اور دونوں کی رائے میں اختلاف ہوجائے، تو پھر اپنی اپنی رائے کے موافق محاذات پر احرام باندھ لے ،دوسرے کے قول کا اعتبار نہ کرے ۔
مسئلہ : اس بارے میں کافر کا قول معتبر نہیں، مثلا جہاز میں انگریز یا کافر بتائے کہ اس جگہ سے میقات کی محاذات ہے، تواس کا قول معتبر نہیں؛ البتہ جہاز کے ملازمین میں سے ایک مسلمان عادل شخص وہاں آمدورفت رکھنے ولا اورجاننے والابتادے ،تو اس کا قول معتبر ہے ۔
مسئلہ: اگرکسی کے راستے میں دو میقاتیں پڑتیں ہیں، تواس کو پہلی میقات سے احرام باندھنا افضل ہے اگر دوسری میقات تک مؤخر کیا، توجائز ہے۔ اسی طرح اگر دو میقاتوں کی محاذات پڑتی ہوں، تو پہلی میقات کی محاذات سے احرام باندھنا افضل ہے ۔
مسئلہ : اگر کسی کو محاذات میقات کا علم نہیں اور نہ کوئی جاننے والا ملا، تو ایسی صورت میں مکہ سے دو منزل پہلے احرام باندھنا واجب ہے، جیسے کوئی ہندستانی سمند ر میں سفر کر کے گیا اور میقات کی محاذات کا علم نہ ہوا ،اور کوئی بتانے والا بھی نہ ملا،تو جدہ سے احرام باندھنا ہوگا۔جدہ مکہ سے دو منزل پر ہے ۔
مسئلہ : راستے میں ایک میقات سے گذرتا ہے اور دوسری میقات کے محاذ (برابری) سے بھی گذر ہوگا، تو میقات سے احرام باندھنا واجب ہوگا، محاذ کااعتبار نہ ہوگا ۔
مسئلہ : مدینہ والوں کو یا جو مدینہ کی طرف سے آئے ،تو وہ ذوی الحلیفہ میں احرام باندھے ۔ جحفہ تک بغیر احرام کے آنا اور جحفہ سے احرام باندھنا مکروہ ہے ۔
مسئلہ : جو آفاقی عمرہ سے فارغ ہو کر مکہ میںمقیم ہو، تووہ مکہ والوں کی طرح حج کا احرام حرم سے اور عمرہ کا احرام حل سے باندھے اور تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھنا افضل ہے ۔
مسئلہ: اگرمکی میقات سے باہر نکل آئے، تو واپسی میں اس پر بھی آفاقی کی طرح میقات سے احرام باندھنا واجب ہے ۔
میقات سے بلا احرام باندھے گذرجانا
کوئی آفاقی عاقل بالغ میقات سے بغیر احرام کے آگے گذر جائے، تو اس پر واجب ہے کہ لوٹ کر پھر میقات پر آئے اور احرام باندھے۔ اگر میقات پر آکر احرام نہیں باندھا؛ بلکہ وہیں سے احرام باندھ لیا ،تو اس پر دم واجب ہوگا۔ لوٹ کر میقات سے احرام باندھنے میں کوئی دم نہیں ہے ۔
عن بن عباس ؓ قال: اذا جاوز الوقت فلم یحرم حتی دخل مکۃ رجع الیٰ الوقت فاحرم وان خشی ان رجع الیٰ الوقت فانہ یحرم ویحریق لذلک دما ( رواہ اسحاق بن راھویہ فی مسندہ)
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا: جب کوئی شخص میقات سے آگے بڑھ جائے اور احرام نہ باندھے، یہاں تک کہ مکہ آجائے، تو وہ میقات کی طرف لوٹے اور احرام باندھے۔ اور اگر میقات کی طرف لوٹنے میں ( حج فوت ہونے کا یا جان کا )ڈر ہو،تو وہیں احرام باندھ لے اور میقات پر احرام نہ باندھنے کی وجہ سے دم دے ۔
مسئلہ : میقات سے بلا احرام گذرا اور آگے جاکر احرام باندھا اور مکہ پہنچنے سے پہلے لوٹا اور میقات پر پہنچ کر تلبیہ پڑھ لیا، تو دم ساقط ہوگیا۔ اگر تلبیہ نہیں پڑھا ،تو دم ساقط نہیں ہوگا ۔
مسئلہ: میقات پر احرام نہیں باندھا اور آگے چل کر احرام باندھااور مکہ بھی پہنچ گیا، مگر افعال حج شروع نہیں کیا تھا کہ پھر لوٹ کر میقات پر آیا اور تلبیہ پڑھا، تو دم ساقط ہوجائے گا ۔
مسئلہ : میقات سے بغیر احرام کے گذرا اور آگے چل کر احرام باندھا، تو اس پر واجب ہے کہ لوٹ کر میقات پر آئے ،ورنہ گنہگار ہوگا اور دم بھی واجب ہوگا ۔البتہ اگر واپس آنے میں جان ومال کا خطرہ یا حج کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو،یا بیماری کی وجہ سے نہیں آسکتا ہے، تو ایسی صورت میں واپس آناواجب نہیں؛ لیکن دم واجب ہوگا، جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ کے قول سے معلوم ہوا ۔
مسئلہ : اگر میقات سے گذر کر آگے احرام باندھا اور پھر میقات پر واپس نہیں آیا، یا کچھ افعال شروع کرنے کے بعد واپس آیا، تودم ساقط نہیں ہوگا، قربانی ہوگی ۔
مسئلہ :جو شخص کسی میقات سے بلا احرام کے گذرا ہے، اس پر یہ واجب نہیں کہ اسی میقات پر واپس آئے؛ بلکہ کسی میقات پر مواقیت مذکورہ میں سے آنا کافی ہے؛ ہاں افضل یہی ہے کہ اسی میقات پر واپس آئے، جس سے گذرا تھا ۔
مسئلہ: کوئی آفاقی میقات سے آگے جانا چاہتاہے، مگر ایسی جگہ جارہا ہے، جو حرم کے حددو کے اندر داخل نہیں ہے؛ بلکہ حل میں ہے ،تووہاں جانے کے لیے میقات سے احرام باندھنا واجب نہیں، بغیر احرام باندھے جاسکتاہے اور پھر وہاں سے حرم کے حدود میں،یا مکہ جانا چاہے ،تو بغیر احرام کے جاسکتا ہے ،اس پر کوئی دم نہیں، یعنی جب حل کسی غرض سے گیا، تو وہ حلی ہوگیا اور حلیوں کے لیے حرم میں بغیر احرام کے جانا درست ہے۔ اس لیے حضور ﷺ نے آفاقیوں ہی کو بغیر احرام کے میقات سے آگے بڑھنے سے منع کیا ہے اور حل میں پہنچ کر اگر وہاں سے حج یا عمرہ کا احرام باندھنا چاہے ،تو حل سے احرام باندھ لے ۔
مسئلہ: میقات پر جو ارادہ ہے اسی کا اعتبار ہے ۔ اگر اس کے بعد ارادہ بدل دے، تو اس کا اعتبار نہیں ۔ میقات پر مکہ کا ،یا حج، یاعمرہ کاارادہ تھا، مگر میقات پر احرام نہیں باندھا، آگے چل کر حل کا ارادہ کیا، تو یہ ارادہ دم ساقط نہیں کرے گا، کیوں کہ بغیر احرام کے آگے بڑھا ہے؛ البتہ اگر میقات ہی کے اندر حل کا ارادہ تھا اور بغیر احرام میقات سے آگے بڑھا، پھر مکہ کا ارادہ ہوگیا، تو اس پر کوئی دم نہیں؛ لیکن اس کو حل کے اندر احرام باندھ لینا چاہیے ۔
مسئلہ : آفاقی شخص اگر حرم میں، یا مکہ میں بلا احرام کے داخل ہوجائے، تو اس پر ایک حج، یا عمرہ کرنا واجب ہوجاتا ہے ۔اگرکئی مرتبہ اسی طرح بلا احرام داخل ہوا،تو اتنا ہی مرتبہ اس پر حج ،یا عمرہ واجب ہوگا ۔
مسئلہ: مکہ میں بغیر احرام کے داخل ہونے کی وجہ سے جو حج یا عمرہ واجب ہواتھا، اس کے قائم مقام حج فرض، یا حج نذر، یا عمرہ نذر ہوجا ئے گا، اگر چہ اس کی نیت نہ کی ہو، بشرطیکہ اسی سال حج یا عمرہ کیا ہوجس سال داخل ہوا تھا۔ اگر یہ سال گذر گیا، تو پھر اس کے لیے مستقل حج یا عمرہ واجب ہوگا ۔
مسئلہ : جو لوگ میقات کے رہنے والے ہیں ،جیسے ذوالحلیفہ والے، یا میقات اور حرم کے درمیان رہتے ہیں، اگر وہ حج یا عمرہ کی نیت سے مکہ جائیں ،تو ان پر حل کے اندر احرام باندھنا واجب ہے ۔(ہدایہ) اور اگر حج یا عمرہ کے ارادہ سے نہ جائیں، تو ان کے لیے احرام باندھ کر جانا واجب نہیں ہے، بلااحرام مکہ میںداخل ہوسکتے ہیں۔ ایسے ہی وہ آفاقی، جو حل میں مقیم ہو گیا ،ان کو بھی جب حج ،یا عمرہ کا ارادہ نہ ہو،تو بغیر احرام کے مکہ میں داخل ہونا جائز ہے۔(فتح القدیر )





















