دسویں قسط
محمد یاسین جہازی
سعودی عرب اور جمعیت علمائے ہند کے تعلقات 27 تا 29 اکتوبر 1956ئ کو منعقد ہونے والے جمعیت علمائے ہند کے انیسویں اجلاسِ عام میں شرکت کے لیے سعودی عرب کی متعدد اہم شخصیات کو دعوت دی گئی۔ سعودی سفیر شیخ یوسف الفوزان اور سعودی وزارتِ تعلیم کے سیکریٹری عبدالعزیز بن عبداللہ نے مصروفیات کے باعث شرکت سے معذرت کرتے ہوئے جمعیت کی قومی و دینی خدمات کو سراہا اور اجلاس کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اسی اجلاس میں شاہ سعود کو حرمین شریفین کی توسیع پر خصوصی مبارک باد پیش کی گئی اور ان کی اس خدمت کو تاریخِ اسلام کا عظیم کارنامہ قرار دیتے ہوئے مزید توفیق کی دعا کی گئی۔5 مارچ 1959 کو جمعیت علمائے ہند نے سعودی عرب میں متعین ہندستان کے سفیر مصطفیٰ محمد کامل قدوائی کے اعزاز میں دہلی میں عصرانے کا اہتمام کیا۔ اس کے بعد 19 اپریل 1959 کو مولانا سعید رمضان کی دعوت پر حج کے موقع پر مکہ مکرمہ میں ہونے والے موتمر اسلامی عام میں شرکت کے لیے جمعیت نے مولانا سید فخر الحسن اور مولانا سید محمد اسعد کو اپنا نمائندہ مقرر کیا۔23 نومبر 1961 کو شاہ سعود کی علالت پر جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد حفظ الرحمن صاحب نے ان کی صحت یابی کے لیے برقی پیغام بھیجا۔ 27 نومبر 1961 کو شاہ سعود نے بوسٹن (امریکہ) سے جوابی پیغام بھیج کر جمعیت اور اس کی تمام شاخوں کا شکریہ ادا کیا اور اپنی صحت میں بہتری کی اطلاع دی۔ اس کے بعد 30 نومبر 1961 کو جمعیت نے تمام مسلمانوں سے شاہ سعود کی صحت کے لیے دعا کی اپیل جاری کی۔8 تا 10 جون 1963 کو منعقد ہونے والے بیسویں اجلاسِ عام کے لیے شاہ سعود، شہزادہ فیصل اور سعودی سفیر یوسف الفوزان نے اپنے تہنیتی پیغامات بھیجے اور اجلاس کی کامیابی کی دعا کی۔
(جاری)۔۔۔۔ @all





















