محمد یاسین جہازی
آج کے دور میں جمعیت علما کے فارمولے کی اہمیت
ترک موالات کی تحریک کے نتیجے میں ، سائمن کمیشن کی تشکیل پر مجبور ہونے والی برطانوی حکومت ہندکے اس کمیشن کی ناکامی کے بعد نہرورپورٹ کو دریابرد کرکے آل انڈیا کانگریس نے 31؍دسمبر1929کو مکمل آزادی کی تجویز منظور کرتے ہوئے نمک تحریک چلاکر حکومت کو ہندستانیوں کے مسائل و مطالبات ماننے پر آمادہ کیا،جس کے لیے برطانیہ نے گول میز کانفرنسوں اور فرقہ وارانہ حقوق کے تصفیے کا جھانسہ دیا، یعنی برطانیہ نے یہ کہا کہ ہم ہندستانیوں کو حکومت سپرد بھی کریں، تو کس مذہب اور مذہب کے کس فرقے والے کو حوالے کریں، جس کے لیے تمام مذاہب کے ماننے والوں نے حکومت میں ساجھے داری کے اپنے اپنے فارمولے پیش کیے۔
اسی موقع پر 3/اگست 1931 کو مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ صدر جمعیت علمائے ہند کی صدارت میں مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس میں مسلمانوں کی طرف سے ان کے حقوق و تحفظات پر مبنی وہ فارمولا پیش کیاگیا، جس کی بنیاد ’’مساوات‘‘ پر تھی: یعنی مرکزی ایوان میں ہندو45فی صد، مسلم45فی صد، دیگر اقلیتیں10فی صد۔
اس فیصلے کا31/جنوری، یکم و2/فروری1945 کی مجلس عاملہ نے تشریح کے ساتھ اعادہ کیا، اور بالآخر16/اپریل1946 کو یہی فارمولا وزارتی مشن کے سامنے پیش کیا گیا، جس کی بنیاد پر عبوری حکومت (تاریخ قیام: 2 ستمبر 1946ء کو ہوا)کے چودہ ارکان میں سے چھ مسلمان مقرر ہونے تھے؛ لیکن مسلم لیگ نے جوگندر ناتھ منڈل کا نام شامل کرکے یہ نمائندگی خود گھٹا دی۔
اگر ملک تقسیم نہ ہوتا، تو آج کے اعداد و شمار یوں ہوتے: ہندستان کی آبادی142کروڑ(مسلمان23.4کروڑ،15فی صد)۔
پاکستان25.9کروڑ(96.5فی صد مسلمان=25کروڑ)۔
بنگلہ دیش17.8کروڑ(91فی صد مسلمان=16.2کروڑ)۔
اکھنڈ بھارت کی مجموعی آبادی تقریباً186کروڑ بنتی، جس میں مسلمان64.6کروڑ(35فی صد) اور غیر مسلم121.4کروڑ(65فی صد) ہوتے، یعنی تناسب تقریباً1:1.9،(ایک مسلمان کے مقابلے میں پونے دو ہندو) جب کہ آج تنہا ہندستان میں یہ تناسب1:5.7ہے۔(15فی صد بمقابلہ85فی صد یعنی پونے چھ غیر مسلم کے مقابلے میں ایک مسلمان ہے۔
یہ موازنہ واضح کردیتا ہے کہ تقسیم نے مسلمانوں کو کس قدر کمزور کردیا: اکھنڈ بھارت میں35فی صد کے ساتھ وہ ایک فیصلہ کن، تقریباً برابری کے قریب پہنچی ہوئی قوت ہوتے، جسے جمعیت کے45فی صد مساوات کے فارمولے سے کچھ کم؛ مگر پھر بھی ویٹو اور مرکزی طاقت کی ضمانت حاصل ہوتی — جب کہ آج15فی صد کی حیثیت سے وہ ایک ایسی اقلیت ہیں، جن کی سیاسی طاقت انتہائی محدود ہوکر رہ گئی ہے۔



















