نویں قسط
محمد یاسین جہازی
سکھ دکھ کے حالات میں سعودی ہندستانی مسلمان
دوسری جنگِ عظیم کے دوران حجاز میں شدید قحط اور گرانی پیدا ہوئی، جس پر مجلسِ عاملہ نے 17، 18، 19/جولائی 1944 کو اظہارِ تشویش کرتے ہوئے غلہ اور ضروری اشیا حجاز بھیجنے کے لیے حضرت مولانا احمد سعیدؒ، مولانا بشیر احمدؒ اور حضرت مفتی محمد کفایت اللہؒ پر مشتمل کمیٹی مقرر کی۔
بعد ازاں 12/مارچ 1949 کو جمعیت کی مجلسِ عاملہ نے حرمین شریفین میں نماز کے لیے مائیکروفون کے استعمال کو بند کرنے کی درخواست شاہِ سعودیہ کو بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ پھر جمعیت کے سولھویں اجلاسِ عام 16، 17، 18/اپریل 1949 میں حکومتِ سعودیہ سے حجاج پر عائد ٹیکس اور جہاز راں کمپنیوں سے کرایوں میں کمی کا مطالبہ کیا گیا تاکہ حج عام مسلمانوں کے لیے آسان ہو سکے۔
آزاد ہندستان میں سعودی عرب سے تعلقات کے نئے دور کا آغاز 5/جنوری 1950 کو اس وقت ہوا جب جمعیت علمائے ہند نے نئی دہلی کے مرینا ہوٹل میں سعودی اقتصادی وفد کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ اس کے بعد 6/مارچ 1950ئ کو یہ اطلاع شائع ہوئی کہ سعودی حکومت نے حضرت مولانا حفظ الرحمانؒ اور حضرت مولانا عبد الحق مدنیؒ کو شاہی خلعت سے نوازا، جب کہ یہ خلعت مولانا کرم علی ملیح آبادی، جو 14/فروری 1950 کو حجاز سے واپس آئے تھے، اپنے ساتھ لائے۔
حجاج کی سہولت کے لیے حضرت مولانا محمد حفظ الرحمانؒ نے 18/جولائی 1955ئ کو شاہ سعود کو تار بھیج کر شدید گرمی کے پیشِ نظر خصوصی انتظامات اور بالخصوص حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے لیے سہولتوں کی درخواست کی، جس پر شاہ سعود نے فوری احکامات جاری کیے اور اس کا جواب 20/جولائی 1955 کو روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوا۔
شاہ سعود کے دورہ ¿ ہند کے موقع پر 27/نومبر 1955ئ کو دہلی کے پالم ہوائی اڈے پر جمعیت علمائے ہند کے اکابر نے ان کا استقبال کیا۔ اس کے بعد 29/نومبر 1955ئ (13 ربیع الثانی 1375ھ) کو تال کٹورہ گارڈن، دہلی میں جمعیت علمائے ہند کی جانب سے عظیم الشان استقبالیہ منعقد ہوا، جس میں وزیر اعظم جواہر لال نہرو، شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ، حضرت مولانا حفظ الرحمانؒ، متعدد وزرا، سفرا اور ممتاز شخصیات شریک ہوئیں۔ اس موقع پر عربی اور اردو میں سپاس نامے پیش کیے گئے، شاہ سعود نے حرمین شریفین کی توسیع، مسجد نبویؐ کی تعمیر، سعودی عرب و ہند کی دوستی اور عالمِ اسلام کی خدمت کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ حضرت شیخ الاسلامؒ نے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو ایشیا اور عالمِ اسلام کے لیے نیک شگون قرار دیا۔ اس تقریب کی تفصیلی روداد اور سپاس نامے یکم دسمبر 1955ئ کے روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوئے۔
(جاری)
@all




















