اتوار, اگست 9, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم کے 27 طریقے: سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!

    محمد یاسین جہازی

    تدریس کے 35 جدید طریقے

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    نسلِ جدید

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    اصلاح معاشرہ کانفرنس لوگائیں گڈا (22مئی 2009ء)کی ایک رپورٹ

    محمد یاسین جہازی

    پاکستان اور ہندستانی مسلمان

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم کے 27 طریقے: سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!

    محمد یاسین جہازی

    تدریس کے 35 جدید طریقے

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    نسلِ جدید

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    اصلاح معاشرہ کانفرنس لوگائیں گڈا (22مئی 2009ء)کی ایک رپورٹ

    محمد یاسین جہازی

    پاکستان اور ہندستانی مسلمان

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home قومی و بین الاقوامی

خطرے میں شہریوں کی آزادی و حقوق

by Admin
جون 22, 2026
in قومی و بین الاقوامی
0
0
SHARES
31
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

مولانا عبدالحمید نعمانی صاحب

جمہوریت کا مطلب یہ قطعا نہیں ہے کہ اکثریت، اقلیتوں کے آئینی حقوق و اختیارات کو مسترد کر کے ان پر اپنی پسند لاد کر ان کے وجود کو بے معنی بنا دے، سیکولر جمہوریت کا مطلب ہے، ووٹ کی اکثریت سے سرکار کی تشکیل ہوگی اور سرکار تمام مذاہب کا یکساں خیال و احترام کرے گی، اس سلسلے میں کسی تعصب و جانب داری سے کام نہیں لے گی ،اس کے برعکس آج کی تاریخ میں یہ شرمناک حالت ہو گئی ہے کہ خاص ذہنیت کی مرکزی و ریاستی سرکاریں ایک مخصوص کمیونٹی کے ساتھ کھڑی ہو کر دیگر سماجی و مذہبی اکائیوں سے ناانصافی اور جانبداری کرتی نظر آتی ہیں، یہ کرتے ہوئے سناتن دھرم، ہندستانی تہذیب کا فروغ اور راشٹر واد کا پالن باور کرایا جاتا ہے، مبینہ سیکولر پارٹیوں کے بکھراؤ اور نظریاتی و عملی انحرافات کی وجہ سے ایسی طاقتوں کے لیے مرکزی و ریاستی اقتدار پر براجمان ہونے کا راستہ ہموار ہوتا چلا، جن عناصر و تنظیموں کا تحریکات آزادی اور سیکولر جمہوری اقدار کے تحفظ و بقا۶ میں کوئی کردار و عطیہ نہیں ہے، ان کا سماج پر حاوی ہونا خاص صورت حال کی طرف اشارہ کرتا ہے، سنگھ کے لٹریچر اور اس کے سب بڑے نظریہ ساز دوسرے سر سنچالک گرو گولولکر کے بیانوں اور تحریروں کے مطالعے سے یہ واضح طور سے سامنے آتا ہے کہ ہندوتو اور سنگھ کے فکر و عمل میں، اپنے حلقے سے باہر کے تمام باشندوں کی آزادی اور جمہوری سیکولر اقدار کے لیے کوئی خاص جگہ نہیں ہے اور نہ اس کا تصور ہی پایا ہے، ایسی حالت میں یہ سمجھنا سراسر سادہ لوحی اور نا سمجھی ہوگی کہ ہندوتو پر مبنی آر ایس ایس کی آئیڈیا لوجی سے وابستہ اشخاص و ادارے اور سرکاریں، صحیح جمہوری سیکولر ازم کے تقاضوں کے مطابق، ملک و ریاست کے عوام سے مساوی انصاف کریں گی، ان کے پیش نظر اپنے ایجنڈے کو لاگو کرتے ہوئے ایک مخصوص طبقے کو آگے بڑھا کر، ملک کے وسائل حیات کو اپنی خواہشات کی تکمیل و تسکین ہوتی ہے، برہمن وادی ہندوتو کی طاقتوں کے لیے سیکولر جمہوری اقدار اور نظام حکومت کے بجائے شخصی ڈکٹیٹر شپ فاشزم پر مبنی نظام حکومت و سیاست پسندیدہ ہے، اس کے دائرے کو بڑھاتے ہوئے تمام تر جمہوری اداروں کے کردار کو ختم کر کے ان کو اپنے رنگ میں ڈھال کر ایسی سرکار کی تشکیل پیش نظر ہوتی ہے جس میں اپوزیشن پارٹیوں اور مختلف آراء رکھنے والوں کے وجود کا کوئی معنی و ضرورت نہیں رہ جاتی ہے، سنگھ کے فکر و کردار میں جرمنی ڈکٹیٹر شپ ہٹلر ازم اور اٹلی کے فاشزم، مسولینی واد کا خاصا اثر ہے، ذرائع ابلاغ پر پوری طرح کنٹرول کر کے اپنے حساب سے خبروں کو نشر کرنا ڈکٹیٹر شپ کا ہی حصہ ہے، ہر ڈکٹیٹر نے سب سے پہلے ذرائع ابلاغ پر کنٹرول کر کے عوام کی ذہن سازی اپنے عزائم کے مطابق کرنا ہوتا ہے، اس ذہنیت کے تحت دیگر کی آزادی کا کوئی معنی نہیں رہ جاتا ہے، ڈکٹیٹر شپ کے حامل عناصر خود کو آئین و قانون سے بالا تر اور دیگر کو ہر چھوٹی بڑی چیز کو قانون اور خواہشات کی زنجیروں سے باندھ دینا چاہتے ہیں، لگتا ہے کہ آج کا بھارت اسی صورت حال سے گزر رہا ہے، اس بات نے ملک کے بڑے حصے کی توجہ مبذول کرائی ہے کہ کم از کم ریاستی سطح پر پہلی بار آر ایس ایس کو عام ضابطہ کے تحت لانے ، حساب کتاب میں شفافیت اور رجسٹریشن کرانے کی بات کی جا رہی ہے، کسی تنظیم کام کرنے کے لیے رجسٹریشن قانونا لازمی نہیں ہے، آر ایس ایس میں ایک سے ایک گھاگ ہیں، اس نے اپنا کام چلانے کے لیے اپنی ماتحت معاون تنظیموں/کمیٹیوں کو آگے کر دیا ہے، آر ایس ایس بہ ذات خود بہ حیثیت تنظیم، اپنے طریق کار کے مد نظر حساب کتاب میں شفافیت اور آمد و خرچ کی تفصیلات کبھی پیش نہیں کرے گا ،اس کے حامی آر ایس ایس کے کاز کو تقویت پہچانے کے لیے حسب عادت مسلم اداروں، تنظیموں جمیعتہ علماء ہند، جماعت اسلامی ہند اور تبلیغی جماعت کا حوالہ دیتے نظر آرہے ہیں، تبلیغی جماعت ذرا مختلف قسم کی جماعت ہے، اسے کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھتا ہے، جمعیۃ علماء ہند، جماعت اسلامی ہند کے حساب کتاب کے معاملے میں کوئی شک و سوال نہیں ہے، وہ تمام تر سرکاری عام ضابطوں کی پابندی کرتی ہیں، ان کے بارے میں سنگھ حامی عناصر کو معلوم نہیں ہے کہ جمیعتہ علماء ہند اور جماعت اسلامی اور دیگر مسلم تنظیمیں اپنا حساب کتاب اور آمد و خرچ کی تفصیلات متعلقہ سرکاری ادارے کے سامنے پیش کرتی ہیں، ان کے آمد و خرچ آڈٹ ہوتے ہیں، آر ایس ایس کے لیے گرو دکشنا وغیرہ سے ملی رقم کے حساب پیش کرنے سے انکار سے کچھ سوالات کھڑے تو ہوتے ہیں لیکن اس کو دیگر تنظیموں/پارٹیوں کی طرح پابند کرنا کوئی آسان نہیں ہے، اس پر آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد کئی بار پابندیاں لگائی گئی تھیں لیکن حساب و کتاب اور آمد و خرچ کی تفصیلات پیش کرنے پر توجہ نہیں دی جا سکی، اس کے کئی ساری وجوہ ہو سکتی ہیں، گاندھی جی کے قتل کے بعد جیلوں میں بند اس کے کلیدی لیڈروں اور کارکنوں کی رہائی دستور بنانے اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی شرط پر عمل میں آئی تھی، ہندو راشٹر ،سماج کی تعمیر اور رجال سازی کے دعوے کے باوجود آر ایس ایس کی کوئی تجویز، قرار داد تحریری شکل میں 1950 تک سامنے نہیں آئی تھی، 1950سے کچھ تجاویز کتابی شکل میں شائع ہوئیں لیکن آج بھی کئی ساری چیزیں مخفی ہیں، اس کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ سنگھ کو سمجھنے کے لیے اس کے اندر آنا ہوگا، اسے باہر سے نہیں سمجھا جا سکتا ہے، سردار پٹیل نے اس پر کچھ پابندیاں عائد کی تھیں، ممکن تھا کہ ان کے مطابق کچھ ہوتا لیکن وہ آزادی کے بعد زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہے، 15/دسمبر 1950 میں انتقال اور تقسیم ہند سے ملک کے حالات اس قدر ناگفتہ بہ ہو گئے اور ہندوتو وادی طاقتوں نے ایسا ماحول بنا دیا کہ کانگریس کے لیڈر بھی دباؤ میں آ گئے، ایسی حالت میں سنگھ کو عام ضابطے اور اس کے مقاصد کے برخلاف قانون کا پابند بنانا کوئی آسان نہیں رہ گیا، کئی معروف ہندوتو وادی لیڈر تلک، مونجے، سنگھ بانی ڈاکٹر ہیڈ گیوار کانگریس کے لیڈر رہ چکے تھے، ماضی سے حال تک کئی سارے بہ ظاہر کانگریسی، اصلا آر ایس ایس کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ اور ہمدردی رکھنے والے رہے ہیں، ایسی حالت میں کانگریس کی طرف سے کارگر موثر کارروائی کی زیادہ امید نہیں کی جا سکتی ہے، پتا نہیں کرناٹک سرکار کے وزیر داخلہ پریانک کھڑگے کو کس قدر کامیابی ملے گی، اس سے پہلے ہی ان پر سنگھ بی جے پی کی طرف سے حملے شروع ہو گئے ہیں، ان کے لوگ دیگر کی مختلف قسم کی آزادی کو محدود تر یا ختم کرنے اور کاغذ دکھاؤ پر زور دیتے نظر آتے ہیں لیکن سنگھ کے معاملے میں الگ روش و رویہ رکھتے ہیں، کئی طرح کے سرکاری دستاویز ہونے کے باوجود بہت سے لوگ ووٹر اور شہری ہونے کا معاملے میں شک و شبہ کے گھیرے میں ہے، بہت سے شہریوں کی آزادی ختم کرنے کا راستہ کھول دیا گیا ہے، مکان، دکان، ماثر و معابد، مساجد، مدارس، مزارات بے دریغ منہدم کیے جا رہے ہیں، اس کے دائرے سے سنگھ، بی جے پی اور مبینہ دھرم گروؤں کے مٹھ مندر، کٹیا وغیرہ عموما باہر ہیں، یک طرفہ کارروائی نے فرقہ پرستی اور حق رائے دہی سے محروم کرنے کے عمل نے بہت سے ہندستانی شہریوں کی آزادی کو خطرے میں ڈال دیا ہے، توڑ پھوڑ اور کاغذ دکھاؤ کے سرکاری اقدام و مہم نے عوام کی ایک بڑی تعداد کو گھر، کورٹ، کچہری، اور سرکاری آفسوں کے چکر نے بنیادی ضروریات و سوالات سے دور کر کے سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے، ایسا بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں زیادہ ہو رہا ہے، ایک طرف افغانستان، پاکستان، بنگلہ دیس کے صرف غیر مسلموں کو بھارت میں شہریت دے کر بسانے اور دوسری طرف بنگلہ دیشی اور روہنگیا مسلمانوں کی دراندازی کے پر شور پروپیگنڈے اور مذہب و فرقہ کی بنیاد پر بھید بھاؤ جیسے غیر آئینی اقدامات نے ملک اور ریاستوں کو کھلی جارحانہ فرقہ پرستی کی راہ پر ڈال کر بھارت کے روایتی تنوعات اور متحدہ قومیت کے تصور و روایت کی بنیاد کو کمزور کرنے کے عمل کو تیز کر دیا ہے، یہ سب مفروضہ راشٹر واد کے نام پر کیا جا رہا ہے، جو طاقتیں برٹش سامراج کے عہد غلامی میں، تحریکات آزادی کے دوران میں بھی تمام تر کوششوں کے باوجود، ملک کی اکثریت کے بھائی چارہ اور فرقہ وارانہ اتحاد و ہم آہنگی کو توڑنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکی تھیں اور وہ تحریکات آزادی سے دور رہنے اور آزادی کی کئی دہائیوں تک مرکزی و ریاستی اقتدار کے لیے عوام میں نامقبول اور ناقابل توجہ رہنے کے باوجود کس طرح بعد کے دنوں میں مرکزی و ریاستی اقتدار کی کرسی پر براجمان ہو گئیں اور ماسوا کی مذہبی، تہذیبی، سماجی و تعلیمی اور سیاسی آزادی کو ختم کرنے کی پوزیشن میں کیسے آگئیں، اس طرح کے سوالات کے صحیح جواب میں بھارت کے روایتی مشترکہ کردار کی واپسی کا راستہ ہے، جہاں تک مسلمانوں کا مسئلہ ہے تو ان کی بھارت سے ارضی وابستگی اور حب الوطنی کے معاملے میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے کسی معذرت اور احساس کمتری میں مبتلا ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے، ہندوتو وادی عناصر ،جس طرح ملک کا واحد وارث و مالک کے طور پر پیش کرنے میں لگے ہوئے ہیں، اس کی کوئی آئینی، مذہبی و تاریخی بنیاد نہیں ہے، ہندستان بلا امتیاز مذہب و فرقہ ،تمام ہندستانی باشندوں کا ملک ہے، اس سلسلے میں کم زیادہ ہندستانی ہونے کی بات بالکل بے معنی ہے، سب برابر کے شہری ہیں اور مساوی آئینی حقوق و اختیارات رکھتے ہیں، اس تناظر میں ہندوتو وادی طاقتوں کے دعوے کو مسترد اور چلینج کرنے کی حال میں پہلے سے زیادہ ضرورت ہے، بہ صورت دیگر اقلیتوں، دلتوں، آدی واسیوں اور محنت کش طبقات کے حقوق اور بنیادی آزادی معرض خطر میں پڑ جائے گی، اس سلسلے میں صحیح عملی و شعوری بیداری پیدا کرنے کی بڑی ضرورت ہے، اس کا بہتر آغاز بھارت کی آزاد متنوع روایات کی واپسی، مشترکہ تہذیب کے فروغ اور متحدہ قومیت و وطنیت کے تصور و فلسفہ پر مبنی تحریک ہندو مسلم اتحاد کو نیچے سے اوپر تک پہنچانے سے ہوگا، اس سمت میں جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے پیش قدمی کی خوش آئند اطلاع ہے، موجودہ پیدا شدہ حالات نے آزاد جمہوری بھارت میں شہریوں کی آزادی پر کئی طرح کے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، اقلیتوں خصوصا مسلمان اور کئی جہات سے اقتدار سے دور کئی محنت کش طبقات ملک کے اہم ستون، مقننہ، عاملہ، عدلیہ، بیوروکریسی، مارکیٹ، میڈیا وغیرہ کی طرف سے خاصی تشویش و تذبذب میں ہیں، یہ کسی بھی ملک کے لیے اچھی علامت نہیں ہے،

Admin

Admin

Next Post
گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

ہندستان فرقہ پرستی کی راہ پر

4 مہینے ago

مفتی نظام الدین قاسمی جمعیت بلاک بسنت رائے کا بلا مقابلہ صدر منتخب

10 مہینے ago

مقبول

  • کیا یورپ واقعی سونے کی چڑیا ہے؟

    کیا ہم نے اپنے وطن کی قدر کرنا چھوڑ دیا ہے؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • کھلونا پر مبنی تدریس (Toy-Based Learning)

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • طرحی غزل

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودی عرب) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.