بدھ, اکتوبر 14, 2026
  • Login
  • Register
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    گاندھی جی اور جمعیت علمائے ہند

    گاندھی جی اور جمعیت علمائے ہند

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    آپ کس سمت سے نکلیں گے بچاکے دامن

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    گاندھی جی اور جمعیت علمائے ہند

    گاندھی جی اور جمعیت علمائے ہند

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    آپ کس سمت سے نکلیں گے بچاکے دامن

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home زبان و ادب

کوٹھاری ایجوکیشن کمیشن

by Admin
اکتوبر 13, 2026
in زبان و ادب
0
0
SHARES
2
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

کوٹھاری ایجوکیشن کمیشن

رپورٹ کا پیرا گراف 10/19 ، 10/80

اقلیتی تعلیمی اداروں کے لیے خطرے کی گھنٹی

گورنمنٹ آف انڈیا نے 1964ء میں ملک کے تعلیمی نظام کو ازسرنو مرتب کرنے کے لیے ایک اعلیٰ طاقت ایجوکیشن کمیشن مقرر کیا تھا، اس کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈی ڈی کوٹھاری تھے، اس لیے کمیشن کوٹھاری کمیشن کے نام سے موسوم ہوا۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ 1966ء میں پیش کر دی تھی، یہ رپورٹ کافی بڑی اور مجموعی طور پر مفید ہے، مگر جہاں تک اقلیتی تعلیمی اداروں کا خواہ وہ مذہبی ہوں یا بدوں تعلیم کے تعلق ہے، رپورٹ کی سفارشات انتہائی خطرناک دور رس نتائج کی حامل اور دستور ہند میں اقلیتوں کو دیے ہوئے بنیادی حقوق کے منافی ہیں۔

کوٹھاری کمیشن کی سفارشات بہت طویل ہیں، اس لیے رفتہ رفتہ ان پر عملدرآمد کا منصوبہ بنایا گیا ہے، ذیل میں ان چند سفارشات کے اقتباسات دیے جا رہے ہیں جن کا اگر سنجیدہ نوٹس نہ لیا گیا اور ان پر عملدرآمد شروع ہو گیا تو نہ صرف جدید تعلیم کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں بلکہ خالص دینی تعلیم کے اداروں کا بھی قائم رہنا محال ہو جائے گا۔

پڑوسی اسکول / مشترکہ اسکولوں کا قیام: کمیشن نے اپنی رپورٹ کے پیراگراف 10/50 صفحہ 288 میں مشترک اسکول کے قیام کی سفارش کی ہے، مشترک اسکولوں کو پڑوسی اسکول بھی کہا جاتا ہے۔

پڑوسی اسکولوں کی وضاحت رپورٹ کے پیراگراف 10/19 میں کی گئی ہے۔ (اردو ترجمہ)

ہر پڑوسی اسکول میں اس حلقہ کے تمام طلباء کا داخلہ ضروری ہوگا خواہ ان کی برادری، مذہب یا فرقہ سے تعلق ہو۔ جہاں تک تعلیم کے منظور شدہ اسکولوں کا تعلق ہے اس پر پہلے سے دستور ہند کی آرٹیکل 29(2) کی رو سے یہ پابندی عائد ہے کہ کسی طالب علم کو سرکاری یا امدادی اسکولوں میں داخلہ سے نسل، برادری، زبان کے فرق کی بنیاد پر روکا نہیں جا سکتا، اس کے باوجود مندرجہ بالا سفارش کے مطابق:

پڑوسی اسکول کے قیام سے تمام طالب علموں کو اسی حلقہ کے اسکول ہی میں پڑھنا ہوگا، ایسی صورت میں اس حلقہ میں اگر کوئی مکتب یا دینی مدرسہ ہے تو وہ خود بخود بند ہو جائے گا۔

پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا وجود اور کردار ختم کرنے کے لیے اور ان کو حکومت کی مرضی کے مطابق چلانے کے لیے کمیشن نے پیراگراف 10/80 میں بڑی خطرناک سفارشات کی ہیں، طرفہ تماشا یہ ہے کہ پیراگراف 10/80 میں یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ دستور ہند کی آرٹیکل 30 کے تحت اقلیتوں کو حق ہے کہ وہ اپنے تعلیمی ادارے قائم کریں اور ان کو اپنی مرضی کے مطابق چلائیں، پیراگراف 10/80 میں ان اسکولوں کی مختصر کیفیت بیان کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دستور ہند کی رو سے ان کے قیام کو روکا نہیں جا سکتا۔ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو نہ تو امداد چاہتے ہیں اور نہ منظور کرانا چاہتے ہیں، لہٰذا ریاستی حکومت کا شعبہ تعلیم ایسے اداروں کو کنٹرول نہیں کر سکتا لیکن غالباً اب وقت آ گیا ہے کہ ان کے ریگولیشن کے لیے اقدام اٹھایا جائے، یہ مناسب ہوگا کہ تمام تعلیمی اداروں کے لازمی رجسٹریشن کے لیے قانون بنایا جائے اور غیر رجسٹرڈ تعلیمی اداروں کا چلانا جرم قرار دیا جائے۔

دیکھا آپ نے کس طرح دستور ہند کی آرٹیکل 30 میں دیے ہوئے بنیادی حقوق کو پامال کرنے کے لیے سفارش کی گئی ہے، پھر اتنے ہی پر بس نہیں کیا گیا بلکہ ریاستی حکومتوں کو رجسٹریشن منسوخ کرنے کے اختیارات استعمال کرنے کی سفارش کی گئی ہے جس میں دیے ہوئے وجوہات انتہائی خطرناک ہیں۔

کمیشن کی سفارشات کے بموجب حسب ذیل وجوہات میں سے کسی وجہ کی بنا پر ریاستی حکومت کو رجسٹریشن منسوخ کرنے کا اختیار ہوگا:

  1. اسکول کی عمارت یا اس کا کوئی جزء اسکول کے لیے مناسب نہیں ہو۔
  2. طلباء کی تعداد، عمر اور جنس (Sex) کو دیکھتے ہوئے عمارت میں گنجائش کم ہے۔
  3. مناسب اور معقول تعلیم کا بندوبست، طلباء کی عمر، تعداد اور جنس کو دیکھتے ہوئے نہیں ہے۔
  4. اسکول کا مالک یا اس کا کوئی ٹیچر ایک آزاد اسکول کے لیے مناسب نہیں ہے۔

اندازہ لگائیے ان وسیع اختیارات کا جن کی بنا پر حکومت کسی بھی تعلیمی ادارے کا رجسٹریشن منسوخ کر سکتی ہے، خصوصیت کے ساتھ وجہ نمبر 4 پر غور کیجیے، اسکول کے مالک یا منیجر کے مناسب ہونے کی شرط کتنی غیر معقول ہے، اساتذہ کی صلاحیت کا معیار مقرر کرنا تو کسی حد تک سمجھ میں آ جاتا ہے، مگر مالک یا منیجر کے مناسب ہونے کی بات سمجھ میں نہیں آتی۔

اگر کوٹھاری کمیشن کی مندرجہ بالا سفارشات پر عمل درآمد ہوا تو پھر کوئی تعلیمی ادارہ خواہ وہ خالص دینی تعلیم کا ادارہ ہو یا مکتب اور مدرسہ ہوں، حکومت کی دستبرد سے محفوظ نہیں رہ سکتا، سارے تعلیمی اداروں کو حکومت کی مرضی کے مطابق چلنا ہوگا۔

مندرجہ بالا سفارش کے دور رس نتائج کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، سفارشات نہ صرف دستور ہند میں دیے ہوئے بنیادی حقوق کے منافی ہیں بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے سراسر خلاف ہیں، اب اقلیتوں کو سوچنا ہے کہ وہ دستور ہند کی آرٹیکل 30 میں دیے ہوئے بنیادی حقوق کا تحفظ کس طرح کریں۔

مندرجہ بالا سفارشات کے خلاف دینی تعلیمی کونسل لکھنؤ نے کوٹھاری کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آتے ہی احتجاج کیا تھا، اور اس کی مجلس عاملہ نے مورخہ 24 جون 1966ء کو مفصل تجاویز پاس کی تھیں، ان کی نقلیں ذمہ داران حکومت کے پاس بھیجنے کے علاوہ دینی تعلیمی کونسل کا ایک نمائندہ وفد مرکزی وزیر تعلیم مسٹر ایم سی چھاگلا سے بھی ملا تھا، اور وضاحت چاہی تھی کہ کم از کم دینی تعلیم کے اقلیتی ادارے مندرجہ بالا سفارشات سے مستثنیٰ کیے جائیں، مگر حکومت کے ذمہ داران اس پر بھی راضی نہیں ہوئے، اب ہوا کا رخ اور بھی کافی بدل چکا ہے، حکومت رفتہ رفتہ تعلیم کو قومیانے کا منصوبہ بنا چکی ہے، حکومت کے نزدیک مذہب قدامت پرستی کی علامت اور حکومت کی ترقی پسند پالیسیوں میں حائل ہے، لہٰذا قبل اس کے کہ حکومت مندرجہ بالا سفارشات پر عملدرآمد شروع کر دے اور پانی سر سے اونچا ہو جائے، تمام اقلیتی تعلیمی اداروں بالخصوص مذہبی تعلیمی اداروں کے ذمہ داروں کو مندرجہ بالا سفارشات کا سنجیدہ نوٹس لینا چاہیے اور انسانی حقوق کے چارٹر اور دستور ہند میں دیے ہوئے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے فکر مند ہونا چاہیے۔

ہم تمام مسلمانوں اور خاص طور پر عربی مدارس اور دینی اداروں کے ذمہ داروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جگہ جگہ جلسے کر کے حسب ذیل تجویز پاس کر کے اس کی نقل وزیر تعلیم یوپی اور مرکزی وزیر تعلیم اور وزیر اعظم ہند کے پاس اور اخبارات میں بھیج دیں:

  1. یہ جلسہ موضع / قصبہ / شہر کمیشن کی ان سفارشات کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اور ان کو دستور ہند کے سراسر منافی اور اس کے عطا کردہ حقوق میں نہایت بیجا مداخلت تصور کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ان سفارشات کو یک قلم مسترد کرنے کا فی الفور اعلان کر کے مسلمانان ہند کی بے چینی کو دور کرے۔
  2. یہ اجلاس اپنے عزم و یقین کا اظہار کرتا ہے کہ آزاد پرائیویٹ مکاتب اور مدارس کا قیام ہماری ملی زندگی کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اگر حکومت ہند نے کمیشن کی ان سفارشات کو قبول کر کے ان کے راہ سے ہمارے ایک دینی و ملی اور دستوری حق میں مداخلت کی کوشش بھی کی تو یہ مسلمانان ہند کے لیے ناقابل برداشت ہوگا، اور وہ ہر ممکن اور جائز ذریعے سے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے مجبور ہوں گے۔
  3. کمیشن کی مذکورہ بالا سفارشات سے یوپی کے علاوہ دیگر ریاستوں میں بھی مسلمانوں کے آزاد اور پرائیویٹ مکاتب و مدارس کے وجود و بقا کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے، اس لیے یہ اجلاس مسلمانوں کی تمام جماعتوں اور علمی اداروں سے پرزور اپیل کرتا ہے کہ وہ اس خطرے کے سدباب کے لیے اپنے اپنے طور سے نیز جہاں تک ممکن ہو مل جل کر ضروری کوشش عمل میں لائیں۔

منون ارکان انجمن تعلیماتِ دیں شائع کردہ: جامعۃ الرشاد، اعظم گڑھ (قادری پریس اعظم گڑھ)

کوٹھاری ایجوکیشن کمیشن کی رپورٹ کے قابلِ اعتراض اقتباسات

ذیل میں کوٹھاری ایجوکیشن کمیشن کی رپورٹ کے وہ قابلِ اعتراض اقتباسات برائے توجہ پیش کیے جا رہے ہیں جن کی زد مدارسِ دینیہ پر پڑ سکتی ہے۔

شائع کردہ: جمعیت علماء ہند، بہادر شاہ ظفر مارگ، نئی دہلی 110002 مطبوعہ: الجمعۃ پریس دہلی، 15 مئی 1974ء

رپورٹ کوٹھاری ایجوکیشن کمیشن

پیراگراف 10/50 صفحہ 288 (ہندی ایڈیشن)

عوامی تعلیم کا یکساں تعلیمی نظام

ملک کا اہم مسئلہ یہ ہے کہ عوامی تعلیم کے لیے یکساں نظامِ تعلیم کو ترجیح دی جائے جو ملک کے سبھی علاقوں کے لیے ہو، جس میں اسکول کی تعلیم و وسعت و ترقی کی سبھی صورتیں شامل ہوں اور جو سبھی بچوں کو یکساں طور پر مستفیض کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، اس نظامِ تعلیم میں حکومت اور مقامی اداروں کے ذریعہ چلائے جانے والے سبھی اسکول اور سبھی منظور شدہ اور امداد پانے والے غیر سرکاری اسکول شامل ہوں گے۔ اس طریقہ کو اعلیٰ اور حسنِ کارکردگی کے نقطہ نظر سے ایک ایسی سطح پر بنائے رکھنا ضروری ہوگا تاکہ کوئی بھی شخص اپنے بچے کو اس طریقۂ تعلیم کے باہر کسی ادارے میں جیسے آزاد یا غیر منظور شدہ اسکول میں بھیجنے کی ضرورت محسوس نہ کر سکے، یہی وہ مقصد ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے ملک کو کوشش کرنی چاہیے، اس مقصد تک جلد پہنچنے کے لیے بہتر قدم اٹھانے ہوں گے۔

  1. پہلی ضروری بات یہ ہے کہ مختلف انتظامی اداروں، سرکاری و نجی حلقوں اور غیر سرکاری انجمنوں کے تحت کام کرنے والے ٹیچروں کے بیچ اس وقت جو نامناسب اختلاف ہے اسے دور کیا جائے، اس کا تفصیلی بیان لکھا جا چکا ہے اور جس کے لیے ہم نے جو سفارش کی ہے، وہ حسب ذیل ہے:
    • سبھی ٹیچروں کو یکساں حقوق حاصل ہونے چاہئیں، چاہے وہ کسی بھی انتظامی امور کے تحت کام کرتے ہوں۔
    • جن ٹیچروں کی لیاقتیں اور ذمہ داریاں ایک سی ہوں، ان کی محنت کی دریں بھی ایک سی ہونی چاہئیں۔
    • سبھی ٹیچروں کے لیے کارگزاری و منفعت کی ایک ہی سطح ہونی چاہیے۔
    • سبھی اداروں میں ٹیچروں کے لیے حقوق و فرائض کی شرطیں ایک سی ہونی چاہئیں۔
    • مختلف النوع اداروں میں ٹیچروں کی بحالی کے طریقے بھی ضروری طور پر ایک سے ہونے چاہئیں۔
  2. اصل میں ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ درجہ 10 اسکول تک مفت تعلیم دی جا سکے، اس نقطہ نظر سے ایک تدریجی مدت کے اندر تعلیم کی فیس کو ختم کرنا ہوگا، ابتدائی درجات میں چوتھے پلان کے اندر اور ثانوی درجات میں پانچویں پلان کے اختتام تک۔
  3. اسکول تعلیم کے منطقے میں مقامی نجی اداروں اور غیر سرکاری انجمنوں کے طریقۂ عمل اور ریاستی حکومتوں کے کاموں میں ضروری تال میل لانا چاہیے، جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ تعلیمی اداروں کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے جو اہم اور جدید صورتیں درکار ہیں وہ عوامی تعلیم کے یکساں نظامِ تعلیم کے اندر آنے والے ہر ایک اداروں میں موجود ہیں، چاہے تعلیمی ادارے کا انتظامیہ کوئی بھی ہو، مثال کے طور پر ایسے تمام اداروں کی اس کے مقامی حلقۂ آبادی سے بہت اچھا تعلق ہونا چاہیے، ہر ایک ادارے کو جداگانہ طور پر خود مختار ہونا چاہیے اور اسے آزادی حاصل ہونی چاہیے، پلان بنا کر ہر ایک اسکول کے لیے ہر ممکن بہتر طریقوں سے اس کی ترقی کے لیے ہمیشہ کوشاں رہنا چاہیے، یہ پلان انتظامیہ، والدین، ٹیچروں اور طلباء وغیرہ کو مل کر تیار کرنا چاہیے اور ان سب کے تعاون اور مشترکہ جدوجہد سے ہی پلان اور منصوبہ کو آخری شکل دینی چاہیے، ساتھ ہی ہر ایک ادارہ کو یہ یقین دلایا جانا چاہیے کہ اپنے طلباء کے واسطے اپنی ذمہ داریوں کو پوری کرنے کے لیے مالی تعاون دیا جائے گا۔
  4. غریب اور اقتصادی اعتبار سے پس ماندہ برادریوں کے اسکول اور دولت مند اور خوش حال طبقہ کے اسکولوں کے بیچ اس وقت جو حالت پیدا ہو جاتی ہے اسے دور کرنے کی حالت میں پڑوسی پاٹھ شالہ منصوبہ کو قبول کرنا چاہیے۔

پیراگراف 10/19 صفحہ 288 (ہندی ایڈیشن)

پڑوسی پاٹھ شالائیں

ہمارے ابتدائی اور ثانوی اسکولوں میں اس وقت جو سماجی کھنچاؤ کی حالت پیدا ہو جاتی ہے، اس کی طرف ہم پہلے ہی توجہ مبذول کرا چکے ہیں، ہم یہ بھی بتا چکے ہیں کہ اگر تعلیم کو بالعموم قومی ترقی اور بالخصوص سماجی اور قومی ایکتا کے لیے مضبوط واسطہ بننا ہے، تو اس کھنچاؤ کو دور کرنا ہوگا، اس نقطہ نظر سے ہم سفارش کریں گے کہ پہلے ابتدائی درجات کی سطح پر اور پھر اعلیٰ ثانوی درجات کی سطح تک پڑوسی پاٹھ شالا کے مقاصد کو آخری شکل میں قبول کرنا نہایت ضروری ہے، پڑوسی پاٹھ شالا کے مقصد میں یہ ضمن مضمر ہے کہ ہر ایک اسکول میں پڑوسی کے سبھی بچوں کا جانا ضروری ہے، چاہے وہ کسی بھی ذات، عقیدہ، فرقہ اور مذہب کے ہوں یا ان کی مالی حالت اور سماجی حیثیت جیسی بھی ہو، تاکہ اسکولوں میں کھنچاؤ کی حالت بالکل باقی نہ رہے، سماجی اور قومی ایکتا کے علاوہ اس تجویز کے حق میں دو اور اہم نکتے پیش کیے جا سکتے ہیں:

  • پہلا تو یہ کہ پڑوسی پاٹھ شالا میں بچوں کو اچھی تعلیم ملے گی، کیونکہ ہمارے خیال میں عام شہری کی زندگی میں معاون و مددگار بننا اچھی تعلیم کا ضروری حصہ ہے۔
  • دوسرا یہ کہ ایسے اسکولوں کے قیام کی صورتِ حال میں معزز اور بااثر طبقہ عوامی تعلیم کی شکل میں دلچسپی لینے کے لیے مجبور ہوں گے جس سے اس طریقۂ تعلیم میں جلد ہی بہتری ہو سکے گی۔

پیراگراف 10/80 صفحہ 307 (ہندی ایڈیشن)

غیر منظور شدہ ادارے

اس حلقہ کے اندر مختلف قسم کے اسکول ہیں جن کے بارے میں بہت کم واقفیت ہے، مثال کے لیے اس حلقہ میں یہ سب اسکول شامل ہیں: شہری حلقوں کے بہت سے اسکول جو منظوری نہیں چاہتے، مختلف قسم کی کوچنگ کلاسیں جن سے نقصان زیادہ ہوتا ہے اور فائدہ کم، غیر سرکاری ادارے جو منظوری حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں لیکن جن کا معیار اتنا خراب ہے کہ منظوری حاصل نہیں کر سکے ہیں، ایسے ادارے جن کی بنیاد ایسی مذہبی تعلیم پر ہے جو آئین کے خلاف ہے یا ایسے ادارے جو کچھ خاص ذاتوں یا فرقوں تک محدود ہیں، ایسے کچھ ادارے جو کسی نہ کسی وجہ سے جان بوجھ کر سرکاری تعلیمی نظام کے باہر رہنا چاہتے ہیں، ان میں سے کچھ کا کام تو مفید ہے لیکن تعلیم اور سماج کے حلقے میں بقیہ ادارے غیر مفید ثابت ہوئے، آئین کی رو سے ایسے اسکولوں کے قیام کو روکنا ممکن نہیں ہے، ریاستی تعلیمی محکمہ بھی ان پر کوئی پابندی نہیں رکھ سکتا ہے کیونکہ یہ نہ تو منظوری چاہتے ہیں اور نہ کوئی تعاون ہی طلب کرتے ہیں، لیکن اب شاید وہ وقت آ گیا ہے کہ جو بھی قاعدہ بننا ہے اس کی ابتدائی کارروائی شروع کر دی جائے اور سبھی تعلیمی اداروں کے لیے ضروری رجسٹریشن کا قانون بنایا جائے اور غیر رجسٹرڈ ادارے چلانا ایک جرم مانا جائے، ریاستی حکومت کو بھی یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ مندرجہ ذیل تحریر شدہ کسی ایک یا سبھی وجوہات سے کسی تعلیمی ادارہ کا نام اپنے رجسٹر سے کاٹ دیں:

  1. اسکول کے احاطہ یا اس کا کوئی حصہ اسکول کے لیے ناقابلِ استعمال ہو۔
  2. اسکول کے احاطہ میں جتنی جگہ ہے وہ اسکول کے طلباء کی تعداد، عمر اور صنف کو دیکھتے ہوئے کم یا ناقابلِ استعمال ہو۔
  3. اسکول کے طلباء کی عمر اور صنف کو دیکھتے ہوئے اسکول میں اچھی اور مناسب تعلیم کا انتظام نہیں ہو۔
  4. اسکول کا مالک یا کوئی ٹیچر آزاد اسکول کا مالک یا ٹیچر (جیسی بھی حالت ہو) بننے کے قابل شخص نہیں ہوں۔

لیکن رجسٹر سے ادارے کا نام کاٹنے کا آخری فیصلہ کرنے سے پہلے ادارے کو نوٹس دیا جانا چاہیے جس میں الزامات کو واضح طور پر بیان کرنا چاہیے اور ادارے کو شرائط پوری کرنے کے لیے وقت دینا چاہیے، ادارے کو یہ حق بھی ہونا چاہیے کہ وہ اس مقصد سے قائم کیے گئے خصوصی اصول و ضوابط کی روشنی میں اپیل کر سکے، اس معمولی کارروائی سے اس وقت کی فوری ضرورت پوری ہو جائے گی، اس سے جو بھی نتیجہ حاصل ہو سکے اس کی بنیاد پر آگے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

Admin

Admin

Next Post

نیچے اور اوپر کے درجے میں روابط اور تسلسل

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

نشہ کی حقیقت اور اس کا علاج اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

نشہ کی حقیقت اور اس کا علاج اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

12 مہینے ago

عرب جمہوریات کا اتحاد

2 ہفتے ago

مقبول

  • آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    تعلیم و تدریس کے لیے موزوں ماحول کی اہمیت

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • نیچے اور اوپر کے درجے میں روابط اور تسلسل

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • کوٹھاری ایجوکیشن کمیشن

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • اصلاح رسوم کمیٹی کی چند مفید تجاویز

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • تعلیمی اداروں میں طلبہ کی جسمانی،جذباتی،جنسی تحفظات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • رجسٹر
  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.